مقدس رشتے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں زندگی کا ہر قرینہ بہت شان سے بیان کیا گیا ہے اسلام سے پہلے انسان کی کوئی وقعت و توقیر نہ تھی دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی سے ناآشنا تھے بیٹیوں کو عزت کے نام پر پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ایسے حالات میں حضرت بی بی آمنہ سلام اللہ علیہا کے گھر میں ایک چاند کا طلوع ہوا جس نے مظلوموں کو جبرِ سلطانی سے نجات دے کر انصاف کو رائج کیا اور اپنی ضیا سے تیرگی کو ختم کر دیا بھٹکے ہوئے انسان صراطِ مستقیم پر چلنے لگے تمام انسانوں کو ماں، بیٹی ،بہن، بیوی، چچی ممانی ، بہو اور ساس کے مقدس رشتے سمجھ آگئے اور ان مقدس رشتوں کی شوکت اور حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا تھا جس کو اب تک مسلم معاشرے نے اپنایا ہوا ہے اور ان شاء اللہ رہتی دنیا تک اسلام ان محرمات و مقدسات کی حفاظت کرتا رہے گا جب بھی ان مقدس حدوں کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی اسلام نے اس کا بھرپور دفاع کیا

کربلا کی جنگ کے بے شمار  دینی و مذہبی ،روحانی و عرفانی، خفی و جلی   مقاصد عظیم میں سے ایک ان مقدس رشتوں کے احترام کا احیاء بھی تھاجس کا اثر آج تک ہر گھر میں بالکل عیاں ہے ماں، بہن ،بہو اور بیٹی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر آج کل پھر ان مقدس رشتوں کی توہین اور تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان محرمات کو جنسی ہیجان پیدا کر کے بری طرح مسمار کیا جا رہا ہے ٹیلی ویژن کے ڈراموں اور سوشل میڈیا پر اسے ایک مخصوص سوچ کے تحت نوجوان نسل تک پہنچا کر مقدسات کی حرمت کا احساس ختم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل کو اگر اس شیطانی حملے سے نہ بچایا گیا تو مستقبل قریب میں مائیں بہنیں اور دیگر مقدس رشتوں کی گھروں میں بھی عزتیں محفوظ نہیں رہیں گی اور اسلام کا وقار خاک میں مل جائے گا اب ضرورت ہے کہ مساجد ،مدرسوں، امام بارگاہوں اور میڈیا پر عورتوں کے حوالے سے پروگرام منعقد کیے جائیں اور اسلام کی حقیقی روح کو اجاگر کیا جائے گھروں میں والدین ان مقدس رشتوں کے متعلق بچوں کو آگاہی دیں تا کہ سوشل میڈیا پر جو بے حیائی کا درس دیا جا رہا ہے اس کا تدارک ہو سکے انگریز مشینری ہماری غیرت ختم کرنے کے درپے ہے وہی غیرت جس کے بارے میں حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا:۔

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا

بچوں کی ویڈیو گیمز کا اگر جائزہ لیا جائے تو اُس میں بھی عریانی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے جس میں ایک بندہ بیسیوں بندوں کو مارے چلا جا رہا ہوتا ہے اور کھلاڑی کے پوائنٹس بڑھتے جا رہے ہوتے ہیں بچے کا معصوم ذہن یہی سوچتا ہے کہ میں بندے مار کر زیادہ پوائنٹس حاصل کروں گا اور میں جیت کر زیادہ شہرت حاصل کروں گا دوسری طرف ایک برہنہ خاتوں کئی مرد و زن مارتی ہے اور کھلاڑی کے پوائنٹس بڑھتے دکھائی دیتے ہیں برہنہ عورت کے ساتھ کھیل کر بچوں کی غیرت مار دی جاتی ہے جب ان کی نظریں بار بار ایک برہنہ خاتون پر پڑھتی ہیں تو پردے کا تصور ختم ہو جاتا ہے انگریز بڑی پلاننگ سے ہماری قوم سے غیرت کا اثاثہ چھین رہے ہیں اور ہم ہیں کہ مولویوں کے چکر میں ہی پھنسے ہوئے ہیں آج تک کسی مولوی نے کوئی ریلی نکالی ہو یا دھرنا دیا ہو کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جائے اور فحش مواد تلف کیا جائے لیکن نہیں اب والدین کو خود میدان میں آنا ہو گا ورنہ وقت کا پنچھی گزر جائے گا اور بے غیرت قوم پروان چڑھ جائے گی

میری پی ٹی آئی حکومت سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر بے حیائی کے تمام راستے بند کیے جائیں خاص طور پر استاد کی شاگرد کے ساتھ، سسر کا بہو کے ساتھ ، چچا کا بھتیجی کے ساتھ، بھتیجے کا چچی اور ممانی کے ساتھ،  بھائی کا بہن کے ساتھ وغیرہ وغیرہ کی سیکس ویڈیوز پر پابندی لگائی جائے اور اس قسم کی ویڈیوز لگانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں اور اگر پڑوسی ملک سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو وہاں پر رسائی کر کے مجرموں کو قرار واقعہ سزا دلوائی جائے اور اگر دوسرے ملک اس کو ختم نہیں کرتے تو سوشل میڈیا کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے اور اس کی جگہ اپنی ایب بنائی جائے جس میں اسلامی احیاء کا خاص خیال رکھا جائے ورنہ “میرا جسم میری مرضی” والی خواتین و حضرات اسلام کے تقدس کی دھجیاں اڑا دیں گی اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اس گندگی کو ختم کیا جائے اگر یہ نہ ہوا تو اللہ رب العزت اپنے دین کی حفاظت کرنا جانتا ہے قوم عاد اور ثمود کے واقعات ہماری عبرت کے لیے قرآن حکیم میں اسی لیے بیان کیے گئے ہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں اور وطن عزیز میں ایک ایسا محکمہ قائم کریں جس کی نظر صرف سوشل میڈیا پر ہو اور وہ ایسی چیزوں کی نشرو اشاعت کو اپنی ٹیکنالوجی کی طاقت سے روک دے کیونکہ اگر یہ نہ روکا گیا تو مقدس رشتوں کی حرمت کو بچانے کے لیے ایک نئی کربلا کی ضرورت ہو گی زمین کو قتل و غارت سے بچانا ہے تو پھر اسلامی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے مذہب اسلام کے نفاذ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور اسلام کی درخشاں تعلیمات کا عمل قیام میں لایا جائے کیونکہ یہی ہمارا منشور تھا یہی ہمارا منشور ہے اور یہی ہمارا منشور رہے گا

سید حبدار قائم آف اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

نفسانی عشق

اتوار اپریل 25 , 2021
اصلاحِ نفس کے لئے ایک شخص کسی بزرگ کی خدمت میں پیش ہُوا اور اُن کے مدرسے میں قیام پزیر ہو کر بزرگ کے تعلیم کردہ ورد و وظائف پابندی سے پڑھنے لگا۔
woman wearing white dress standing near building