آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
دوستی اگر خوشبو ہے تو اس کی مہک کردار سے اٹھتی ہے، اور اگر چراغ ہے تو اس کی لَو انسان کے باطن سے روشن ہوتی ہے۔
میں 18 ستمبر 2015 میں جب اٹک آیا تو میں نے عسکری فرائض کے بعد دوبارہ قلم تھاما اور لکھنا شروع کر دیا کتاب دوستی نے مجھے بہت سے ادبی ستاروں سے ملوایا جن میں حسین امجد، سجاد حسین سرمد، سعادت حسن آس، نزاکت علی نازک، طاہر اسیر، محسن ملک، پروفیسر نصرت بخاری، مشتاق عاجز، ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر تصور بخاری، ارشاد علی، اور ثقلین انجم شامل ہیں ان سب دوستوں کے علاوہ میری ملاقات جہانگیر بخاری سے ہوئی تو میں ان کی شخصیت میں ڈوبتا چل گیا اور میں ان کے دھیمے لہجے سے بہت متاثر ہوا
آغا جہانگیر بخاری کو بحیثیتِ دوست دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رشتہ محض وقت کی ہم نشینی نہیں بلکہ شعور، ظرف اور تہذیب کا ہم سفر ہے۔ ان کی دوستی میں بناوٹ نہیں، رکھ رکھاؤ ہے؛ نمائش نہیں، وقار ہے؛ اور شور نہیں، سکون ہے۔
آغا جہانگیر بخاری کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو ان کی شفقت ہے۔ یہ شفقت کسی رسمی مسکراہٹ یا بناوٹی جملوں میں نہیں ڈھلتی، بلکہ ان کے رویّے، لہجے اور برتاؤ سے خود بخود جھلک جاتی ہے۔ وہ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں، جیسے الفاظ کو تول کر زبان پر لاتے ہوں۔ ان کی گفتگو میں چیخ نہیں، صدا ہے؛ جلد بازی نہیں، ٹھہراؤ ہے۔ یہی نپا تلا انداز ان کی بات کو وزن اور اثر عطا کرتا ہے۔
دوستی کا حسن تب نکھرتا ہے جب انسان وقت کی کسوٹی پر پورا اترے۔ آغا جہانگیر بخاری دوستوں کی دعوت قبول کرنا محض سماجی ذمہ داری نہیں سمجھتے، بلکہ اسے رشتے کی توثیق جانتے ہیں۔ وہ دوستوں کی خوشی میں بھی پورے دل سے شریک ہوتے ہیں اور غم کی گھڑی میں سایہ دار درخت کی طرح ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی محض جسمانی نہیں ہوتی، بلکہ دل کی شمولیت کے ساتھ ہوتی ہے، جو حوصلہ بھی دیتی ہے اور حوصلہ بڑھاتی بھی ہے۔
آغا جہانگیر بخاری ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو احسان کو بوجھ نہیں، امانت سمجھتے ہیں۔ وہ دوستوں کی چھوٹی سی نیکی کو بھی یاد رکھتے ہیں، اور یہی وصف ان کے تعلقات کو دیرپا بناتا ہے۔ ان کا دل دوستوں کے لیے کھلا رہتا ہے، جہاں شکایت کے لیے کم اور گنجائش کے لیے زیادہ جگہ ہوتی ہے۔
مہمان نوازی ان کے ہاں محض روایت نہیں، خلوص کی عملی صورت ہے۔ وہ دوستوں کی آمد کو باعثِ مسرت جانتے ہیں اور دل و جان سے خاطر تواضع کرتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ خود دوستوں کے پاس جاتے ہیں تو اچھا اور مناسب لباس پہن کر جاتے ہیں، گویا یہ باور کرا رہے ہوں کہ تعلقات بھی احترام چاہتے ہیں۔
آغا جہانگیر بخاری کی سنجیدگی ان کی شخصیت کا حسن ہے، بوجھ نہیں۔ وہ کم بولتے ہیں، مگر جب بولتے ہیں تو بات دل میں اتر جاتی ہے۔ ادب سے شغف رکھنے والے دوستوں کے لیے وہ اپنے برقی رسالے میں لکھنے کی دعوت دے کر نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ رویہ ان کے وسیع القلب اور مثبت ذہن کی روشن دلیل ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست ایک ایسا معتبر حوالہ ہیں، جن کے ساتھ دوستی انسان کو بہتر انسان بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ وہ تعلقات کو اوڑھتے نہیں، نبھاتے ہیں اور شاید اسی لیے ان کی دوستی وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے دوست واقعی زندگی کا حاصل ہوتے ہیں۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |