"گزرے زمانوں کی سیر”
افتخار مغل مرحوم کا ایک شعر ہے کہ!
اپنی مٹی کی مہک، کچی چھتوں کی بات ہے
کچا کوٹھا کس قدر اچھا لگا بارش کے بعد
احباب مضمون کی طوالت سے مت گھبرائیے، اس مضمون میں آپ کی دلچسپی کی بہت سی چیزیں ہیں، آپ پڑھیں گے تو پڑھتے چلے جائیں گے کیوں کہ میں آج آپ کو پچھلے زمانوں کی سیر کروانے چلا ہوں۔
کہنے والوں نے کہا ہے کہ گزرے زمانوں میں مکان کچے اور لوگ سچے ہوتے تھے، آپ اس بیان سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں یہ آپ پر ہے لیکن مجھے کچھ گڑ بڑ نظر آ رہی ہے جسے حفظ ما تقدم صیغۂِ راز میں رکھنا بہتر ہے۔
قارئین زیر نظر تصویر ہمارے آبائی مکان کی ہے جس کے بنانے والے برسوں پہلے اپنے اگلے ٹھکانوں کے راہی ہوئے لیکن اس کی بنیادوں سے کے کر اس کی ہر اینٹ، ہر پتھر، ہر دیوار اس کے گارے اور مٹی میں ان کے ہاتھوں کا لمس، خوش بو اور یادیں بسی ہیں جو مجھے یہ مضمون لکھتے ہوئے نم ناک ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ میرے والد محترم کے مطابق یہ مکان آج سے 60 سال قبل تعمیر ہوا جب ہمارے دادا جان رحمت اللہ خان مرحوم و مغفور، ہماری مرحوم دادیاں، ہمارے تایا شاہ زمان اعوان، ملک امان اعوان، ہماری پھوپھیاں اور پیارے چچا ملک صابر حسین بقید حیات تھے۔ کتنی محنت اور محبت کے ساتھ یہ مکان تعمیر ہوا یہ میرے والد اور ان کے بھائی جانتے ہیں اور اس مکان کے ساتھ ان کی نسبت اور عقیدت سے راقم بھی بہ خوبی واقف ہے۔ قارئین یہ ہمارا خاندانی ورثہ ہے جسے میرے پیارے چچا محمد مشتاق اعوان نے کانچ کی گڑیا کی طرح سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ چوں کہ وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اس لیے یہ آبائی مکان انہی کے حصے میں آیا اور انہوں نے بھی اس عظیم ورثے کے ساتھ وفا کی اور آج تک اس پر اپنی محنت اور محبت نچھاور کر رہے ہیں جو انہی کا خاصہ ہے۔ کئی حوادث گزرے، 2005 کا قیامت خیز زلزلہ بھی گزرا مگر عظیم لوگوں کی عظیم تعمیر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہے جس کا سہرا میرے چچا کے سر جاتا ہے۔
بات لمبی ہو رہی ہے تو قارئین ہم کچے مکانوں میں رہنے والی آخری نسل سے تعلق رکھتے ہیں، کیا بہاروں کے دن ہوا کرتے تھے، کچے مکانوں میں دیودار، کائل یا چیڑ کے بڑے بڑے بالوں پر گھاس پھونس اور مٹی ڈال کر چھتیں بنتیں جو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت مکان بھی کچے تھے اور صحن بھی، راستے اور سڑکیں بھی کچی ہوا کرتی تھیں جس وجہ سے موسم کبھی اس قدر شدید نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ معتدل رہا کرتے تھے۔ کچے مکانوں کی چھتوں میں چڑیاں اپنے گھونسلے بناتیں اور وہیں ان کی افزائش نسل ہوتی، کبھی کبھار سانپ بھی انکے گھروں پر حملہ آور ہو جاتے تھے، ان چڑیوں کو "کَہر چڑیاں” کہا جاتا تھا اتنی موٹی موٹی اور تر و تازہ، کیا وقت یاد دلا دیا میں نے آپ کو، اب چڑیوں کی وہ نسل نایاب ہو چکی اور یہاں سے اپنے اگلے ٹھکانے سدھار چکی کیوں کہ رفتہ رفتہ کچی چھتوں کی جگہ ٹین کی چھتوں نے لے لی اور پھر اب ٹین کی جگہ کنکریٹ کی چھتیں آ گئیں اور کچے مکان صرف ہماری نسل کی یادوں تک محفوظ رہ گئے۔ جہاں تک ہمارے آبائی مکان کی کی زندگی کا تعلق ہے تو عمومی رائے یہی ہے کہ چچا جان کی زندگی تک یہ محفوظ و مامون رہے گے ان کے بعد کیا ہو گا آپ سب جانتے ہیں۔ بہرحال آفرین ہے چچا جان کو کہ انہوں نے اس مکان کو "گُڈی” بنا کر رکھا ہوا ہے آپ تصویر دیکھ کر اس کے ظاہری خد و خال ملاحظہ کر سکتے ہیں اور بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ مکان ان کی کتنی محنت ، محبت اور شفقت کا شاہکار ہے۔
ہمارے خاندان میں اس وقت چار عدد کچے مکان موجود ہیں جن پر پھر کبھی لکھوں گا، آج کے لیے اتنا ہی
آپ کو یہ مضمون کیسا لگا، کمنٹ باکس میں اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا۔
احقر
عتیق الرحمن اعوان
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |