ارشاد علی: شخصیت اور ادبی خدمات
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
محمد ارشاد المعروف ارشاد علی ہمارے عہد کے اُن ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ذات، تجربات اور مشاہدات کو ادب کی صورت میں سچائی اور خلوص کے ساتھ پیش کیا۔ 05 اگست 1963 کو اٹک شہر کے قدیم محلہ شکردرہ میں آنکھ کھولنے والے ارشاد علی کا تعلق ایک باوقار اور سادہ گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد محترم محمد یوسف نے محنت، دیانت اور شرافت کی جو اقدار گھریلو فضا میں راسخ کیں، وہی اقدار آگے چل کر ارشاد علی کی تحریروں میں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔
تعلیمی اعتبار سے بھی ارشاد علی کا سفر نہایت منظم اور قابلِ تقلید ہے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول شکردرہ سے حاصل کی، مڈل گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول اٹک شہر سے مکمل کی، جبکہ میٹرک گورنمنٹ اسلامیہ سکول اٹک سے کیا۔ اس کے بعد ایف اے، بی اے اور ایم اے اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کر کے انہوں نے اردو زبان و ادب میں اپنی مضبوط بنیاد قائم کی۔
ادبی میدان میں ارشاد علی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک عمدہ افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں میں معاشرتی حقیقتیں، انسانی نفسیات اور جذبات کی باریکیاں بڑی خوب صورتی سے سمٹ آتی ہیں۔ بطور کالم نویس وہ عصری مسائل پر جرات مندانہ اور متوازن رائے پیش کرتے ہیں۔ ان کی نثر سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والی ہے، جو قاری کو ابتدا سے آخر تک باندھے رکھتی ہے۔
ارشاد علی کی خوش بیانی ان کی تحریر کا خاص وصف ہے۔ وہ بات کو نہ صرف مؤثر انداز میں کہتے ہیں بلکہ اس میں فکری گہرائی بھی پیدا کرتے ہیں۔ بطور تنقید نگار ان کی نظر تیز اور رائے مدلل ہوتی ہے، جو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر نظر آتی ہے۔ الغرض محمد ارشاد المعروف ارشاد علی اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں، جن کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے اور نئی نسل کو ان کے کام سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید برآں ارشاد علی کی ادبی خدمات کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ادب کو محض اظہارِ ذات نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں قاری کو سوچنے، سوال کرنے اور خود احتسابی کی دعوت ملتی ہے۔ وہ نوجوان لکھنے والوں کے لیے ایک فکری رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں اور ادب میں سنجیدگی، شائستگی اور مقصدیت کے قائل ہیں۔ مقامی سطح سے لے کر وسیع تر ادبی حلقوں تک ان کی پہچان ان کی محنت، مستقل مزاجی اور خلوصِ نیت کا نتیجہ ہے، جو انہیں ایک معتبر اور قابلِ احترام ادبی شخصیت بناتی ہے۔
کالم کے آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ارشاد علی کی عمر، رزق، صحت اور قلم میں مزید برکتوں کا نزول فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |