گرین لینڈ کا غیریقینی مستقبل
بعض دفعہ حسن حسینوں کا دشمن بن جاتا ہے۔ گرین لینڈ بحرِ منجمد شمالی اور بحرِ اوقیانوس کے درمیان میں واقع ایک انتہائی خوبصورت ملک ہے۔ گرین لینڈ ایک خود مختار ملک ہے مگر سیاسی طور پر یہ ڈنمارک کی دولت مشترکہ میں شامل ہے۔
اس جزیرے پر 14ویں صدی سے ڈنمارک کا کنٹرول ہے، تاہم 1979ء میں گرین لینڈ کو ایک خودمختار علاقے کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس کا اپنا وزیراعظم اور اپنی حکومت ہے۔ گرین لینڈ کے مغرب میں کینیڈا کا کچھ علاقہ ہے جبکہ جغرافیائی طور پر اس کا کچھ حصہ شمالی امریکہ میں بھی ہے۔
گرین لینڈ نام سے بظاہر ایک چھوٹا سا جزیرہ لگتا ہے۔ لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ گرین لینڈ کی کل آبادی صرف 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے مگر رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان سے بھی 3 گنا بڑا ملک ہے، جس کا رقبہ 21 لاکھ 66 ہزار مربع کلو میٹر ہے، جبکہ پاکستان کا کل رقبہ 095 ،796 مربع کلومیٹر ہے۔ پھر گرین لینڈ کے اندر کی خوبصورتی کا یہ عالم ہے کہ وہاں تیل اور معدنی ذخائر کی بہتات ہے، جس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔
گرین لینڈ کے لفظ کا مطلب "لوگوں کی سرزمین” ہے لیکن اس کی شومئی قسمت دیکھیں کہ آنے والے وقت میں اس عظیم ملک میں خود وہاں کے باشندوں کا رہنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ حالیہ برسوں میں گرین لینڈ صرف برف کا ڈھیر نہیں رہا، بلکہ یہ اپنے محل وقوع اور معدنی اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں امریکہ، روس اور چین کے درمیان ایک "نئی سرد جنگ” کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ گرین لینڈ آرکٹک میں برف کی 4 کلومیٹر موٹی تہیں ہیں اور وہاں برف پگھلنے کی رفتار باقی دنیا کے مقابلے میں 4 گنا تیز ہے۔ گرین لینڈ میں برف کے قدیم پہاڑ پگھل رہے ہیں اور برف کے دیوقامت ٹکڑے پانی میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اگر گرین لینڈ کی تمام برف پگھل جائے تو دنیا بھر کے سمندروں کی سطح 24 فٹ بلند ہو جائے گی۔ چونکہ گرین لینڈ امریکہ، یورپ اور روس کے درمیان واقع ہے اس لیئے اس کی "اسٹریٹجک” اہمیت بہت زیادہ ہے گرین لینڈ جس کے زیر زمین بہت بڑی مقدار میں دیگر قیمتی معدنیات بھی موجود ہیں۔ وہ جزیرہ جسے کبھی صرف قطب شمالی کی ایک دور افتادہ اور بنجر سرزمین سمجھا جاتا تھا، ان عالمی قوتوں کے درمیان ایک ایسی بساط بن چکا ہے جہاں ہر مہرہ سوچ سمجھ کر رکھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس برفیلے خطے میں ایسا کیا ہے کہ دنیا کی سپر پاورز یہاں دست و گریبان ہیں؟ اول گرین لینڈ یورینیم، قدرتی گیس اور دیگر معدنیات کے علاوہ مستقبل کے سونے کا خزانہ ہے کیونکہ گرین لینڈ کی اہمیت کی سب سے بڑی وجہ اس کے سینے میں دفن یہی قدرتی وسائل ہیں، جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں کی برف پگھل رہی ہے، زمین کے اندر چھپے ہوئے ان خزانوں تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں "رئیر ارتھ میٹلز” کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک کاروں اور جدید ترین فوجی ہتھیاروں کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سردست چین ان معدنیات کی عالمی سپلائی پر قابض ہے، اور امریکہ ہر قیمت پر اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہاں برف پگھلنے سے "نارتھ ویسٹ پیسج” کے امکانات روشن ہو گئے ہیں جو کہ ایک نیا عالمی تجارت راستہ بن جائے گا۔ اگر یہ راستہ تجارتی جہازوں کے لیئے کھل گیا تو ایشیا سے یورپ کا سمندری سفر ہزاروں میل کم ہو جائے گا، جو موجودہ "نہر سویز” کے راستے کا ایک بڑا متبادل راستہ بن سکتا ہے۔ جو ملک اس راستے پر اثر و رسوخ رکھے گا، وہ عالمی تجارت کا نیا محافظ ہو گا۔
اس بناء پر امریکہ گرین لینڈ کو اپنا قومی سلامتی کا "دفاعی حصار” سمجھتا ہے۔ گرین لینڈ ویسے بھی ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی نسبت نیویارک سے زیادہ قریب ہے۔ یہاں امریکہ کا "تھول ایئر بیس” پہلے سے موجود ہے جو روس سے آنے والے کسی بھی میزائل حملے کی قبل از وقت اطلاع دینے کا نظام رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ اسی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ چین خود کو ایک "قریبی آرکٹک ریاست” قرار دے کر یہاں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نے یہاں ہوائی اڈوں کی تعمیر اور کان کنی کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، جسے امریکہ اپنے مفادات پر حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ادھر روس آرکٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اس نے پرانے سوویت دور کے فوجی اڈے دوبارہ فعال کر دیئے ہیں، جو امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش نے، دنیا کے اس سب سے بڑے جزیرے کو میڈیا اور عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ، "دنیا بھر میں قومی سلامتی اور آزادی کے مقاصد کے لئے امریکہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے گرین لینڈ کی ملکیت اور کنٹرول کی بہت ضرورت ہے۔” ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ کے حصول کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے 2019ء میں اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی اپنا یہ نظریہ پیش کیا تھا لیکن گرین لینڈ اور ڈنمارک دونوں ہی ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے گرین لینڈ کے بارے میں ٹرمپ کے بیان پر فرانس اور جرمنی نے بھی اپنے ردعمل میں اس کی مخالفت کی تھی۔ جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا تھا کہ "سرحدوں کے ناقابل تسخیر ہونے کا اصول ہر ملک پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ چھوٹا ملک ہو یا بہت بڑی طاقت ہو۔” اسی طرح فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یورپی یونین دنیا کی دیگر اقوام کو اپنی خود مختار سرحدوں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔”
گرین لینڈ میں آنکھوں کو خیرہ کرنے والے مناظر ظاہر ہونے کو ہیں۔ پانی میں "امپائر اسٹیٹ بلڈنگ” سائز کے تیرتے اور چٹانوں سے ٹکراتے ہوئے برف کے ٹکڑے، خوبصورت جنگلی حیات، پانیوں میں تیرتی ہوئی دیوہیکل سیل اور وہیلز مچھلیاں اور دیگر انتہائی خوبصورت، دلکش اور حیران کن نظارے دیکھنے کو ملیں گے مگر وہاں عالمی طاقتوں کی للچائی ہوئی نظروں کے ہوتے ہوئے، اس کا مستقبل کیا ہے اور وہاں تادیر امن قائم رہے گا یا نہیں ابھی اس کے بارے میں کوئی یقینی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔
گرین لینڈ کے مقامی لوگ ایک طویل عرصے سے مکمل آزادی کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ڈنمارک سے سالانہ امداد تو لیتے ہیں، لیکن معدنیات کی دریافت کے بعد انہیں لگتا ہے کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی یہ آزادی انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان باعث نزع بنا سکتی ہے۔ یوں اب گرین لینڈ صرف جغرافیہ کا نام نہیں رہا بلکہ یہ 21ویں صدی کی "جیو پولیٹکس” کا نیا محاذ ہے۔ امریکہ اسے اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے، چین اسے اپنی "پولر سلک روڈ” بنانا چاہتا ہے، اور روس یہاں اپنی فوجی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ آنے والے عشروں میں گرین لینڈ کی برف جتنی زیادہ پگھلے گی، عالمی سیاست کا درجہ حرارت اتنا ہی بڑھے گا۔
Title Image by Bernd Hildebrandt from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |