اعلی پائے کی لیڈر چانسلر انجیلا مرکل
ایک بار لاہور کے جناح باغ میں ایک جرمن جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ یہ سنہ 1984ء کی بات ہے جب ہم ایف سی کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ وہ دونوں میاں بیوی واپڈا ہاوس لاہور میں انجینئرز کے طور پر کام کرتے تھے۔ انگریزی بولنے کا نیا نیا شوق تھا، ان سے خوب گپ شپ لگی۔ اتفاق سے وہ قذافی سٹیڈیم کے پاس گلبرگ3 کے جس بنگلے میں رہتے تھے میں اسی روڈ کے اپوزٹ تیسرے گھر میں رہتا تھا جس کے مالک سید مختار شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے برطانوی فوج میں کرنل کے طور پر جرمن فوج کے خلاف دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔ جب میں نے کرنل صاحب کو اس جرمن جوڑے کی بابت بتایا اور کہا کہ وہ ہمارے ہمسائے میں رہتے ہیں تو اگلے روز انہوں نے ان کو ڈنر پر انوائٹ کر لیا۔ اس رات کھانے کی میز پر جنگ عظیم دوم اور جرمن قوم کے بارے میں بہت ساری معلومات سننے کو ملیں۔
گزشتہ 16سال تک جرمنی کی بلاشرکت غیرے اقتدار میں رہنے والی سابقہ چانسلر انجیلا مرکل کی پارٹی کرسچئن ڈیمو کریٹک یونین (سی ڈی یو) نے انہیں دوبارہ اگلا لیڈر چننے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی ذاتی جماعت نے سنہ 2017ء کے انتخابات جیتے تھے جس کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر سے چانسلر منتخب ہو گئی تھیں۔ وہ کافی سالوں تک "انگرکھا” نامی ایک ہی لباس پہنتی رہی تھیں۔ انجیلا کے اس پرانے لباس پر کئی بار تنقید ہوتی رہی۔ حتی کہ پیرس کے میڈیا نے انہیں ایک بدلباس دیہاتی عورت کا نام دیا۔ ایک دفعہ پریس کانفرنس کے دوران تو ایک خاتون صحافی نے ان سے پوچھ ہی لیا تھا کہ، "میڈم چانسلر، آپ پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی سوٹ پہنے جا رہی ہیں، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟” اس پر انہوں نے ٹکا سا جواب دیا تھا کہ، "میں سرکاری نوکر ہوں، کوئی ماڈل نہیں ہوں”. جس قومی لیڈر کو اپنی ایماندارانہ ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے وہ قوم کا پیسہ قوم پر ہی خرچ کرتا ہے۔
انجیلا مرکل مشرقی جرمنی کے ایک پادری کی بیٹی ہیں، انہوں نے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز ایک سائنس دان کے طور پر کیا اور بعد میں وہ سیاست میں آ گئیں۔15جنوری 2021 ء کے دن جرمنوں نے وہ کیا جس کی توقع ان سے کم کی جاتی ہے۔ جرمنوں کو دنیا ٹھنڈی اور روکھی قوم کے طور پر جانتی ہے لیکن اس دن جرمن ممبران اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے اور زوردار تالیاں بجانے لگے، یہ تالیاں 6 منٹ تک بجتی رہیں اور گیلری میں بیٹھے بہت سے لوگوں کے چہرے جذبات کی تپش سے گل و گلنار ہو گئے اور بہتوں کی آنکھوں سے تو آنسو بہہ نکلے. 8 کروڑ جرمنوں کی قائد اور دنیا کی سب سے طاقتور خاتون رہنما انجیلا مرکل کی کل کمائی یہی تالیاں تھیں. انہوں نے 16سال کی حکومت میں صرف یہی ستائش اور عزت کمائی۔ ان کی قیادت اور اختیار کے ان تمام برسوں میں کوئی مالیاتی سکینڈل نہیں بنا۔ دنیا کی سب سے بڑی مالی قوتوں میں سے چار ہزار ارب ڈالر جی ڈی پی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی انجیلا نے کوئی بندر بانٹ نہیں کی، ان کا نام کسی "پانامہ سکینڈل” میں نہیں آیا. انہون نے کوئی پلاٹ الاٹ کروایا اور نہ ہی کوئی پرمٹ جاری کیا. انہوں نے کوئی رولز رائس خریدی اور نہ ہی کسی سوس بنک میں کوئی اکاؤنٹ کھلوایا۔ انہوں نے کوئی بھاشن نہیں دیئے، تصویریں کیھنچوانے کے لئے کوئی پوز نہیں بنایا. انہوں نے اپنے نام کے ساتھ "خادم اعلیٰ” نہیں لگایا، اور انہوں نے نیا جرمنی بنانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن انہوں نے خاموشی اور سادگی کے ساتھ اقتدار کے اپنے سولہ سالوں میں تقریباً پندرہ سو ارب ڈالرز کے جی ڈی پی میں اضافہ کیا، اپنا کام کیا اور جرمن قوم کے دلوں میں اعلی پائے کے لیڈر کا مقام بنایا۔ انجیلا مرکل نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کے تحریک کی شدید مذمت کی تھی، جس پر ان کے خلاف یورپ میں بہت تنقید ہوئی تھی. ترکی کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا، "اسلام اور جرمنی ایک ہیں،” جس پر یورپ میں طوفان برپا ہو گیا تھا۔ شام کی خانہ جنگی کےدوران جب مسلم ملکوں نے شامیوں پر دروازے بند کر دیئے تھے تو یہ انجیلا مرکل تھیں جنہوں نے لاکھوں شامی خاندان جو بحیرہ روم کی بےرحم لہروں میں کود کر سلامتی کی تلاش میں نکلے تو انہوں نے پورے 10 لاکھ یعنی ایک ملین مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دی تھی اور شدید مخالفت کے باوجود انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا تھا۔
ایک دفعہ انجیلا مرکل سے ایک اور پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ، "تمہارے گھر میں کتنی خادمائیں ہیں اور آپ کے گھر کا کھانا کون پکاتا ہے؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میرے پاس کوئی خادمہ نہیں ہے. نہ ہی مجھے ضرورت پڑتی ہے. میں اور میرا شوہر مل کر سارا کام نپٹا لیتے ہیں”. ایک اور صحافی نے مزید تجسس کا اظہار کیا.” کپڑے کون دھوتا ہےآپ یا آپ کے شوہر؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میں کپڑے جمع کر کے واشنگ مشین میں ڈالتی ہوں اور میرا شوہر مشین چلاتا ہے. ہم دونوں کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام رات کو بغیر کسی شور شرابے کے کریں تاکہ ہمارے پڑوسی پریشان نہ ہوں”۔ پھر انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر اضافہ کیا تھا کہ، "میرا خیال ہے تم لوگ میری حکومت کی کارکردگی پر توجہ دو تو زیادہ بہتر ہے”.
انجیلا مرکل جرمنی برلن کے ایک عام سے فلیٹ میں پچھلے بیس برس سے رہ رہی ہیں۔ اقتدار کے ان تمام برسوں میں بھی ان کا پتہ نہیں بدلا ہے۔ وہ کسی ولا میں منتقل نہیں ہوئیں نہ ہی کسی سوئمنگ پول اور باغ والے گھر کی مالکن بنی ہیں۔ وہ حکمران بھی اسی فلیٹ سے بنیں اور ان کی واپسی بھی اسی فلیٹ میں ہوئی. پچھلے 20 برسوں میں انجیلا کی ٹکر کا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو نعرے اور بڑھکیں مارے بغیر کچھ لوٹایا ہو. اس سے پہلے میں نے مونیکا رٹر نامی جرمن خاتون پر کالم لکھا تھا۔ آج جب انجیلا مرکل کے بارے پڑھ رہا تھا تو لاہور میں جرمن جوڑے سے ملاقات یاد آ گئی کہ حقیقی عزت و احترام کے قابل وہی اقوام اور لیڈر ہوتے ہیں جو سادہ طرز زندگی اپناتے ہیں اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے ملک کے سارے ذرائع کو قوم کی خدمت کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ نازی ہٹلر بھی جرمن حکمران تھا جس کے طرز زندگی اور غرور نے اسے جنگ عظیم دوم میں شکست دو چار کیا۔ یہ فقید المثال طرز زندگی اور حکمرانی کا طریق سب سے پہلی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہما نے اپنایا تھا جن کی بدولت آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی تھی۔
اب یہ طرز زندگی اور حکمرانی مغربی ممالک کے لیڈران اپناتے ہیں جو مسلم ممالک سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک دفعہ سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے بیٹے کے بارے میں بھی پڑھا تھا کہ 10ڈاوننگ سٹریٹ میں منتقل ہونے کے لیئے ان کا ایک بیٹا وزنی بیگ کھینچ رہا تھا تو گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ یہ اظہاریہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے رہنما دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں اور اکثر ممالک کے لیڈرز کی ذاتی زندگی اور طرز حکومت کے بارے میں بھی اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن وہ انجیلا مرکل جیسی خوبیوں کو نہیں اپناتے ہیں حالانکہ عملی زندگی اور حکمرانی کے اوصاف کا اعلی نمونہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین جیسی عظیم ہستیوں کی زندگیاں اور تعلیمات ہیں۔
Title Photo: Arno Mikkor (EU2017EE)

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |