دیکھتا ہوں ناروے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتا
امریکی صدر کی حالیہ جارحانہ پالیسیوں نے پوری دنیا میں طاقت کے توازن کا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب یہ دعوی کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سا ہو گیا ہے کہ بیلنس آف پاور امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ کسی ملک کی کمزوری دشمن ملک کو حملہ کرنے پر اکسا سکتی ہے لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ کمزور ملک طاقت اکٹھی کرے تو طاقتور ملک خود کو مزید طاقتور نہیں بنائے گا؟ گزشتہ سرد جنگ کے دوران تخخیف اسلحہ پر کافی کام ہوا تھا لیکن دنیا طاقت کے اس کھوکھلے فہم کی وجہ سے اسلحہ کے ڈھیر لگانے میں دوبارہ پاگل ہو رہی ہے۔
جارح امریکی صدر نے دنیا کو آگ کے الاو پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا پہلا دور پھر بھی کچھ پرامن تھا لیکن اس بار انہیں جہاں موقع مل رہا ہے وہ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے قطر اور ایران پر حملوں، وینزویلا پر امریکی قبضے، گرین لینڈ کو زبردستی خریدنے کا اعلان، کنیڈا جیسے پرامن ملک سے تناو اور یورپ سے امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو امریکہ کی بے مہار طاقت بری طرح ہوا دے رہی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس جارہانہ پالیسی کو امن کا روڈ میپ قرار دیتے ہیں، حالانکہ طاقت اپنے اظہار سے طاقت ہی کو فروغ دیتی ہے، جو امن کی بجائے بلآخر جنگ برپا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
ماضی میں سپر طاقت کی دوڑ میں امریکہ کا مدمقابل روس یوکرین میں بری طرح پھنسنے کے بعد فوجی اور معاشی طور پر کمزور ہو چکا ہے جبکہ دفاعی اور فوجی طاقت رکھنے کے باوجود امریکہ کی معاشی حالت یہ یے کہ اس کا قومی قرضہ 38 ٹریلئن ڈالرز کو چھو رہا ہے، جو امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بنا چکا ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے لیکن وہ جارحیت کی بجائے خاموشی کے ساتھ کاروبار کو تیزی سے فروغ دے دینے کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی طاقت میں بھی مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ گہرے پانیوں کی خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے اب امریکہ کو احساس ہو چکا ہے کہ چین کے گرد گھیرا تنگ نہ کیا گیا تو کل کلاں وہ امریکہ کی عالمی سپریمیسی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے پہلے وینزویلا اور اب گرین لینڈ پر امریکی جھنڈا لہرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکہ کی اس جارحانہ خارجہ پالیسی کے پیش نظر کنیڈا کے وزیراعظم بھی چین کا دورہ کیا اور امریکہ کی بجائے چین سے دفاعی معاہدوں پر دستخط کیئے۔ امریکہ کا قومی قرضہ لاکھوں ڈالر فی منٹ کے حساب سے بڑھ رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی اکانومی بچانے کے لئے اسی قدیم جارحانہ خارجہ پالیسی پر کام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے فتح حاصل کی اور جس کے بعد امریکہ کی چھتری تلے برطانیہ کے کندھوں پر دنیا میں استعماری نظام کو رائج کیا گیا۔
جنگ عظیم دوم کے بعد ایک عرصہ تک دنیا میں استعماریت کا سکہ چلتا رہا لیکن مختلف قوموں کو آزادی اور خودمختاری ملنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کا سورج غروب ہو گیا۔ یہاں تک کہ مشرق وسطی میں ایران اب تک امریکہ کے لیئے درد سر بنا ہوا ہے۔ ایشاء میں بھارت کے علاوہ چین اور پاکستان ایٹمی طاقتیں ہیں تو یورپ بھی اب گرین لینڈ کے مسئلے پر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کیونکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ نے امریکہ کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لیئے علامتی طور پر اپنے فوجی گرین لینڈ بھیجے ہیں۔ آنے والے چند سال امریکہ کے لئے ڈالر چھاپنے کا شائد آخری دور ہے، اس لئے امریکہ بے تحاشا ڈالر چھاپے گا اور ان سے بے تحاشہ خریداری کرے گا کیونکہ ان حالات کے بناء پر دنیا میں ڈالر کی قدر دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ ممکن ہے ایسا وقت بھی آئے کہ دنیا بھر میں ڈالرز بکھرے پڑے ہوں گے اور ان سے کچھ بھی خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے بعد ڈالر عملی طور پر ختم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی کوئی مضبوط متبادل نظام آ گیا، ڈالر کی حیثیت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اسی لئے امریکہ میں اب ڈالر چھاپنے کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جائے گی اور امریکی قرضہ بھی تیزی سے بڑھتا چلا جائے گا۔
امریکہ نے قرض ڈالرز میں واپس کرنا ہے اور وہ ڈالر چھاپ کر قرض واپس کر دے گا اس لئے ڈیفالٹ کا خطرہ امریکہ کو کم اور انہیں زیادہ ہے جو ڈالر جمع کر کے بیٹھے ہیں۔ روسی ماہرین بتا رہے ہیں کہ امریکہ اپنے قرض کو کرنسی کی قیمت گرا کر کم کر سکتا ہے۔ ویلیو ختم ہو گی تو قرضے خود بخود بے معنی ہو جائیں گے۔ یہ قرضوں سے جان چھڑانے کا ایک پیچیدہ مگر جدید طریقہ ہے۔ اگر امریکہ آج گرین لینڈ خریدنے کی بات کرے یا وینزویلا سے تیل خریدنے کی بات کر رہا ہے، تو اصل نقصان بیچنے والوں کا ہے۔ ڈالر کی اپنی کوئی حقیقی قیمت نہیں رہے گی۔ ایران کی کرنسی کو ہی دیکھ لیں کہ پابندیوں کی وجہ سے وہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ایران کی کرنسی کا یہ حال ہے کہ ایک امریکی ڈالر 1,075,000.00 ایرانی ریال کے برابر ہے۔ امریکہ کاغذ دے کر تیل لے رہا ہے، اثاثے لے رہا ہے، وفاداریاں خرید رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ نہیں کر رہا، یہ اسٹیبلشمنٹ اور بینکرز کر رہے ہیں، جس کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، جاپان اور یورپ وغیرہ ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں جو ممالک ایک دوسرے کے حریف تھے جنگ کے خاتمے پر ایک دوسرے کے حلیف بن گئے۔ جاپان شکست کے بعد امریکہ کی زیر نگرانی چلا گیا۔ انگلینڈ لندن میں دریائے تھیمز کے کنارے جرمنی کے جہازوں کی بمباری کے نشانات کو وزٹ کر کے آج بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن جنگ ختم ہوئی تو جرمنی اور انگلینڈ ایک دوسرے کے اتنے قریب آئے کہ ان میں گاڑھی چھننے لگی۔ یورپ جو کچھ وقت پہلے تک امریکہ کا حلیف رہا ہے آج اس کی راہیں جدا ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ کنیڈا اور امریکہ میں بھی فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر امریکہ کو زوال آیا جو ان حالات میں زوال کی طرف بڑھ بھی رہا ہے اور تیسری عالمی جنگ بھی ہو گئی تو شکست اور پابندیوں کے بعد امریکہ کی کرنسی کا بھی وہی حال ہو گا جو آج ایرانی کرنسی کا ہے۔
ممکن ہے انفلیشن کے باوجود امریکہ اگلے پانچ سال تک زیادہ نوٹ چھاپنے کا سلسلہ جاری رکھے لیکن گلوبل ساؤتھ نے چین کا متبادل مالی نظام مکمل طور پر اپنا لیا، تو ممکن ہے امریکہ کے منصوبے درمیان میں ہی ناکام ہو جائیں۔ بہرکیف اس وقت حقیقت یہی ہے کہ امریکہ دھڑا دھڑ ڈالر چھاپ رہا ہے۔ منی سپلائی لاکھ ڈالر فی منٹ سے بھی زیادہ ہے۔ ایک سال پہلے تک امریکہ ہر سو سال میں ایک ہزار ارب ڈالر قرض اٹھا رہا تھا اس وقت یہ اوسط نوے دن پر آ چکی ہے۔ امریکی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرض پر سود کی ادائیگی ہے۔ قرض کی ادائیگی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، مزید قرض لئے بغیر سود ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آخری حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں اور بظاہر وہ تیسری عالمی جنگ لڑے بغیر ہی یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ دنیا میں امن کی بحالی کے لیئے کر رہے ہیں، اور اب تو انہوں نے ناروے کی نوبل انعام کمیٹی کو بھی دھمکی لگائی ہے کہ نوبل پیس پرائز کمیٹی ان کی خدمات کے بدلے انہیں "نوبل پرائز” کے لیئے کیوں کنسیڈر نہیں کر رہی ہے؟

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |