عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند
۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار
راحت امیر نیازی
عاصم بخاری عہد ِ حاضر کے حاضر دماغ شاعر ہیں۔گرد و پیش اور آنے والے کل کے موسمی حالات پر انکی کڑی نظر رہتی ہے۔پیشین گوئی کرتی ایک نظم
دھند (فوگ)
آنے والا بخاری وہ موسم
چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم
جس میں سردی سے کانپنا ہوگا
جسم کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا
جس میں عاصم دکھائی مت دے گا
جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا
لوگ محصور جس میں ہوں گے سب
سرد موسم ہی حکمراں ہوگا
چین گھر میں کسے کہاں ہو گا
دن بدن بڑھتی جائے گی سردی
یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے
ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے
جلد بارش خدایا دے دینا
ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی
عرض کرتے ہیں پیش تر روگی
اس ان ہونی اور مختلف صورت ِ حال پر ان کے ہاں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی محسوس ہوتی ہے۔وہ چہل پہل اور دن کی روشنی کے خواہاں ہیں۔
شعر دیکھیں
کاروبار ِ حیات ، ٹَھپ ہیں سب
دُھند ہی دُھند ، میرے شعروں میں
۔۔۔
عاصم بخاری کو اس صورت ِ حال میں تشویش کا سامنا ہے۔
قطعہ ملاحظہ ہو۔
ایک مدت سے ہو رہا ایسا
تھوڑی یہ آج ہے بخاری جی
اپنا یہ آج ہے بخاری جی
کوئی آگے بڑھے بھلا کیسے
دھند کا راج ہے بخاری جی
۔۔۔۔
اچھا تو، کوئی یہ شگوں، عاصم نہیں
جو فوگ بڑھتی جا رہی ، ہے ہر طرف
عاصم بخارینے دھند کے لفظ کو تمثیلی انداز میں علامت کے طور پر بھی خوب برتا ہے
شعر
آج کل چھائی ہوئی ہے "دُھند” جیسے ہر کہیں
آن گھیرا ہے ہمیں یوں ، "کفر” نے ” الحاد” نے
۔۔۔۔
عاصم بخاری کی سوچ کا انداز مفکرانہ ہے۔وہ سبھی کو عوامل پر غور کرنے کی ترغیب دیتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
شعر
کون لایا ہے دُھند کو جس نے
جام سارا نظام کر ڈالا
۔۔۔
عاصم بخاری کی سوچ کا دائرہ کائناتی اور تقابلی بھی ہے ۔وہ متفکر کہ کیا یہ سلسلہ صرف ہمارے ہاں یعنی وطن ِ عزیز میں ہی تو نہیں۔اگر عالمی مسئلہ ہے تو دنیا اس سے نمٹنے کے لیے کیا کیا اقدامات کرتی ہے۔
شعر
پوچھنا تھا یہ دھند کے بارے
اور بھی کیا کہیں یہ ہوتی ہے
۔۔۔
ہمارے وسیب میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دشمنی کا کلچر ہے دونوں اطراف سے آئے روز لوگ مارے جاتے ہیں لیکن بخاری صاحب دھند کے مسئلہ کی سنگینی کچھ یوں تقابلی انداز میں بیان کرتے ہیں۔
شعر
اتنے مرتے نہ”دشمنی”، میں بھی
"دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں
۔۔۔۔
اسی طرح بخاری کی سوچ کا زاویہ اور دائرہ بہت وسیع اور اپنا ہے۔ون ویلنگ بہت نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس کہ اس دھند نے مقابلتا” زیادہ نقصان کیے ہیں۔اس بات کو یوں منظوم کیا۔
"وَن ویِلنگ” نے بھی، نہیں مارے
"دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں
۔۔۔۔۔
نتیجتا”
بخاری صاحب موازنہ کرتے ہوئے نقصان کی تصویر پیش کرکے عزیز ہم وطنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے احتیاط برتیں
دو شعر
کبھی پورے نہ عاصم ہو سکیں گے
کیے وہ دُھند نے نقصاں بخاری
۔۔۔۔۔۔
کیے وہ دھند نے نقصان عاصم
بخاری جو کبھی پورے نہ ہوں
۔۔۔۔
اس لیے کہ سردست اس کاکوئی علاج نہیں صرف محتاط رویہ اور احتیاط ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
شعر
میں نے پوچھا کوئی علاج اس کا
دُھند کا نام سُن کے مُسکایا
عاصم بخاری اس دھند کو بھی آفات میں شمار کرتے ہوئے انسان کی بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے کہ ان اللہ علی کل شئی قدیر کی بارگاہ میں دست ِ دعا بلند کرتا ہے کہ یارب اس آفت اور امتحان سے ہمیں نجات دے
شعر
ہر کسی کی ہے بس دعا یہ ہی
دھند کو ٹال دے خداوندا
۔۔۔
عاصم بخاری کے ہاں ہمیں سائنسی شعور بھی ملتا ہے کہ بارگاہ ربی میں سب مل کر لتجا کریں کہ اللہ تعالی بارش کی صورت اس امتحان کو ہمارے سروں سے ٹال دے
شعر
اپنے رحم و کرم کی بارش سے
دھند کو ٹال دے خداوندا
۔۔۔۔
اگر بارش کا امکان نہیں تو پھر دوسری صورت میں عاصم بخاری بارگاہ ِ ربی میں ملتمس ہیں کہ کوئی ایسی ہوا چلے جس سے یہ دھند آبادیوں سے کہیں دور چلی جائے اور مخلوق ِ خدا سکھ کا سانس لے
شعر
بھیج ایسی ہوا کوئی یارب
دھند کو جو بھگا کے لے جائے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |