مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں “بھکر”

مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں “بھکر”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبصر۔
پروفیسر عاصم بخاری میانوالی

اپنا سا اک ، اس کا منظر ہوتا ہے
تھل بھکر کا دیکھ کبھی تو بارش میں

بھکر کے ادبی منظر نامے پر اگر نظر دوڑائی جاۓ تو سر زمین ِ منکیرہ سے مقبول ذکی مقبول کا نام ادب میں برق رفتاری سے نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ نظم و نثر ہر دو میدان میں ان کا رہوار ِ قلم رواں دواں ہے ۔ اس ادبی پودے کو لگانے میں معروف شاعر و ادیب اور بلند پایہ صحافی علی شاہ (مرحوم) منکیرہ ، کا مرکزی کردار ہے ۔ شومی ء قسمت جب یہ ادبی پودا تناور درخت بنا تو علی شاہ صاحب کو داعی اجل کو لبیک کہنا پڑ گیا لیکن مجھے یقین ہے کہ مقبول ذکی مقبول کی ادبی کامیابیوں پر علی شاہ صاحب کی روح ضرور خوش ہوتی ہو گی ۔ اللّٰہ پاک ان کی مغفرت فرماۓ ۔ ان کے درجات بلند فرماۓ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔
مقبول ذکی آۓ روز مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ بھلا کیوں نہ ہو ۔ وابستہ آخر کس در ، سے ہے؟
مدینہ العلم “سے
اس کی کتب” سجدہ ” اور منتہاۓ فکر” گواہ ہیں ۔ ادب کی راہ پر چلنے والے مودب ہوتے ہیں ۔ روشن خیال ہوتے ہیں ۔ بیدار مغز ہوتے ہیں ۔شاعر دیکھتی آنکھیں ، سوچتا دماغ اور سنتے کان رکھتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول بھی بڑی متحرک اور جان دار ادبی شخصیت ہے ۔ عصری شعور اس کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے ۔ اس کو اپنے وسیب اور ارد گرد کے وسائل و مسائل کا ادراک ہے ۔ بھکر کے جغرافیائی مسائل اور فصلوں کو کس لطیف پیراۓ میں بیان کرتا ہے شعر دیکھیۓ۔اردو کے ساتھ مقامی زیان کا تڑکا ، یہ تجربہ بھی اچھا لگا۔

بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
پَلی” ڈَڈے ” اور ” تراڑا”

اپنے گاؤں منکیرہ کی سوغات جوکہ ملک بھر میں اپنی خوشبو اور مٹھاس کی وجہ سے مشہور ہے وہ منکیرہ کا خربوزہ ہے جو کہ اس علاقہ کی موسمی سوغات اور پہچان ہے شعر دیکھیۓ ۔

پاکستان میں پہچاں میرے بھکر کی
خربوزے مشہور ذکی ، “منکیرہ” کے

اس قسم کی شاعری ، شاعر کے بیدار مغز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے عمیق مشاہدہ کا بھی پتا دیتی ہے کہ شاعر اپنے ماحول سے باخبر ہے اور اپنی مٹی سے محبت کے اظہار کا بھی ایک انداز ۔
اپنے رہتل کے انداز اور طرز ِ زندگی پر بھی اس کو فخر ہے اور اس احساس کا اظہار بھی اس کی شاعری میں ہمیں نمایاں ملتا ہے شعر دیکھیۓ

نمایاں منفرد ہر جا ، ملے گا
لب ولہجہ تجھے میرے بھکر کا

سر زمین ِ بھکر کے مسائل اور محرومیوں سے بھی شاعر آشنا ہے صرف خوش فہمیوں میں ہی نہیں یہ اپنے دیس کے مسائل کو بھی اجاگر کرتا دکھائی دیتا ہے جو بات اس کی فکری پختگی کی دلالت کرتی ہے ۔

پیاسی زمیں اور ، باسی پیاسے
بھکر بھی مقبول کرب و بلا ہے

شاعر شعور سے ہوتا ہے اور مقبول ذکی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے سماج پر کتنی کڑی نظر رکھے ہےچوں کہ اس کے پاؤں اپنی مٹی میں ہیں جس سے محبت کا اظہار بھی جابجا اشعار کی صورت کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ بھکر کی فضا کی منظر کشی کس خوبصورتی سے کرتا ہے ۔

امن محبت پیار پریت سے رہنے کی
بھکر کی تہذیب ، ثقافت اپنی ہے

بھکر کی دھرتی کو اپنی شاعری میں سراہتے ہوۓ بھی یہ ہمیں اپنے اشعار میں دکھائی دیتا ہے جوکہ اس کی اپنی جنم بھومی سے محبت کا اظہار ہے ۔ اور حب الوطنی کے بارے میں آتا کہ حب ِ وطن از جزو ایمان” وطن سے محبت فطری بات ہے جس کا اظہار کچھ اس طریق سے شعر میں کرتے ہیں

مجھ کو ہے جن پہ ناز ، میرا فخر مان جو
قابل ہیں محنتی ہیں ، میرے بھکر کے لوگ

اپنے وسیب کے لوگوں کی لیاقت اور قابلیت کا منظوم اعتراف در اصل مقبول ذکی کی اپنی مٹی کے ساتھ محبت اور خلوص کے جذبات کے اظہار کا معصوم انداز ہے اور ان کے حوصلے بلند کرنے کی ایک ترکیب بھی ۔
بھکر کے مسائل یعنی عصری مسائل سے بھی بے خبر نہیں دکھائی دیتا بھکر کے ازلی مسئلہ کی طرف کس سلیقے سے ارباب ِ اختیار کو متوجہ کرتا دکھائی دیتا ہے شعر میں کیسا پیارا اسلوب اور پیرائیہء اظہار تلاشا ہے جس نے اپنے اندر سب فکری و فنی خوبیاں سمیٹ لی ہیں ۔
شعر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

العطش” کی صدائیں آتی ہیں
“کربلائی” فضا ، ہے بھکر کی

ایک اور شعر دیکھیۓ جس میں اس نے بھکر کا باسی ہونے کا حق ادا کیا ہے اور لفظی تصویر ِ بھکر پیش کر دی ہے

کاشت ہوتا ہے صرف یاں چَنا
اور بھکر میں کچھ نہیں ہوتا

جو بھکر کی ہیں پہچاں دیس بھر میں
یہ تھل آباد ہے ذکی ادیبوں سے

جس میں ہے مقبول ذکی کا ڈیرہ
بھکر میں ہے شہر مرا منکیرہ

آ ، لگا تے ہیں ریت میں تھل کی
فرد گوئی کا پودا بھکر میں
ایک اور رنگ ملاحظہ ہو
بھکر دھرتی کا نہیں یہ فیض تو کیا
بے نام عام ذکی سا مقبول ہو گیا

ترے اشعار ، سے مقبول ذکی
جھلکتی ہے محبت ہی بھکر کی
اتنے اشعار ایک ہی موضوع پہ کہنا ذکی کا کمال بھی ہے اور اعزاز و امتیاز بھی اور اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت بھی۔داد تو اس پر بنتی ہے۔
مقبول ذکی مقبول کی
شاعری میں مزید کئی ایک خوب صورت اشعار موجود ہیں جو کہ ان کی بھکر کے ساتھ قلبی لگاؤ ، خلوص اور محبت کے غماز ہیں مگر مضمون کی بے جا طوالت کے خوف اور آج کے نازک مزاج قاری کا خیال رکھتے ہوۓ اسی پہ اکتفا کیا جاتا ہے ورنہ۔۔۔

عاصم بخاری کی شاعری میں مقامیت

پروفیسر عاصم بخاری

میانوالی

مدیرہ | تحریریں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

رمضان کریم ،مہنگائی اور عزت نفس

جمعہ مارچ 24 , 2023
ماہ صیام بڑی عظمتوں،فضیلتوں ،برکتوں اور غم گساری والا مہینہ ہوتا ہے۔
رمضان کریم ،مہنگائی اور عزت نفس

مزید دلچسپ تحریریں