سرائیکی شاعری دا معتبر مجموعہ : بُکل
تبصرہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
شاعر و مصنّف : عبدالمجید آصف لودھرا ( گاؤں غلاماں ، بھکر )
ان کے جو شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ان کے نام درجِ ذیل ہیں ٫٫ دھاڑیں ،، سرائیکی مجموعہ کلام ( مئی 2024ء ) صفحات 124
٫٫ ہَکل ،، سرائیکی مجموعہ کلام ( اگست 2024ء ) صفحات 184
٫٫ بلانگ ،، سرائیکی شعری مجموعہ ( مارچ 2025ء) صفحات 208
٫٫ کھیچل ،، سرائیکی مجموعہ ( مارچ 2025ء ) صفحات 224
٫٫ آبلہء جاں ،، اُردو شعری مجموعہ ( ستمبر 2025ء ) صفحات 216
زیرِ نظر سرائیکی مجموعہ کلام ٫٫ بکُل ،، دسمبر 2025ء میں شائع ہوا ہے ۔ تمام تر شعری مجموعے ایم ۔ ارسلان پبلیشرز ملتان نے خوبصورت ٹائٹلز کے ساتھ شائع کئے ہیں ۔
ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
لہو جُسے میڈے دا اگیں نچوڑیں
ہن ماس تن دا ، چُندیندی ودی ہے
سرائیکی ادب اپنی مٹی ، اپنی تہذیب ، اپنے دکھ سکھ اور روحانی ورثے کی ترجمانی کا نام ہے ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر و مصنّف عبدالمجید آصف لودھرا کا شعری مجموعہ ٫٫ بُکل ،، سرائیکی شاعری میں ایک اہم اضافہ ہے ۔ یہ کتاب نہ صرف فنی و فکری اعتبار سے مضبوط ہے بل کہ اپنے موضوعات کے تنوع اور اسلوب کی پختگی کے سبب قاری کو متاثر کرتی ہے ۔
عبدالمجید آصف لودھرا کا تعلق ضلع بھکر کے گاؤں غلاماں تحصیل کلورکوٹ سے ہے ، جو صدیوں سے علم ، محبّت اور درویشی کا گہوارہ رہا ہے ۔ شاعر نے اسی مٹی کی خوشبو ، اسی دھرتی کے دکھ اور اسی خطے کی محرومیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ۔ بُکل کے کل صفحات 240 ہیں اور یہ ضخامت ہی نہیں بلکہ معنویت کے لحاظ سے بھی بھرپور مجموعہ ہے ۔
کتاب کا آغاز حمدیہ کلام سے ہوتا ہے جن میں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت ، عظمت اور صفاتی جلال کو نہایت عقیدت اور فنی حُسن کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نعتیہ کلام شامل ہیں جن میں حضور نبی کریم ﷺ سے عشق ، احترام اور عقیدت کا اظہار دل نشیں انداز میں ملتا ہے ۔ نعتیہ کلام میں زبان کی لطافت ، جذبے کی پاکیزگی اور اسلوب کی سادگی قاری کے دل کو چھو لیتی ہے ۔
مجموعے میں حضرت امام حسین علیہ السّلام کی شان میں ایک پُراثر اور فکرانگیز کلام شامل ہے جو حق ، قربانی ، صبر اور استقامت کی عظیم مثال کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے ۔ یہ کلام محض مرثیہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے مظلوم انسان کے لیے پیغامِ حریت بھی ہے ۔
اسی طرح حضرت علی علیہ السّلام کی شان میں کہی گئی نظم کامل ولی شاعر کے فکری شعور اور روحانی وابستگی کا واضح ثبوت ہے ۔ اس نظم میں علم ، عدل، شجاعت اور ولایتِ علیؑ کو نہایت موثر پیرائے میں پیش کیا گیا ہے ۔
کتاب میں شامل کافیاں سرائیکی لوک روایت سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں ۔ کافیاں میں عشقِ حقیقی ، ہجر ، وصال اور معرفت کے رنگ نمایاں ہیں ۔ شاعر نے کلاسیکی سرائیکی کافیہ نگاری کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید احساسات کو بھی سمویا ہے ۔
٫٫ بُکل ،، کا ایک اہم اور منفرد حصّہ غزلیات پر مشتمل ہے ، جو کہ غزل کو غزل کے رنگ میں رکھا گیا ہے ۔
آصف لودھرا کے شعری مجموعے ٫٫ بُکل ،، میں شامل سرائیکی غزلیں فکری بالیدگی ، جذباتی گہرائی اور فنی توازن کا خوب صورت امتزاج ہیں ۔ ان غزلوں میں عشقِ مجازی سے لے کر عشقِ حقیقی تک کے مختلف مدارج نہایت سلیقے اور خلوص کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ شاعر کی زبان سادہ ، رواں اور خالص سرائیکی مزاج کی حامل ہے ، جس میں مقامی رنگ ، تشبیہات اور استعارات غزل کو اپنی دھرتی سے جوڑ دیتے ہیں ۔ فنی اعتبار سے بحر ، قافیہ اور ردیف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو غزلوں میں ترنم اور تاثیر پیدا کرتی ہے ۔ ساتھ ہی شاعر نے حالاتِ حاضرہ ، علاقائی محرومیوں اور عام انسان کے دکھ درد کو علامتی انداز میں سمو کر ان غزلوں کو محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور کی آئینہ دار تخلیق بنا دیا ہے ۔
دو اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں
ایم اے دیاں چھیں سنداں ہن چھیں ڈپلومے ہتھ ءچ
اجن وی تینوں شک ہے کوئی میڈے یار ہنر وچ
روز دی کِٹ کِٹ گھر اجڑیندی
کنھ فائدہ نروار نہ ڈتا
نظمیات کی بات کروں تو چند نظمیات شاملِ کتاب ہیں اور جو قابلِ ذکر ہیں ان میں بال ، خود داری اور ہنجو رَت دے
کتاب کے سنٹر میں اللّٰہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں پر مشتمل ایک شاندار تخلیق ہے۔ یہ نظم نہ صرف فکری اعتبار سے بلند ہے بلکہ اس کا فنی ڈھانچہ بھی قابلِ تحسین ہے ۔ اسی نظم پر کتاب کا حُسن اور بڑھ جاتا ہے ۔مجموعے کو ایک روحانی تکمیل عطا ہوتی ہے ۔ مدس اور قطعات بھی اپنی بہار دکھا رہے ہیں ۔ اگر ان پر روشنی ڈالوں تو مضمون طویل ہو جائے گا ۔
مجموعی طور پر ٫٫ بُکل ،، کا تمام کلام اپنے فن ، معیار اور فکری پختگی پر پورا اترتا ہے ۔ شاعر نے محض داخلی جذبات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ حالاتِ حاضرہ ، معاشرتی مسائل ، علاقائی محرومیاں اور عوامی دکھ درد کو بھی اپنی شاعری کا حصّہ بنایا ہے ۔ یہی وصف لودھرا کو ایک سنجیدہ اور ذمے دار شاعر کے طور پر نمایاں کرتا ہے ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٫٫ بُکل ،، سرائیکی ادب میں ایک بامقصد ، فکری اور روحانی شعری مجموعہ ہے جو نہ صرف اہلِ ذوق قارئین بلکہ سنجیدہ ناقدین کی توجہ کا بھی مستحق ہے ۔ یہ کتاب شاعر کے تخلیقی سفر کی ایک مضبوط دستاویز اور سرائیکی شاعری کے روشن مستقبل کی نوید ہے ۔
آخر حصّہ میں شامل ایک سو سے زائد سرائیکی دوہڑے اس کتاب کی جان اور تھل کی اصل پہچان ہیں۔ یہ دوہڑے نہ صرف سرائیکی زبان کی سادگی، مٹھاس اور گہرے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں بلکہ تھل کے کلچر ، روایت ، محبّت ، دکھ اور مزاحمت کو بھی زندہ صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ ان دوہڑوں میں مٹی کی خوشبو ، لوک دانش کی جھلک اور دھرتی سے جڑی زندگی کے حقیقی رنگ نمایاں ہیں جو قاری کو سرائیکی ادب کی روح سے روشناس کراتے ہیں اور اس مجموعے کو ایک منفرد ادبی مقام عطا کرتے ہیں۔
کتاب میں شامل آرا
میڈی گل اے کجھ صاحبِ کتاب عبدالمجید آصف لودھرا ،
محبتیں دا سفیر ،
ایس ایم اختر ملک ،
اُردو پوائنٹ علو والی( میانوالی )
نویکلا انداز
ڈاکٹر ساحر رنگ پوری
(شعبہ ریاضی یونیورسٹی آف اوکاڑہ )
فرنٹ فلیپ ڈاکٹر اشرف کمال ( شعبہ اُردو پوسٹ گریجویٹ کالج ، بھکر )
بیک فلیپ ڈاکٹر منیر حسین کلو ( ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نُور پور تھل ، خوشاب اور بیک ٹائٹل لکھا ہے ڈاکٹر مہر قلندر حیات لودھرا ( نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگو جز ، اسلام آباد

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |