جمہوریت کی زلف گرہ گیر اور پانچواں درویش

تحریر: ارشاد علی

جمہوریت کی زلف گرہ گیر کے بد نصیب اسیروں نے جو خواب دیکھے ان کی اجاڑ بیاباں تعبیروں کے سوا ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں ہے۔ آتش انتظار نے ان کی رت جگوں کی ماری آنکھوں کو لال انگارہ کر دیا ہے بہ ظاہر یہ انگارے بے بسی کی علامت ہیں مگر اندیشہ ہائے دورو دراز کہے دیتے ہیں کہ جلد یا بہ دیر یہ بغاوت کا استعارہ بھی بن سکتے ہیں خواب دیکھنا تو ہر خطہ کے ہر بشر کا حق ہے لیکن خواب کی تعبیر پر غول بیاباں کا سایہ پڑ جائے گا یہ صرف ہم تہی دستوں کے لیے "توشہ ء خاص”ہے ناآسودگی کے لق ودق صحرا میں آبلہ پا مسافروں کو آسودگی کے نخلستاں ملا کرتے ہیں یہ محض دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ کے سوا کچھ نہیں کہ حزب اقتدار کو اپنی حیرت آگیں کامیابی راس نہیں آرہی اور وہ حزب اختلاف کا چولا بدلنے کی آرزو سے تہی داماں بھی ہے پرچی کے فسوں سے اپنی تقدیر بدلنے کے آرزو مندوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور اگر زندہ رہنے کے واسطے خاک میسر آسکتی ہے تو اسے پکانے کے لیے آگ کی تلاش میں ہلکان ہوتے پھر رہے ہیںڈری سہمی بستی پر جانے کس آسیب کا سایہ ہے کہ ایک پاوں آگے کو تو دس پیچھے پڑتے ہیں نتیجہ معلوم ماضی شرمندہ، حال بے حال اور مستقبل تمنائی کے سوا کچھ بھی نہیں قوم کا جسد واحد دکھ میں مبتلا ہے اور مصیبت میں تن کی جوئیں بھی ساتھ چھوڑا چاہتی ہیں پانچویں درویش کا کہنا ہے کہ یہی حال رہا تو اتحادیوں پر ہی کیا موقوف،جمہوریت کے شبستانوں میں ڈھلنے ولوں کے مزاروں پر چراغاں کی تمنا بھی کسی کی کسبت سے نہ نکل پائے گی۔یہ دیکھ کر دیدے ڈھلتے جا رہے ہیں کہ ایوانوں میں قانون سازی کے لیے منتخب ہو کر آنے والے اپنی جماعت اور حلقہ کے ہمنواوں کے اعلی عہدوں پر تقرر اور بے وسیلہ لوگوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے فرصت ہی حاصل نہیں کر پا رہے اور اوہر سے رشوت سفارش کا انکار، قانون کی عملداری اور غیر جانب داری کے نعرہ ہائے عجب کہ جن پر اپنے تو کیا بے گانے بھی زیر لب تبسم سے دو دھاری تلوار کا کام لے رہے ہیں۔ ادھر اپنی ہی صورت کے بگاڑ پر زمام اقتدار تھامنے والوں کو نگاہ درماں کی توفیق ہی نہیں۔سابقہ ادوار کو پار کرنے والوں کو کیا معلوم تھا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا جو انہیں دست و پا کر کے رکھ دے گا۔آگ بگولہ صحرا کے بھٹکے ہوئے مسافروں کو ایک لمبی اور تھکا دینے والی مسافت کے بعد دکھائی پڑ رہا ہے کہ وہ گھوم پھر کر ادھر ہی آ نکلے ہیں جہاں سے سفر آغاز کیا تھا ان کے معصوم بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں بوڑھے بیمار دوائی کے لیے اور جوان روشنائی کی خاطر تڑپ رہے ہیں روزگار کے خواب تو تعبیر آشنا ہونے سے رہے پہلے سے میسر رزق بھی بند مٹھی سے ریت کی طرح سرک رہا ہے ان وحشت زدگاں کی دارو کسی طبیب کے ہاتھ میں ہے کون روشن دماغ سوچے گا کہ چہارسو خود غرضی کے اندھیروں کا راج ہے دھوپ کی تمازت میں موم کے مکانوں میں بلکتے حرماں نصیبوں کے سروں پر شیشوں کے سائباں ڈالنے کے اتائی بہت ہیں مگر مسیحا کوئی نہیں۔ لاکھوں نوکریاں،روزگار کی فراوانی، وظائف ،گھروں کی تعمیر، سستا انصاف ، محمود و ایاز کی یک جائی، ایک نصاب ،خواب در خواب کا یہ سفر بڑا ہی تھکا دینے والا ہے ۔اس خواب کی تعبیر میں غلطاں گھبرا کے مرنا چاہتے ہیں مگر مرنے کے بعد بھی چین نہ ملنے کے خوف سے ہراساں اس سنگ آستاں کی تلاش میں ہیں جو ان کے لیے شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتا ہےفریادی دہائی دے رے ہیں مگر محل نشیں کو اونچا سنائی دیتا ہے شہر سنسان میں بھٹکنے والوں کا خاک ہو کر بکھر جانا ہی مقدر ٹھہرا ہے جمہوریت کی رات اندھیری ہے اور پرچی کا فسوں ماننے والوں کو کنارا بہت ہی دور محسوس ہو رہا تھا ادھر سیاست کے ابر آلود مطلع نے جمہوریت کے ثمرات کے چاند کو گہنا دیا ہے وہ چاند جس کے نکلنے پر مایوسی کے دریا میں ڈوبتے ، حق رائے دہی کے حامل پار اتر سکیں۔ اندھیری رات میں ٹھاٹھیں مارتے دریا کی گھمن گھیری میں پھنسنے والوں کا حال،آسودگان ساحل کہاں جان سکتے ہیں۔عصر حاضر کے بطلیموس کو اپنے رائے دہندگان کی آسودگی کا نسخہ جاننا پڑے گا ورنہ جسد اقتدار کا ناسور جان لیوا اور بادشاہی کا خواب نوشین ٹوٹ کر بکھر جانے کا احتمال ہے۔اس لیے اپنے سورتنوں کو خوش کرنے کے بجائے بیس کروڑ عوام کے دکھوں کا ازالہ ضروری ہے ورنہ انجام نوشتہ ء دیوار ہے۔

رائیٹر: ارشاد علی

فون نمبر۔03005607303

بہ مقام شکردرہ تحصیل و ضلع اٹک

در بارہ روبالہ تخلیق

یہ بھی دیکھیں

سیّدزادہ سخاوت بخاری

نیا سال- تاریخی تناظر اور کنڈلی

میرا آج کا آرٹیکل آنیوالے سال کا سیاسی زائچہ یا کنڈلی ثابت ہوگا ۔ جس نے نہ پڑھا ، وہ سال 2021 کو نہیں سمجھ پائیگا ۔