صاحب الرائے صحافت
صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے کہ جو جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں سرخرو ہوتا ہے جب یہ سچ بات کو بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنے قارئین تک پہنچاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اب صحافت میں صرف شعبوں کے تنوع کی وجہ سے بھی ہر ایرا غیرا خود کو "صحافی” سمجھ لیتا ہے جیسا کہ اگر کوئی نامہ نگار اور رپورٹر ہے، کالم نویس ہے، سب ایڈیٹر یا پروف ریڈر ہے، اخبار میں کاپی پیسٹ کرتا ہے یا پھر وہ لائبریری کے محض فوٹو سیکشن میں تصاویر ہی نکال کر دینے کی ڈیوٹی کرتا ہے تو وہ بھی خود کو "صحافی” سے منسوب کرتا ہے۔
بہت عرصہ ہوا بی بی سی لندن ریڈیو کی نشریات میں پاکستان میں متعین ایک انگریز نامہ نگار "مارک ٹیلی” ہوا کرتے تھے۔ اس عہد میں ٹیلی ویژن یا اخبارات سے زیادہ لوگ ریڈیو کی خبروں پر انحصار کیا کرتے تھے۔ تب بی بی سی لندن کی خبروں میں پاکستان کے بارے ایک خاص بلیٹن ہوا کرتا تھا۔ خاص کر کھیل، سیاست، سیلاب اور جنگ وغیرہ کے دوران پاکستان کے دور دراز علاقوں میں لوگ پاکستانی خبروں سے زیادہ مارک ٹیلی کی خبروں کے انتظار میں رہتے تھے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ مارک ٹیلی خبروں کی رپورٹنگ غیرجانبداری سے کیا کرتے تھے جس وجہ سے لوگوں کو اپنے ملکی حالات سے حقائق پر مبنی صحیح اور سچی آگاہی حاصل ہوتی تھی۔ حالانکہ آج بھی ریڈیو سے وابستہ لوگ صحافی کہلواتے ہیں اور نہ ہی لوگ انہیں صحافی مانتے ہیں۔ جبکہ حقیقت تو یہی ہے کہ اگر اخبار نویس صحافی ہیں تو ریڈیو سے وابستہ افراد جو خبروں کی ترسیل کرتے ہیں، اور خبروں کی جوں کی توں بہم رسانی کا فرض ادا کرتے ہیں تو انہیں بھی صحافیوں کا درجہ و مقام دیا جانا بنتا ہے، مگر ہماری صحافتی دنیا میں انہیں "صحافی” نہیں گردانا جاتا ہے۔
لیکن جب سے اخبارات اور ٹیلی ویژن سٹیشنوں کی بھر مار ہوئی ہے اور اب اس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہو گیا ہے تو جہاں قارئین کے لیئے حق بات کا فہم و ادراک کرنا مشکل ہو گیا ہے وہاں خبروں میں "زرد صحافت” بھی شامل ہو گئی ہے۔ صحافت میں "لفافے صحافی” ہی کی اصطلاح کو دیکھ لیں کہ جب کسی رپورٹر یا ایڈیٹر وغیرہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیئے یا پیسے لے کر اصل خبر میں مرچ مصالحہ لگانا ہے، ٹیبل سٹوری گھڑنی ہے یا خبروں میں کچھ "ڈنڈی” مارنی ہے تو پھر صحافت کا مقدس پیشہ جسے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ "مقدس” رہتا ہی کہاں ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ آج کل "ٹک ٹاکرز” اور "یوٹیوبرز” بھی خود کو صحافیان کا درجہ دیتے ہیں، وہ جونیئر بھی ہوں تو خود کو "سینئر صحافی” کہتے اور لکھتے ہیں، یا آپ فقط ایک کیمرہ اٹھائیں اور کسی فنکشن میں جا کر کر بار بار فلش ماریں تو کچھ حاضرین آپ سے واقعی متاثر ہو جائیں گے کہ آپ ضرور کوئی بہت بڑے صحافی ہیں یعنی اب ہر جگہ اخبار کے کیمرہ مینوں کو بھی لوگ صحافی ہی سمجھتے ہیں، چاہے کسی کو خبر کی الف ب کا بھی پتہ نہ ہو یا اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ "سرخی” کیسے نکالنی ہے یا ایک کالمی اور دو کالمی وغیرہ خبر میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اگر ایک کیمرہ مین ہے، کوئی خالی اخباروں کا سٹال ہی لگاتا ہو یا وہ صرف "ہاکر” ہی کیوں نہ ہو، تب بھی وہ خود کو صحافی ہی کہلوانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
ایک دفعہ ہوا یوں کہ ہمارے ایک اخبار کے نیوز ایڈیٹر اپنے عملے کو بلا کر یہ بتا رہے تھے کہ اگر کوئی رپورٹر آپ کو یہ خبر بھیجتا ہے کہ، "فلاں جگہ پر ایک آدمی کو کتے نے کاٹ لیا ہے”۔ جبکہ دوسری جگہ سے یہ خبر آتی ہے کہ کتے کی بجائے، "ایک آدمی نے کتے کو کاٹ لیا ہے”، تو ان دونوں اطلاعات میں سے اخبار میں چھاپنے کے لیئے ترجیحی "خبر” دوسری جگہ سے آنے والی بنتی ہے جس میں ایک آدمی کتے کو کاٹتا ہے۔ یہ صحافت میں سنسنی خیزی اور ہیجان پھیلانے کی ایک عمدہ مثال ہے جس کی وجہ سے ہمارے اخبارات میں "ریٹنگ” کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اس پر مستزاد "رائے زنی” اور "ذہن سازی” کا مسئلہ ہے جس کی بناء پر بہت سے کالم نویسوں پر حکومت اور سیاسی جماعتوں کے "پے رول” پر ہونے کے الزامات ہیں اور وہ اس سے مختلف نہیں ہیں جتنا اختلاف انسان اور حیوان کا ایک دوسرے کو کاٹنے کا ہے۔
صحافت میں عموما غیرجانبدار رہنا ایک اعلی صحافتی صفت گردانا جاتا ہے، حالانکہ غیرجانبداری اختیار کرنا یا تو غلیظ قسم کی "منافقت” ہے اور یا پھر یہ اصل "صحافتی کردار” کا فقدان ہے۔ میرے خیال میں جس صحافی کی اپنی کوئی جائز اور صائب رائے ہی نہ ہو اور وہ صرف "غیر جانبدار رہنے ہی کو صحافت سمجھتا ہو تو وہ اپنے قارئین کی سچی رہنمائی کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا ہے۔
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون ایسے ہی نہیں کہا جاتا ہے۔ بہت سارے ایسے نام نہاد، ان پڑھ یا پھر کم پڑھے اور "بے ضمیرے” قسم کے خبر رساں بھی اپنے صحافی ہونے کا دعوی کرتے ہیں جن کا مقصد ہی صرف "افواہ سازی” یا "بلیک میلنگ” ہوتا یے۔ اور یا پھر آپ صحافت کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں مگر آپ ایمانداری سے "رپورٹنگ” نہیں کر رہے ہیں تو آپ صحافی کہلواتے کے روادار نہیں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف ایمانداری اور حالات و واقعات کی عین اور ہو بہو ترجمانی کرنا کہ جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو تب بھی ہو وہ مثبت اور تعمیری صحافت نہیں ہے کیونکہ جب تک صحافت آپ کے اندر کی دانش و حکمت اور انسانی اقدار کو بیدار کر کے معاشرے کا معیار بلند کرنے کے کام نہیں آتی تو پھر بھی آپ خود کو صاحب الرائے صحافی کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔
آپ اگر صحافی ہیں تو آپ معاشرے کی ذہن سازی اور تربیت و تعمیر کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ صحافت کو اسی لیئے مقدس فریضہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے معاشرے کی آنکھیں کھولنے سے پہلے خود اپنی آنکھیں کھولنی ہیں۔ میرے خیال میں حق اور باطل میں تمیز کرنا اور اس پر صائب رائے کو فروغ دینا ہی صحافت کی اعلی ترین سطح ہے، جو بدقسمتی سے ابھی ہمارے ہاں خال خال ہے۔
Title Image by Markus Winkler from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |