نئی سپر پاور کی دوڑ
جرمنی نے یکم ستمبر، 1939ء کو پولینڈ پر حملہ کر کے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد نازی جرمنی ہی نے 11 دوسرے ممالک پر حملہ کیا تھا۔ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے اسی گھوڑے پر سوار ہیں جس پر جنگ عظیم دوم سے پہلے جرمن حکمران ایڈولف ہٹلر سوار تھا۔ اتفاق دیکھیں کہ اس جنگ میں اتحادی قوتوں کو محوری قوتوں کے خلاف حتمی فتح جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر 6 اور 9 اگست 1945ء کو انسانی تاریخ میں پہلی بار ایٹم بم گرانے سے ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں جنگ عظیم دوم میں 5۔8 یعنی ساڑھے آٹھ کروڑ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کا قیام بھی انہی اتحادی اقوام کے نام پر "اقوام متحدہ” رکھا گیا تھا۔ جبکہ آج اقوام متحدہ غیر موثر ہو چکا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیئے "غزہ امن معاہدہ” کے نام سے نیا عالمی ادارہ بنانے کے لیئے دنیا کے 60 ممالک کو دعوت نامے بھیج دیئے ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں چونکہ یہ اتحادی قوتیں فاتح تھیں جن کی قیادت امریکہ بہادر کر رہا تھا، لھذا اس وقت بھی امریکہ ہی کی ہر بات مانی گئی اور 80 سال گزرنے کے بعد آج بھی امریکہ طاقت کے زعم میں اور "نیو ورلڈ آرڈر” کو عملی اور حتمی شکل دینے کے لیئے ایران کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے طاقت ہی کی زبان پر بضد نظر آ رہا ہے۔
امریکہ خطرناک ترین جنگی ہتھیاروں، ان کی تعداد اور کارکردگی کی وجہ سے دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔ امریکہ کے پاس ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں، جنگی جہازوں اور فوجی سپاہیوں کا ذخیرہ ہے جبکہ روس اور چین سمیت دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس کے قریب بھی نہیں ہے۔ روس ویسے ہی 4 سال سے یوکرائن کے خلاف جنگ میں الجھا ہوا ہے، برطانیہ اور فرانس میں وہ دم خم نہیں رہا اور نہ وہ طاقت ہی رہی ہے جو انہیں جنگ عظیم دوم کے فوری بعد تسلسل سے حاصل ہوتی چلی گئی تھی۔ وہ چین جو جنگ عظیم دوم میں کہیں برائے نام بھی نظر نہیں آیا تھا، اس نے امریکہ کی طرح درجنوں ممالک پر حملے کرنے کی بجائے خاموشی سے صنعتی اور دفاعی ترقی کی ہے جس کا نظارہ اس کے قریب آنے پر نیٹو سمیت وہ اتحادی ممالک بھی کروا رہے ہیں جو سنہ 2026ء کے ایران امریکہ تنازعہ سے پہلے تک امریکہ کے حلیف اور اتحادی تھے۔
یہ سال 2026ء عالمی سیاست کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور "ٹرننگ پوائنٹ” ثابت ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کے چند طاقتور دوست ممالک ایرانی تنازع میں جہاں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا دلاسہ دے رہے ہیں وہاں وہ ایران امریکہ ممکنہ جنگ کے پیش نظر امریکہ کی بجائے چائنا کے دورے کر رہے ہیں۔ پہلے جنوبی کوریا کا صدر، پھر آئر لینڈ اور کنیڈا کے وزیراعظم چین گئے۔
فرانسیسی صدر بھی چین پہنچے، ان کے پیچھے پیچھے فن لینڈ کے وزیراعظم بھی چائنا پہنچ گئے اور دو روز پہلے برطانیہ کے وزیراعظم نے بھی چین کے 3 روزہ سرکاری دورے کا آغاز کیا۔ گو یورپی یونین کے صدر نے ابھی تک چین کا دورہ نہیں کیا ہے، بلکہ چین کی بجاۓ بھارت کا رُخ کیا اور اس کے ساتھ "فری ٹریڈ” کا معاہدہ کر کے سب کو حیران کر دیا یے۔ یورپی یونین کے صدر نے یہ معاہدہ اس بھارت کے ساتھ کیا جس کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ بھارت کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔
دو برس پہلے ایک ممبر پارلیمنٹ نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا کہ "اگلی سپر پاور” کون بنے گا؟ تب میں نے چائنا کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ چین کے بارے میں میری رائے یہ تھی کہ چینی قوم دنیا پر حکمرانی کے لیئے اتنا قد کاٹھ نہیں رکھتی ہے جتنا حکمران قوموں کی شخصیات میں ہوتا ہے۔ حکمرانی شخصی اوصاف کے علاوہ جسمانی برتری اور رعب داب کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ جن اقوام کی ظاہری اور جسمانی شخصیت بہتر ہوتی ہے ان میں اعتماد زیادہ ہوتا ہے اور وہ دوسروں کو آسانی کے ساتھ متاثر کرتی ہیں۔ ملکی اور عالمی سیاست میں بھی شخصی اوصاف کام آتے ہیں لیکن آج کا جدید دور سائنسی ٹیکنالوجی اور عالمی سیاست میں مہارت کا دور ہے۔
ابتدائے آفرینش سے انسانی تہذیب طاقت کے زیر اثر رہی ہے۔ یہاں تک دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کی انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ آج تک جس کی لاٹھی اس کی بھینس (مائٹ از رائٹ) یعنی "طاقت کا اصول” کارفرما رہا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اب طاقت کے دور میں شگاف پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی سیاست میں اس تبدیلی کی سمجھ خود امریکہ کو بھی نہیں آ رہی ہے جس کو امریکہ کے اس بیانیہ سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس میں برطانیہ کے ایران کے حق میں ایک بیان دینے پر اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے برطانیہ کو "غدار” قرار دیا۔
چین میں امریکہ کے اتحادیوں کی لائنیں لگنے کو اتنا آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی طاقت کے نشے میں یکے بعد دیگرے غزہ، وینزویلا، گرین لینڈ، کنیڈا اور اب ایران کے معاملے میں شدید جارحانہ غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں "ٹیرف” کا مسئلہ کھڑا کیا تھا اور وہ بھی اتنا کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ جب امریکی صدر ملک کو تقریبا 38 ٹریلئین کے قرضے (جو دنیا کے کسی ملک کا سب سے زیادہ قومی قرضہ ہے) سے نکالنے کی جدوجہد میں مصروف تھے، پیچھے سے کہانی بہت تیزی سے تبدیل ہوتی رہی۔ اب امریکی صدر اور اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں یہ خلا ایران سے جنگ کر کے جیتنے ہی سے پر ہو سکتا ہے یا پھر مذاکرات بھی ہوتے ہیں تو یورپی ممالک، نیٹو اور کنیڈا جیسے دوست ممالک امریکہ کی چھتری سے تقریبا نکل چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ دُنیا کی نئی سپر پاور کا غیر سرکاری اعلان ہونے کی دوڑ لگ چکی ہے۔ اسی لیئے کل تک کے امریکی اتحادی آج امریکہ کی مرضی کے خلاف نئی صف بندی میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔
Title Image by Military_Material from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |