کالم نگار زورین کی تشہیر کا مقصود
اب ہمارے ہاں گروپ زہن سازی کی جانے لگی یے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس نفسیاتی سائنس کو ایک ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اپوزیشن ہو یا مقتدرہ وہ اس کے ذریعے عوام کے گروپس کو اپنے حق میں استوار کرتی ہیں۔ آج کے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے طوفانی دور میں یہی کچھ کیا جانا زیادہ آسان ہے۔ چونکہ انفرادی رائے کی اہمیت بڑھ گئی ہے لھذا اب اجتماعی زہن سازی کی جگہ گروپ زہن سازی نے لی ہے۔ لیکن سیاسی جمہوریت کے نظام میں اس کی ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ فکری اور شعوری طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر جمہوری ملک میں اس پروپیگنڈا ٹائپ سیاسی حربے کے ذریعے عوام کی انفرادی رائے کا بلدکار ہو رہا ہے جس کی ایک تازہ مثال انگریزی اخبار "ایکسپریس ٹریبیون” میں نئے سال کے موقع پر یکم جنوری 2026ء کو زورین نظامانی کا شائع ہونے والا مضمون یے جسے اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف نے اپنا بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
یہ انگریزی اخبار جو پاکستان سے شائع ہوتا ہے اس کی چند سو یا ہزار کاپیوں کی اشاعت ہو گی لیکن اس اخبار کا الحاق امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار "نیو یارک ٹائمز” سے ہے اور یہ پاکستان کا اکلوتا انگریزی اخبار ہے جس کا اتحاد و الحاق امریکہ کے "لیکسن میڈیا گروپ” سے ہے۔ اس اخبار کے نوجوان کالم نگار زورین نظامانی بھی امریکہ میں قیام پزیر ہیں جو وہاں "کریمینالوجی” پر پی ایچ ڈی کرنے گئے ہیں۔ اس کے والد اداکار قیصر نظامانی اور ان کی والدہ فضیلہ قاضی اپنے بیٹے کے آرٹیکل ‘اٹ از اوور’ پر وضاحت دیتے اور عوام سے درخواست کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کچھ بیرونِ ملک مقیم سیاسی شخصیات اور اینکرز اسے اپنے ذاتی سیاسی ایجنڈوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی سے اردو اور دیگر زبانوں میں اس مضمون کا ترجمہ کر کے ہمارے اداروں کے خلاف مت موڑیں۔ انہوں نے آرٹیکل کو پوسٹ اور ری پوسٹ نہ کرنے کی اپیل کی۔ اسی طرح خود کالم نگار زورین نظامانی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ”میں پوری وضاحت اور دوٹوک انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرا کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو کوئی بھی میرے الفاظ کو اپنے مخصوص بیانیے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی ذمہ داری مکمل طور پر اسی پر عائد ہوتی ہے۔”
اس کالم کو چھپنے کے بعد لندن سے صحافی اور موٹیویشنل سپیکر قیصر انیس نے سوشل میڈیا پر لگایا جنہوں نے اس کالم کے رد میں لکھے گئے ڈاکٹر فرح کے جوابی مضمون کو بھی شائع کیا جس کے بعد رووف کلاسرا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مجوزہ کالم کے رد میں لکھے گئے ڈاکٹر فرح رحمان کے مضمون کو بھرپور کوریج دی۔ البتہ ہمارے بزرگ کالم نگار مدظلہ عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے تو اس کالم کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے جہاں ایک مخصوص جماعت کے بیانیہ کے طور پر شرع کی وہاں انہوں نے اسے اپنی مدح سرائی کے لیئے بھی استعمال کیا، ان کے اپنے الفاظ کچھ یوں تھے: "یہ بات اب ہر ایک پر واضح ہو گئی ہے کہ اس کالم کو ڈیلیٹ کرانا ایک بڑی غلطی تھی۔ اسے برداشت کرنا چایئے تھا۔ اس اقدام کی کوئی وجہ بنتی ہی نہیں۔” اس سے خاکوانی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ مقتدرہ خوفزدہ ہو گئی تھی جس نے کالم کو اخبار سے ڈیلیٹ کروایا۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ خاکوانی صاحب نے یہ الزام کسی مصدقہ ثبوت کے بغیر لگایا، کیونکہ قوی امکان ہے کہ ویب سائٹ سے کالم کے ہٹائے جانے کی کوئی بھی دوسری وجہ ہو سکتی ہے۔ زورین ٹریبیون کے مستقل کالم نگار ضرور ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مضمون کو کسی مخصوص سیاسی جماعت نے ڈیلیٹ اور وائرل کروایا ہو تاکہ اسے ایک مضبوط بیانیہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ بعض صحافی اور کالم نگار مقتدرہ کے حق اور مخالفت میں لکھتے ہیں۔ اگر کوئی لکھاری مجوزہ موضوع کے دونوں پہلوؤں کو واضح نہیں کرتا یا دانستہ طور پر کچھ چھپاتا یے تو یہ قلم سے غداری کہلاتی ہے۔ نوجوان مضمون نگار زورین نظامانی کے مضمون پر بھی کچھ ایسی ہی صحافیانہ بے ایمانی دیکھنے کو ملی ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون نگار کا ذاتی نقطہ نظر یا بیانیہ تھا، کسی فیصلہ کن قوت نے زعم طاقت میں مضمون کو سائٹ سے نہیں ہٹوایا ہو گا۔
دراصل ہمارے معاشرے کو ایک منظم طریقے سے تقسیم اور گمراہ کیا جا رہا ہے۔ محترم عامر خاکوانی صاحب ہمارے سینئر کالم نویس ہیں جن سے ایسی سستی شہرت کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی لیکن انہوں نے اپنے ریڈرز کی نیک تمناؤں کا لحاظ رکھے بغیر ایک عام اور روایتی سے کالم کی پہلے تعریف و توصیف میں قلابے ملائے اور پھر اس کے ریڈرز کو عمر کے اعتبار سے جنریشن ایکس، بومرز، ملینئل اور زی وغیرہ کے خانوں میں ڈیوائڈ کرتے ہوئے تشریح بھی کر دی جس کا موصوف کالم نگار نے محض ذکر کیا تھا۔ کیا ہمارے ہاں طبقاتی تقسیم پہلے کم ہے کہ وہ اسے مزید ہوا دینے کے لیئے نئی اصطلاحات سے ضرب دے رہے ہیں؟ پھر ایک پائیدار اور مفید تحریر تو وہ ہوتی ہے جس میں مسائل یا نظریات کو ڈسکس کیا جاتا ہے اور ان کا حل بھی پیش کیا جاتا ہے جبکہ زورین نظامانی کے کالم میں محض استحصالی بوڑھے حکمرانوں کے گلے شکوے پر زور دیا گیا تھا۔ یہ مقتدرہ اور حکمران طبقے کے لیئے آئینہ تو ہو سکتا ہے مگر اس میں بند گلی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بتاتا گیا تھا کہ جس سے کم از کم مسائل ہی سے نکلنے کی کچھ نشاندہی ہو جاتی۔
اس بارے میں پروفیسر خورشید ندیم نے اپنے کالم میں بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ، "ایک ناقابلِ ذکر مضمون کو اتنا اہم کس نے بنایا؟” خورشید ندیم کے کالم کا اجتماعی مفہوم زورین کے کالم کی تنقید، خوف اور طاقت کے زعم کو رد کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ اس مضمون کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے ذریعے مقبول بنایا گیا۔ جس طرح خاکوانی صاحب بھی زورین کے کالم کے لیئے رطب اللسان ہوئے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ رات و رات اس مضمون کی مقبولیت کو چار چاند لگانے کے پیچھے کس کا خفیہ ہاتھ تھا؟ اس جماعت کو ایسا کوئی معمولی سا ہی بہانہ مل جائے اس کے جیالے فوج کے خلاف لٹھ لے کر میدان میں آ جاتے ہیں، اور یہ مضمون بھی آنا فانا سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس سے لگ رہا تھا کہ جیسے یہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بے شک مضمون میں ایسی کوئی یکطرفہ بات نہیں تھی کہ جسے مقتدرہ کے خلاف استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جاتا لیکن جب کوئی بڑی سیاسی جماعت مقتدرہ سے ذاتی مخاصمت پال لیتی ہے تو پھر وہ جابجا مخالف اور معاندانہ سوچ پھیلانے سے گریز نہیں کرتی ہے جیسا کہ زورین کے یہ ممدوح کالم نگار رقمطراز ہیں، "میں نے اپنا کالم رات ڈیڑھ دو بجے لکھا مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ رات ہی میں اسے ہزاروں لوگ دیکھ لیں گے اور صبح یہ وائرل ہو جائے گا۔ میرا وہ کالم اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ ویوز لے چکا ہے اور جس طرح یہ جا رہا ہے شام تک ایک ملین کو ہٹ کر سکتا ہے۔” ان سطور کا ماسوائے اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور قارئین کو اپنے پیچھے لگانے کے سوا کیا مطلب و مفہوم ہے؟ ملکی سطح پر کسی بزرگ اور معروف صحافی کو یوں اپنی تعریف میں قلابے ملاتے ہوئے میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا۔
آئی ایس پی آر کی ہر پریس کانفرنس میں سخت سوال و جواب کا تبادلہ ہوتا ہے یہ عقلِ عام اور کامن سینس کی بات ہے کہ ایسے بے ضرر مضمون کو نظر انداز ہی کیا جا سکتا تھا جس کا ملبہ مخالف بیانیہ میں فوج پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اسی طرح کا فوج مخالف سازشی طرز عمل ہے جس کا مظاہرہ ملک دشمن وی لاگرز اور یو ٹیوبرز باہر کے ممالک میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ ناجانے اس طرح کے کتنے مضمون شائع ہوتے ہیں اور کوئی تاثر قائم کیے بغیر، شام تک گمنامی کے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ ایک عام فہم آدمی بھی ابلاغی حکمتِ عملی کی مبادیات کو اتنا تو جانتا ہے کہ اس طرح کے حربے مخالفانہ نقطہ نظر رکھنے والے کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کہ تنقید کا خوف اس کالم کو ہٹوانے کا محرک ہو سکتا ہے۔ ہاں طاقت کا زعم ہوتا ہے مگر کسی کمزور یا ایک عام سے نوجوان لکھاری کے خلاف اسے استعمال کرنا خود طاقت کی توہین ہے۔ مضمون کو ایکسپریس ٹریبیون کے ویب سائٹ سے ہٹانے کا فائدہ اگر کسی کو ہوا ہے تو اس گروپ کو ہوا ہے جس نے اس مقدمے پر اپنے سیاسی مفادات کی وقتی عمارت کو کھڑا کرنے کی بھونڈی کوشش کی اور اسی نے اس کی اشاعت اور ابلاغ کے لیے اپنی ساری ابلاغی قوت بھی جھونکی۔
معاشی اور زہنی اعتبار سے مضمون نگار کا "برین ڈرین” کے بارے انتہائی کمزور فہم ہے۔ ایک تو وہ خود پاکستان کی بجائے امریکہ سے پی ایچ ڈی کرنے گئے ہیں جو بذات خود ان کا "ذہنی اخراج” ہے، اور پھر وہ اس پر معترض بھی ہیں۔ سمندر پار افراد پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جو سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور اس رقم کو حاصل کرنا حکومت کا بنیادی مقصد و مفہوم ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر کی کامیاب حکومتیں نوجوانوں کی بجائے تجربہ کار اور مقتدرہ کے بزرگ لوگ سنبھالے ہوئے ہیں حتی کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیراعظم مودی تک بوڑھوں میں شمار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی تبدیلی کے دیوتا سمجھے جانے والے عمران خان 70 سال کے پیٹے میں ہیں، اور گزرتی عمر کے ساتھ 14 اور 17 سال کی سزا پانے کے بعد بھی اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ سترہ سال مزید جیل میں رہیں تو پھر 87 سال کی عمر ہی میں وزیراعظم بن سکیں گے یا دنیا کا ایسا کونسا ملک ہے جہاں کا وزیراعظم نوجوان ہے؟ دنیا کا کم عمر ترین کنیڈئین جسٹن ٹروڈو بھی جب وزیراعظم بنے تو ان کی عمر 43 برس تھی۔
مضمون میں بغیر کسی دلیل کے یہ ضرور کہا گیا ہے کہ بہتر انفراسٹرچر اور موثر نظام ہی نوجوانوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی جس نے اس مضمون کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا اور اپنا بیانیہ بنایا، کی حکومت اپنی کارکردگی سے اسے مکمل طور پر رد کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کالم ھذا میں تنقیدی تضاد کو نکال کر کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی کہ جسے ایک عام عقل و فہم رکھنے والا فیس بک یوزر بھی وائرل کرتا۔ پھر بھی ایک نوجوان لکھنے والے کی تعریف و توصیف اور حوصلہ افزائی بنتی یے۔ اس میں کسی قسم کے تعصب اور حسد کا شکار نہیں ہونا چایئے۔ کالم نگار کو اشرافیہ سے جوڑنا بھی تعصب ہے۔ گو کہ اشرافیہ سے عوام کے حق میں خیر کی توقع رکھنا جوئے شیر لانے والا کام ہے لیکن مضمون نگار اگر آگے چل کر اس کے خلاف کوئی آواز اٹھاتے ہیں تو یہ بارش کا پہلا قطرہ ہو گا ورنہ اس مضمون کو ناجائز سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا اس سے بڑا اخلاقی جرم یے۔یہ پاکستان میں ٹرینڈ چلانے کی وہ عام اور سطحی مثال ہے جس کے تحت عوام کی رائے ہموار کرنے کے لیئے انہیں سوچ اور سوجھ بوجھ سے عاری سمجھ کر اپنے پیچھے لگانے کی کوشش کی جاتی یے۔ خدا را، ایسے بڑے صحافی بڑے پن کا مظاہرہ کیا کریں تاکہ قارئین کی رہنمائی اور مثبت ذہن سازی ہو سکے ناکہ انہیں ایسا "سٹیریو ٹائپ” مواد فراہم کر کے سوچنے والی مشینیں بنایا جائے۔ ہمارے سیاسی لیڈران پہلے ہی یہ کام بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ صحافی برادری اور خاص طور پر کالم نگاروں کا یہ حق نہیں بنتا ہے کہ وہ جانب داری سے کام لیں۔ اس سے عوام کی غیرسنجیدہ ذہن سازی کر کے شہرت کے بھوکے وہ لکھاری فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی سوچ سے لکھنے کی بجائے سیاسی جماعت کے آلہ کار بن کر لکھتے ہیں۔
زورین نے جو آرٹیکل لکھا وہ پوری قوم کا منشور اسی صورت میں بن سکتا ہے جب فوج کے تعاون کے ساتھ ججز، وکلاء، الیکشن کمیشن، بیورو کریٹس اور خاص کر سیاستدان بھی اپنا تعمیری کردار ادا کریں۔سیاسی لیڈران پر لازم ہے کہ وہ فوج کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کی بجائے ان کی سیاست سے نکلنے کی رہنمائی کریں۔ دوسرے لکھنے والوں کو بھی چایئے کہ وہ دوستانہ ماحول میں رہ کر فوج کو قائل کریں کہ ان کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے ناکہ ان کے فرائض میں سیاست کرنا شامل ہے۔ اب نوجوان نسل "سٹیٹس کو” میں تبدیلی چاہتی ہے۔ نصیحت سے تعمیر ہوتی ہے مگر مخالف بیانیہ دشمنی پیدا کرتا ہے۔ ہمارے سیاسی ماحول میں حب الوطنی پر مبنی دوستانہ اخوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف، اپوزیشن اور حکومت اس نکتے کو سمجھ جائیں تو آج بھی سیاسی یکجہتی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
TitleImage by Pexels from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |