نمز کی سالانہ تقریب اور سماجی خدمات کا اعتراف
22 نومبر 2025 کو برادر عزیز چودھری امجد ایوب، سربراہ نیشنل اکیڈمی آف ماڈرن سائنسز (نمز)، کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ ادارے کی رواں برس ہونے والی سالانہ تقریب جو دسمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جا رہی ہے میں ایک نئے اور بامعنی باب کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس باب کے تحت نمز کے طلبہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اُن افراد کو بھی اعزازات سے نوازا جائے گا جنھوں نے مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں نمایاں اور قابلِ تقلید خدمات انجام دی ہیں۔ اسی ضمن میں چودھری امجد ایوب صاحب نے ادب کے شعبے کے لیے کسی موزوں شخصیت کے انتخاب پر مشورہ طلب کیا۔
ابتدائی طور پر ادب کے لیے چند نام زیرِ غور آئے جن میں مخلص وجدانی، زاہد کلیم مرحوم اور میرپور کے غازی علم الدین مرحوم شامل تھے۔ تاہم امجد ایوب کی خواہش تھی کہ نمز کے پہلے ادبی ایوارڈ کے لیے ایسا نام منتخب کیا جائے جو نہ صرف ادارے کے وقار میں اضافہ کرے بلکہ تقریب میں موجود شرکا بھی دل کھول کر داد دیں۔ ان کی سنجیدگی، وژن اور لگن کو دیکھتے ہوئے بالمشافہ ملاقات کا وعدہ طے پایا۔
اتفاقاً 24 نومبر کو اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے پبلک سروس کمیشن کا تحریری امتحان مظفرآباد میں منعقد ہوا۔ اس امتحان میں پلندری سے برادر آصف اسحاق بھی شریک تھے۔ امتحان کے بعد وقت میسر آیا تو نمز اپر چھتر کا رخ کیا گیا جہاں چودھری امجد ایوب نے نہایت محبت اور احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ گفتگو کے دوران میں مختلف تعلیمی و سماجی امور زیرِ بحث آئے اور جلد ہی ایوارڈز کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس موقعے پر انھوں نے بتایا کہ اس سال ادب کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
اس برس کے ایوارڈز میں شامل شخصیات محض کامیابی ہی نہیں بلکہ محنت، قربانی اور تخلیقی صلاحیتوں کی روشن مثال تھیں۔ ضلع باغ کی چھےسالہ لاریب گل نے محض چار ماہ اور اکیس دن میں قرآن مجید حفظ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ وادیٔ نیلم کی کم ِسن یشفٰی نور نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک گہری کھائی سے بکری کے بچے کی جان بچائی۔ فنِ مصوری کے میدان میں قرۃالعین عباسی نے اپنی فنی مہارت کا لوہا منوایا۔ دعا آصف اعوان جو پیدائشی طور پر معذور ہیں نے غیر معمولی تعلیمی محنت کے نتیجے میں میٹرک 2024ء میں 1200 میں سے 1146 نمبر حاصل کیے۔ وادیٔ نیلم کے نوجوان عاقب رفیق نے CSS میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیا۔ عوامی خدمت کے شعبے میں محترم شوکت نواز میر کی خدمات کو سراہا گیا جب کہ ادب کے میدان میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کے علمی و ادبی کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
نمز کی سالانہ تقریب مظفرآباد کے ٹیولپ مارکی ہال میں21 دسمبر کو نہایت وقار اور شان دار انداز میں انعقاد پذیر ہوئی۔ راقم برادر عزیز سالک محبوب اعوان کے ہم راہ جب ہال میں پہنچا تو دروازے پر محترم امجد ایوب نے استقبال کیا ۔ تقریب کا باضابطہ آغاز ہو چکا تھا۔ ہمیں ادارے کے ایک معزز استاذ نے عزت کے ساتھ پہلی نشست میں جا بٹھایا۔ہال طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد سے بھرا ہوا تھا۔ تقریب کے آغاز میں نمز کے لیکچرر اردو محمد طارق صیاد نے سپاس نامہ پیش کیا جس میں ادارے کی جدوجہد، شب و روز کی محنت، طلبہ کی کامیابیوں اور نمز کی تعلیمی و سماجی خدمات کا جامع احاطہ کیا گیا۔ ان کے مدلل اور پُراثر کلمات نے حاضرین کو ادارے کے مشن اور وژن سے بہ خوبی آگاہ کیا۔ بعد ازاں نظامت کے فرائض چودھری میر حسن اور دیگر اساتذہ اور طلبہ نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے ابتدائی حصے میں طلبہ نے ٹیبلو، موسیقی، مزاح اور دیگر پروگرامز کے ذریعے سے اپنی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بانسری کی دھن میں سامعین نے دل کھول کر نوجوان علی وجدان کو داد دی۔ علی وجدان مظفرآباد کے خوب صورت شاعر ارشد احمد مغل کے نورِ نظر ہیں ۔اگلے مرحلے پر ایوارڈز کے لیے نام زَد شخصیات کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ مکمل تقریب میں شریک رہیں اور ان کی خدمات کو برسرِ محفل سراہا جا سکے۔
نمز کا پہلا 2025ء عظمتِ قرآن ایوارڈ چھے سالہ لاریب گل کو دیا گیاجس نے محض چار ماہ اور اکیس دن میں قرآن مجید حفظ کیا والد ماجد کی رفاقت میں اس ننھی حافظہ نے جب اپنا ایوارڈ وصول کیا تو مہمانوں نے اشک بار آنکھوں سے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ بہادری کا ایوارڈ دس سالہ یشفٰی نور بنت محمد سخی کے نام رہا۔جس نے گزشتہ برس نیلم کی ایک گہری کھائی سے بکری کے بچے کی جان بچائی تھی۔ یاد رہے کہ اس ننھی دلیر نے ایسی جگہ سے اس بے زبان جانور کی جان بچائی جہاں سے زندہ بچنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اوپر سنگلاخ چٹانیں اور نیچے نیلم کا خونی دریا ذرا سی لغزش زندگی کا چراغ گل کر سکتی تھی ۔ باوجود اس کے یشفٰی نے انسانیت کی عمدہ مثال قائم کی اور میمنے کی جان بچانے میں کامیاب ٹھہری۔فنِ مصوری کا ایوارڈ قرۃالعین عباسی کو دیا گیا۔ قرۃ العین رنگوں سے کھیلنے کا فن خوب جانتی ہے اس کی مہارت پر شرکا نے تالیاں بجا کر حوصلہ افزائی کی ۔جب کہ تعلیمی امتیاز کا ایوارڈ دعا آصف اعوان نے وصول کیا۔ دعا مظفرآباد کے نام وٓر ماہرِ تعلیم محمد آصف اعوان صاحب کی لختِ جگر ہے۔الکاسب حبیب اللہ ایوارڈ نوجوان عاقب رفیق کو دیا گیا تاہم ان کی غیر موجودگی میں یہ اعزاز ان کے بھائی محمد بشارت نے وصول کیا۔ عوامی خدمت کا ایوارڈ شوکت نواز میر کے حصے میں آیا ۔جب کہ ادب کے شعبے کا ایوارڈ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کو دیا گیا۔ شفیق انجم صاحب بھمبر کی دھرتی کے وہ سپوت ہیں جن کا ادبی قد کاٹھ آزاد کشمیر کی تاریخ میں نمایاں ہے۔ استاذ محترم کی عدم موجودگی میں ان کا ایوارڈ احقر نے ان کا شاگرد ہونے کی حیثیت سے وصول کیا۔
تقریب کے بعد مہمانِ خصوصی میاں عبد الوحید وزیر حکومت نے خطاب کیا۔ انھوں نے نمز کے اس منفرد اقدام کو سراہا کہ ادارے نے صرف اپنے طلبہ ہی نہیں بلکہ معاشرے کے اُن افراد کو بھی اعزازات سے نوازا جو خاموشی سے قوم کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں سے ایسی شخصیات کی تلاش اور ان تک رسائی ایک مشکل مرحلہ تھا جسے نمز نے احسن انداز میں طے کیا۔
اختتام پر جناب چودھری امجد ایوب نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ نمز آئندہ سال کالج کے قیام کا آغاز کرے گا جس میں وقت کے ساتھ مزید وسعت پیدا کی جائے گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے والے ہر فرد کو آئندہ بھی سراہا جاتا رہے گا۔ اختتامی دعا حافظ جناب محمد ارشاد نے کروائی جس کے بعد شرکا کے لیے ظہرانے کا شان دار اہتمام کیا گیا۔
تقریب تقریباً چار بجے اپنے اختتام کو پہنچی تاہم اس کے اثرات اور یادیں شرکا کے دلوں میں دیر تک زندہ رہیں۔ نمز کا نظم و ضبط، خلوص اور معاشرتی خدمت کا جذبہ ایک بار پھر سب کے سامنے نمایاں ہو گیا۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |