اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے
اسلام واقعی ایک آفاقی نظام عمل ہے تو اس کے عقائد اور تعلیمات کو ہر عہد کے تقاضوں اور ضروریات پر پورا اترنا چاہئیے۔ اسلام کے مطابق کامیاب زندگی گزارنے کے لیئے قرآن پاک دین اسلام اور اہل ایمان کا پہلا الہامی زریعہ ہے جس کی آیات مبارکہ اس مجوزہ معیار پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات کا دوسرا بڑا منبع احادیث نبوی ﷺ ہیں جو کئی ہزار کی تعداد میں ہو سکتی ہیں لیکن احادیث کی کل تعداد کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں محدثین کے مختلف اقوال بھی شامل ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں صرف آپ ﷺ کے ارشادات کو حدیث نہیں کہا جاتا، بلکہ آپ ﷺ کے افعال، اخلاق، احوال اور آپ کی موجودگی میں لوگوں کے کئے ہوئے وہ کام جن پر آپ نے گرفت نہیں فرمائی، اور اس کے ساتھ صحابہ کے اقوال، ان کے مفتیوں کے فتاویٰ، زمانۂ خلافت میں ان کی عدالتوں کے فیصلے، بلکہ تابعین کے فتاویٰ اور جج ہونے کی حیثیت میں ان کے فیصلے، اور قرآنی آیات پر تشریحی نوٹس بھی احادیث میں شمار کئے گئے ہیں۔
اس کے باوجود کہ احادیث کی کل تعداد متعین نہیں ہے تاہم، احادیث کی مشہور کتب میں صحیح بخاری (بشمول تکرار) 9086 اور صحیح مسلم میں 7275 احادیث شامل ہیں۔ غیر مکرر احادیث کی تعداد بخاری میں 2,600 اور مسلم میں تقریباً 4,000 ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں کل سورتوں اور آیات کی تعداد مخصوص ہے جس میں 114 سورتیں ہیں جن میں 86 مکی اور 28 مدنی سورتیں سرفہرست ہیں جبکہ قرآن مجید میں کل آیات کی مشہور تعداد 6666 ہے، جبکہ محققین اور ماہرینِ قرآنیات کے مطابق صحیح تعداد 6236 ہے۔ یہ اختلاف آیات کو الگ الگ یا ملا کر گننے کی وجہ سے ہے، تاہم قرآنی متن اور پیغام میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ چونکہ قرآن فرقان آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺ پر اترا اور نبی مکرم ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہو گئے ہیں تو اب یہ اسلامی علمائے عظام، مفسرین، فقہاء، محدثین و مفکرین اور خاص طور پر مجددین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ ﷻ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی تشریح و تعبیر ہر عہد کے جدید سے جدید ترین علوم اور پیمانوں کی زبان اور معیار کے مطابق پیش کریں تاکہ جہاں اسلام کو آسانی سے سمجھا جا سکے وہاں اسے روزمرہ زندگی پر لاگو کرنا بھی آسان ہو جائے۔
الہامی پیغام اور تعلیمات و عقائد غیرمتبدل اور ہر عہد کا علم اور حالات متبدل ہوتے ہیں جن کے درمیان توازن قائم نہ کیا جائے یا اس کے تقاضوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مذہبی علوم اور عقائد کے قدیم (آوٹ ڈیٹڈ) ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا اسلام اور مسلمانوں پر "دقیانوسی” اور "جہلا” وغیرہ کے الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیئے محدثین اور مجددین اسلامی تعلیمات اور عقائد کا احیاء کرتے ہیں تاکہ "اسلامی ضابطہ حیات” جدید ذہن کی سمجھ میں آ سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی اسلامی تعلیمات اور عقائد کے نئے مفاہیم اور مطالب کو عام نہ کیا جائے تو اسلام کا مکمل ادراک اور اسے ہر عہد میں عملی زندگی کا حصہ بنانا ناممکن نہیں تو تقریبا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی حل علماء اسلام، مسلم فقہاء، مفسرین، شارع اور مترجمین پیش کر سکتے ہیں جن کے ذہن کی رسائی جدید علوم مثلا کوانٹم سائنس، نفسیات اور مائنڈ سائنسز پر بھی ہو۔ جہاں ان سائنسی علماء کا مشاہدہ تیز ہو وہاں وہ مستقبل کے جدید علوم پر بھی نظر رکھ سکیں کہ انسان ان کے ذریعے کس بلندی تک ترقی کا سفر طے کر سکتا ہے اور اس میں دین اسلام کیا کردار ادا کر سکتا ہے مثال کے طور پر پاکستان کے قومی شاعر، مفکر اور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبال کا واقعہ معراج کے بارے یہ شعر ملاحظہ کریں، جس میں وہ فرماتے ہیں،
"سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں ”
واقعہ معراج کی ایک تشریح وہ ہے جو علمائے دین اللہ تعالی ﷻ سے نبی کریم ﷺ کی ملاقات اور دیدار کے حوالے سے کرتے ہیں اور دوسری وہ ہے جو علامہ اقبال کی نظر میں آسمان کی بلندیوں تک سائنسی علوم کی ترقی کے ذریعے ہے جس کی زد میں سات آسمان (گردوں) آتے ہیں۔ اس مد میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ کی تعلیمات میں جدید اسلامی فکر کے نمایاں پہلو ملتے ہیں جبکہ مولانا مودودیؒ نے بھی اس میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ دور جدید سائنسی عروج کا عہد ہے اور نت نئی ایجادات نے قدیم انسانی تہذیب کے نمایاں عناصر کے بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔
مولانا مودودیؒ اسلامی فکر کو ترویج دینے کے قائل تھے۔ انہوں نے اسلامی فکر کے مسلسل ارتقاء میں رہنے کا جو نظریہ دیا وہ قابل تعریف ہے اور یہی مسلمانوں میں علمی تعطل کا واحد حل بھی ہے۔ امام مودودیؒ فرماتے ہیں کہ، "مدینہ سے مماثلت پیدا کرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر قائم ہے اس سے رجعت کر کے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اصحابؓ کا یہ مفہوم سرے سے غلط ہے اور اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسا لباس وہ پہنتے تھے ویسا ہی ہم پہنیں جس قسم کے کھانے وہ کھاتے تھے اسی قسم کے کھانے ہم بھی کھائیں جیسا طرز معاشرت ان کے گھروں میں تھا بعینہٖ وہی طرز معاشرت ہمارے گھروں میں بھی ہو۔ تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بلکل متحجر صورت میں قیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔”
دراصل وقت کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کا یہ جدید نقشہ پیش کرنا ان مجددین کا کام ہے جو اسلام کی تشریح ان جدید علوم کی روشنی میں کر سکیں جو درحقیقت ہر عہد کے جدید علوم کے معیار پر عین پورا اترتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ اس مد میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اتباع کا یہ تصور جو دور انحطاط کی کئی صدیوں سے دین دار مسلمانوں کے دماغوں پر مسلط رہا ہے درحقیقت روح اسلام کے بالکل منافی ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔
میرے رائے میں بھی اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثار قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو قدیم تمدن کا ایک تاریخی ڈرامہ بنائے رکھیں۔ اسلامی فکر ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتی ہے۔ اسلامی ضابطہ اور جدید تعلیمات کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، بلکہ اسلام کا مطلب و مقصود اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام مسلمانوں کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستے پر چلانے کی کوشش کرے یعنی جدید علوم کا حصول ممکن بنا کر خود بھی ترقی کرے اور دوسری اقوام کو بھی کروائے۔
دین اسلام میں "امامت” کا مفہوم دوسروں کے لیئے خیر کا باعث بننا ہے۔ ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم یہ ہے کہ، "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیئے منافع بخش ہو۔” اسلام کا اجتماعی درس بھی یہی ہے کہ جو امت کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ زمان و مکان کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں امت مسلمہ یہی روح بھرتی چلی جائے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں امت نبوی ﷺ کا مشن یہ ہے کہ مسلمان "امت خیر” بنے رہیں، جنہیں اس لیئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ ارتقاء کے راستے پر چلیں اور اس سلسلے میں وہ دوسروں کی بھی امامت اور رہنمائی کرتے چلے جائیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |