الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا
27 دسمبر 2025ء کی ایک خوش گوار شام تھی۔ پلندری کے الاشرف ہوٹل(المعروف پاک ٹی ہاؤس) میں اپنے احبابِ دل نواز جناب آصف اسحاق اور جناب عابد حسین کے ہم راہ بیٹھا گفتگو کے دھیمے دھارے میں بہِ رہا تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب برادرِمکرم جناب فاروق اعوان تھے منیجنگ ڈائریکٹر الحبیب سائنس کالج)۔نہایت محبت بھرے مگر پُرعزم لہجے میں انھوں نے مطلع کیا کہ الحبیب سائنس کالج میں ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا موضوع “ماں کی شان” ہے۔اس مقابلے میں آپ کو بہ طور منصف اپنی خدمات انجام دینے کی دعوت دی جا رہی ہے۔
فاروق صاحب کی بات سنتے ہی میں نے بلا تامل حامی بھر لی، اس لیے کہ ایسے خلوص بھرے تقاضے کے سامنے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ تقریب 5 جنوری 2026ء کو منعقد ہونا طے پائی اور میرے ساتھ منصبِ منصفی کے لیے جناب پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اسی دوران میں فاروق صاحب نے نہایت محبت سے یہ خصوصی ہدایت بھی فرمائی کہ میں تنہا نہ آؤں بلکہ اپنی والدہ ماجدہ کو بھی ہم راہ لاؤں کہ ماں کی شان کی محفل میں ماں کی موجودگی خود سب سے بڑی برکت ہوتی ہے۔
4 جنوری کو ایک بار پھر ان کی کال موصول ہوئی جس میں انھوں نے یاددہانی کروائی کہ اگلے روز ساڑھے دس بجے تقریب کا آغاز ہوگا۔ چناں چہ سوموار کی صبح ناشتے سے فارغ ہو کر میں عین مقررہ وقت پر اپنی والدہ محترمہ کے ہم راہ الحبیب سائنس کالج، طارق آباد، مظفرآباد پہنچ گیا۔ ابتدا میں ہمیں ان کی رہائش گاہ پر بٹھایا گیا جہاں نہایت خلوص سے چائے پیش کی گئی۔ کچھ ہی دیر میں جب تقریب کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے تو ہمیں کالج کے وسیع صحن میں مدعو کیا گیا۔
صحن میں داخل ہوتے ہی خوش ذوقی اور نظم و ضبط کی جھلک نمایاں تھی۔ نشستیں نہایت سلیقے سے آراستہ تھیں۔ سامنے دو علاحدہ علاحدہ صوفے رکھے گئے تھے۔ ان کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا گیا تھا تاکہ مقررین کی جانچ اور پوزیشن کے تعین میں کسی قسم کی جانب داری کا شائبہ تک نہ رہے۔ ایک گوشے میں محترمہ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو نہایت احترام کے ساتھ بٹھایا گیا جب کہ دوسرے کونے میں راقم کو نشست دی گئی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ادارے کی دو باوقار معلمات محترمہ حرمت عباسی اور محترمہ غزالہ راجپوت نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور اعتماد کے ساتھ انجام دیے۔ انھوں نے ابتدا میں تمام مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا بالخصوص اُن ماؤں کو جنھوں نے آج کی اس محفل میں شرکت فرما کر اس تقریب کو حقیقی معنوں میں وقار بخشا۔ بعد ازاں منصفین کا تعارف کراتے ہوئے باضابطہ آغاز کے لیے جماعت نہم کی طالبہ قرۃ العین کو دعوت دی گئی۔
اس ننھی پری نے نہایت خوش الحانی اور خشوع و خضوع کے ساتھ سورۃ الناس کی تلاوت کر کے محفل کو نورِ قرآنی سے منور کر دیا۔ تلاوت کے بعد حسبِ روایت نبی مکرم، خاتم النبیین، سیدنا محمد ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے جماعت نہم کے طالب علم سفیان تنویر کو مدعو کیا گیا جنھوں نے نہایت دل نشیں انداز میں نعت پیش کی:
یہ انبیا صفات میں اعلا ہیں سب کے سب
ان سب سے پر صفات میں اعلا حضور ہیں
اس روح پرور آغاز کے بعد ادارے کی پرنسپل محترمہ گلناز منصف کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔ انھوں نے سپاس نامہ پیش کیا اور مہمانوں کی تشریف آوری پر تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس مقابلے سے قبل ادارے میں مختلف مراحل پر ابتدائی مقابلہ جات منعقد کیے گئے جن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو اس حتمی مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
یوں تقریری مقابلے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ سب سے پہلے جماعت ششم کی طالبہ عشال نے اسٹیج سنبھالا اور معصوم مگر پُراثر انداز میں ماں کی عظمت بیان کی۔ اس کے بعد جماعت ششم ہی کی طالبہ شاہ بانو نے اپنے خیالات پیش کیے۔ پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ جماعت ششم سے حورین الیاس، جماعت ہفتم سے ماہم فاروق، مسکان بشیر اور ماہ نور فاطمہ، جماعت نہم سے علی رضا، قرۃ العین اور احسان المہدی، جماعت دہم سے عبیرہ شیخ اور جماعت یازدہم سے عشا تنویر، شہیرہ فاطمہ، فاطمہ بتول جب کہ دوازدہم سے فائزہ راجا اور محسن اقبال نے اپنی تقاریر میں ماں کی عظمت کو لفظوں کا جامہ پہنایا۔ فاطمہ بتول کی تقریر نہایت جان دار، فکر انگیز اور سامعین کے دلوں کو چھو لینے والی تھی۔ آخر میں محسن اقبال نے اپنی پرجوش اور مربوط تقریر سے مقابلے کو نقطۂ عروج تک پہنچا دیا۔
تقاریر کے اختتام پر ادارے کے چند طلبہ نے ماں کی شان میں منظوم کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔ ہما منشاد نے ماں کو ترنم کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جب کہ دف پر حسان المہدی و مدثر فرید کی سنگت نے فضا کو جذب و کیف سے بھر دیا اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔
بعد ازاں فاروق اعوان صاحب نے اسٹیج سنبھالا اور تمام مہمانانِ گرامی، منصفین، اساتذہ اور طلبہ کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنی سابقہ طالبہ اور موجودہ جرنلسٹ و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محترمہ علیشا عندلیب کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ان کی علمی جدوجہد اور عملی کامیابیوں کو سراہا۔انھیں اس تقریب میں خاص طور پر شریک ہونے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس کے بعد محترمہ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں نے طلبہ کے اعتماد، جراتِ اظہار اور فکری پختگی کی دل کھول کر تعریف کی اور فرمایا کہ الحبیب سائنس کالج ایک ایسا ادارہ ہے جس کا نام ریاست بھر میں علمی وقار اور تعلیمی امتیاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بورڈ کے امتحانات میں اب تک 88 پوزیشنز حاصل کرنا اس ادارے کی محنت، نظم و ضبط اور وژن کا واضح ثبوت ہے۔ شان دار تقریب کے انعقاد پر انھوں نے منتظمین کو دلی مبارک باد پیش کی۔
بعد ازاں ایم ڈی الحبیب سائنس کالج، جناب محمد فاروق اعوان نے راقم کو اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا۔ میں نے نہایت شفقت کے ساتھ طلبہ کی اُن چند اغلاط کی نشان دہی کی جو تقاریر کے دوران میں ان سے سرزد ہوئیں، نیز مرزا ادیب کی کتاب”مٹی کا دیا” سے ماں کے حوالے سے ایک پُراثر واقعہ سنایا۔ اس کے ساتھ انور مسعود صاحب کی معروف نظم “امبڑی” پیش کی اور ماں کے حوالے سے اپنے چند ذاتی مشاہدات بھی حاضرین کے گوش گزار کیے۔ طلبہ کو یہ باور کروایا کہ مقابلہ جیت اور ہار سے عبارت ہوتا ہے مگر یہ ہار دائمی نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔
آخر میں فاروق اعوان صاحب نے ماں کی عظمت پر چند اشعار سنائے اور نتائج کا اعلان کیا۔ پہلی پوزیشن ماہم فاروق کے نام رہی جنھوں نے نہایت عمدہ مواد اور مؤثر اسلوب کے ساتھ ماں کی شان بیان کی۔ انھیں نقد انعام، سرٹیفکیٹ اور میڈل سے نوازا گیا۔ دوسری پوزیشن فاطمہ بتول نے حاصل کی جب کہ شاہ بانو، فائزہ راجا اور شہیرہ فاطمہ بالترتیب تیسری، چوتھی اور پانچویں پوزیشن پر رہیں۔ تمام طالبات کو انعامات دے کر بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔
اسی موقعے پر ادارے کی جانب سے منصفین کو بھی اس تقریب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ یہ شیلڈز محض تعریفی علامات نہ تھیں بلکہ اس بامقصد اور روح پرور محفل کی ایسی یادگار تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ کبھی ماند نہ پڑیں گی اور اس دن کی خوش گوار یادوں کو ہمیشہ تازہ رکھیں گی۔
اختتام پر شرکا کے لیے نہایت عمدہ ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ یوں یہ شان دار، بامقصد اور خوش اسلوب تقریب اپنے مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوئی مگر دلوں میں احترامِ ماں، آنکھوں میں تشکر اور یادوں میں ایک ایسی روشن صبح چھوڑ گئی
جب واقعی لفظوں نے ماں کو سلام کیا۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |