یہ رسمِ گریہ و زاری، رہے جاری
یہ رسمِ گریہ و زاری، رہے جاری
عزادارو! عزاداری، رہے جاری
یزیدِ رُو سیہ، چُھپتا پھرے ہم سے
ہماری آئنہ داری، رہے جاری
ترے غم میں جو سیلِ اشک جاری ہو
رہے جاری، رہے جاری، رہے جاری
بھلے چاروں طرف سے تیر چلتے ہوں
اسیروں کی طرف داری، رہے جاری
ہمیں پروا نہیں، ہم تو حسینی ہیں
جہاں تک چاہے دشواری، رہے جاری
دل و جاں کے عوض لے آئیں تیرا غم
یہ زخموں کی خریداری، رہے جاری
ابھی تو مہدیِ موعود آئیں گے
سو اُس منزل کی تیّاری، رہے جاری
سخن کا سلسلہ چلتا رہے یاور!
ابھی جو کیف ہے طاری، رہے جاری
Title Image by Saqlain Ashraf

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |