محنت کی خوشبو
فرہاد احمد فگار، مظفرآباد
شام ڈھل رہی تھی۔ مظفرآباد کی فضا میں خزاں کے پہلے جھونکے نے سردی کی آمد کا اعلان کر دیا تھا۔ پہاڑوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے اور گوجرہ کے بازار میں معمول کی چہل پہل تھی۔ سیف پلازہ کے پاس ایک پرانی ریڑھی کے گرد ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔ یخنی کی مہک سے فضا معطر تھی۔
ریڑھی کے پیچھے ایک بوڑھا شخص جس کی داڑھی میں وقت نے چاندی کے دھاگے بُنے تھے برتن کے کنارے چمچ ہلاتا جا رہا تھا۔ چہرے پر اطمینان کی وہ مسکراہٹ تھی جو محنت کشوں کی پہچان ہوتی ہے۔
"چاچا! یخنی گرم ہے؟” میں نے پوچھا۔
چاچا نے پیالہ بھرتے ہوئے کہا،
"گرم؟ ہائے پتر اتنی گرم کہ سردی کو بھی پسینہ آ جائے!”
میں نے پیالہ لیا۔ ایک چمچ بھاپ اُڑتی یخنی کا حلق سے اترنا ایسا لگا جیسے جسم میں زندگی کی لہر دوڑ گئی ہو۔ جب میں نے پیسے بڑھائے تو وہ ہنس دیا وہی اس کا ایک مخصوص جملہ۔۔۔۔۔۔۔
"رہنڑ دیو نا جی… دعا کرو بس رزق حلال نصیب رہے۔”
میں اکثر سوچتا یہ بزرگ شخص آخر کس مٹی کا بنا ہے؟ کئی برس سے دیکھ رہا ہوں۔ کبھی بارش، کبھی جاڑا، کبھی دھوپ۔ وہی اس کی ریڑھی، وہی اس کی مسکراہٹ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ سردیوں میں مرغ یخنی، گرمیوں میں تربوز بیچتا تھا۔
ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا۔
"چاچا! کبھی آرام نہیں کرتے ہو کیا؟”
ہنس کر کہنے لگا،
“آرام؟ وہ تو قبر میں ملے گا پتر… جب تک سانس ہے روزی کمانی ہے۔”
اس کے الفاظ ہوا میں اترے تو جیسے کوئی درس مل گیا۔
منظر بدل جاتا ہے۔
چند روز بعد میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے امتحانی مرکز میں تھا۔ طلبہ پرچے دے رہے تھے اور صحن میں ایک اور مانوس منظر تھا۔ ایک نوجوان ہاتھ میں تھرمس لیے قہوہ بیچ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی محنت کی چمک تھی۔
"قہوہ گرم! صاحب؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔
"ہاں بھائی، ذرا ایک پیالی دینا۔”
قہوہ پیتے ہوئے میں نے پوچھا،
"روز آتے ہو یہاں؟”
"جی سر، جب بھی امتحان ہوتا ہے۔” مسکراہٹ میں وقار تھا اور آنکھوں میں روشنی۔
"نام کیا ہے تمھارا؟” میرے پوچھنے پر اس نے جواب دیا۔
"نعیم احمد! گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میں بی ایس اردو کر رہا ہوں۔” میں چونک گیا۔
"ارے واہ! خود بھی طالب علم ہو اور یہاں قہوہ بیچتے ہو؟”
"جی سر! پڑھائی کا خرچ خود اٹھاتا ہوں۔ محنت کا عادی ہوں۔” یہ سن کر دل میں احترام کی ایک لہر اٹھی۔
کچھ روز بعد امتحان کے وقفے میں نعیم کے ساتھ بیٹھک ہوئی۔ بات ادب و شاعری پر نکلی تو نوجوان نے ایسا کلام پڑھا کہ لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ آواز میں خلوص تھا، تاثر میں جذبہ۔
پھر اس نے کہا:
"یہ غزل مصطفیٰ جازب صاحب کی ہے، میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔” میں نے دل ہی دل میں سوچا یہ نوجوان صرف قہوہ فروش ہی نہیں، عملی درس بھی ہے۔ محنت، ادب اور خودداری کا درس۔
اس رات جب میں گھر لوٹا تو ذہن میں دو چہرے روشن تھے۔
ایک وہ بوڑھا جو سردیوں میں یخنی بیچتا ہے اور گرمیوں میں تربوز۔
دوسرا وہ نوجوان جو قہوہ بیچتے ہوئے خواب سینچتا ہے۔
ایک زندگی کی شام میں بھی جگمگا رہا ہے دوسرا جوانی کی دوپہر میں پسینے کو عزت کا زیور بنائے ہوئے ہے۔
میں نے حقیقت کے قریب ہو کر لکھا:
"یہ دونوں کردار مظفرآباد کی مٹی کے وہ جوہر ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محنت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی اور عزت کبھی سستی نہیں ہوتی۔”
جو ہاتھ کام میں لگے رہیں وہی دعا کے قابل ہیں۔”
اس لمحے مجھے لگا کہ اگر کوئی یخنی کی خوشبو میں دعا سن سکتا ہےتو وہ شاید ان دونوں کے دلوں سے اٹھنے والی خاموش دعا ہے۔
"اے رب! رزق حلال دے اور حوصلہ قائم رکھ۔ آمین!”

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |