ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری

سعدیہ وحید
(معاون مدیرہ : شعوروادراک خان پور)

وِیکی پیڈیا اور چند دیگر سماجی ویب سایٹس پر موجود معلومات کے مطابق 28 جنوری 1993ء ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری کا یومِ وفات ہے ۔ جسٹس ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری‘ اسلامی نظریاتی پاکستان کونسل کے ایک اہم رُکن، اسلامی علوم اور جدید سائنسز سے آراستہ ایک معروف عالم تھے۔ انہیں روایتی اور جدید عربی زبان میں گہری اور مستند مہارت حاصل تھی۔ڈاکٹر مفتی سید شجاعت قادری نے مختلف عہدوں پر کام کرنے کے علاوہ خود کو ایک بڑی تعداد میں تصنیف و تالیف اور اشاعت میں مصروف رکھا۔ انہوں نے اسلامی فقہ (شرعی قانونی تفسیر)، معاشیات اور وراثت پر ایک بڑی تعداد میں کتابیں تحریر کیں اور اس کے علاوہ کچھ قابل ِذکر کتابوں کا عربی سے اُردو میں ترجمہ بھی کیا۔ڈاکٹر سید شجاعت علی قادری 10 جنوری 1941 ء کو اُتر پردیش، بھارت میں پیدا ہوئے۔

iraqi

وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم، ملتان، پنجاب(پاکستان) میں افتاء (اسلامی فقہ) کے دفتر میں کام کرنے والے سید مسعود علی قادری کے بیٹے تھے۔ شجاعت علی اپنے والد کے دوسرے بیٹے تھے۔
آپ کے بھائیوں کے نام یہ ہیں:
سید سعادت علی قادری
سید طارق علی
سید خوشنود علی
سیدشفاعت علی
ڈاکٹر مفتی سید شجاعت قادری نے مدرسہ عربیہ حافظیہ سعدیہ ضلع دادو، علی گڑھ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے غلام جیلانی میرٹھی اور حافظ شاہ احمد نورانیؒ صدیقی کے استاد کے بھائی حافظ غلام ربانی سے ناظرہ قرآن کریم سیکھا۔ اس کے بعد علی گڑھ (بھارت) سے 1951ء میں 10 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی اور مدرسہ انوار العلوم ملتان میں تعلیم کا آغاز کیا۔ بالآخر اس ادارے سے انہوں نے درس نظامی کے کورسز مکمل کیے۔ انہوں نے پیر کفایت علی شاہ سے تصوف کے قادری طریقہ میں اجازت بھی حاصل کی۔ انہیں مندرجہ ذیل قابلِ ذکر علماء کرام سے سیکھنے کا موقع ملا۔

stone laying


1۔ مفتی سید مسعود علی قادری(ڈاکٹر شجاعت قادری کے والد )
2۔ عبدالحفیظ حقانی (محمد حسن حقانی کے والد)
3۔ سید احمد سعید کاظمیؒ
انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں جامعہ اسلامیہ انوار العلوم ملتان سے علوم کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مندرجہ ذیل ڈگریاں حاصل کیں:
ایم اے( اسلامیات) کراچی یونیورسٹی، 1971ء
ایم اے( عربی) کراچی یونیورسٹی، 1974ء
عربی ادب کورس، ریاض یونیورسٹی، سعودی عرب، 1984ء
پی ایچ ڈی، کراچی یونیورسٹی، 1984ء
ذیل میں ان کے شاگردوں کی فہرست ہے جو اب اہل ِسنت والجماعت کے ممتاز علماء بن چکے ہیں:
شیخ الحدیث مفتی شاہ حسین گردیزی
پروفیسر مفتی منیب الرحمان
مولانا سید ارشد سعید کاظمی
شیخ الحدیث سید محمد عرفان مشہدی
شیخ غلام ربانی الافغانی
ڈاکٹر اشرف جیلانی
ڈاکٹر نور احمد شاہتاز
شیخ الحدیث مفتی اسماعیل ضیائی
شیخ الحدیث مفتی احمد میاں برکاتی
مولانا عبدالجبار نیازی
مولانا نصیر اللہ نقشبندی
پیر حبیب الرحمن محبوبی
مفتی عبدالعزیز حنفی
علامہ یٰسین نعیمی
علامہ احمد علی سعیدی
ڈاکٹر سید شجاعت علی قادری نے متعدد اہم کتابوں کو تصنیف اور ترجمہ کیا۔جن میں چند درج ذیل ہیں:
1۔ترجمہ تفسیر مظہری (پندرہ حصے)
2۔مواحب لدونیہ کا ترجمہ
3۔شارح الصدور کا ترجمہ
4 ۔ترجمہ الخیرات الحسن
5 ۔الشفاء شیخ الرئیس کا ترجمہ (کچھ حصے)
6 ۔انشاء العربیہ (چار حصے)
7 ۔ رسالہ ختم نبوت کا عربی سے اُردو میں ترجمہ
8 ۔عربی میں ختم نبوت پر رسالہ
9 ۔اسلام میں مرتد کی سزا (اسلام میں مرتد کی سزا)
10۔ اسلام کا معاشی نظام (اسلامی معاشی نظام)
11 ۔عقائد واعمال
12 ۔کشور طلاقین (تین طلاقیں)
13 ۔سورہ بنی اسرائیل کا ترجمہ اور تفسیر سیرت مبارک کے ساتھ
14 ۔فقہ اہلسنت (فقہ اہلسنت)
15 ۔عدالت اسلامیہ (اسلامی عدالت)
16 ۔آدمی ہو احمد رضا (احمد رضا کون ہے؟) – احمد رضا خان بریلوی کی سوانح عمری(عربی زبان میں)
17 ۔مجدد المطابع – آل احمد رضا خان پر کچھ مضامین( عربی زبان میں)
18 ۔فتاویٰ رضویہ (عربی اصطلاحات کا ترجمہ)
19 ۔رسالہ اعلیٰ حضرت ( احمد رضا خان کے لکھے ہوئے کتابچوں کا مجموعہ جس میں وضاحتی حاشیہ، تعارف اور عربی اور فارسی عبارتوں کا ترجمہ)
20 ۔اربعین( بہارِ شریعت کے آخری حصے کی ترکیب.فقہ اہلسنت، پیش لفظ، مدینہ پبلشنگ، کراچی)
21 ۔پی ایچ ڈی کا مقالہ – بارہویں-تیرہویں عیسوی میں عربی زبان کی وادی سندھ میں ایک علمی تحریک
22 ۔تاریخ اسلام پر مضامین کا سلسلہ جو ماہانہ رسالہ ترجمۃ اہلسنت (اہلِ سنت کی آواز) میں شائع ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری 2 جولائی 1983 ء سے یکم جولائی 1989 ء تک فیڈرل شریعت کورٹ کے جج رہے۔
آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 24 جنوری 1993 ئکو محکمہ بہبود آبادی کی طرف سے سرکاری دورے پہ انڈونیشیا گئے اور 28 جنوری 1993 ء بمطابق 4 شعبان 1412 ھجری کو دل کے دورے کے سبب آپ کا جکارتہ میں انتقال ہو گیا۔آپ کا پہلا جنازہ حامد سعید کاظمی کی اقتداء میں جکارتہ میں ہوا جس میں 50 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔آپ کی میت یکم فروری 1993 ء کو پاکستان لائی گئی اور جامعہ نعیمیہ میں تدفین کی گئی۔پاکستان میں آپ کا جنازہ آپ کے بھائی سید سعادت علی قادری نے پڑھایا۔

janaza


٭٭٭

سعدیہ وحید

Next Post

مہکار مدینے کی

جمعہ جنوری 28 , 2022
یہ نعتیہ رنگ ذاتی کاوش سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اللہ رب العزت کی ذات ایسے قدسی صفات کے حامل انسانوں کو الہام کی رم جھم میں نوازتا ہے
Mehkar Madeeny Ki