ڈی سی اٹک راؤ عاطف رضا
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
اٹک کی سرزمین صدیوں سے تاریخ، تہذیب اور ثقافت کی امین رہی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ شہر ہمیشہ بہادری، علم دوستی اور روایت سے وابستہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اٹک کی شناخت کو ایک نئی جہت ملی ہے اور اس مثبت تبدیلی کے پیچھے ڈپٹی کمشنر اٹک، راؤ عاطف رضا کی بصیرت افروز قیادت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
ادب کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد ہوتا ہے اور اس بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے اکادمی ادبیات کیمبلپور کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ اہلِ قلم، شاعروں، ادیبوں اور علم دوست افراد کے لیے ایک فکری مرکز ہے، جہاں تخلیقی سوچ کو فروغ ملے گا اور نئی نسل ادب سے جڑے گی۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ راؤ عاطف رضا نہ صرف انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں بلکہ ادب دوستی اور ثقافتی شعور بھی رکھتے ہیں۔
اسی تسلسل میں شہر میں جم خانہ کی تعمیر اور اس میں ایک بڑی اور جدید لائبریری کا قیام ایک اور قابلِ تحسین منصوبہ ہے۔ یہ لائبریری نوجوانوں کے لیے علم کا خزانہ ثابت ہوگی، جہاں وہ کتاب سے رشتہ جوڑ سکیں گے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب سے قربت پیدا کرنا ایک چیلنج ہے، اور یہ اقدام اس چیلنج کا عملی جواب ہے۔
اٹک شہر میں فوڈ اسٹریٹ کا منصوبہ شہری زندگی میں رنگ، رونق اور سہولت کا اضافہ کرے گا۔ یہ نہ صرف مقامی کاروبار کو فروغ دے گا بلکہ شہر کی سماجی زندگی کو بھی متحرک کرے گا۔ سیاحت کے فروغ اور خاندانی تفریح کے لیے فوڈ اسٹریٹ ایک خوش آئند اضافہ ہے، جو اٹک کو جدید شہروں کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ شہر کے نمایاں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ انتظامیہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ کھیل صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، اور کھلاڑیوں کی سرپرستی دراصل مستقبل میں قومی سطح کے ٹیلنٹ کی آبیاری ہے۔
راؤ عاطف رضا کی یہ تمام خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت خالص اور وژن واضح ہو تو انتظامی عہدہ عوامی فلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اٹک آج جس ترقی، تہذیبی شعور اور فکری بیداری کی جانب بڑھ رہا ہے، وہ قابلِ تقلید ہے۔ اہلِ اٹک کو بجا طور پر فخر ہے کہ ان کے شہر کو ایک ایسا منتظم میسر آیا ہے جو اینٹ اور پتھر کے ساتھ ساتھ ذہن و فکر کی تعمیر بھی کر رہا ہے۔
بلاشبہ، یہ خدمات تاریخ کے روشن صفحات میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
مزید برآں، اٹک میں شہری نظم و نسق کی بہتری، صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے جو عملی اقدامات کیے گئے ہیں، وہ بھی موجودہ انتظامیہ کی فعال سوچ کا مظہر ہیں۔ ایک شہر کی خوبصورتی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ منظم ٹریفک، صاف گلیوں، بہتر پارکوں اور محفوظ ماحول سے جڑی ہوتی ہے، اور اس ضمن میں کیے گئے اقدامات اٹک کو ایک مہذب اور رہنے کے قابل شہر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی اٹک میں ایک مثبت فضا قائم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے ماحول میں بہتری، سرکاری اداروں کی نگرانی اور تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی دراصل ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں باشعور اور ذمہ دار شہری پروان چڑھیں گے۔ علم، ادب اور کھیل یہ تینوں عناصر مل کر ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں، اور اٹک میں یہ تینوں پہلو یکساں توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی ایک زندہ قوم کی نشانی ہوتا ہے۔ اٹک جیسے تاریخی شہر میں مقامی ثقافت، زبان، روایات اور تاریخی مقامات کی حفاظت نہایت اہم ہے۔ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی اور ادبی محفلوں کے انعقاد سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اٹک کی تہذیبی شناخت محض ماضی کی داستان نہیں رہے گی بلکہ حال اور مستقبل کا حصہ بھی بنے گی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہونا کسی بھی ترقیاتی عمل کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ راؤ عاطف رضا کی قیادت میں یہ اعتماد بحال ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں شہری خود کو فیصلوں کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہی اشتراکِ عمل کسی بھی شہر کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا سمجھتا ہوں کہ اٹک آج جس فکری، تہذیبی اور سماجی بیداری کی جانب بڑھ رہا ہے، وہ محض چند منصوبوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک جامع وژن کی عکاسی ہے۔ یہ وژن اگر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اٹک نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں ایک مثالی شہر کے طور پر پہچانا جائے گا ایک ایسا شہر جہاں ترقی اور تہذیب، جدیدیت اور روایت، اور نظم و نسق اور انسان دوستی ایک خوبصورت امتزاج کے ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوں گے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |