سیلاب کے موضوع پر عاصم بخاری کی شاعری(ایک جھلک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبصر
راحت امیر نیازی (میانوالی)
ڈیم نہ ہوں گے تو عاصم جی
گھومے گا ، آوارہ پانی
عاصم بخاری ایک بیدار تخیل اور زود نویس شاعر ہیں۔ غور کرنے کااندز فلسفیانہ ہے۔معاشرے میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اور سانحہ پر ان کا راہوار۔ قلم حرکت میں آ جاتا ۔گذشتہ مہینوں میں سیلاب کی صورت ملک پاکستان پر گزرنے والی قیامت وہ درد ناک و کرب ناک مناظر ہر درد مند دل کی طرح ان کے دل دماغ پر پر بھی گہرے نقوش و اثرات مرتب کر گئی ہے۔محسوس تو یقینا ہر صاحب ِ دل و دماغ کرتا ہے لیکن بہ حیثیت شاعر و ادیب عاصم بخاری نے اپنے ان محسوسات کو قلمی و لفظی لباس بھی پہنایا ہے۔ای شاعر و ادیب ہونے کاانھوں نے حق ادا کیاہے۔ اور اس حادثے اور سانحے کو بھی کئی ایک پہلوؤں سے مثبت اور سبق آموز انداز میں لینے اور فکر مند انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
مکالماتی انداز کا خوب صورت اور فکر انگیز قطعہ
سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا
ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے
آ کے سیلاب نے یہی پوچھا
پانی سے کام تم نہیں لیتے
۔۔۔۔۔۔۔
عاصم بخاری ایک حقیقت پسند اور حقیقت نگار شاعر و ادیب ہیں۔تمام پہلوؤں کو مد ِ نظر رکھ کر شعری تجزیہ کرتے ہیں۔ڈیموں کی تعمیر اور آبی منصوبہ بندی کے موضوع پر یوں منظوم اظہار کرتے ہیں۔
شعر
کبھی اتنا سیلاب نقصاں نہ کرتے
اگر ڈیم تعمیر ہوتے بخاری
سیلاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زلزلہ ہو یاسیلاب یہ آفات ہیں اور آزمائش کی شکل ہوتی ہیں
۔ان میں صبر و تحمل اور استقامت کی بات کرتے ہوئے نظم میں سارا منظر نامہ اور بربادی کی مکمل تصویر کشی بڑے پردرد انداز میں کرتے ہیں۔
ایک نظم ملاحظہ ہو۔
آ فت ہے اک عذاب ہے سیلاب دوستو
بہہ ہی چکے ہیں جس میں کئی خواب دوستو
۔۔۔۔
رحمان یا رحیم کا بس ورد کیجیے
لا سکتا کون اس کی بھلا تاب دوستو
۔۔۔۔
چک وال کا جو حال ہے ہائے میں کیا کہوں
گاؤں بھی شہر بھی کئی غرقاب دوستو
۔۔۔۔
بربادیوں کے ڈیرے ہیں جہلم اداس ہے
پنڈی کا حال کیا کہوں غرقاب دوستو
۔۔۔۔
حفظ و امان میں ہی بس اپنی خدا رکھے
دردوں بھرا یہ زندگی کا باب دوستو
۔۔۔۔
منظر تمہیں بتانے کی عاصم سکت کہاں
یہ داستان ہے سبھی خوناب دوستو
۔۔۔۔۔
بخاری صاحب اس برساتی اور مون سون موسموں میں پیدا ہونے والی سالانہ صورت ِ حال کا حل آبی منصوبہ بندی یعنی ڈیموں کی تعمیر کی صورت قبل از وقت عملی تشویش کی صورت چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا واحد موثر حل یہی ہے۔
ایک شعر
بچنا ہے گر عاصم جی سیلابوں سے
ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
عاصم بخاری ہر معاملے کو سائنسی فکری اور منطقی انداز میں لینے کے قائل ہیں۔ کہ یہ آفت اچانک ہمارے اوپر نازل نہیں ہوتی ۔اس کااگر مقررہ موسم اور وقت ہے تو پھر اس کی پیش بندی ناممکن نہیں مشکل ہو سکتی ہے۔یہی فکر ان کی اس نظم میں ملتی ہے
سیلاب
۔۔۔۔۔
جس سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو
اس کے بھی کچھ تو ہوں گے ہاں اسباب دوستو
۔۔۔۔
ہر سال ان مہینوں میں ہوتا ہے اس طرح
کب تک یوں دیکھتے رہیں گے خواب دوستو
۔۔۔۔
گاؤں تو خیر گاؤں ہیں آ تجھ کو دکھاؤ ں
شہروں کے شہر ہوتے ہیں غرقاب دوستو
۔۔۔۔۔
شہروں میں ٹھاٹھیں مارتے دریا بڑے بڑے
کچھ ایسے دیس ہوتا ہے سیراب دوستو
۔۔۔۔
ہم ہیں کہ پھر بھی اس پہ کبھی سوچتے نہیں
ہر بار چور ہوتے کئی خواب دوستو
۔۔۔
بوڑھے ضعیف دیکھتے رہ جاتے ہیں مگر
بہہ جاتے سب جہیز کے اسباب دوستو
۔۔۔۔
شامل ہے اپنی بے حسی بھی درجہ ء اتم
دشمن کی چال بھی ہے یہ گرداب دوستو
۔۔۔۔
حیرت کی اس میں بات تو عاصم کوئی نہیں
ہر سال کھلتا رہتا ہے یہ باب دوستو
۔۔۔
اس وقت موت کاہے جو ساماں بناہوا
حالاں کہ زندگی یہی آب دوستو
۔۔۔۔۔
کہیں کہیں بخاری صاحب کا شعری لہجہ سخت بھی دکھائی دیتا ہے۔ان کے نزدیک ہماری بے حسی اور غفلت و بے عملی اور غیر سنجیدہ رویہ بھی اس بربادی کے اسباب میں شامل ہے۔فطرت کے قوانین کے تناظر میں شعر دیکھیے۔
یہ مکافات تو نہیں اس کی
ہم نے ضائع کیا تھا پانی کو
۔۔۔۔
اک اور شعر کا مزاج بھی اسی موڈ کی غمازی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہ سیلابی پانی کے زور شور سے شاید یہ آواز آ رہی ہے کہ
شعر
۔۔۔۔
بنائے کیوں نہیں ہیں ڈیم تم نے
سزا سیلاب شاید دے رہا ہے
۔۔۔
آخر میں دیس کے مستقبل میں پانی کے مسئلے کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق فکر مندی کا اظہار اہل وطن کو جگاتے اور جھنجھوڑتے ہوئے یوں کرتے ہیں
قطعہ
دیر مت کیجیے بخاری جی
اس سے پہلے کہ ہم ہوں ارمانی
آنے والوں کے واسطے عاصم
آؤ محفوظ کر لیں کچھ پانی
المختصر عاصم بخاری اہک پختہ کار قادر الکلام اور بالغ النظر شاعر و ادیب ہیں۔جن کے اپنمعاشرہ اور معاشرتی مسائل و وسائل ہر گہری نظر ہے ۔ایسے درد مند اور فکر مند قلم کار ہی قوم و ملت کا سرمایہ ہیں۔
عاصم بخاری کا ایک اختتامی شعر
ڈھونڈ رہا ، ڈیم بخاری
در در یہ ، بے چارا پانی
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |