غزہ میں فوج بھیجنا قوم کو قبول نہیں، امیر جماعت اسلامی
اٹک (ڈاکٹر شجاع اختر اعوان سے)پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی، جمہوریت دشمن ، عوام سے نفرت کا اظہار ہے، پندرہ جنوری کو بلدیاتی نظام پر عوامی ریفرنڈم ہوگا، آئی پی پیز کے خلاف منظم تحریک کا آغاز کریں گے،پاکستان ، افغانستان مذاکرات کریں، غزہ میں فوج بھیجنا قوم کو قبول نہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا اٹک میں جلسہ عام سے خطاب
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ریلوے گراؤنڈ اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی ، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے، پندرہ جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے، نتائج کے بعد پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کابل نئی دہلی سے امیدیں وابستہ کرے، دونوں مسلمان پڑوسی ممالک بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج کا غزہ جانا قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال خان، امیر اٹک سردار امجد علی خان اور نے بھی خطاب کیا۔ خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد جلسہ عام میں شریک تھی۔امیر جماعت اسلامی نے ملک کے عدالتی نظام ، تعلیمی مسائل اور مزدور اورکسان طبقہ کی پریشانیوں کا تذکرہ کیا اور موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، افسر شاہی انگریز کے دیے گئے نظام کی محافظ ہے، سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریزوں کا نظام ہی چلا رہی ہے، موجودہ فرسودہ نظام میں بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل انگریزوں کی وفاداری نبھا رہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، اس نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز تر کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقیسم کرنا چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو عوام کو بااختیار بنانے کی کاوشیں کرنا چاہییں ، تاہم صورتحال یہ ہے کہ عدالتی نظام گلا سڑا ہے، انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں، عدالتوں میں تئیس لاکھ مقدمات زیر التوا ہے، تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، غریب مزدور اور کسان کے بچے کی بہتر تعلیم تک رسائی نہیں، سرکاری سکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ملک میں کروڑوں مزدوروں کو مزدور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ، ان کی رجسٹریشن کے مسائل ہیں، حکومتوں کے اعلانات کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔جماعت اسلامی کے کارکنان نوجوانوں تک رسائی حاصل کریں، عوام میں بیداری کی جدوجہد تیز کریں، مسلط طبقہ سے جان چھڑائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم امریکی صدر کی خوشامد کرنا بند کریں اور عوام کی حقیقی ترجمانی کریں، خوشامد اور کاسہ لیسی کرنے والا وزیراعظم قوم کو قبول نہیں۔ ٹرمپ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی مکمل سرپرستی کررہا ہے، اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرلیا، اب گرین لینڈ ، کیوبا اور ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیا ان کے بقول اب بھی ٹرمپ امن کا پیامبر ہے ، شہباز شریف نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام تجویز کیا تھا، کیا وہ اب بھی ان کے لیے یہی انعام تجویز کرتے ہیں؟ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ کا فائدہ مسلمان دشمن قوتیں اٹھائیں گی، دونوں ممالک ہوش کے ناخن لیں اور بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں ، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ثالثوں سے مدد لیں، دونوں ممالک میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بات چیت سے راستہ نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے بھی پاک افغان مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کی۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، جنرل سیکرٹری پنجاب شمالی اقبال خان ، امیر ضلع سردار امجد علی خان ، امیر تحصیل حافظ میاں محمد جنید ، سابق کونسلر بلدیہ شہاب رفیق ملک ، ڈاکٹر طاہر ایوب، ماہر ماہر تعلیم شیخ آصف محمود صدیقی ضلعی صدر کسان بورڈ منظور حسین نے بھی خطاب کیا
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |