محنت کا پھل
بارش کا پانی چھت سے نیچے گرانے والی لوہے کی باریک چادر کو پنجابی میں "پرنالہ” کہتے ہیں۔ اس پرنالے کے نیچے سخت سیمنٹ کا ایک چھوٹا سا لمبوترا تھڑا بنا ہوتا ہے۔ جب زور کی بارش رک جاتی ہے تو پرنالے سے پانی کا ایک ایک قطرہ اس تھڑے پر گرنے لگتا ہے۔ اگر کچھ بارشوں کے بعد اس ٹھوس اور مضبوط سیمنٹ کے تھڑے کو دیکھیں تو اس جگہ پر کریک یا سوراخ وغیرہ پڑے نظر آتے ہیں، حالانکہ پانی کے یہ قطرے اینٹوں اور سیمنٹ کے مقابلے میں بہت نرم و نازک اور کمزور ہوتے ہیں۔ زندگی میں دھیرے دھیرے کی جانے والی محنت بھی بارش کے ان قطروں کی مانند ہوتی ہے جو اپنے سے زیادہ طاقتور ٹارگٹس کو حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو محنت اپنی کچھ قیمت کسی نہ کسی صورت میں ہر قیمت پر حاصل کر کے رہتی ہے۔ محنت ایسا کام ہے جو تسلسل سے کیا جاتا ہے جس سے نتائج پیدا ہوتے ہیں چاہے ان کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ محنت تواتر سے کی جانے والی کوشش ہے جس کا نتیجہ لازم نکلتا ہے، لھذا محنت کرنے کی عادت پڑ جائے تو کامیابی لازمی آپ کے قدم چومتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مارک سپٹز نے تیراکی کا ورلڈ ریکارڈ اپنے طاقتور مسلز یا مہارت سے حاصل نہیں کیا تھا، بلکہ اس کی بنیادی وجہ اس کی دن رات کی مسلسل محنت تھی جس نے ایک مشکل مقام کو حاصل کرنا اس کے لیئے آسان بنایا تھا۔ وہ دنیا کا پہلا نامور تیراک تھا جس نے اپنی محنت سے تاریخ رقم کی اور اولمپکس میں 9 بار فتح حاصل کی۔ اس نے یہ ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کیا کہ اس نے اکٹھے 7 گولڈ میڈل جیتے۔ اس نے یہ گولڈ میڈلز 1972ء میں میونخ کے اولمپکس میں حاصل کیئے اور پوری دنیا کو حیران و ششدر کر دیا۔
مارک سپٹز یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا کہ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر پلٹا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آیا‘ مارک نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا ”میں 1968ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا، میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی 30 سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا کہ میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈلز بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر کہا ”تم جانتے ہو مجھے ان 30 سیکنڈز کو کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا، مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں 10 ہزار گھنٹے پانی میں رہا، میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی، میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا، ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں‘ میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے، میری گاڑی اور میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی، تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں، میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے ایسڈ ری فلکس کے مرض کا شکار ہو گیا، میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرانا پڑتی ہے، میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا ہوں اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 7 گولڈ میڈل حاصل کر کیئے ہیں، اور تم کہتے ہو کہ یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں 8 گھنٹے پریکٹس کرتا تھا، تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو، میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“
مارک سپٹز اس کے بعد رکا اور پھر ایک تاریخی جملہ کہا کہ، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا ہی خوش نصیب ہوتا جاتا ہے.” زندگی میں کوئی بھی انسان محنت کرتا ہے اسے اس کا پھل ہر صورت میں ملتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں محنت کو شعار بنایا جائے تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم محنت سے زیادہ قسمت پہ یقین کرتے ہیں۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں۔ میں کوئی بڑا لکھاری نہیں ہوں مگر جب مجھے لکھنے کا شوق چرایا تو میں نے اتنا مطالعہ کیا کہ اب لکھتا ہوں تو بعض تحریریں دوسری قسط میں چلی جاتی ہیں، حالانکہ میں اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔
ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’محنت کو راحت ہے۔” محنت کرنے ہی سے انسان ترقی کرتا ہے ورنہ پیٹ تو بھیک مانگ کر بھی لوگ پالتے ہیں۔ لیکن محنت میں عظمت اور شان و شوکت ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا ترقی کرتا چلا جائے۔ ہر کوئی عروج چاہتا ہے مگر محنت شاقہ کے بغیر کبھی بھی عروج حاصل نہیں ہوتا۔
دنیا میں بہت سے لوگوں نے نام کمایا، عروج کی بلندیوں کو چھوا۔ وہ بھی ہماری طرح کے انسان تھے۔ انکے پاس نہ تو الہ دین کا چراغ تھا نہ ہی کوئی اور جادوئی ہتھیار تھا، بلکہ محنت ہی انکی کامیابی کے پیچھے کار فرما تھی۔
ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ ایک بچہ ترستی نگاہیں لئے ایک بیکری کے سامنے کھڑا بسکٹوں اور پیسٹریوں کا نظارہ کر رہا تھا کہ اس بیکری کا مالک آیا اور کہا کہ: "کیوں اچھی لگ رہی ہیں ناں؟” اس نے کہا: "ہاں، اچھی لگتیں اگر تمہارے اس شوکیس کا سامنے والا شیشہ صاف ہوتا۔” بیکری کے مالک نے کہا: ’’تم صاف کر لو‘‘ اس لڑکے کا نام ’’ایڈورڈ بوک‘‘ تھا، اس طرح اس کو پیٹ پالنے کے لیے پہلی ملازمت ملی۔ معاوضے کے طور پر ہفتہ بھر میں صرف دو شلنگ ملتے تھے، جو اسکے لئے قارون کے خزانے سے کسی بھی طور پر کم نہ تھے۔ یہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو انتہائی غربت کی وجہ سے روزانہ ٹوکرہ اٹھا کر گندے نالے میں سے کوئلہ چننے جایا کرتے تھے۔ ’’ایڈورڈ‘‘ نے اسی طرح کے کام ڈھونڈے، وہ ہفتے کی دوپہر اور اتوار کی شام کو لیموں اور برف بیچتا۔ اتوار کی صبح اخبار بیچتا اور شام کے وقت مقامی اخبارات کیلئے دعوتوں اور پارٹیوں کی اطلاعات لکھتا۔ یوں وہ چار پانچ پونڈ کما لیتا۔ ایڈورڈ نے صرف 6 برس اسکول میں گزارے۔ 13 سال کی عمر میں اس نے ایک آفس بوائے کی حیثیت سے کام کے لئے اسکول کو الوداع کہہ دیا۔ ایڈورڈ جب امریکہ گیا تو اسے انگریزی کی ذرا بھی شدبد نہ تھی، وہ ایک لفظ بھی انگریزی نہیں سمجھتا تھا ،مگر اس کے پختہ عزم اور محنت کے آگے کوئی رکاوٹ نہ آئی، وہ مستقل مزاجی سے محنت کرتا رہا۔ بالآخر امریکی صحافت کی تاریخ میں کامیاب اخبار نویس کی حیثیت سے نام پیدا کیا۔ وہ محنتی تھا اسکول چھوڑنے کے بعد اس نے بس میں سفر کرنے کی بجائے پیدل سفر کیا، دو وقت کے کھانے کی جگہ ایک وقت کا کھانا کھایا، اور پیسہ پیسہ بچا کر امریکی سوانح عمریوں کا انسائیکلو پیڈیا خریدا۔ پھر اس نے محنت کے بل بوتے پر ایسا کام کیا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا۔ وہ مشہور آدمیوں کے حالات پڑھتا پھر انہیں خط لکھتا کہ مجھے اپنے تفصیلی حالات بھیجیں۔ اس نے جنرل جیمز اے گارڈ فیلڈ (صدارتی امیدوار) کو خط لکھا اور کہا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ ایک زمانے میں آپ نے نہر پر معمولی مزدور کی حیثیت سے کام کیا ۔اس وقت 25 شلنگ ہفتہ وار پر کام کرنے والے غریب لڑکے نے جنرل گرافٹ، ایمرسن، فلپس بکس، اولائیووینڈل ہومر، لانگ فیلو، مسز ابراہم لنکن اور لویئ سامے وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔ وہ فقط 14 برس کی عمر میں امریکہ کی تمام بڑی شخصیات کا انٹرویو لے چکا تھا۔ اس نے محنت کی جس کا پھل اسے عزت، شہرت، اور دولت کی صورت میں ملا۔
کارنیگی جوا سکاٹ لینڈ کے دو کمروں کے بوسیدہ سے مکان میں پیدا ہوا۔ اسکے والدین کی غربت کا یہ عالم تھا کہ پیدائش کے وقت وہ غریب، نہ تو ڈاکٹر کو بلا سکے اور نہ ہی دائی کو۔ لیکن جب کمانے کا وقت آیا تو اس نے کروڑوں پونڈ کمائے۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ سے امریکہ ہجرت کی تو اس کا والد میز پوش بناتا اور گھر گھر جا کر بیچتا تھا۔ ماں دوسروں کے گھروں میں برتن، کپڑے دھوتی اور ایک موچی کے ہاں جوتوں کی سلائی کرتی تھی۔ اینڈریو کے پاس پہننے کو صرف ایک ہی قمیص تھی جسے وہ رات بستر میں گھستے ہوئے اتارتا تو اسکی ماں اس کو دھو کے استری کر کے دیتی تھی۔
اینڈریو کارنیگی صرف 4سال اسکول گیا اس کے باوجود 8 کتابیں لکھیں۔ وہ لوہے کی صنعت سے کم ہی واقف تھا مگر اسکو، لوہے کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ یہ تار گھر میں بطور قاصد کام کرتا تھا اور 2 شلنگ یومیہ تنخواہ لیتا تھا۔ اس نے محنت کو اپنا شعار بنایا۔ 25 سال کی عمر میں اسکی آمدنی 1 ہزار پونڈ ہو گئی۔ جولاہے کا بیٹا محنتی تھا جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا وہ سونا بن جاتی۔ اس نے اپنے دوستوں سے مل کر 8 ہزار پونڈ میں ایک فارم خریدا، ایک سال بعد 2لاکھ پونڈ میں فروخت کر دیا۔ 27سال کی عمر میں اسکی ہفتہ وار آمدنی 2سو پونڈ ہو گئی۔اس نے پبلک لائبریریوں کے لئے 1کروڑ 20لاکھ، تعلیم کی ترقی کے لئے 1کروڑ 60 لاکھ پونڈ دیئے۔ ساڑھے 7 کروڑ پونڈ دوسروں کی امداد میں خرچ کئے۔ اس نے محنت کی اور ہر محنتی کو صلہ دیا۔ دولت کے سیلاب پہ بندھے پل ٹوٹ گئے، آخر اس نے اخبارات میں اشتہار دیا کہ جو شخص اسے اس کی دولت کا بہترین مصرف بتائے گا وہ اسے انعام دے گا۔ یہ محنت کی اچھوتی مثالیں ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جس کا ترجمہ ہے: ’’اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی چیز کا حق نہیں پہنچتا‘‘ ایک اور جگہ پر ہاتھ سے کام کرنے والے محنتی کو خدا کا دوست کہا گیا ہے۔ یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جس سے یہ تو طے ہو گیا کہ کامیابی اور ترقی کی اولین شرط محنت ہے۔عروج و کمال کے لئے نہ تو کوئی شارٹ کٹ ہے اور نہ ہی کوئی طلسماتی کرتب ہے، بلکہ محنت، محنت اور صرف محنت ہے۔ ا ور محنت کے لئے کسی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونا، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا یا سرٹیفکیٹ کی فائل کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ محنت کرنے کے لیئے امیر کبیر اور اونچے گھرانے کا ہونا ضروری بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ انسان کے اندر عزم، اعتماد اور یقین کا ہے تو وہ ہر مجوزہ منزل کو حاصل کر سکتا ہے۔ ایک جولاہے کا بیٹا نام کما سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں؟ صحیح سمت متعین کر کے دھیرے دھیرے، محنت و استقامت سے بڑھتے رہیں، محنت ضرور رنگ لائے گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |