افتخار فلک کاظمی کی شعری اٹھان
2015ء کی بات ہے، لاہور میں نسلِ نو کا ایک یادگار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شرکت کا موقع عزیز دوست اور معروف شاعر حسن ظہیر راجا کی معیت میں نصیب ہوا۔ یہ مشاعرہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ تھا جس میں ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان شعرا شریک ہوئے۔ اس محفل میں ڈیرہ اسماعیل خان سے برادرم خوش حال ناظر، کراچی سے محترم عمار اقبال، اوکاڑہ سے افتخار اشعر اور پہاڑ پور ضلع لیّہ سے جناب افتخار فلک شامل تھے۔ ان میں خوش حال ناظر اردو نظم کی تازہ آواز کے طور پر نمایاں ہیں، جب کہ عمار اقبال غزل کے میدان میں اپنی انفرادیت قائم کر چکے ہیں۔
انہی نوجوان شعرا میں سے افتخار فلک کاظمی وہ نام ہے جو ضلع لیّہ کی زرخیز دھرتی سے اُبھرا اور کم عرصے میں اردو غزل کے اُفق پر نمایاں شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ افتخار فلک اس وقت اپنے پہلے شعری مجموعے "اذیت” کا خالق تھا جو نومبر 2014ء میں سخن سرائے پبلی کیشنز، ملتان کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔
افتخار فلک کی اس اولین کاوش نے نہ صرف قارئین کی توجہ حاصل کی بلکہ اردو ادب کے نام ور نقادوں اور شعرا کی تحسین بھی حاصل کی۔
"اذیت” پر آپا حمیدہ شاہین اورجناب قمر رضا شہزاد جیسی معتبر ادبی شخصیات نے اپنے تاثرات رقم کیے جو افتخار فلک کی شعری صلاحیتوں کی پختگی اور اس کے فکری رجحانات کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
قمر رضا شہزاد رقم طراز ہیں:
"افتخار فلک نئی نسل کے ان تازہ کار شاعروں میں سے ہے جو ادبی منظرنامے پر اپنی الگ شناخت کے ساتھ نمایاں ہونے کی تگ و دو کر رہے ہیں، اور یہ بڑا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ناکامی یا کامیابی کے حوالے سے کسی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ افتخار فلک کی غزل لفظیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئی کیفیات کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہے۔”
اسی طرح آپا حمیدہ شاہین نے لکھا:
"افتخار فلک کی شعری وجاہت ان کی استقامت اور ریاضت پر منحصر ہے۔ مطالعے کے رفیع الشان آفاق، اپنا فرومایہ شعر تو کرنے کی ہمتِ عالی اور تلازمات کا دائرہ مکمل کرنے کی مشقت وہ اوصافِ چنیدہ ہیں جن سے روشنی کشید کر کے افتخار فلک غزل میں اپنی منفرد اور الگ کہکشاں ترتیب دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔”
یہ دونوں آرا اردو غزل کی دنیا کے معتبر اور نمایاں ناموں کی ہیں۔ ان کے مشاہدات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ افتخار فلک کی شاعری ابتدا ہی سے فکری سنجیدگی، فنی سلیقے اور جدتِ اظہار کی حامل رہی ہے۔ ان آرا کے تناظر میں جب ہم افتخار فلک کے شعری سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ادبی سفر میں نہ صرف کامیابی سے گام زن ہے بلکہ مسلسل تخلیقی ارتقا کے مراحل طے کر رہا ہے۔ وقت بدلتا ہوا 2014ء سے 2024ء میں داخل ہو جاتا ہے۔ دس سال بعد اس من موہنے شاعر کا دوسرا مجموعۂ کلام”عشق رقاص” سامنے آتا ہے۔ اس مجموعے کو ارمغان مطبوعات ،لاہورکے زیر اہتمام شائع کیا جاتا ہے۔ اس پر لکھنے والوں میں جناب نسیم عباسی، جناب ندیم ناجد،جناب رحمان حفیظ ، محسن اسرار اور جناب قاسم راز سمیت اردو شعری دنیا کے کئی اہم نام نظر آتے ہیں۔جناب قاسم راز لکھتے ہیں کہ:
” افتخار فلک کی شاعری معاصر ادب اور شاعری میں مطلوب فکری جہتوں کو دامنِ الفاظ میں سمیٹنے کے ارتقائی قرینوں سے آراستہ ہے۔ ان کی شاعری سے ہر طبقے اور مزاج کا باشعور اپنے مقصد اور مطلب کی ترجمانی پا کر اپنے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان حاصل کر سکتا ہے ۔”
جناب رحمان حفیظ کے نام اور قد کاٹھ سے کون ناآشنا ہو گا۔ ان کی رائے افتخار فلک کے لیے مضبوط سند ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"افتخار فلک نئے دور کا لکھاری ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کی عمر سیکڑوں برس ہے کیوں کہ اس کا سخن جیسے تجربات کا حامل اور جن موضوعات کا مرقع ہے ان کے لیے صدیوں کا مشاہدہ چاہیے۔ کیا معلوم یہ بھی روحانیت کی کوئی شکل ہو۔”
افتخار فلک کی شاعری پر نام ور شاعر جناب نسیم عباسی کی رائے ملاحظہ کیجے:
"افتخار فلک کے جو اشعار میری نظر سے گزرے انھیں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنی داخلی اور خارجی واردات پر حیرت انگیز ردِ عمل کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے اشعار سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ اس نے روایت کی پاس داری ضرور کی لیکن اس میں مقید ہو کر رہنے سے گریز کرتے ہوئے عصری حقائق کی روشنی میں اپنے اُسلوب ِ سخن کو سادگی،پرکاری، جمالیاتی قرینے اور جذبے کی سچائی کو ساتھ قائم رکھا۔”
ان آرا کی روشنی میں جب افتخار فلک کا شعری سفر دیکھا جائے تو تمام کی تمام آرا حرف بہ حرف سچ دکھائی دیتی ہیں۔
افتخار فلک نے مختصر بحروں میں ایسے ایسے عمدہ اشعار تخلیق کیے ہیں کہ قاری اور سامع داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ان کی پہلی کتاب سے یہ اشعار دیکھیں۔
سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے
شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے
بات میری مانیے ،ضد چھوڑیے
عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے
پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے
اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے
جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن
قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے
افتخار فلک کی مختصر بحر کی غزل سے یہ اشعار مجموعی طور پر ایک ایسے داخلی و خارجی منظرنامے کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں شاعر کے سامنے بھی کوئی سانحہ ہے اور پورا معاشرہ بھی انتشار اور بےچینی کا شکار ہے۔
سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے
شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے
میں شاعر اپنے مخاطب کو اس اجتماعی کیفیت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ شہر کی دربہ دری صرف ظاہری نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بکھراؤ کی علامت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ عدم استحکام، جھنجھلاہٹ، بےروزگاری یا کسی ایسے دباؤ میں مبتلا ہیں جو شہری زندگی کو عدم تحفظ اور اضطراب میں بدل دیتا ہے۔
اسی ماحول میں شاعر مخاطب کو نرمی اور سمجھوتے کی راہ دکھاتا ہے۔ "بات میری مانیے، ضد چھوڑیے” کا لہجہ محض ذاتی مشورہ نہیں بلکہ سماجی رویے کی اصلاح کی طرف اشارہ ہے گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ معاشرہ ضد اور انا کی وجہ سے مزید ٹکرا رہا ہے اس لیے نرمی، سنجیدگی اور حقیقت پسندی ضروری ہو چکی ہے۔ جب وہ کہتا ہے "عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے” تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس انتشار زدہ دنیا میں جہاں ظاہری تعلقات اور معاشرتی ترتیب ڈگمگا رہی ہے عشق ہی واحد سچی اور قابلِ بھروسا قوت ہے جو انسان کو داخلی استحکام دے سکتی ہے۔
پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے
اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے
شاعر ایک اہم معاشی و روحانی تبدیلی کا اعتراف کرتا ہے۔ درویشی ترک کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روحانی سادگی اور قناعت سے دور ہو کر انسان دنیاوی مصروفیات، معاشی دوڑ یا خواہشات کے پیچھے لگ گیا ہے لیکن اس کے بعد جب عشق داؤ پر لگ جاتا ہے تو اس سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ دنیاوی دوڑ میں سب سے زیادہ نقصان دل اور جذبات کو ہوتا ہے۔ اس میں شاعر انسان کی اس نفسیاتی کش مکش کو بیان کرتا ہے کہ چاہے جتنی بھی مادی پریشانیاں ہوں محبت کی نزاکت سب سے زیادہ حساس ہوتی ہے اور ہر معاشرتی یا معاشی بحران سے فوراً متاثر ہوتی ہے۔
بعد ازاں شاعر مخاطب کو ایک طرح کا روحانی یا ذہنی فرار تجویز کرتا ہے: "جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن”۔ صحرا کی تنہائی، سکون اور دنیاوی ہجوم سے دوری کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی شورش اور معاشی دباؤ انسان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں اور حقیقی سکون کے لیے وہ اپنی ذات کے صحرا میں پڑاؤ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ جب وہ قیس کا حوالہ دیتا ہے”قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے”تو اس سے عشق کی شدت، جنون اور پاکیزگی دونوں سامنے آتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق اگرچہ آزمائش میں ڈالتا ہے مگر اس کی گہرائی اور اس کا جنون انسانی وجود کے لیے خوراکِ روح بن جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور غزل سے یہ دو شعر دیکھیں جن میں افتخار نے کم الفاظ میں کتنی گہری بات کہ ڈالی ہے:
تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے
کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا
ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی
باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا
افتخار کے یہ اشعار داخلی دکھ، جدائی کے زخم اور وقت کے ستم کی ایک بھرپور علامتی تصویر پیش کرتے ہیں۔ "تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے” میں شاعر محبوب یا کسی عظیم ہستی کی نسبت کو رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتا ہے مگر ساتھ ہی "کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا” یہ بتاتا ہے کہ رہنمائی موجود ہوتے ہوئے بھی سفر میں تھکن شکست اور زوال جاری ہے یعنی زندگی میں روشنی اور اندھیرا ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ ایک گہرا فکری نکتہ ہے کہ انسان کے راستے میں نشان بھی ہوں تو اس کے اپنے حالات اور آزمائشیں اسے شکست کے قریب لے جا سکتی ہیں۔
دوسرے شعر میں ذاتی اور خاندانی المیہ نمایاں ہے: "ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی” ایک بیٹے کی جدائی سے ماں کی آہستہ آہستہ مرتی ہوئی امیدوں کا نوحہ ہے جب کہ "باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا” باپ کی خاموش ٹوٹ پھوٹ، بیماری اور اندرونی کرب کا بیان ہے۔ یہاں شاعر نے جذباتی موضوع کو بہت کم الفاظ میں شدید اثر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اگرچہ ردیف بجھتا رہا خشک محسوس ہوتی ہے مگر اسی خشکی نے اشعار میں زندگی کے بجھتے ہوئے چراغ، امید کے مرجھانے اور خاندان کے درد کو ایک ہی تاثر میں سمو دیا ہے۔یاد رہے یہ اشعار ان کے پہلے مجموعے سے ہیں یعنی اس عمر میں جب لڑکے ہر فکر سے آزاد ہوتے ہیں یہ سنجیدہ طبعیت والا درویش شاعر معاشرے کا نوحہ لکھ رہا ہے۔
اسی طرح افتخار فلک نے اپنی شاعری میں جو مضامین رقم کیے ہیں ان کو دیکھ کر اس شاعر کی فکر کی داد ہر قاری دیتا ہے۔ شعر دیکھیں:
تجھے رونا پڑے گا ہر خوشی پر
تری آنکھوں کا پانی مر گیا ہے
افتخار فلک کے اس شعر میں مختصر بحر، سادہ زبان اور گہری داخلیت مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس میں انسان کی جذباتی حسّیت کے زوال کا شدید المیہ سامنے آتا ۔ "آنکھوں کا پانی مر گیا ہے” ایک طاقت ور استعارہ ہے جو محض آنسو خشک ہونے کی بات نہیں کرتا بلکہ اس داخلی موت کی علامت ہے جب انسان کے احساسات، رحم، محبت اور درد سے جھلس کر بےجان ہو جائیں۔ اس بےحسی کا براہِ راست اثر یہ ہوتا ہے کہ خوشی بھی دکھ کا روپ دھار لیتی ہے اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ خوشی پر بھی رونا پڑے گا۔یعنی روح اتنی تھک چکی ہے کہ مسرت بھی اذیت بن گئی ہے۔ یہ کیفیت ان داخلی صدمات کی نشان دہی کرتی ہے جو انسان کو جذباتی طور پر منجمد کر دیتے ہیں اور باہر کی دنیا کی خوشیاں بھی اندر کے صحرا میں جذب ہو کر کڑواہٹ بن جاتی ہیں۔ بہت سادہ الفاظ میں ایک پوری نفسیاتی و روحانی ٹریجڈی بیان کرنا افتخار فلک کے اسلوب کی وہ خوبی ہے جو اسے مختصر بحر میں بھی گہرے اور تِہ دار معنی ترتیب دینے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔اسی طرح افتخار فلک کے اس شعر میں محبت کو ایک ایسی قوت اور آزمائش کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو زندگی بھر انسان کو بھگتنا پڑتی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ محبت محض دل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مسلسل کرب، قربانی اور بےپناہ صعوبتوں کا سفر ہے جس میں سچے اور مخلص لوگ اپنی سادگی، اخلاص اور وفاداری کے باعث وقت کے ہاتھوں حالات کے دھکوں یا رشتوں کی ناقدری کے سبب راستے ہی میں ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ "یار ٹھکانے لگتے ہیں” میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے کہ محبت کا راستا ہمیشہ روشن نہیں ہوتا۔ یہ راستا اکثروبیش تر ایسے حسّاس دلوں کو لہولہان کر دیتا ہے جو خود کو اس جذبے کے سپرد کر دیتے ہیں۔ شاعری میں اس قسم کا بیان افتخار فلک کی اس فکری سمت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ محبت کو رومان تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسان کی آزمائش، تنہائی، شکست اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ دیکھتا ہے یعنی محبت جتنی خوب صورت ہے اتنی ہی بےرحم بھی ہے۔
افتخار فلک کے ان تمام اشعار میں معانی کی گہرائی اور عصری شعور اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ چھوٹے اور سادہ الفاظ میں اتنی وسیع معنوی تہیں پیدا کرنا دراصل افتخار فلک کی وہ خصوصیت ہے جو اسے نئی نسل کے شعرا میں نمایاں کرتی ہے۔ ہر شعر اپنے اندر داخلی کرب، سماجی مشاہدے، اخلاقی زوال، طبقاتی کش مکش، خاندانی ذمہ داری اور انسانی رشتوں کے ٹوٹنے کا نوحہ سموئے ہوئے ہے۔
"دھجیوں کو سنبھال لیتے تم
اس نے پگڑی جو پھاڑ ڈالی تھی”
یہ شعر عزت، وقار اور معاشرتی اقدار کے انہدام کا عکس ہے۔ آج کے معاشرتی حالات میں پگڑی پھٹنے کا مطلب صرف کسی کی ذاتی بےعزتی نہیں بلکہ وہ اجتماعی اخلاقی بحران ہے جہاں رشتوں، خاندانوں، دوستیوں اور اعتماد کی بنیادیں ٹوٹ رہی ہیں۔ شاعر شکوہ نہیں کرتا مگر اشارہ دے کر پوری کہانی مکمل کر دیتا ہےکہ تم ذرا سا تھام لیتے تو شاید بکھراؤ رک جاتا۔
"چوم کر نور بھر دیا ورنہ
ان لبوں پر تو خشک سالی تھی”
یہاں شاعر محبت کو زندگی بخشنے والی قوت کے طور پر دکھاتا ہے۔ "خشک سالی” آج کے انسان کی جذباتی تھکن ذہنی بندش اور بےحسی کی علامت ہے۔ محبت کا ایک لمس، ایک لفظ اور سچی توجہ انسان کی پوری داخلی دنیا بدل دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب رشتے مشینی ہو چکے ہیں اس شعر کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
"مکالمے کی فضا بناؤ
تبھی تو اندر کا ڈر مٹے گا”
یہ شعر موجودہ سماجی اور نفسیاتی بحران کی جڑ پر ہاتھ رکھتا ہے۔ گھر ہو معاشرہ ہو یا سیاست ہم مکالمے سے دور ہو گئے ہیں۔ اندر کے خوف، غلط فہمیاں، تشدد، دشمنی اور ذہنی بوجھ اسی لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہم بات کرنا بھول گئے ہیں۔ شاعر علاج بتاتا ہے۔مکالمہ دلوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا واحد راستا۔
"سمے کی آری چلی نہیں ہے
جو چل پڑی تو پتا چلے گا”
یہ شعر وقت کے بےرحم فیصلوں کی طرف اشارہ ہے۔ ابھی تخت و تاج، طاقت، دولت اور اختیار کی مستیاں قائم ہیں لیکن وقت کی آری چلنے میں دیر نہیں لگتی۔ آج کے سیاسی اور معاشی حالات پر غور کریں تو یہ شعر ایک تنبیہ محسوس ہوتا ہے۔ وقت سب کو کٹہروں میں لاتا ہے کسی کے اختیار کا غرور دائمی نہیں۔
"ترے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں
تجھے اب نوکری کرنی پڑے گی”
افتخار کا یہ شعر آج کے نوجوان کے سماجی دباؤ کی مکمل تصویر ہے۔ معاشی بحران، بےروزگاری، والدین کی بڑھتی عمر اور ذمہ داریوں کا بوجھ یہ سب مل کر نئی نسل کو اندر تک توڑ رہے ہیں۔ یہ شعر محض نصیحت نہیں موجودہ دور کے خاندانی نظام اور معاشی حقیقت کا کھرا بیان ہے۔
"درختوں میں سیاست چل رہی ہے
پرندوں میں کمی کرنی پڑے گی”
یہ دو مصرعے کسی کلاس روم میں پڑھائے جائیں تو معاصر سیاسی اور ماحولیاتی صورتِ حال سمجھنے کے لیے کافی ہوں۔
درختوں میں سیاست یعنی نظامِ قدرت میں بھی طاقت کی کھینچا تانی، مفادات، کش مکش۔
پرندوں میں کمی یعنی کم زور طبقہ ہمیشہ قربانی بنتا ہے۔
یہ شعر آج کے سیاسی نظام ماحولیاتی بحران طاقت ور طبقوں کی سازشوں اور کم زوروں کی قربانی کی ایک علامتی مگر نہایت گہری تصویر ہے۔
مجموعی طور پر فکری گہرائی موجودہ حالات کے تناظر میں ہے
افتخار فلک کے یہ اشعار پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ وہ محض جذباتی یا رومانوی شاعر نہیں بلکہ معاشرتی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھنے والا حساس اور باشعور قلم کار ہے۔
اس نے مختصر لفظوں میں:
معاشرتی عزت و غیرت کا زوال
انسانی جذبات کی خشک سالی
مکالمے کی کمی سے پیدا ہونے والا انتشار
وقت کی ناانصافی
نوجوانوں کی معاشی جدوجہد
طاقت ور کے ہاتھوں کم زور کی قربانی
سب کچھ ایسی سادگی سے بیان کیا ہے کہ قاری حیران رہ جاتا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں اتنی بڑی سچائیاں کیسے سما گئیں۔
یہ فکری گہرائی نہ صرف اس کے مشاہدے کی پختگی دکھاتی ہے بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ افتخار فلک موجودہ عہد کے المیوں، کش مکشوں اور سماجی بےچینی کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر کے انہیں اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔میں سمجھتا ہوں افتخار فلک کے شعری سفر کی یہ ابتدا ہے۔ ابھی اس نے طویل سفر طے کرنا ہے جس میں اس نے اردو ادب کے دامن کو بہت وسعت دینی ہے۔ اس کی شاعری سے یقیناً اردو شاعری ثروت مند ہو گی۔ اس کے شعری رزق سے ایک جہان فیض پائے گا۔ یہ مختصر مضمون اس کی شاعری کو جاننے کےلیے فقط ایک ہلکا سا نمونہ ہے۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |