عقیدتوں کا سفیر ۔مقبول زکی مقبول

تحریر : خالق داد چھینہ، بھکر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر عاصم بخاری کے ایک خوب صورت شعر سے مقبول ذکی مقبول کے حوالے سے اپنی تحریر کا آغاز کرنا چاہوں گا
ہر دل عزیز شہر میں مقبول آج کل
تم بھی نذیر یاد کی ہو نظم کی طرح

اپنے نام کی طرح ادب کے مقبول ترین شعبہ یعنی شاعری سے منسلک ایک درویش منش انسان مگر ہمہ جہت مصروف عمل اور ادب دوست انسان ہے۔ادبی محافلِ آور اساتذہ فن سے قربت نے مقبول زکی مقبول کو خود شناسی سے بچپن ہی سے روشناس کرادیا جس بنا پر وہ شعور بیداری جیسی صفات کا حامل ہوا اور شعر گوئی کا فن اور ادبی ذوقِ و سخن مقبول زکی مقبول کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا آور دن رات کی محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اہل بیت علیہم السلام کی عقیدت ومودت نے اسکی شخصیت اور کردار کو مزید مقبول کر دیا۔ادبی سفر میں،،”سجدہ”مقبول زکی مقبول کا پہلا پڑاؤ ہے جس کو ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔شاعری میں مقبول نے روایتی رومانوی،مزاحمتی،ملامتی اور طربیہ شاعری سے کوسوں دور اپنے دل کے نہاں خانوں میں عشق حقیقی کو بسایا۔اور آپنے تخیل کو درود و سلام نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حمد الہی کی صورت میں اظہار کا ذریعہ بنایا ۔مطالعہ کا شوق تو ہر ایک کو ہوتا ہے مگر حاصل مطالعہ کو استعمال کرنے کا فن ہر ایک کے بس کی بات نہیں یہ کام استاد کامل کی رہنمائی سے انجام پاتا ہے۔استاذالشعراء نذیر ڈھالہ خیلوی نے مقبول کی فنی صلاحیتوں کو جانچا اور کمال محنت اور شفقت سے قدم بقدم سرپرستی کی جس وجہ سے یہ ادبی سفر مزید آسان اور تیز ہو گیا ۔اس سفر کا دوسرا پڑاؤ،”منتہائے فکر” بلاشبہ پختہ شعر گوئی کا پتہ دیتا ہے جو حال ہی میں چھپ کر منصہء شہود پر آیا ہے۔اس اُردو مجموعہ سلام میں انتساب اپنے والد کے نام کرکے اپنے فن کا خراج ادا کیا ہے۔ حمد الہی اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاؤہ 114سلام میں سے 7غیر منقوط اور حفظ مراتب میں ردیف کو حروف تہجی کو پیش نظر رکھا۔
ملک بھر سے درجنوں تنظیموں اور اداروں نے ان کے فن و ادب کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ایوارڈز سے نوازا ہے۔ منکیرہ کے اہل فن وادب کے حلقہ احباب نے ان کی محنت اور کاوشوں کو ہمیشہ سراہا اور علاقہ کیلئے باعث فخر سمجھا ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

قاصر بندہ دیکھ نہ پایا
دل کے اندر مالک اپنا

سانس چلنے لگی حق کے پیغام کی
ایسے دل میں عمل کو اتارا گیا

بہار ساری یہ باغ تجھ سے
ہیں دیں کے روشن چراغ تجھ سے

ہے رکھ لیا بھرم پیغمبروں (ع)کا اس جہان میں
جو دین حق بچا گیا غیور وہ حسین (ع) ہے

جس کا جھولا جھلا تا آکےجبرائیل امین
سر بریدہ دھوپ میں دیکھا گیا عاشور کو

آخر میں مقبول ذکی مقبول کے حوالے سے سید حبدار قائم، اٹک اظہارِ محبت میں دو شعر کہتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں

نویدِ خوشی ہو تجھے زندگی بھر
یہ ہو کامیابی کا سہرا مبارک

نبی (ص) کی مودت سے کھلتا رہے تو
ترا اور نکھرے یہ چہرا مبارک

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ آمین۔

khaliqdad

 خالق داد چھینہ

بھکر

سونیا بخاری

Next Post

صغیر ملال،تعارف و کلام

بدھ جنوری 26 , 2022
صغیر ملال (پیدائش: 15 فروری 1951ء – وفات: 26 جنوری 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔
Sagheer Malal