جاوید الحسن جاوید کی غزل اور عکسِ کشمیر
جاوید الحسن جاوید صاحب آزاد کشمیر کے شعری ادب میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ان کی جنم بھومی تو پلندری ہے لیکن طویل عرصے سے مظفرآباد میں مقیم ہیں۔ انھوں نے عملی زندگی کا آزاد تو لیکچرر انگریزی کی حیثیت سے کیا لیکن جلد ہی آزاد کشمیر کی سول سروسز کے امتحان میں کام یاب ہو کر اس طرف آ گئے۔آج کل آزاد کشمیر حکومت میں سیکرٹری سیرا کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ شاعری کا آغاز کالج دور سے کیا پہلا مجموعہ 2004ء میں شائع ہوا۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کا چھٹا مجموعہ اسی سال 2025ء میں خواہشیں، آئینے، انگلیاں،کرچیاں کے نام سے روہی بکس فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کی اشاعت پر جاوید صاحب کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ جاوید صاحب کے اس سے پہلے نعتیہ مجموعے "مہجورِ مدینہ”کا دیباچہ لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اب اس تازہ شعری مجموعے پر لکھنے کا شرف حاصل رہا۔ قارئین کے لیے وہ دیباچہ پیش کرتا ہوں جو مجموعے میں شامل ہے۔
جاوید الحسن جاوید کے غزلوں میں کشمیر ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر کے استعارے، جذباتی تعلقات اور آزادی کی آرزو کا گہرا عکس ملتا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی غزلیں نہ صرف کشمیر کے جغرافیائی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگرکرتی ہیں بل کہ وہ کشمیر کے درد،جدوجہد اور آزادی کی خواہش کو بھی اپنی غزلوں میں دل کی گہرائیوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی غزلوں میں کشمیر کا دکھ اور اس کی مظلومیت کو ایک جذباتی استعارے کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔ وہ کشمیر میں نہ صرف ایک جغرافیائی مقام کے طور پر بل کہ ایک زخم خوردہ زمین کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں پر خون اور غم کی لکیریں موجود ہیں۔
ان کے اشعار میں کشمیر کے دکھوں اور وہاں کی حالتِ زار کو جس کرب اور مہارت سے بیان کیا گیا ہے وہ جاوید الحسن جاوید ہی کا خاصہ ہے۔ جاوید الحسن جاوید کشمیر کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں خواب اور امیدیں دھندلا گئی ہیں اور حقیقت میں کم یاب ہو گئی ہیں۔ شعر دیکھیے:
آنکھیں بھی رہیں بند،رہے خاک میں سر بھی
جلتا رہے کشمیر میں ایسا تو نہیں تھا
آتا ہی نہیں حرفِ دعا میرے لبوں پر
جس درجہ ہوں دل گیر، میں ایسا تو نہیں تھا
کشمیر کے ساتھ جاوید الحسن جاوید کی محبت کا ایک خاص رشتہ ہے۔ ان کی غزلوں میں کشمیر ایک محبوب کی طرح نظر آتا ہے جس کی یادیں اور درد انسان کی روح میں گہرے ہیں۔ یہاں کشمیر کو ایک دل کی دھڑکن اور ایک جذباتی وابستگی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
درد اترا ہے یہاں آہ و فغاں ٹھہری ہے
سات عشروں سے مرے گھر میں خزاں ٹھہری ہے
کس طرح میرے مقابل پہ عدو ٹھہرے گا
میں تو ٹھہرا ہوں وہاں،موت جہاں ٹھہری ہے
یہاں کشمیر کی فضاؤں میں آزادی کی کمی اور درد کی گونج کو بیان کیا گیا ہے جو غم اور درد کے استعارہ بن کر دل میں گونجتی ہے۔ یہ اشعار کشمیر کی سرزمین سے جذباتی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
جاوید الحسن جاوید کی غزلوں میں کشمیر کی آزادی کی خواہش ایک مستقل تھیم رہی ہے۔ وہ کشمیر کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھتے ہیں جسے آزادی کی ضرورت ہے اور جو کئی سال سے ظلم و جبر کا شکار رہی ہے۔
ان کے اشعار کشمیر کی آزادی کے خواب کو پیش کرتے ہیں جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا لیکن ایک دن ضرور حقیقت بنے گا۔ یہ ایک امید کا استعارہ ہےجو کشمیر کی مظلومیت اور آزادی کی آرزو کی نمائندگی کرتا ہے۔
جاوید الحسن جاوید نے کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد کو بھی اپنی غزلوں کا حصہ بنایا ہے۔وہ کشمیر کے عوام کے درد اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہیں جنھوں نے اپنے حقوق اور آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔
جاوید الحسن جاوید کے غزلیہ اشعار جا بہ جا کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے خواب اور امیدیں کشمیر کی آزادی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور جاوید الحسن جاوید ان کی ہمت کو سراہتے ہیں۔اشعار دیکھیے:
عجب کچھ بھی نہیں جہدِ مسلسل رنگ لے آئے
جہاں برفاب کی سِل تھی وہیں لشکر نکل آئے
سلام ان کی عزیمت پر،سلام ان کی شجاعت پر
وطن کی اک صدا پر گھر سے جو باہر نکل آئے
جاوید الحسن جاوید کی غزلوں میں کشمیر ایک استعارہ رہ بن کر سامنے آتا ہے جو نہ صرف دکھ اور درد کی علامت ہے بل کہ آزادی ،محبت اور قربانی کی خواہش کا بھی گہرا اظہار ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں انسانی جذبات، دکھ، جدوجہد اور آزادی کے خواب ایک دوسرے سے جڑ کر ایک نیا رنگ لیتے ہیں۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کے استعارہ مختلف حوالوں سے آیا ہے۔ان کے شاعری میں کشمیر کو دکھوں کا نشان اور آزادی کے آرزو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جاوید الحسن جاوید آزاد کشمیر میں تحریکِ آزادئ کشمیر کے حوالے سے ایک معروف شاعر ہیں۔ قبل ازیں اپ کا مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” شہرت حاصل کر چکا ہے۔ تاہم زیرِ مطالعہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے لیکن ان غزلوں میں اپ کا محبوب اپ کا وطن کشمیر ہے۔ جاوید االحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کی فطری خوب صورتی، یہاں کے لوگوں کی تکالیف، ان کے خواب اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ان کی شاعری میں کشمیر کی تصویر کشی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ کشمیر کی سرسبز وادیاں، بلند پہاڑ،نیلے آسمان،جھیلیں اور برف پوش مناظران کی شاعری میں زندہ دکھائی دیتے ہیں۔
جاوید الحسن جاوید کشمیر کی فطری خوب صورتی کو نہ صرف الفاظ کی صورت میں پیش کرتے ہیں بل کہ اس کے ذریعے سے انسانی جذبات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ وہ کشمیر کے حسن اور یہاں کے شہیدوں کوان الفاظ میں اپنی شاعری میں سموتے ہیں:
تم نے دیکھا نہیں کشمیر کی دھرتی کو میاں
سرخ پھولوں میں شہیدوں کو کفن بولتا ہے
جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کے لوگوں کی سیاسی اور سماجی حالت بھی اہم موضوع ہے۔کشمیر میں ہونے والے تشویش ناک حالات، کشمیری عوام کا ظلم و ستم کے خلاف احتجاج اور آزادی کی جدوجہد کی نظموں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کشمیر کے عوام کے دکھوں، ان کے خوابوں اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔
ہر روز اجڑتا ہوں کہ تقدیر یہی ہے
سرحد پہ بسے گاؤں کی توقیر یہی ہے
آبا کو مبارک، مرے بچوں کو مبارک
زنجیر یہی اور یہ کشمیر یہی ہے
اترا ہی نہیں مجھ سے منافقت کا لبادہ
آزادئ کشمیر میں تاخیر یہی ہے
یہ اشعار کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت ِحال اور عوام کی قربانیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان اشعار میں کشمیری عوام کی تکالیف اور ان کی جدوجہد کو دکھایا گیاہے جہاں ہر فرد آزادی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔ جہاں شاعر نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو بیان کیا ہے وہیں کشمیر کی آزادی میں حائل سیاسی رکاوٹوں پر بھی طنز کیا ہے۔
جاوید الحسن جاوید نے کشمیر کی عوام کی آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کوبڑے درد اور حقیقت پسندی سے پیش کیا ہے۔وہ کشمیر کے لوگوں کی ہمت، ان کے خوابوں،ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔
جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیری عوام کی حالتِ زار، ان کے جذبات اور ان کی آزادی کے لیے کی جانے والی قربانیاں ان کی نظموں کا حصہ بنتی ہیں۔ کشمیر میں خون ریزی ،جنگ اور سیاسی مشکلات نے کشمیری عوام کو بے شمار دکھوں میں مبتلا کیا ہے اور جاوید الحسن جاوید نے ان سب کو اپنی شاعری کے ذریعے سے بیان کیا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کشمیر کے عوام کے دکھوں اور ان کے سوالات کی گہرائی کو محسوس کرتے ہیں اپنی شاعری میں اس درد کو اجاگر کرتے ہیں۔
جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کی ثقافت اور تاریخ کا بھی گہرا اثر ہے۔ کشمیر ایک قدیم ثقافت اور تاریخ کا حامل خطہ ہے جس میں مختلف قوموں اور مذاہب کا میل جول رہا ہے۔ جاوید الحسن جاوید نے اپنی شاعری میں کشمیر کی تاریخی اہمیت اور یہاں کی ثقافت کو اجاگر کیا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری میں کشمیر کا عکس ایک وسیع اور گہرے دائرے میں پھیلا ہو ہے۔ ان کی شاعری میں کشمیر کی فطری خوب صورتی، عوام کا درد،آزادی کی جدوجہد اور کشمیر کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ قاری ان اشعار کے ذریعے سے کشمیر کی حقیقت کو بہ آسانی جان سکتا ہے۔ جاوید الحسن جاوید کی شاعری کشمیر کی آواز بن کر اس کے دکھوں اور خوابوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ان کی تخلیقات میں کشمیر کی روح اور اس کے عوام کی حالتِ زار کی سچی عکاسی موجود ہے جو نہ صرف کشمیری عوام بل کہ پورے عالم کو اس خطے کے مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کشمیر جاوید الحسن جاوید کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے۔ وہ اپنی شاعری(نظم وغزل )میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا زیرِ مطالعہ مجموعہ "خواہشیں، آئینے،انگلیاں، کرچیاں) یقیناً ان کے سابقہ مجموعوں کی طرح قارئین میں مقبولیت حاصل کرے گا۔ دعا ہے ان کا قلم یونھی رواں دواں رہے۔
15جنوری 2025ء

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |