پروفیسر سجاد حسین سرمد
انٹرویو کنندہ:۔ سید حبدار قائم
سخن ریز سوچوں کا شہر اٹک ادبی لحاظ سے بہت زرخیز ہے اس میں ایسے ایسے سخنور پیدا ہوۓ جنہوں نے اپنی فکری عفت سے نہالِ ادب کو اپنے لہو سے سینچا ایسے ہی منفرد سوچ کے حامل افراد میں پروفیسر سجاد حسین سرمد بھی اٹک شہر کا اثاثہ ہیں جو نور حسین کے گھر میں 13 اگست 1988 کو پیدا ہوۓ آپ نے تعلیم اٹک میں ہی حاصل کی
پروفیسر سجاد حسین سرمد سے میری ملاقات 2016 میں ہوئی جس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا مجھے شاعری کا شوق تھا اور آپ علم عروض جانتے تھے میں نے ان سے اوزان کا پوچھا تو انہوں نے مجھے اس قابل بنا دیا کہ آج میں تین نعتیہ مجموعوں کا مصنف ہوں مجھے یاد ہے کہ میں اوزان سیکھنے کے لیے کئی سینیئر شعرا سے ملا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی لیکن اوزان کے مسئلے میں میں نے سرمد صاحب کو کامل پایا اور انہیں سنگِ پارس کا خطاب دیا آپ جہدِ مسلسل پر یقین رکھنے والے شاعر اور خاکہ نگار ہیں آپ کا ذوق بلند ہے سینیئر ادیبوں کے ساتھ مل کر چلتے ہیں کسی بھی مسئلہ پر جو محسوس کرتے ہیں اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ادبی مجلے ”دھنگ رنگ“ کے مدیر ہیں نو آموز شعرا اور ادیبوں کا کلام شائع کرتے ہیں آج میں نے ان سے وقت نکالنے کی فرمائش کی تاکہ قارئین کو ایک ادیب سے ملوا کر ان کے احوال پوچھیں تو آئیے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں:۔
س۔ سر احوالِ بچپن سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں کب اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے؟
ج: ماڑی موڑ گلی نمبر 2 اٹک شہر میں آبائی گھر میں پیدائش ہوئی۔ ایم فل اردو کر رکھا ہے۔ جبکہ اس وقت کیڈٹ کالج کوہاٹ میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔
س۔ کس شخصیت کی کس کتاب پر ایم فل کیا ہے؟
ج: اٹک کے نامور غالب شناس اور اقبال شناس "ڈاکٹر محمد ایوب شاہد کی تنقید نگاری کا تجزیاتی مطالعہ” میرے ایم فل تھیسس کا عنوان تھا۔
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
ج: اس کے جواب میں محبوب خزاں کا شعر پیش خدمت ہے:
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے ہیں؟
ج: صاحبزاہ واحد رضوی صاحب میرے استاد ہیں البتہ اٹک کی ساری شعرا برادری سے مشورہ سخن کیا اور بقول حسرت موہانی:
طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض
س۔ میرے علم کے مطابق اٹک میں خاکہ نگاری کی پہلی کتاب آپ کی ہے آپ نے خاکہ نگاری کو ہی کیوں چنا ؟ حالاں کہ اس میں اگر سچ لکھیں تو دوست ناراض ہو جاتے ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے ؟
ج: منفرد رہنے کے جذبے نے اس میدان میں اتارا، نیز شخصیت کی عکاسی کرنے کا ہنر شعر کی مشقت سے آسان لگتا ہے۔
س۔ حضرت نذر صابریؒ کی شخصیت کو آپ نے کیسا پایا؟
ج: صابری صاحب کے حوالے سے میرے تاثرات خاکے کی صورت میں موجود ہیں جو میری پہلی کتاب "نشاطِ سرمدی” میں رقم ہیں۔ احباب اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
سں۔ حضرت نذر صابریؒ اٹک کے ادب کے روحِ رواں تھے کیا موجودہ دور میں کوئی ادیب ان کی طرح کام کر رہا ہے ؟
ج: ان کی طرح تو نہیں لیکن کام ہو رہا ہے۔
س۔ آپ کی تحریروں میں مزاحمتی عنصر بہت کم دیکھا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
ج: مزاحمت کو ادب کا حصہ نہیں سمجھتا۔
س۔ کیا اکادمی ادبیات کیمبلپور کے کام سے مطمئن ہیں؟
ج: کمیاں ہیں لیکن یقین ہے کہ اکادمی کی انتظامیہ جلد انھیں پورا کر لے گی۔
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج: پذیرائی نہ ہوتی تو میرے اندر کا ادیب کب کا مر چکا ہوتا۔
س۔ ادبی مجلے ”دھنک رنگ“ کا مدیر ہونے کا تجربہ کیسا رہا؟ کیا اس مجلے میں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں؟
ج: یہ مجلہ بھی انفرادیت پسندی کا نتیجہ ہے۔ جس میں کئی تلخ مقام آئے لیکن سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بہتری کی کوشش جاری رکھیں گے۔
س۔ علمِ عروض جانتے ہیں لیکن شاعری بہت کم کرتے ہیں ہماری آنکھیں کب دیکھیں گی کہ آپ کا شعری مجموعہ منصہءشہود پر آ گیا ہے؟
ج: شعر کہہ سکتا ہوں لیکن وہی منفرد نظر کی دھن میں شعر نہیں کہتا کیوں کہ ہزاروں کی تعداد میں موجود شاعروں کے بیچ اپنا آپ منوانا مشکل ہے۔ شاید آپ کی آنکھیں کبھی نہ دیکھ پائیں کہ میرا شعری مجموعہ آیا ہے البتہ پہلی کتاب "نشاطِ سرمدی” کے آخری صفحہ پر غیر مطبوعہ کتب کی فہرست میں "جمال سرمدی” کے نام سے شاعری کی کتاب کا نام لکھ دیا تھا۔
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
ج: ان خصوصیات کے بغیر ادب تخلیق کرنا میرے خیال میں ایسا ہی ہے جیسے ان پڑھ آدمی یونیورسٹی میں لیکچر دینا شروع کر دے۔ اردو ادب کا المیہ ہی یہی ہے کہ وہ بغیر مطالعے اور مشاہدے کے جاری وساری ہے۔
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی ضروری ہے؟
ج: اس کے بغیر تو ادب پنپ نہیں سکتا ہے۔
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
ج: حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ چند لوگ مسلط ہیں اور ہزاروں زرخیز لوگ گوشئہ گمنامی میں پڑے ہیں۔
س۔آپ کو ادبی بیٹھکیں لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟
ج: منفرد کام کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ نیز اس کام سے کئی غیر معروف ہستیاں منظر عام پر آ جائیں گی ۔
س۔ کیا ادبی بیٹھکوں پر کسی دوست نے اعتراض بھی کیا ہے یا سب خوش ہیں؟
ج: اعتراض کی پرواہ کبھی نہیں کی لیکن ابھی تک ایسا معاملہ پیش نہیں آیا۔
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟
ج: سوشل میڈیا اور موبائل، نیز حکومتی سطح پر کتاب کی پذیرائی کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ج: کتاب میلے ہوں گے تو لوگ کتابوں کی طرف آئیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر ادارے کو ایسے میلے منعقد کرنے چاہییں۔
س۔ کیا کتاب میلہ فوٹو سیشن تک ہی کارآمد ہوتا ہے یا اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں؟
ج: فوٹو سیشن صرف کتاب میلے تک محدود نہیں، یہ تو ایک روایت ہے جس کی مدد سے لمحات کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ لہذا میں تصویر کشی کو غلط نہیں سمجھتا۔
س۔آپ کی کتاب پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
ج: تحقیقی کام کا تاریخ میں امر ہونے سے تعلق نہیں، یہ تو ایک اعتراف ہوتا ہے اس ادیب کے فکر و فن کا۔
س۔ دھنک رنگ پر جو تحقیقی کام ہوا ہے کیا اسے دھنگ رنگ کا خصوصی شمارہ بنانا پسند کریں گے؟
ج: بالکل نہیں۔ البتہ مقالہ نگار اس تھیسس کو کتابی شکل میں شائع کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
س۔ اس دور کا ادیب اشرافیہ کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے بے شک اٹک کے ہی لوگ دیکھ لیں یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے اب یہ ٹرینڈ کیسے ختم کیا جاۓ اور
معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جاۓ ؟
ج: اشرافیہ کے پیچھے بھاگنا من حیث القوم ہمارا معاشرتی رویہ ہے لہذا اسے ادیبوں کے ساتھ مخصوص نہ کریں۔ البتہ ادیبوں کو ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ماضی کے عظیم اور مثالی کردار اشرافیہ کی چوکھٹ پر نظر آتے رہے ہیں لہذا آپ اٹک کے ادیبوں کو ہدف تنقید نہ بنائیں۔ میرے خیال میں اٹک کے ادیب اشرافیہ کو لفٹ نہیں کراتے ہاں اگر کوئی قدر دان عزت افزائی کر رہا ہو تو عزت سمجھنی چاہیئے۔
س۔ کتنے شاگرد ہیں اور کس کو اپنا فخر سمجھتے ہیں؟
ج: آپ مجھے اپنا استاد مانتے ہیں، عزت دیتے ہیں، بس یہی کافی ہے۔
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
ج: علم عروض پر کام جاری ہے، نیز ضلع اٹک کی ادبی بیٹھکیں پر مسلسل انٹرویوز کرتا رہتا ہوں، کچھ حصے شایع کرکے اسے یکجا کر کے شایع کروں گا۔ نیز ایک دو سوانح عمریاں زیر تربیت ہیں۔
س۔قارئین کے لیے اپنے کچھ اشعار پیش کیجیے:۔
اک گھنا پیڑ ہے اور بخت کی تاریکی دیکھ
ایک پتے نے مرا چاند چھپا رکھا ہے
چند لمحوں کے لیے تجھ سے بچھڑ کر دیکھا
ساری دنیا ہی مجھے چھوڑ گئی ہو جیسے
سبھی سے بے تکلف ہو رہا ہے
وہ اپنے حسن سے لاعلم ہو گا
میں پشیماں ہوں بہت ترک تعلق کر کے
جانے کب لوٹ کے آئیں گے منانے والے
انٹرویو کو سمیٹتا ہوں آخر میں دعا ہے کہ خدا وند کریم پروفیسر سجاد حسین سرمد کی توفیقات علم عمر اور رزق میں اضافہ فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |