پیٹرو فاسٹ گروپ کی کہانی
سمندر پار پاکستانیز دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے قابل فخر بھی ہیں جو اپنے کام اور پیشے سے بڑے پیمانے پر کاروباری کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیئے ہوئے ہیں۔ انہی غیرسرکاری سفراء میں سے ایک نام فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے
ندیم شاہد کا ہے جو گزشتہ 35برسوں سے متحدہ عرب امارات، شارجہ میں مقیم ہیں، اور جنہوں نے ایک سیلزمین سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے ایک ملٹی نیشنل سٹیل انڈسٹری کی عمارت کھڑی کر دی۔
میری ان سے کبھی ذاتی ملاقات نہیں ہوئی ہے لیکن ان سطور کے لکھنے تک جتنا ان کے بارے میں پڑھا اور سنا ہے وہ انتہائی قابل ستائش و انبساط ہے۔ ان کی کہانی کاروبار کی نیت رکھنے والے بہت سارے دوسرے بزنس مینوں کے لیئے تحریک اور موٹیویشن کا باعث ہے۔ انہوں نے پہلی کمپنی 1985ء میں شارجہ حمریہ فری زون میں "ایشیاء ٹریڈنگ” کے نام سے بنائی۔ یہ ایک بلکل چھوٹی سے کمپنی تھی مگر انہوں نے اپنی دن رات کی محنت اور زہانت سے دو سال کے اندر ہی "پیٹرو فاسٹ مڈل ایسٹ” بھی کھڑی کر دی۔ کہتے ہیں کہ جب انسان خلوص دل سے ترقی کرنے کا خواہشمند ہو تو پوری کائنات اس کی مدد کے لیئے متحرک ہو جاتی ہے۔ اس کے تین سال بعد انہوں نے شارجہ مین سٹیٹ میں "پیٹرو فاست انٹرنیشنل” کی بنیاد رکھی اور تب سے انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ہے۔ آج ان کی آدھی درجن سے زیادہ سٹیل فیکٹریاں امارات اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان، انگلینڈ اور امریکہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی ترقی کی بنیادی وجہ ان کا کردار، ان تھک محنت اور ایمانداری ہے۔ ان کی سٹیل انڈسٹری اور ویئر ہاوسز میں ہزاروں کی تعداد میں سٹاف اور ورکرز کام کرتے ہیں اور جس کو بھی ملو ان کی تعریف کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ ہر ماہ اپنے دفاتر اور فیکٹریوں کا وزٹ کرتے ہیں عملے، مزدوروں اور کاریگروں کی شکایات سنتے ہیں، ان کے مسائل حل کرتے ہیں اور کاروبار کی ترقی کے لیئے ان سے مشورے بھی کرتے ہیں۔ بقول پیٹرو مارکیٹنگ منیجر ساحل خان ندیم شاہد صاحب صرف سمجھدار بزنس مین ہی نہیں، بلکہ ایک ہمدرد اور درد دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔
صنعت کار زیادہ ترقی کر جائیں تو وہ عموما مزدور طبقہ کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں لیکن ندیم شاہد انسان دوست بزنس مین ہیں۔ ان کی وسیع اور تیز رفتار ترقی کا بنیادی راز ان کی یہی منکسرالمزاجی ہے۔ سٹیل بزنس کے علاوہ وہ چائنا اور دیگر ممالک میں ٹریڈنگ اور ایکسپورٹ امپورٹ کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان ممالک کی کنسٹرکشن کمپنیوں کو لیتھ مشینوں کٹرز، ڈرلز، نٹ بولٹس اور فاسٹنرز سے لے کر وہ ہر قسم کے چھوٹے بڑے اوزار اور مشینری فراہم کرتے ہیں۔
ندیم شاہد کے علاوہ بہت سارے ایسے دوسرے پاکستانی ہیں جو خالی ہاتھ خلیجی ممالک میں آئے اور پھر ایک بہت بڑے کاروبار کے مالک بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف اپنا اور خاندان کا معاشی مستقبل سنوارا ہے بلکہ انہوں نے اپنے کردار و اخلاق، محنت، زہانت اور ایمانداری جیسی غیرمعمولی صلاحیتوں سے پاکستان کی عزت اور نام کو بھی سربلند کیا ہے۔ ان مخصوص چند لوگوں کو دیکھ کر بیرونی دنیا پاکستان کے بارے اندازہ لگاتی ہے کہ یہ لوگ اتنے عظیم اور کمٹڈ ہیں تو خود پاکستان کتنا عظیم تر ہو گا۔ دنیا کے ہر ملک میں اچھے اور برے لوگ پائے جاتے ہیں، اچھے لوگ ہر جگہ ستائش و توصیف اور برے لوگ بدنامی اور رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو اپنے ملک کے لیئے نیک نامی اور ہر خاص و عام کے لیئے فیض کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ندیم شاہد کے بارے میں سنا ہے کہ انہوں نے سیکنڑوں ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کیا۔ ایسے سمندر پار پاکستانی نہ صرف دوسروں کے لئے روزی روٹی کا وسیلہ بنتے ہیں، کثیر زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں بلکہ ان کا وجود پاکستان کے لیئے بھی خیر اور برکت کا باعث بنتا ہے۔ میں نے پہلی بار ان کا نام چند مقامی عربیوں سے ایک فنکشن کے دوران سنا تھا جنہوں نے ان کی بدولت پاکستان میں بہت بڑی "سرمایہ کاری” کر رکھی تھی۔
کاروبار میں ترقی کرنے کے لیئے "پیٹرو فاسٹ گروپ آف کمپنیز” کے مالک ندیم شاہد جیسے ”سیلف میڈ مین“ کا مطالعہ ضرور کرنا چایئے۔ آج سے پہلے کئی بلنئیریز بزنس مینوں نے ندیم شاہد سے بھی کم وسائل کے ساتھ کاروبار شروع کیا تھا۔ اگر وہ ساری رکاوٹوں کو عبور کر کے کامیاب ہو سکتے ہیں تو آپ بھی ہو سکتے ہیں۔ ندیم شاہد کی قابل مثال کامیابیاں وہ طاقتور کاروباری اقدار اور اصول و ضوابط سکھاتی ہیں جس سے فقط مصمم ارادے اور محنت و لگن سے بظاہر ایک ناممکن ٹارگٹ کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
سیلف میڈ مین ان گنتی کے چند کامیاب کاروباری لوگوں میں سے ہوتے ہیں جو حالات کے خلاف لڑتے ہوئے اوپر ابھرتے ہیں، الیکٹرک بلب کے موجد تھامس ایڈیسن، مشہور بلینیئریز بل گیٹس، جیف بینزوز، مارک زکربرگ، جان کون اور برائن ایکٹن وغیرہ انہی چند گنے چنے کاروباری ٹائیکونز میں سرفہرست ہیں۔
کبھی ہر انسان کو اپنا خواب ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن ایسے میں منفی سوچوں کا حصار توڑنے کے لیئے کسی بڑے مقصد اور کامیابی کی امید بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ اکثر افراد ایسی صورتحال میں دل برداشتہ ہو کر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں جبکہ حوصلہ مند لوگ مشکل وقت کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔بقول معروف امریکی موٹیویشنل اسپیکر جان میکس ویل، ’’آپ چیلنجز کو چھوٹا کر کے نہیں بلکہ خود کو بڑا بنا کر کے کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔ ہر انسان کے اندر ندیم شاہد موجود ہوتا ہے مگر ہر انسان اسے جگاتا نہیں ہے۔ ہر چھوٹا بزنس مین اسی صورت میں بڑا بزنس مین بنتا ہے جب وہ اپنے اندر خود کو بڑا بزنس مین محسوس کرتا ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ بڑی سے کامیابی بھی پہلے آپ کے دل اور دماغ سے پھوٹتی ہے، اگر اس کا تعلق پیسہ کمانے اور دولتمند بننے سے ہو تو یہ سونے پر سوہاگہ کا کام کرتی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |