حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت
اقوام متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن نے 2025ء میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے چند ملین ڈالرز امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ (مقتدرہ) حکومت، اور عوام اسی پر مطمئن ہیں کہ سیلاب سے متاثرین کا کچھ افاقہ ہو گا۔ پاکستان کے صوبوں پنجاب، کے پی کے اور سندھ وغیرہ میں
سیلاب آنے کی تباہ کاریوں اور جانی و مالی نقصان کا یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے۔ جب سے مجھے یاد پڑتا ہے سنہ 70 سے آنے والے سیلابوں کے بارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر رواں خبریں سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں بیراج سے اتنے کیوسک پانی گزر رہا ہے اور اتنا جانی و مالی نقصان وغیرہ ہو چکا ہے۔ جب سیلابوں کے یہ سلسلے تھمتے ہیں تو پھر عالمی ادارے، دوست ممالک اور ہمارے فنکار، کھلاڑی اور اداکار وغیرہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیئے جدوجہد کا آغاز کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں نہری نظام اور ڈیمز یا تو انگریزوں نے بنائے تھے یا اس مد میں کچھ کام صدر ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، جس سے سیلاب کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک 78 سال گزر جانے کے بعد بھی ہمیں اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ سیلاب آنے کی وجوہات کیا ہیں، انہیں ڈیمز بنا کر روکا جا سکتا، اس کا حل نہری نظام میں مزید اضافہ اور بہتری لانا ہے یا اس مسئلہ کا کوئی دوسرا حل بھی ہے۔
اس حوالے سے امسال آنے والے شدید سیلاب کے بارے سوال اٹھایا جائے تو آج بھی لوگ "کالا باغ ڈیم” کے بننے اور نہ بننے پر بحث شروع کر دیتے ہیں یعنی کالا باغ ڈیم آج بھی "متنازعہ” نظر آتا ہے۔ ماضی میں مخالفین نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا تھا اور اب الزام بھارت پر لگایا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑ کر آبی "دہشت گردی” کی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف جو سب سے زیادہ طاقتور فوجی حکمران تھے، اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کالا باغ ڈیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔ ہماری سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی ڈیم بنانے کے نام پر مہم شروع کی تھی اور وہ بھی کھا پی کر چلتے بنے تھے۔ کالا باغ ڈیم کے دشمنوں کا خیال یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم دراصل ترقی کا نہیں بلکہ پختونخواہ اور سندھ کی بربادی کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ ڈیم بنا تو پشاور، چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور صوابی کی ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین پانی میں ڈوب جائے گی۔ صوابی کی گدون امازئی، ہنڈ، تورڈھیری اور کڈی کے بہت سے میدانی علاقے اور جہانگیری کی وہ زمینیں جو دریائے سندھ کے کنارے آج بھی بنجر پڑی ہیں، پانی کے قریب ہونے کے باوجود نہری نظام کی کمی سے پیاسی ہیں، وہ مزید تباہی کا شکار ہو جائیں گی۔ جبکہ سندھ کی زمین بنجر، کلر زدہ اور ڈیلٹا سمندر کے حوالے ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بننے پر متاثرین کو معاوضہ اور متبادل زمینیں ملنی ہیں جیسا کہ "منگلا ڈیم” کے متاثرین کو فیصل آباد، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ میں زمینیں الاٹ کی گئیں تھیں جس کے متاثرین کئی کئی مربعہ جات کے مالکان ہیں جو آج تک ان زمینوں کی وجہ سے امیر بنے ہیں جن میں سے کچھ نے زمینیں مہنگے داموں بیچی ہیں اور کچھ آج بھی یہ زمینیں ٹھیکہ پر یا مزارعین کو دیتے ہیں۔
بھارت نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑنے سے دو دن پہلے آگاہ کیا تھا جو کہ ایک سٹینڈرڈ طریقہ ہے۔ پنجاب کے جن علاقوں میں اس وقت سیلاب آیا ہے وہ بالکل ہموار میدانی علاقے ہیں۔ ایسے میں ڈیمز بنانے یا ان کی مخالفت کرنے کا چورن بیچنے کی بجائے "واٹر مینجمنٹ” کا مطالعہ کرنا چایئے۔ ڈیم کبھی بھی ایسے ہموار علاقوں میں نہیں بن سکتے ہیں۔ پنجاب جیسے زرخیز علاقوں میں سیلاب کی روک تھام کے لیئے "جنگلات” اور "نہری نظام” میں اضافہ کیا جانا چایئے۔ پانی تو قدرت کی سب سے بڑی نعمت اور زندگی کا باعث ہے۔ اسے ہم اپنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آج تک اپنے لیئے "زحمت” اور "عذاب” بنائے ہوئے ہیں۔
گوروں نے پنجاب میں دنیا کا سب سے پیچیدہ اور بڑا "نہری نظام” بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد آپ خود جانتے ہیں کہ ہم نے سیلاب کے پانی کو راستہ دینے، ڈیمز بنانے اور اس سے سستی بجلی پیدا کرنے میں کتنا کام کیا ہے؟ حالانکہ پانی ہی زراعت اور کھیت باڑی کے کام آتا ہے جو کہ پنجاب سمیت پورے پاکستان کی بقا کا "ضامن” ہے۔
اس وقت پنجاب کو ایک اور جدید نہری نظام کی اشد ضرورت ہے اور اس نہری نظام کے ساتھ نیدرلینڈز کی طرز پر پانی کے ذخائر یا پھر بیراج، پانی کے نئے چینلز اور ڈائکس یا بندوں وغیرہ کی ضرورت ہے۔
قیام پاکستان سے جتنے سیلاب اس وقت تک آ رہے ہیں اور مزید آنے ہیں ان سے بچاؤ فقط پاکستان کو نیڈرلینڈز (ہالینڈ) بنا دینے سے ممکن ہو گا۔ کیونکہ نیڈرلینڈز میں ہم سے زیادہ سیلاب آتے تھے لیکن انہوں نے اپنا آبی نظام ازسر نو ترتیب دیا اور صدیوں سے مشکلات پیدا کرنے والے سیلابوں کو مکمل نا سہی لیکن تقریبا روک لیا ہے۔
راوی اور ستلج میں پانی نا آنے کی وجہ سے ہم لاپرواہ ہو چکے تھے۔ لیکن پچھلے دو تین سالوں سے سمجھ آ رہا ہے کہ راوی اور ستلج دونوں سے نئی نہریں نکالنے اور نئے بند بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح چناب کے اوپر بھی نئے بیراج تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ نئی نہروں کے ذریعے سیلابی پانی کو تقسیم کر سکیں۔ اس وقت سیلاب کا جتنا پانی آ رہا ہے اس کو وسیع اور پیچیدہ نظام بھی فقط تب روک پائے گا جب بھارت ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔ جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہم بھارت سے آنے والے پانی پر ڈیمز بھی نہیں بنا سکتے ہیں تو اس کا بہترین واحد حل یہی ہے کہ نئے ڈیمز کی تعمیر کے علاوہ پنجاب میں نہری نظام کو وسعت دی جائے، جس سے زراعت میں بھی انقلاب آئے گا اور سیلاب کے مصائب سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔
سیلاب سے بچاو کا دوسرا موثر حل یہ ہے کہ ہم بھارت پر الزام تراشی کی بجائے خود اس کا خود حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ جس جگہ سیلابی ریلے آتے ہیں اور جہاں دریا ہوں وہاں قریب قریب بھی آبادیاں نہ بننے دی جائیں۔ ورنہ اس سے بھی زیادہ تباہی دیکھنے کو ملے گی ایسی تباہی کہ جس کے زمہ دار صرف ہم نہیں ہوں گے بلکہ صحافی حضرات بھی ہوں گے جو جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی سوسائٹی سکیموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔ عوام کو جنگلات اور نہری نظام کے اضافے کی آگاہی ہر قیمت پر دی جانی چاہئے ورنہ بادل اسی طرح پھٹتے رہیں گے اور جانی و مالی نقصان اسی طرح جاری رہے گا۔ ہم نے "کلاوڈ پرسٹ” کا نام کب سنا تھا؟ یہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے آنے کے بعد کی اصطلاح ہے۔ آئیندہ اس سے بچاو کے لیئے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی چایئے۔
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ڈیمز کا کام سیلابی ریلوں کو روکنا نہیں ہوتا بلکہ ان کا کام ایک مخصوص حد تک پانی اسٹور کرنے کا ہوتا ہے، اس کے بعد سیلاب ہو یا نہ ہو ان کے اسپل ویز کھولنے ہوتے ہیں اور عموماً تمام ڈیمز نارمل حالات میں بھی تقریبا پانی سے بھرے رہتے ہیں۔ ایسے میں سیلابی ریلے آتے ہیں تو انہیں ڈیمز کے ذریعے روکنا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب کی مقدار اور برداشت سے زیادہ پانی ڈیمز تک پہنچنے سے پہلے ہی مٹی کے بنوں کو بموں سے توڑنا پڑتا ہے۔ ہر ڈیم یا بند کی ایک کیپیسٹی ہوتی ہے اور سیلاب اور بارشوں کی کوئی کیسپیٹی نہیں ہوتی وگرنہ آج پاکستان میں مختلف بیراجوں و پلوں وغیرہ کو بچانے اور پانی کی مقدار کو منتشر کرنے کے لیئے بارودی مواد سے نہ اڑایا جا رہا ہوتا۔ لھذا
سیلاب سے بچاو کا واحد اور دیرپا حل صرف ایک ہی ہے جو دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات بتاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ آبی گزرگاہوں کے قریب آبادیاں بنانے کی بجائے گھنے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اس سے وہاں دلدلی زمینیں بن جائیں جو سیلابی ریلوں کی رفتار کو کم کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جدید نہری نظام کو متعارف کروایا جائے تاکہ سیلابی پانی کو کھپایا جائے اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا جائے!
Title Image by kp yamu Jayanath from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |