جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام
تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)
برطانیہ میں اکثر و بیشتر وطن عزیز پاکستان سے مختلف شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور جب پاکستان سے کوئی اہم شخصیت برطانیہ آۓ تو دوست احباب کی کوشش ہوتی ہے کہ نہ صرف ان سے میل ملاقات ہو بلکہ باقاعدہ انکے اعزاز میں مختلف پروگرام اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے-
قائداعظم ٹرسٹ برطانیہ کے چئیرمین، معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت راجہ محمد اشتیاق کا دم غنیمت ہے کہ وہ نہ صرف قائداعظم ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے حوالے سے اہم دنوں پر مختلف قسم کی تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں بلکہ پاکستان سے آنے والے معزز مہمانوں کے ساتھ مل بیٹھنے کے لۓ انکے اعزاز میں استقبالیہ تقریبات سجاتے ہیں جن میں دوست، احباب اور کمیونٹی کو بھی شامل کرتے ہیں گزشتہ روز برطانیہ کے نجی دورے پر آۓ ہوۓ سینٹ آف پاکستان کی سٹینڈنگ کمیٹ براۓ دفاعی پیداوار کے سابق چئیرمین، ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے وائس چئیرمین، سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک (ھلال امتیاز ملٹری)، ممتاز براڈ کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ، مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ، اور مسلم لیگ قاف اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر کے اعزاز میں ایسی ہی دعوت استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا- تقریب کی صدارت ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ پیر سلطان نیاز الحسن قادری، پیر طیب الرحمٰن قادری، علامہ محمود احمد عباسی، طاہر افضل گجر، عبدالوحید خان، اورنگزیب عالمگیر، نوید انجم باجوہ، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین، سہیل منور، چوہدری لیاقت، راجہ محمد حبیب، چوہدری یاسین گجر، محمد حنیف چیف انسپکٹر ویسٹ مڈلینڈ پولیس، فرحان احمد شہزاد، ارسلان شوکت، راجہ ناصر محمود، سید عابد کاظمی، ایس ایم عرفان طاہر، اور راجہ سہیل خان سمیت کمیونٹی کی متعدد شخصیات نے شرکت کی- تقریب کا آغاز بیرسٹر عمر بنیامین نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد مختلف شخصیات نے اظہار خیال کیا- سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک نے اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان دنیا کا ہر حوالے سے ایک اہم ملک ہے اور دفاعی طور پر خود انحصاری کی وجہ سے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی حوالے سے غیر اہم نہیں ہے اور نہ صرف پاکستان کی بہادر افواج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اپنے سے بڑے دشمن کو سبق سکھانے کے لۓ ہمہ وقت چوکس اور تیار ہیں بلکہ ہماری افواج کنونشنل وار میں بھی دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے انڈیا کے رائزنگ کے بلند و بانگ دعوے، بڑی آبادی، بڑی مارکیٹ، بڑے ملک کے تاثر اور انکے گلوبل پاور ہونے کے خود ساختہ غبارے سے ہوا نکال دی ہے-
مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم ملک نے کہا کہ پاکستان کی شروع دن سے ایک ٹھوس پالیسی ہے کہ ہم ظلم کے مقابلے میں مظلوموں کے ساتھ ہیں اور فلسطین کے نہتے لوگوں پر جو ظلم کیا جا رہا ہے نیتن یاہو پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہئیے اور فلسطینی عوام کو آزادی ملنی چاہئیے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی آزادی ملنی چاہئیے جس کے لۓ ان کی بے شمار قربانیاں ہیں انہوں نے تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور قائداعظم ٹرسٹ کو اپنی ہر ممکن مدد اور سرپرستی کی یقین دہانی کراتے ہوۓ مل کر پاکستان کے مثبت امیج کے لۓ کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا- انہوں نے موجودہ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوۓ معاشی اور سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کے وطن عزیز کے لۓ مثبت حوالے سے کام کی بھی تعریف کی-
ممتاز براڈ کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ نے تقریب کے انعقاد پر ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق اور انکے رفقائے کار کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ آپ جیسے اوورسیز پاکستانیز وطن سے دور رہتے ہوۓ بھی پاکستان کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور وہاں سے آنے والوں کو جس خوشدلی اور جزبے کیساتھ ملتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے- سرور منیر راؤ نے کہا کہ پی ٹی وی کیساتھ وابستگی کے دوران وہ مختلف صدور اور وزراۓ اعظم کیساتھ پوری دنیا گھومے ہیں اور خوش قسمتی سے خانہ کعبہ کے اندر بھی جانے کی سعادت حاصل کی تو سوچا تھا کہ قدرت نے موقع دیا تو نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے حوالے سے کام کروں گا اور اب ایک دھائی سے زیادہ کی تحقیقی محنت کے بعد ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ شائع ہو گئی ہے جبکہ مکہ مکرمہ کے حوالے سے کتاب کی اشاعت کے لۓ کام جاری ہے-
انہوں نے اس موقع پر جنرل عبدالقیوم ملک اور علامہ محمود احمد عباسی کو اپنی کتاب ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ پیش کی اور کتاب پر ایک دہائی سے زیادہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے یہ کام نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ سے عشق اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا ہے تاکہ آخرت سنور سکے-
سرور منیر راؤ نے کتاب کے مواد کے لۓ اپنی تحقیق اور حوالہ جات کے علاوہ تدوین اور اشاعت کے مراحل میں درپیش مختلف مشکلات، مسائل اور پھر مرحلہ وار انکے حل کی مختصر روداد بھی سنائی لیکن اس حوالے سے تشنگی رہی کیونکہ کئی سال پہلے جب انہوں نے اس کام کو شروع کیا تھا تو یہیں برمنگھم میں ان سے ایک نشست میں شہر نبی اور وہاں کے حوالے سے انکی تحقیقی اور علمی گفتگو روحانیت اور عشق رسول سے ایسی لبریز تھی کہ سننے والے کا ایمان تازہ ہو جاۓ- وقت کی کمی بھی تھی اور انہوں نے دوسرے دن مانچسٹر سے اٹلی بھی جانا تھا اس لۓ ان کے اس روحانی علمی و تحقیقی کام کے حوالے سے طویل نشست کی بہرحال کمی محسوس کی گئ-
مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ نے کہا کہ نامساعد حالات میں حکومت سنبھالنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں درست سمت میں سفر جاری ہے اور معاشی، سفارتی اور دفاعی حوالے سے پاکستان نے ایسی خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں کہ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی اور مختلف ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہو رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا کام مریم نواز شریف کی قیادت میں پورے پنجاب میں ہر جگہ نظر آ رہا ہے-
مسلم لیگ قائداعظم اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر نے قائداعظم ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کی وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لۓ خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف ہر وقت وطن عزیز کے بارے میں سوچتے ہیں بلکہ اپنی رقوم زرمبادلہ کی شکل میں بھیج کر ملکی معیشت کا پہیا چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-
تقریب کے میزبان اور قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیت کی بات کی ہے اور ہمارے ٹرسٹ میں ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ لوگ شامل ہیں جو ہر وقت پاکستانی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں انہوں نے پاکستانی افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ جس نے دشمن کو شکست دے کر پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے- انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر جنرل عبدالقیوم ملک ایکس سروس مین سوسائٹی یا نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے قائداعظم ٹرسٹ کے ساتھ مل کر لاہور میں موجود جناح ہاؤس کو قائداعظم میوزیم کے لۓ حاصل کریں تو قائداعظم ٹرسٹ یوکے نہ صرف اس کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری لے گا بلکہ میوزیم کے لۓ دنیا بھر سے بانی پاکستان سے وابستہ اشیاء وہاں لے جا کر رکھیں گے-
قبل ازیں عبدالوحید خان، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور مہمان شخصیات کی ملک کے مختلف شعبوں میں سرانجام دی جانے والی انکی خدمات کی تعریف کی-
آخر میں وطن عزیز کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لۓ اجتماعی طور پر خصوصی دعا کی گئ اور مہمان شخصیات کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی تصویریں بنوائی گئیں (ختم شد)

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |