27 دسمبر 2007 ایک کرب ناک دن

از قلم رضاسیّد

آج سے تیرہ برس قبل اسی دن کی صبح بہت روشن اور سرد تھی کون جانتا تھا آج شہید بھٹو کی دختر سفر شہادت پر گامزن ہوجائے گی اپنے بابا جان کے تختہ دار پر جھول جانے کے بعد جلاوطنی اور پھر وطن واپسی پر انتہائی سخت سیاسی جہدوجہد بے نظیر بھٹو کو امر کرگئی ۔
سیاسی انتقام اور جمہوری روایات کی بحالی کے لیے اس پر عزم اور دلیر لیڈر کی تحریک دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اپنے شہید والد کے بعد اس عظیم خاتون لیڈر نے دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا جس کو دنیائے سیاست میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے ۔
اپنی سیاسی زندگی میں بطور خاتون اپنے حریف سیاسی زعماء کی جانب سے ہتک آمیز سیاست اور اخلاق باختہ رویوں کو برداشت کیا مگر اپنے عزم اور مقصد سے پیچھے نا ہٹی۔ شوہر کے پابند سلاسل ہونے کے بعد کئی سال اکیلے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی اور بہترین لیڈر ہونے کے ساتھ ایک مثالی ماں بھی ثابت ہوئی ۔
لیاقت باغ ستائیس دسمبر کوایک اورآفتاب سیاست غروب ہوگیا وہ دن پوری پاکستانی قوم کے لیے کربناک دن تھا وہ دن جب خیبر تا کراچی پوری قوم روئی ہر ایک نے اپنے صحن میں بے جرم قتل محسوس کیا ۔ یہ اعزاز بھٹو اور بھٹو کی بیٹی کو رہا کہ سیاست میں اصول و جہدوجہد پر جان قربان کی مگر سر نگوں نا ہوئے ۔تاہم انکی نظریاتی سیاست انہی کے ساتھ دفن ہوگئی جو اس قوم کا حقیقی نقصان ثابت ہوا ۔
اللہ تعالیٰ بحق سید الشھداء ع بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

رضا سیّد

در بارہ رضا سیّد

لکھاری،تجزیہ نگار،کالم نویس،اصلاح پسند، سماجی نقاد

یہ بھی دیکھیں

سیّدزادہ سخاوت بخاری

نیا سال- تاریخی تناظر اور کنڈلی

میرا آج کا آرٹیکل آنیوالے سال کا سیاسی زائچہ یا کنڈلی ثابت ہوگا ۔ جس نے نہ پڑھا ، وہ سال 2021 کو نہیں سمجھ پائیگا ۔