• تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا

    تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا

    تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا


    تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قائم

    قَالَ رَسُولَ اللہ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِین لَا نَبِیَّ بَعدی
    ( ترجمہ )
    رسول اللہ نے فرمایا
    میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم آخری نبی ہیں جن کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور قیامت تک آپ کی نبوت قائم رہے گی ہماری اذاں سے لے کر نماز تک میں اس بات کی شہادت ہے کہ آپ صلى الله عليه واله وسلم ہی آخری نبی ہیں ہم اذان میں جب حضور کی شہادت دیتے ہیں تو یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ


    میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم اللہ پاک کے رسول ہیں اگر بات یوں ہوتی کہ رسول تھے تو لوگ ہرزہ سرائی کرنے کی گنجائش نکال لیتے لیکن اس پر بھی قرآن اور حدیث نے مہر لگا دی ہے کیونکہ قرآن بھی آپ کو خاتم الانبیاء لکھتا ہے اور حدیث میں آپ خود فرماتے ہیں کہ
    میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
    جب بھی بات دفاعِ ختمِ نبوت کی کی جائے تو لوگ یوں محسوس کرتے ہیں کہ جیسے کوئی دہشت گرد تنظیم ہے جس کا مقصد جلاو گھیراو ہے اور حکومتی اداروں کو نقصان پہنچانا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں دفاعِ ختمِ نبوت ایک امن کا درست راستہ اور سچا عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان کاربند ہے مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر بزمِ کھٹڑ میں دفاع ختم نبوت پر ایک طرح مصرع
    ”مسلماں جس پہ حاضر ہے وہ در ختمِ نبوت کا“
    دیا گیا جس پر پاکستان کے ساتھ کشمیر اور انڈیا کے شعرا نے بھی ختمِ نبوت پر اشعار کہے کہیں کسی شعر میں یہ نہیں لگا کہ ہم کسی روڈ کو بند کروانے جا رہے ہیں یا آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں کیونکہ ہمارا کام تو سیرتِ رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم سے روشنی کشید کر کے محبتوں کو فروغ دینا ہے نہ کہ دہشت گردی اور حکومتی کاروائیوں میں دخل اندازی کرنا
    سوشل میڈیا کے اس مشاعرے میں مہمان کے طور پر سید صابر حسین شاہ بخاری شریک تھے جن کی ختمِ نبوت کے لیے گرانقدر خدمات ہیں
    قادیانی پوری دنیا میں اور خصوصاً ہمارے ملک میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کر رہے ہیں آنے والے وقت میں ان کی جڑیں مزید پھیل جائیں گی کیوں کہ یہود و نصارٰی ان کی بھرپور پشت پناہی کر رہے ہیں
    مسلمان ہوتے ہوئے ہمیں ختمِ نبوت کا دفاع کرنا چاہیے اور آنحضور صلى الله عليه واله وسلم کی کوئی شخص گستاخی کرے ہمیں برداشت نہیں کرنی چاہیے ہمیں اپنے بچوں کو ختمِ نبوت کے لیے ہر وقت تیار رکھنا چاہیے تا کہ وہ قادیانیوں کے پراپیگنڈے میں نہ آ جائیں کیوں کہ یہ ہمارے صبر کی آخری حد ہے سرکار کی عزت پر ہم ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہو جائیں تو بھی سرکار کی ختمِ نبوت کا حق ادا نہیں ہو سکتے

    بزم کھٹڑ کے اس طرحی مصرع مشاعرے کے اختتام پر شعرا کو برقی اسناد سے بھی نوازا گیا ان کے کلام تزئین کیے گئے اور ان کو برقی شیڈ بھی عطا کی گئی
    جن شعرا نے اس مشاعرے میں کلام لکھے ان میں سے ایک ایک شعر قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے:۔

    تُو جا دہلیز پر اُس کی ، کرے گا تُجھ کو
    پاکیزہ
    کہ خود طیب ہے طاہر ہے وہ در ختمِ نبوّت
    کا
    حافظ محمد عبدالجلیل جنڈ

    مجھے قرآن کی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے
    جہاں کوثر کا ساغر ہے وہ در ختمِ نبوت کا

    سید حبدار قاٸم آف غریب وال

    جہاں آ کر گداگر بھی بنے دنیا کے ہیں سلطاں
    زمانے بھر میں نادر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    انعام الحق معصوم صابری ملتان

    نہیں دنیا میں کوئی بھی جسے میں حال کہہ دیتا
    جو حاضر اور ناظر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    صدا کشمیری سرینگر انڈیا

    کبھی تو غور یہ کر لیں کبھی تو راز یہ جانیں
    یہ دنیا جس کی خاطر ہے وہ در ختم نبوت کا
    یاسمین کنول پسرور

    نہیں روئے زمیں پر در کوئی بھی ان کے در جیسا
    جو ظاہر ہے جو برتر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    الحاج نذیر شؔاکر

    ہویدہ ہے مدینے کی فضا خوشبو سے احمدٌ کی
    جہاں کوچہ بھی عاطر ، ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    ساحرہ نقوی

    جہاں بھر میں ضیاء پھیلی ہدایت کی اسی در سے
    کہ ہر شے میں جو ظاہر ہے وہ در ختم نبوت کا
    سید مختارگیلانی قادری
    ایراڑہ شریف، باغ آذاد کشمیر

    خدا نے سب خزانے بھی رکھے دہلیزِ آقا پر
    سخاوت پر جو قادر ہے وہ در ختم نبوت کا
    مظہر علی کھٹڑ مہورہ فتح جنگ

    بھلا کیا خوف ہو دل میں مصائب کے تلاطم کا
    مرا جب حامی ، ناصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا

    ممتاز قادری نانپوری (انڈیا)

    محمد ﷺکا پسینہ مشک و عنبر سے بھی ہے بڑھ کر
    تبھی در جس کا عاطر،ہے وہ در ختم نبوت کا
    آ نسہ مظہر ۔پنڈی گھیب

    کہاں ممکن ہے ان کی شان لفظوں میں بیاں کرنا
    قلم لکھنے سے قاصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    عباس انشال سرگودھا

    خدا جو حکم دیتا ہے ، ہمیں اس کی خبر ہی کیا ؟
    جہاں سے ہوتا صادر ہے ، وہ در ختمِ نبوت کا
    خورشید عالم خورشید

    ملے خیرات کلیوں کو، گلابوں اور پھولوں کو
    پسینہ جن کا عاطِر ہے، وہ در ختمِ نبوت کا ﷺ
    محمد شبیر شاؔہد مہروی رحمت آباد راجن پور پنجاب

    وہ طاہر ہے مطاہر ہے قراں میں بھی گواہی ہے
    زبانِ وصف قاصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    حیدر عباس رضا سعودی عرب

    مری کیا بات ہے لوگو میں اک ادنی گدا ہوں بس
    جہاں جھکتا سکندر ہے وہ در ختمِِ نبوت کا
    منظور نونہ مئ کولگام کشمیر

    رکھے گا لاج وہ سب کی ، چلو سارے خطا کارو
    بھرم رکھنے کا ماہر ہے ، وہ در ختمِ نَبُوَّت کا
    علامہ اَلِماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    دیارِ شاہِ والا ﷺ کی حقیقت بس خدا جانے
    بتاؤں کیا میں آخر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    محمد حسان اعظمی
    شہر۔ اعظم گڑھ یو پی انڈیا عارضی رہائش ۔ لکھنؤ

    سوشل میڈیا پر منعقد ہونے والے اس مشاعرہ میں تمام شعرا کی محبتِ رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم دیدنی تھی کئی اشعار توارد کا شکار ہوئے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہر کسی نے اپنی سوچ فکر اور بلاغت نظری سے کام کر کے اللہ و رسول کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے الفاظ کو قبول فرمائے اور ہماری توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔آمین

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ نگار:۔ نیاز خان اعوان


    کتابی سلسلہ (1)
    خصوصی اشاعت نعت نمبر
    فتح جنگ (اٹک)
    سید حبدار قائم صاحب کی وساطت سے ادبی مجلہ میرے لفظ ( جنوری تا جون 2024 ء ) دیکھنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
    نہایت ہی خوشی کی بات ہے ، کہ اٹک کے مختلف مقامات سے روز بروز شعری مجموعے ، ادبی مجلے اور دوسری تصنیفات منظرِ عام پر آرہی ہیں اور شعرا و ادبا اپنا ، اٹک اور اپنے وطن کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میرے لفظ کی پوری ٹیم بھی داد ، حوصلہ افزائی اور مبارک باد کی مستحق ہے ۔
    ادبی مجلے میں ارشاد علی ، داؤد تابش ، پروفیسر ریاض احمد قادری ، سید حبدار قائم ، نسیم سحر ، پروفیسر عاصم بخآری ، شمائلہ منیب شمائل ، آنسہ مظہر ، ریاض احمد قادری ، ڈاکٹر خاور چودھری ، سمیعہ ناز ، مقصود علی شاہ اور ڈاکٹر سید عطاءالمصظفٰٰی کے مضامین پڑھے ، جن سے کافی معلومات حاصل ہوئیں ۔ میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان کے مضامین میں مزید نکھار لائے ، تاکہ قارئین کے علم میں اضافے کا باعث بنے اور ان سب لکھاریوں کو دنیاوی اور اخروی کامرانیاں نصیب فرمائے ۔
    نعتیہ مشاعروں اور نعتیہ مجموعوں سے شعرا کو نعت کہنے کی تحریک ملتی ہے اور نعت گوئی کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔

    تبصرہ :۔ میرے لفظ


    مضامین کے علاؤہ چھیالیس نعت گو شعرا کی نعتیں پڑھنے کا موقع ملا ، جن سے ان نعت گوؤں کی رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت ، عقیدت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔
    اللّٰہ تعالٰی ان نعت گو شعرا کی کاوشوں اور رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کو منظور و قبول فرمائے اور انھیں جزائے خیر دے ۔
    ان نعت گو شعرا کی نعتوں میں سے نعتیہ اشعار کے نمونے ملاحظہ فرمائیں :
    ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد
    تیری توصیف رہے میرے لبوں پر ضّو ریز
    اک اجالا سا مرے شام و سحر میں آجاتے
    اکرم کنجاہی
    ایسا کرم ہوا ہے یہ مجھ پر تمام رات
    لب پر رہی ہے نعتِ پیمبر تمام رات
    داؤد تابش
    حشر میں پھر تیرے عصیاں کا ازالہ ہوگا
    آج نسبت جو اگر ذاتِ پیمبر سے ہوئی
    شمشیر حیدر
    وہ جن کے نام پہ مرنے کے دعوٰی دار ہیں ہم
    جب ان کی مرضی کا جینا نہیں تو کچھ بھی نہیں
    جنید نسیم سیٹھی
    تیری امت پہ عجب وقت ہے اے میرِ امم !
    بےحسی فکر سے کردار تک آپہنچی ہے
    نصرت یاب
    ہے اعلٰی وارفع معظم تصور
    حبیبِ خدا کا مکرم تصور
    یاسر رشید یاسر
    آپ کی نعت ہوئی جب سے لبوں کی زینت
    ہوگیا میں بھی ہم آوازِ وجودِ ہستی
    صدام فدا
    گلاب عشقِ نبی کا کھلا ہے جو دل میں
    فدا اسی سے تو مہکا ہے عطر دانِ حیات
    محمد آصف قادری
    وجہِ وجودِ شمس و قمر آپ ص ہی تو ہیں
    حسنِ جہانِ باغ و ثمر آپ ص ہی تو ہیں
    غلام صمدانی عافی قادری
    ہمیں تو پیارے ہیں فضل خدا سے یہ دونوں
    اے منکروں جہاں مکہ ہے یا مدینہ ہے
    حافظ عبد الغفار واجد
    معافی دس گناہوں کی فقط اک بار پڑھنے سے
    ملیں پھر نیکیاں بھی دس درود ان پر سلام ان پر
    رفیق لودھی
    مری زبان نہیں تیرے ذکر کے قابل
    کہاں حضور کی باتیں کہاں ہے میرا شمار
    سید عطاءالمصظفٰٰی
    بجز نعت کیسے میں سب کو عطا
    سناتا دکھاتا کلیجے کی ٹھنڈ
    عرش ہاشمی
    مدحت حضورص آپ کی لب کھولیں تو کیسے
    کیا اپنا تخیل ہےتو کیا اپنے تصور
    سید تنویر احمد شاہ
    مجھ سے عاصی کے لیے یہ عزت و اعزاز ہے
    جب دعاؤں کی مدینے میں پزیرائی ہوئی
    ڈاکٹر نزرِِ عابد
    صحابہ رض نے تری تعلیم اور حسنِ عمل سے
    بہ ہر صورت سجائے ہیں ترے محراب و منبر
    ڈاکٹر جمیل حیات
    جس طرف جائیے جہاں جائے پزیرائی ہو
    جس کی احمد کے گھرانے سے شناسائی ہو
    سمیعہ ناز
    ان کے پیکر کی جو توصیف بیاں کی میں نے
    ہر کسی کو مرے افکار سے خوشبو آئی
    گوہر رحمٰن گہر مردانوی
    تعریفِ مصطفٰی میں بھی الفاظ کم پڑیں
    اس کم سخن کو کلمہء مہمل پہ دسترس
    عابد علی عابد
    خیال یہ بھی نہ آیا یزیدی لشکر کو
    کہ کاروان میں ننھی سکینہ ع شامل ہے
    عنایت علی عنایت
    جس نے سمجھا طریقِ احمد کو
    پاگیا زندگی کے مقصد کو
    سعادت حسن آس
    مانتے ہیں آپ سا آیا نہ آئے گا نبی
    برملا مہرِ نبوت ہے نشانی آپ کی
    انعام الحق معصوم صابری
    جس کی سنت کی آگہی ہوگی
    اس کی روشن یہ زندگی ہوگی
    الحاج منیر احمد
    نبی سے ملنا اگر ہوگا تم کو کوثر ہے
    خدا سے وعدوں کی بس پیروی ضروری ہے
    سید خورشید نواز لائق بخآری
    جو ضامن ہیں ہماری بخشش و رشد و ہدایت کے
    ہم ان کی پاک سیرت پر درودِ پاک پڑھتے ہیں
    علامہ الماس عباسی
    ہو غیر یا عزیز کرو بات تم لزیز
    ایسے تھے پارسا ص کے خیالات بے مثال
    لیاقت بھٹہ جتوئی
    زمانے بھر کا وہ محور مدینہ یاد آتا ہے
    نہیں جس کا کوئی ہمسر مدینہ یاد آتا ہے
    حافظ محبوب احمد


    محشر کی بھی گرمی مجھے جھلسا نہ سکے گی
    گر رحمتِ سرکار کا سایہ ہو میسر
    شبیر حسین شبیر
    بات سج آج بھی جن کی دیکھی گئی
    ایسا ہے وہ مدبر ہمارا نبی
    زاہد حسین
    نعتِ۔ رسولِ پاک ہے تسکینِ قلب و جاں
    لطف و سرور خاص اسی شاعری میں ہے
    سید مختار گیلانی قادری
    مدینے میں جاکر میں مر جاؤں واللہ
    میں واپس نہ آؤں یہ دل کہہ رہا ہے
    امجد حمید محسن
    لب پہ ہو ان کی نعت اے محسن
    اور برسائیں پھر گہر آنکھیں
    پروفیسر سید رضا گیلانی
    معراج کا تو واقعہ سب جانتے ہی ہیں ٹ
    جنت کی سیر رب نے کرائی ہے کس طرح
    ذوالفقار ہمدم اعوان
    بلایا ہے معراج پر دیکھنے کو
    خدا کے ہیں پیارے صنم کملی والے ص
    پروفیسر عاصم بخآری میانوالی
    سولی پہ چڑھنا پڑتا ہے ہر لمحہ دم بہ دم
    مرنے کے مرحلے سے بھی دشوار نعت ہے
    عبد الغنی مبارکپوری
    فرمانِ مصطفٰی کا جو منکر ہے دھر میں
    وہ ہی یہاں بھی خار وہاں بھی ذلیل ہے
    شفیق رائے پوری انڈیا
    لکھ رہا ہے اور لکھتا ہی رہے گا عمر بھر
    آپ کی تعریف میں خامہ امام الانبیاء
    حمزہ ارشد
    التجا ہے کہ محشر کے دن ساتھ ہوں
    جن کے صدقے یہ ارض و سما نور ہے
    استاد انور بھٹی
    نبی کا ذکر ہی بعد از خدا ہر دم کریں تازہ
    دعا ہے کہ کرے اللّٰہ پھر ایسی زباں پیدا
    محمد احمد زاہد
    جس گھڑی ذکر کرلیا ان کا
    ختم سب اضطراب دیکھا ہے
    حافظ محمد سعادت علی سعادت قادری
    ہو جاتی ہے ناموس ِ رسالت پہ جو قرباں
    ممکن ہی نہیں جان وہ آزار میں آوے
    مظہر علی کھثٹڑ مہورہ
    رحمت ہے برستی جو دن رات مدینے میں
    دیکھی ہے وہ خوشبو کی برسات مدینے میں
    جنید آصف


    ہر لمحہ بسا رکھتا ہوں میں قلب و نظر میں
    ہر کیف ترے در کی فضا شاہِ مدینہ ص
    عزیر حاشر
    شکر صد شکر مجھے نعت عطا ہوتی ہے
    عشقِ احمد میں ہنر اور نکھر جاتا ہے

  • فاکہہ قمر کا افسانہ “آخر کیوں؟”

    فاکہہ قمر کا افسانہ "آخر کیوں؟”

    فاکہہ قمر کا افسانہ "آخر کیوں؟” کا فنی و فکری جائزہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    فاکہہ قمر کا افسانہ "آخر کیوں؟” بہترین معاشرتی افسانہ ہے جس میں معاشرتی اصولوں اور اندرونی کمتری کے خلاف عورت کی جدوجہد کی ایک پُرجوش کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ فری کی داستان اور فرہاد کے ساتھ اس کے جابرانہ تعلقات کے ذریعے، فاکہہ قمر خود قدر، خواہش اور صنفی حرکیات کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ افسانہ خواتین کو درپیش معاشرتی دباؤ اور ان کی اکثر نظر انداز کی جانے والی صلاحیتوں پر ایک اہم تنقیدی تبصرہ ہے۔
    افسانہ "آخر کیوں؟” میں مصنفہ شک سے خود شناسی تک عورت کے سفر کا تہہ دار تجزیہ پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ فری، مرکزی کردار، بہت سی خواتین کی جدوجہد کو سامنے لاتی ہے جو اپنے عزیزوں کی طرف سے مسلسل کمزور ہونے کی وجہ سے خود اعتمادی کے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں۔ کہانی فری کی نفسیات پر بچپن کی عدم تحفظ اور سماجی توقعات کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔ فرہاد کا حقیر اور حقارت آمیز رویہ فری کی حتمی بات اور اس کے عزائم کے دعوے کے لیے ایک عبرت کا کام کرتا ہے۔

    فاکہہ قمر کا افسانہ “آخر کیوں؟”


    کہانی کا بیانیہ لکیری ہے، بنیادی طور پر مصنفہ نے فری کے اندرونی تنازعات اور ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کہانی میں اہم موڑ تب آتا ہے جب فری کو ایک ریڈیو اسٹیشن سے نوکری کی پیشکش موصول ہوتی ہے—ایک خواب جسے اس نے بچپن سے اپنے دل میں پالا تھا۔ اس موقع پر فرہاد کا منفی ردعمل نہ صرف فری کی امنگوں بلکہ اس کے احساسِ نفس کے لیے، ایک مخالف کے طور پر اس کے کردار کو واضح کرتا ہے۔ انتہا اس وقت پہنچ جاتی ہے جب فری، اپنی حالت پر غور کرتے ہوئے، اپنے خوابوں کو اپنے جابرانہ رشتے پر ترجیح دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔
    تنقیدی تناظر کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فاکہہ قمر کا افسانہ پدرانہ ذہنیت کا تنقیدی جائزہ پر مبنی کہانی ہے جو خواتین کی خواہشات کو کم اہمیت دیتی ہے۔ فرہاد ایک سماجی آرکیٹائپ کی نمائندگی کرتا ہے جو خواتین کو فطری طور پر کم صلاحیت کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے تضحیک آمیز تبصرے صرف ذاتی حملے نہیں ہیں بلکہ خواتین کی آزادی اور کامیابی کے لیے ایک وسیع تر ثقافتی نفرت کی بازگشت کے طور پر سنائی دیتی ہیں۔ یہ افسانہ ان معاشرتی ڈھانچے کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے جو صنفی عدم مساوات اور جذباتی ہیرا پھیری کو برقرار رکھتے ہیں۔
    کہانی میں مصنفہ خواتین سے متوقع جذباتی مشقت پر بھی تنقید کرتی ہیں۔ فرہاد کے طعنوں کے سامنے فری کی خاموشی ان بوجھوں کو نمایاں کرتی ہے جو اکثر خواتین اپنے رشتوں میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے اٹھاتی ہیں۔ فاکہہ قمر کا بیانیہ واضح طور پر ان حرکیات کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کرتا ہے، جو خواتین کی صلاحیتوں اور خوابوں کو جائز اور قابل تعاقب کے طور پر تسلیم کرنے کی وکالت کرتا ہے۔
    اسلوبی خوبصورتی کے لحاظ سے جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فاکہہ قمر ایک سیدھی سادھی لیکن فکر فکر نثر تخلیق کرتی ہیں۔ اس کی زبان قابل رسائی ہے، جو افسانہ کو وسیع قارئین کے لیے قابلِ رشک بناتی ہے۔ مکالمے تیز ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کا غم و غصہ بھی ظاہر کرنے والے ہیں، جو فری اور فرہاد کے درمیان کشیدگی کو مؤثر طریقے سے گرفت میں لے رہے ہیں۔ بیانیہ کی آواز ہمدردی پر مبنی ہے اور مصنفہ قارئین کو فری کی اندرونی دنیا اور اس کے جذباتی ہنگاموں کی طرف کھینچتی ہے۔
    افسانہ کے آخر میں بیاناتی سوالات کا استعمال – "آخر کیوں؟”—ایک طاقتور اسٹائلسٹک ڈیوائس کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ مایوسی اور حل نہ ہونے والے سوالات کو سمیٹتا ہے جو بہت سی خواتین کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ تکرار نہ صرف افسانہ کے موضوعاتی خدشات پر زور دیتی ہے بلکہ قاری پر دیرپا اثر بھی چھوڑتی ہے، جس سے بیانیہ میں بیان کیے گئے نظامی مسائل پر غور و فکر کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
    فکری طور پر فاکہہ قمر اپنے افسانہ "آخر کیوں؟” میں روایتی صنفی کرداروں کو چیلنج کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اور خواتین کی خودمختاری کی وکالت کرتی ہیں۔ اپنی کہانی کے ذریعے مصنفہ حقوق نسواں کی گفتگو میں مشغول نظر آرہی ہیں۔ اس افسانے کو اس بڑی تحریک نسواں کے مائیکرو کاسم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو پدرانہ ڈھانچے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ فرہاد کی مخالفت کے باوجود فری کا اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا فیصلہ روایتی توقعات سے ہٹ کر انفرادی لوگوں کے دعوؤں کی علامت ہے۔
    فاکہہ قمر اپنے افسانہ "آخر کیوں؟” میں شک اور اعتماد کے نفسیاتی پہلوؤں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ بیانیہ خود اعتمادی کی اہمیت اور اندرونی منفی سوچ کی تباہ کن طاقت کو واضح کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے لیے حقیقی آزادی صرف بیرونی توثیق سے ہی نہیں بلکہ خود ادراک میں داخلی تبدیلی سے حاصل ہوتی ہے۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ فاکہہ قمر کا افسانہ "آخر کیوں؟” خود کو بااختیار بنانے کی طرف عورت کے سفر کا ایک بہترین معاشرتی کہانی ہے۔ صنفی حرکیات اور اس کے اسلوبیاتی نفاست کی تنقیدی جانچ کے ذریعے مصنفہ نے اپنے افسانہ "آخر کیوں؟” میں ایک زبردست بیانیہ پیش کیا ہے جو حقوق نسواں پر لکھا جانے والا بہترین افسانہ ہے۔ اس افسانے کے ذریعے مصنفہ خواتین کے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچاننے اور پروان چڑھانے کا مطالبہ کرتی ہیں اور معاشرے پر زور دیتی ہیں کہ وہ اپنے آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کریں کہ خواتین کو اب بھی کیوں پیچھے رکھا جاتا ہے اور اس رواج کو تبدیل کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟۔ میں مصنفہ کو اتنی اچھی کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    Dubai Naama

دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai


    کویت سنہ 1994ء میں کسی ملک پہلی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ تب طالب علمی کے زمانے میں حب الوطنی کے بارے بہت کچھ پڑھ اور سن رکھا تھا۔ شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریت اور مٹی کے صحرا میں واقع 3 گھنٹوں کی مسافت اور 2 شہروں پر مشتمل کویت کو دیکھ کر کھلا ڈلا مادر وطن "پاکستان” بہت زیادہ یاد آیا تھا۔ بیرون ملک یہ میرا پہلا سفر تو تھا ہی مگر آپ حیران ہونگے کہ میرا دوسرا غیرملکی سفر بھی کویت ہی کا تھا جب سنہ 1997ء میں صحافی کے طور پر مجھے دوبارہ کویت جانے کا موقعہ ملا۔ پہلی بار بھی وہاں حکومت کویت کی دعوت پر گیا تھا اور دوسری بار بھی کویت کی اطلاعات و نشریات کی "وزارتہ الاعلام” نے بلایا۔ اس وقت ایک عربی زبان جاننے والے دوست نے میرے کویت کے ویزہ پر لفظ "مجانہ” لکھا دیکھا تو مشورہ دیا کہ میں متحدہ عرب امارات کا ویزہ بھی لگوا لوں۔ چونکہ میرے پاس کویت کا سرکاری ویزہ تھا میں اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ گیا تو میرا امارات کا ویزہ بھی لگ گیا۔ لیکن تب بھی "دبئی” Dubai اتنا مشہور تھا کہ متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ کو لوگ "متحدہ عرب امارات ایمبیسی” کی بجائے "دبئی ایمبیسی” کہتے تھے۔


    میں دوسری دفعہ کویت گیا تو حکومت کویت کی وزارت اطلاعات کا عملہ مجھے ائیر پورٹ پر رسیو کرنے کے لیئے موجود تھا۔ میں نے جنوری، سنہ 1991ء میں کویت کی آزادی کے حق میں کچھ کتابچے اور  اخبارات میں مضامین لکھے تھے۔ یہ ریکارڈ کویت ایمبیسی میں موجود تھا۔  جب 28فروری سنہ 1991ء میں کویت عراق کے قبضے سے آزاد ہوا تو کویت کی حکومت نے مجھے خصوصی طور پر کویت جانے کی دعوت دی مگر بوجوہ میں پہلی اور دوسری بار بلترتیب 1994 اور 1997 میں کویت جا سکا۔ جب میں دوسری بار کویت گیا تو کویتی حکام مجھے کویت کا دوسرا شہر دکھانے کے لیئے "فاہیل” بھی لے کر گئے۔ کویت کے میرے اس دورے کے بنیادی مقصد میں کویت کی تاریخ اور تعمیر نو کے بارے میں کچھ مزید مضامین لکھنا شامل تھے۔ لیکن کویت کے اس دس روزہ دورے کے دوران بھی دبئی Dubai کے بارے بہت ساری معلومات پڑھنے اور سننے کو ملیں۔ جب میں کویت سے واپسی پر دبئی ائیر پورٹ پر اترا تو دبئی ائیرپورٹ کو دیکھ کر تجسس دوبالا ہو گیا۔ اس وقت تک میرے سمیت دیگر پاکستانیوں کی اکثریت صرف  دبئی کو جانتی تھی۔ پاکستانی عوام شارجہ کا نام بھی محض شارجہ میں ہونے والے کرکٹ میچوں کی وجہ سے سنتے اور یاد رکھتے تھے جن میں زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہوتا تھا کہ دبئی ایک ملک ہے اور شارجہ اس کا کوئی شہر ہے۔
    میں جنوری اور مارچ سنہ 1997ء میں دبئی Dubai مزید دو بار وزٹ پر آیا، میں جولائی سنہ 1998ء میں پاکستان سے انگلینڈ چلا گیا، مگر اس شہر کی چھاپ دل و دماغ میں ایسی بیٹھی کہ میں جب 9سال بعد سنہ 2007ء میں پاکستان آیا تو جون 2008ء میں ایک بار پھر دبئی آ گیا اور پھر یہ شہر دل کو ایسا بھایا کہ یہاں پکے پکے ڈیرے جما لیئے۔  1997 میں  عجمان سے دبئی آتے ہوئے رستے میں ریت کے ٹیلوں اور "ملا پلازہ” کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جب دوسری ریاستوں سے ٹریفک دبئی آتی تھی تو تیز ہوا کے طوفان سے سڑکیں ریت سے بھر جایا کرتی تھیں۔ شیخ زید روڈ پر "کراو’ن پلازہ” اور چند دیگر عمارتیں نظر آتی تھیں۔ تب "برج العرب” تکمیل کے مراحل میں تھا جس کا افتتاح دسمبر 1999ء میں ہوا۔ اٹلانٹس ہوٹل،  جمیرا کے ویلاز اور جے بی آر وغیرہ کی تعمیرات بھی جاری تھیں۔ برج خلیفہ جس کا پہلے "برج دبئی” نام تھا بھی 2004 میں شروع ہو کر 2010 میں مکمل ہوا۔ اسی دوران  دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال یعنی "دبئی مال” جس کا پہلا نام "دی دبئی مال” تھا کی اوپننگ بھی 4نومبر 2008 کو ہوئی جس کی مزید توسیع کی چند روز قبل منظوری دی گئی ہے۔
    گو کہ دبئی مال دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ہے مگر اب یہ مزید پھیلنے کیلئے تیار ہے۔ دبئی مال کی توسیع کے منصوبے پر 40 کروڑ ڈالرز سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔ میں نے دبئی Dubai کے وزٹس اور 2008 کے بعد اس کی مسلسل ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہاں نئی عمارات، سڑکوں کا نظام  اور انفراسٹرکچر ایسا ہے کہ ہر نیا آنے والا مسافر دبئی Dubai کی ترقی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے 1997 کے وزٹ کے دوران ایک جرمن جوڑے سے پوچھا تھا کہ جرمنی اور دبئی میں کیا فرق ہے تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ دبئی میں جرمنی سے زیادہ خوبصورت عمارتیں ہیں، یہاں کی سڑکیں اچھی ہیں اور مہنگی کاریں زیادہ ہیں۔ حالانکہ جدید ترقی کے لحاظ سے جرمنی انگلینڈ سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ میں انگلینڈ میں 9 سال رہا ہوں مجھے سہولیات، امن و امان اور بہت سے دیگر مواقع کی وجہ سے لندن کے مقابلے میں دبئی زیادہ پسند ہے۔ میرے خیال میں کم ترین وقت میں دبئی دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی ریاستوں اور شہروں میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس وقت بھی دبئی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ شائد دبئی کو تعمیراتی شعبے میں ریکارڈز بنانا بہت زیادہ پسند ہے۔
    دبئی Dubai دنیا کی بلند ترین عمارت کا گھر ہے اور  اسی شہر میں دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر بھی موجود ہے جو اب مزید پھیلنے جا رہا ہے!
    دبئی مال ایک کروڑ 20 لاکھ اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلا ہوا شاپنگ سینٹر ہے اور اب اس میں مزید 240 دکانوں اور ہوٹلوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس شاپنگ  سینٹر میں دنیا کا سب سے بڑا فش ایکوریم بھی موجود ہے جبکہ یہاں ڈیجیٹل آرٹ میوزیم بھی ہے، 15 کروڑ سال پرانا ڈائنا سور کا ڈھانچہ بھی ہے اور 26 اسکرینوں پر مشتمل ایک سنیما کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔
    دبئی Dubai کی نئی تعمیرات میں 58 میل طویل ائیر کنڈیشنڈ شاہراہ کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ دبئی میں سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ فروری 2023 میں اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی تھیں جس کے مطابق یہ شاہراہ اٹھاون میل طویل ہو گی جس کے اوپر ایک چھت موجود ہو گی اور اسے "دی لوپ” کا نام دیا جائے گا۔


    بنیادی طور پر یہ شاہراہ سائیکل چلانے یا پیدل گھومنے والوں کے لئے ہو گی جس کا ایک مقصد دبئی Dubai میں کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ پہنچ جانے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ شاہراہ دبئی Dubai کے گرد گھومے گی اور یہ گاڑیوں سے پاک سر سبز راہداری ہو گی تاکہ لوگ پیدل یا سائیکل پر شہر کی سیر کر سکیں!
    میں جب 80 کی دہائی میں پاکستان لاہور ایف سی کالج کا طالب علم تھا تو مجھے لاہور بہت پسند تھا۔ لاہور میں شالیمار باغ ہے، شاہی قلعہ اور شاہی مسجد ہے جس کے دامن میں مزار اقبال ہے، پنجاب یونیورسٹی ہے اور سب سے بڑھ کر وہاں تاریخی مقام "چوبرجی” اور "انار کلی بازار” ہیں۔ یہاں تک کہ لاہور میں جتنی رونقیں ہیں یا وہاں کے شہری جتنے مہمان نواز اور "جی دار” ہیں، لوگ بجا طور پر کہنے میں حق بجانب ہیں کہ "لہور لہور اے” مگر لاہوری بھی دبئی آتے ہیں تو اسے دیکھ کر لاہور کو لاہور کہنا بھول جاتے ہیں کہ دبئی Dubai واقعی دنیا بھر کا ایسا "عروس البلاد  شہر” (میٹروپولیٹن سٹی) بن چکا ہے کہ دبئی آنے والے سیاح دبئی کے ائیر پورٹ ٹرمینل3 پر اترتے ہی اس شہر کو دل دے بیٹھتے ہیں کہ لاہور میں اب پولیوشن کے سوا کچھ نہیں بچا۔
    دبئی Dubai میں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہیں جن میں ہر طرف صفائی ہے جو ماحول دوست ہیں تعمیر و پائیداری کا نمونہ ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کا رش  ہے مگر دھواں نہیں، یہاں جھیلیں ہیں، چھوٹی لگژری لانچیں ہیں، شاہراہوں کے کناروں کے ساتھ کیفے اور ریسٹورنٹس ہیں، کھجور اور پام کے درخت ہیں، آپ کھلے سمندر کے کنارے چلے جائیں تو مجال ہے کہ وہاں کوئی شاپر بیگ، کھانے کے ریپر، پلاسٹک کی بوتلیں یا کوئی دیگر کباڑ پھینک سکے۔ٹریفک جام نہیں ہوتی، فلائی اوور برجز ہیں، سڑکیں صرف اس مقام سے عبور کی جاتی ہیں جہاں زیبرا کراسنگ ہو، گاڑی پارک کرنے کی فیس ہے، لباس پہننے کی آزادی ہے لیکن اس پر اعتراض کرنے کا حق کسی فرد کو نہیں۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے  کہ دبئی ایک منظم زندگی کا شہر ہے۔ پاکستان کے بہت سے شہر دبئی سے زیادہ قدرتی وسائل کے مالک ہیں، پاکستان میں پانی کی کمی ہے لیکن پھر بھی وہاں پانی اس قدر وافر ہے کہ لوگ گلیوں میں بہاتے رہتے ہیں، جس سے جگہ جگہ جوہڑ بن جاتے ہیں اور مچھروں کی نرسریاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس سے ہماری "سوک سینس” کی سطح ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اپنے وسائل کو کس بے دردی سے لٹا رہے ہیں۔ دبئی میں ترقی کے عمل کا شاید ہی ہمارے فیصلہ سازوں اور ماہرین تعلیم نے کبھی تجزیہ کیا ہو، دبئی کی ریاست کے بارے زیادہ تر علم میڈیا کی کوریج سے ملتا ہے، خاص طور پر نیوز میگزین اور کاروباری رپورٹس سے، دنیا دبئی کی ترقی کو ایک ماڈل کے طور پر جانچ رہی ہے جو کہ ایسا کاروباری ماڈل ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود صرف دولت سے مزید دولت پیدا کرنے میں دبئی دنیا بھر کے شہروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ پوری دنیا کا پیسہ بلا رکاوٹ یہاں پہنچ رہا ہے۔
    گزشتہ 10 برسوں میں متحدہ عرب امارات کی تیل کے بغیر تجارت 16.14 کھرب درہم (4.4 کھرب امریکی ڈالر) تھی۔ متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی سنہ 2021ء میں 407 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2022ء میں 440 ارب ڈالر اور سنہ 2023ء میں 467 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی کس جی ڈی پی جو سال 2020ء میں 43,868 ڈالر تھی، بڑھ کر گزشتہ سال 48,822 ڈالر ہو گئی۔ تیل کی پیداوار جو کبھی دبئی Dubai کی مجموعی جی ڈی پی کا 50 فیصد تھی، آج ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتی ہے۔ سنہ 2018ء میں تھوک اور خوردہ تجارت کل جی ڈی پی کے 26 فیصد کی نمائندگی کرتی تھی۔ نقل و حمل اور لاجسٹکس 12 فیصد، بینکنگ، انشورنس اور کیپٹل مارکیٹ 10 فیصد، مینوفیکچرنگ 9فیصد، رئیل اسٹیٹ 7 فیصد، تعمیرات 6 اور سیاحت 5 فیصد تھی۔ تازہ ترین اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیاحت، مینو فیکچرنگ اور کیپٹل مارکیٹ میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔
    آج دبئی Dubai نے ہوٹلوں کی تعمیر اور رئیل اسٹیٹ کو ترقی دے کر اپنی معیشت کا محور سیاحت کو بنا لیا ہے۔ پورٹ جبل علی، جو 1970ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا، دنیا کی سب سے بڑی انسانی ساختہ بندرگاہ ہے۔ دبئی مارینہ کے علاوہ ڈیرہ مرینہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ واٹر فرنٹس، گرین سٹی اور سموک فری سٹی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کے درمیان بلٹ ٹرین کا منصوبہ زیر تکمیل ہے جو اڑھائی گھنٹے کی بجائے یہ فاصلہ صرف 30 منٹ میں طے کروائے گا۔ یہ ٹرین جاپانی ٹرینوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہو گی۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، آئی ٹی اور فنانس جیسی سروس انڈسٹریز کے مراکز بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ایمریٹس ایئرلائن کی بنیاد حکومت نے 1985ء میں رکھی تھی (جسے پی آئی نے پروموٹ کیا تھا)، یہ اب بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور دنیا کی آج بھی انتہائی منافع بخش اور نمبر ون آئیر لائن ہے جبکہ خود پی آئی اے بنک رپٹ ہو چکی ہے۔


    دبئی Dubai دنیا بھر کے کاروباری دفاتر کا مرکز ہے، یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے لئے سب سے بڑا کاروباری گیٹ وے ہے اور بزنس ہب ہے، دبئی انٹرنیٹ سٹی، اب دبئی میڈیا سٹی کے ساتھ دبئی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک کامرس اور میڈیا فری زون اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسا انکلیو ہے جس کے ممبران میں آئی ٹی فرمز جیسے ای ایم سی کارپوریشن، اوریکل کارپوریشن، مائیکروسافٹ، سیج سافٹ ویئر اور آئی بی ایم شامل ہیں۔ کئی میڈیا ہاوس جیسے ایم بی سی، سی این این، رائٹرز اور اے پی کے دفاتر یہاں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے میڈیا اداروں کے نمائندے یہاں موجود ہیں۔ دبئی نالج ولیج، دبئ فری زونز، دبئی انٹرنیٹ سٹی اور دبئی میڈیا سٹی بھی کام کر رہے ہیں، جو کلسٹرز کے مستقبل کے کارکنوں کو تربیت دینے کے لئے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دبئی آؤٹ سورسنگ زون ان کمپنیوں کے لئے ہے جو آؤٹ سورسنگ کی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ یہاں کمپنیاں دبئی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعات کے ساتھ اپنے دفاتر قائم کر سکتی ہیں۔
    مزید برآں دبئی Dubai میں سیاحت کے لیئے شاپنگ مالز، ڈزنی لینڈز، برج العرب کے ساتھ "وائلڈ وادی”، ڈو کروز، ڈیزرٹ سفاری دبئی مال کا "واٹر ڈانس”، شوٹنگ، اور دیگر بے شمار ایسی ٹورسٹ اٹریکشنز ہیں کہ دبئی Dubai میں دنیا بھر سے سیاح امڈ آتے ہیں جس سے سیاحت دبئی کے لیئے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی نقدی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لئے سیاحت دبئی حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیاحت کے شعبے نے سنہ 2017ء میں جی ڈی پی میں تقریباً 41 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، جو کہ جی ڈی پی کا 4.6 فیصد بنتا ہے اور یہ شعبہ تقریباً 570,000 ملازمتیں بھی فراہم کرتا ہے، جو کل روزگار کا 4.8 فیصد بنتا ہے۔سال 2007ء سے2017ء کے دوران جی ڈی پی میں اس شعبے کی شراکت میں 138 فیصد اضافہ ہوا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2016ء میں 83.6 ملین مسافروں کو خوش آمدید کہا اور اسی سال 14.9 ملین سیاح دوبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرے، جو کہ 2015ء سے 5% زیادہ تھا۔2023 اور 2024 میں سیاحوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
    پاکستانی فخر سے لاہور کے بارے کہتے تھے: "جئنے لہور نہئ ویکھیا او جمیا ای نہئ” اب دبئی Dubai کی اس بے مثال ترقی کو دیکھتے ہوئے دنیا دبئی کے بارے کہتی ہے کہ جس نے دبئی نہیں دیکھا اس نے دیکھا ہی کیا ہے؟  انڈیا اور پاکستان سے لوگ تیزی سے یہاں کاروبار قائم کر رہے ہیں اور پراپرٹیاں خرید رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انڈین اور پاکستانی دبئی میں زیادہ پراپرٹیوں کے مالکان کے طور پر بلترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ریکارڈ کیئے گئے۔ یہ ہمارے لیئے سبق آموز بات ہے کہ دبئی Dubai کتنا کاروباری دوست ماحول رکھتا ہے جس کے مقابلے میں پاکستان انوسٹمنٹ کے لحاظ سے کس قدر بدترین ملک ہے۔
    آج کی سائنسی ٹیکنالوجی اور کونیات کے دور میں دولت اور ذرائع سے زیادہ "آئیڈیاز” بکتے ہیں۔ دبئی Dubai ہر لحاظ سے ایک لبرل اور کمرشلایزڈ سٹیٹ ہے۔ آپ کے پاس کوئی اچھوتا خیال ہے، آپ محنت کرنا جانتے ہیں یا آپ میں کوئی بھی غیر معمولی صلاحیت ہے تو دبئی Dubai ایسا شہر اور ریاست ہے جہاں آپ کو آگے بڑھنے کا ضرور موقع ملتا ہے۔ مجھے دبئی میں رہتے ہوئے 15 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ میں مزدوروں اور ان پڑھوں کو اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ملینئیر بنتے دیکھا ہے۔۔۔ قانون شکنی کیئے یا کسی کو نقصان پہنچائے بغیر آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور جو چاہیں بیچ سکتے ہیں جو شرطیہ منافع کی ضمانت ہے۔ دبئی اپنی انہی لچک دار پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی کاروباری شخصیات کو اٹریکٹ کرتا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کچھ ممالک کے ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے مگر ان ممالک کے شہری ہیں کہ دبئی پہنچنے کے لیئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کر کے یہاں پہنچنے کے لیئے پریشان و بیتاب ہیں۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ دبئی دنیا کے ہر شہری کو وہ سہولیات اور پرامن رہنے کی وہ سہولیات فراہم کرتا ہے جو دُنیا کا دوسرا کوئی ملک یا شہر فراہم نہیں کرتا۔


    دبئی Dubai دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جہاں دوست اور دشمن ایک ساتھ امن و سکون سے رہ رہے ہیں۔ کہاوت کے مطابق، یہاں شیر اور بکری قانون کی پابندی اور حکومت کے اس پر عمل کروانے کی وجہ سے ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ جہاں قانون کی بالادستی ہو وہاں نہ صرف ترقی ہوتی ہے بلکہ وہاں دنیا کے تمام ممالک سے لوگ امان پانے کے لیئے کھچے چلے آتے ہیں۔  
    Title Image by Pexels from Pixabay

  • صریر خامہ

    صریر خامہ

    صریر خامہ

    تحریر ۔فائزہ بشارت 

    سابقہ طالبہ ڈھوک بڑھکی۔پنڈی گھیب

    وہ جنون کے اولین دن تھے ۔ نیلی روشنائی پپوٹوں سے ہوتی ذہن کو منور کرتی تھی ۔ کتب کے اوراق کی خوشبو نتھنوں میں گھسے جاتی تھی۔یہ ہماری تعلیم کے آغاز کے دن تھے ۔ ٹپکتے چھت والا ایک کمرہ ، دیواروں سے اکھڑتا مٹی کا لیپ ، حبس زدہ ماحول _ یہ ہمارا مکتب تھا جس میں میرے سمیت میرے کئی بچے زیر تعلیم تھے ۔ اسکول کی کوئی باقاعدہ عمارت نہ تھی سو ان کھنڈروں سے ہی ہمارے خوبیداہ خیالوں کی بیداری کا آغاز ہوا ۔ کبھی اگر سحاب آسمان کو لپیٹ میں لیتے تو ہماری استانی صاحبہ سوچنے لگ جاتیں تھیں کہ اگر باران رحمت کا نزول ہوا تو اس جابجا ٹپکتی چھت کا کیا درماں کروں گی ؟ کڑکتی گرم دوپہریں اور لو ، ہم اور ہمارے اساتذہ ایک چھپر میں گزارتے تھے ۔میرے ذہن میں اب تک میری استانی کے ماتھے سے ٹپکتے پسینے کے قطرے ویسے ہی تروتازہ ہیں گویا کل کی بات ہو ۔ اس عمارت کا ہمارے اساتذہ کرایہ دیا کرتے تھے جو کسی کو مفت میں بھی عنایت کی جائے تو کوئی ایک دن نہ گزارے ۔ تعلیمی سفر میں بہت سی ہجرتیں ہمارا مقدر تھیں ۔ کبھی ایک چھپر سے دوسرے میں تو کبھی دوسرے کھنڈر سے تیسرے میں ۔ ان ہجرتوں کا پس منظر گاوں کے باسیوں کا وہ لسانی تطاول ہوتا تھا جو ہمارے اساتذہ کا سہنا  پڑتا تھا ۔ لیکن 

    ♡یہ ہجوم زندگی ہے ، کنکریاں بھی آئیں گی 

    ہنس کے خون پی جانا ، ظرف کو بڑا رکھنا

    چار پانچ جگہ کی نقل مکانی کے بعد بالآخر گاوں کے ایک بزرگ نے اسکول کی عمارت کے لیے زمین عطیہ کی ۔ اسکول کی عمارت تو تعمیر ہوگئی مگر جنون کے اس دو آتشے سفر میں ابھی بہت سی سنگ باری ہونی تھی ۔ بہ ہمراہ اساتذہ جب ہم اپنے اسکول میں پہنچے تو مٹی کے اونچے ٹیکوں نے ہمارا استقبال کیا اور پانی کی قلت نے ہمارا ماتھا چوما ۔ نہ پینے کا پانی دستیاب تھا ، نہ سایہ دار درخت ، نہ دیواروں پہ بیل بوٹےاور نہ جھولے جو ہم سب نے اپنے تصوراتی اسکول میں سوچ رکھے تھے ۔ پھر ہمارے اساتذہ نے دوڑ دھوپ کی ۔ صنف نازک ہوتے ہوئے ہماری استانی نے سر پہ پگڑی باندھی ۔ معاشرے کے مغلوب کردار یعنی کے مرد کا روپ دھار کر عملی میدان میں نکلیں کیوں کہ ابھی ہمارے طفلانہ ذہن کو مزید درشتیوں سے ہم کنار کرنا باقی تھا ۔ وہ ہمارے جوتوں پہ پڑی دھول کو شفقت سے دیکھا کرتی تھیں ۔ جب ہم تفریح کے بعد ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے پانی مانگتے تو ان کی نظر پانی کی گرم بوتلوں میں ابلتے پانی سے آر پار ہو رہی ہوتی تھی۔  اس جدوجہد میں ہم سب ساتھ تھے ۔ وہ ہماری مسیحا تھیں اور ہم ان کے خضر ۔ جیسے تیسے کر کے سرکار  سے فنڈز کی رقم لی گئی ۔ صحن کو پختہ کرایا گیا۔ ہماری استانی نے اپنے ہاتھوں سے کیاریاں بنائیں پھر ان میں پودے لگائے ۔ صحن کو گملوں سے مزین کیا گیا ۔ ٹاٹ کی جگہ ہمارے بیٹھنے لیے کرسیاں اور بینچ لائے گئے ۔ دیواروں پہ خوبصوت نقش نفاری کی گئی ۔ جھولوں کا انتظام کیا گیا ۔ صاف پانی کا انتظام ہوا ۔زیادہ کام ہمارے اساتذہ نے خود کیا ۔ کچھ کاموں میں ہم اور سرکار کا فنڈ آٹے میں نمک برابر شامل تھے ۔اپنی اجرت سے زیادہ خرچ انہوں نے اسکول کے درودیوار پہ کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول دیکھنے والوں کو دم بخود کرنے کگا ۔ لیکن یہ کوئی آسان سفر نہ تھا ۔ یہ ایک دو دن کی محنت نہ تھی ۔ یہ سالوں پہ محیط ایک داستان ہے ۔ یہ مراحل ہیں ۔ بہت طویل مراحل ۔ 

    کتنی ہی دفعہ ہماری استانی نے خود کو خود تھپکی لگائی ہو گی ۔ کتنی ہی دفعہ انہوں نے اپنے کندھوں پہ خود سر رکھا ہو گا ۔ کتنی ہی ایسی خندقیں ہونگیں کہ آنکھ بند کر کےبس قدم دھر دیا ہو گا ۔ کئی ایسے مناظر ہونگے جو ان کے ذہن کے پردوں میں اب تک ابھرتے ہونگے ۔ کتنی ہی دفعہ ان کی آنکھیں چھلکی ہونگیں ۔ کتنے ہی ایسے لمحے ہونگے جب اپنی انگشت سے رخساروں کی جانب آتے قطرے صاف کیے ہونگے ۔ کئی دفعہ ہمت ٹوٹی ہوں گی تو ہمارے ننھے ہاتھوں سے بیس روپے فیس وصول کرتے ہوئے دوبارہ ہمت مجتمع کہ ہوگی ۔ قارئین کو شاید یہ لفاظی لگے لیکن 

    * بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے 

            ہم سنائیں تو کیا تماشہ ہو ؟

    ابھی ان اسکولوں کی نجکاری ہو رہی ہے ۔ یہ ایک اسکول کی کہانی نہیں ، کم و بیش بہت سے مکاتب اور اساتذہ کی آپ بیتی ہے ۔ حکومت کے ایوانوں میں تو بس درودیوار کا ٹھیکہ لگ رہا ہے لیکن اسمبلی میں براجمان بیوروکریٹس کو کیا معلوم کہ یہ عمارتیں نہیں داستانیں ہیں ۔ سیمنٹ اینٹ کی دیواریں نہیں ہمارے اساتذہ کی جوانیاں ہیں ۔ انہوں نے فقط اقتدار کی بدبودار ہولی کھیلی ہے مگر کچے صحن سے اڑتی گرد کا انہیں کیا ادراک ؟ ان کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ ہے مگرانہوں نے کسی صنف نازک کو الہ دین بنتےنہیں دیکھا ۔ ہم نے دیکھا ہے ہماری طفلانہ آنکھوں اور کچے حافظے میں سب محفوظ ہے ۔ 

    بجائے اس کے کہ ان مکاتب میں نئے اساتذہ تعینات کیے جاتے ، مزید مرمت کی جاتی ، بقا کے لیے فنڈز دیے جاتے ۔ ان کی بھی سستے داموں بولیاں لگائی جا رہی ہیں ۔ سونے پہ سہاگہ یہ بات ہے کہ "یہ نجکاری ملک کے بجٹ پہ پڑتے بوجھ کو کم کرے گی ” مگر  *من خوب می شناسم پیران پارسارا*

    ان چٹانوں سے ابھی پھوٹتے چشمے پیارے 

    تو نے دیکھے ہیں نہیں میرے کرشمے پیارے 

    یہ تو خود پہ ہے بیتی تو احساس ہوا 

    ویسے سن رکھے تھے تیرے رحم کے چرچے پیارے 

    کیسے میں نے اک جنوں کی ہولی میں اڑائے 

    وہ میری عمر سجیلی ، میرے لمحے پیارے 

    جیسے تو نے انہیں بازار میں نیلام کیا 

    اتنے ارزاں تو نہ تھے پیشانی کے قطرے پیارے !!

    Title Image by Designer

  • مصطفیٰ خان شیفتہ کی غزل کا تنقیدی مطالعہ

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی غزل کا تنقیدی مطالعہ

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی غزل کا تنقیدی مطالعہ

    رحمت عزیز خان چترالی٭

    نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کا شمار جہانگیر آباد دہلی کے جاگیردار، اور اردو فارسی کے ممتاز شعرا اور نقادوں میں ہوتا ہے۔ ان کی علمی خدمات میں الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کرانا شامل ہے۔ دہلی میں ان کے نام سے ایک بڑی لائبریری تھی، جو 1857ء کی بغاوت کے دوران باغیوں نے لوٹ کر نذر آتش کر دی۔ انگریزوں نے بغاوت کے شبے میں انہیں سات سال کی قید کی سزا سنائی، مگر نامور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش پر انہیں معافی مل گئی اور ان کی پنشن مقرر کی گئی۔

    نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کے خاندان میں ان کے بیٹے نواب اسحاق خان اور پوتے نواب محمد اسماعیل خان شامل تھے۔ نواب محمد اسماعیل خان 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے، کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ کر تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ انہوں نے یو پی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ بعد میں ان کے پوتے نواب محمد اسماعیل خان آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ سیاستدان بنے۔

    نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کی تصانیف "گلشنِ بے خار” اور "تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید” ان کی ادبی بصیرت اور شعری مہارت کا بہترین نمونہ ہیں۔آپ نے ایسی شاعری تخلیق کی ہے جو گہرے جذباتی اور فکری لہجے کے ساتھ قارئین میں مقبول ہیں۔ ان کی غزل کا یہ شعر”اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمہ سرا دیکھ” ان کی شاعرانہ ذہانت کا ثبوت ہے، جس میں خوبصورتی، مایوسی، فخر اور وجودی عکاسی کے موضوعات کو شامل کیا گیا ہیں۔ آج کا یہ کالم مصطفٰی خان شیفتہ کی غزل کی پیچیدہ تہوں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شاعری میں شامل ادبی آلات، موضوعاتی فراوانی اور ثقافتی اہمیت کے بارے میں ہے ۔ غزل کے ابتدائی شعر میں کہتے ہیں کہ

    اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمہ سرا دیکھ

    نور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھ

    شاعر غزل کا آغاز طلوع فجر کی ایک فکر انگیز تصویر کشی کے ساتھ کرتا ہے، جو قاری کو فطرت کی ہم آہنگی کا مشاہدہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ "مرغ چمن” یعنی باغ کا پرندہ کا استعاراتی مثال بیداری اور نئی شروعات کی علامت کے طور پر غزل میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ "نور سحر” یعنی صبح کی روشنی اور "حسن گل” یعنی پھول کی خوبصورتی جیسے استعارے قدرتی دنیا کی شان و شوکت اور خوبصورتی کو اجاگر کرتے ہیں۔ شیفتہ کا بصری اور سمعی منظر کشی کا استعمال قارئین کو ایک پر سکون لیکن متحرک منظر میں مدعو کرتا ہے اور صبح کی عارضی خوبصورتی کی تعریف کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ

    دو چار فرشتوں پہ بلا آئے گی نا حق

    اے غیرت ناہید نہ ہو نغمہ سرا دیکھ

    اس مصرعے میں شاعر ایک مابعد الطبیعیاتی کشمکش کا تعارف کراتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ "فرشتے” اور "بلا” یعنی آفت کا حوالہ الہٰی مخلوقات کی پاکیزگی کو ان ناگزیر مصائب کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا انہیں ناانصافی سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ "غیرت ناہید” یعنی ناہید کا فخر، آسمانی یا خالص فخر کا حوالہ، فخر کی ایک اعلیٰ، غیر داغدار شکل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گلوکار یعنی نغمہ سرا بننے کے خلاف مشورہ دے کر، شاعر شاید دنیاوی باطل یا عزائم کے خلاف ہوشیار ہو نے کی کوشش کررہا ہے ۔ سماجی اصولوں کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ

    منت سے مناتے ہیں مجھے میں نہیں مانتا

    اوضاع ملک دیکھ اور اطوار‌ گدا دیکھ

    یہ شعر سماجی اصولوں اور ذاتی سالمیت پر شاعر کے موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اپنی آزادی کا دعویٰ کرتے ہوئے چاپلوسی یا قائل کرنے یعنی (”منت سے مناتے ہیں”) سے متاثر ہونے کو مسترد کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ "اوضاع ملک” اور "اطوار‌ گدا” یعنی بھکاری کا برتاؤ، کی متضاد تصاویر سماجی ڈھانچے پر پرزور تنقید کا کام کرتی ہیں، جو حکمران اشرافیہ اور عام لوگوں کے درمیان تفاوت پر زور دیتی ہیں۔ شاعر نے فتنہ اور سالمیت کی عکاسی اس انداز سے کی ہے جیسے

    گر بو الہوسی یوں تجھے باور نہیں آتی

    اک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ دیکھ

    شاعر فتنہ کے مقابلے میں اخلاقی سالمیت کے موضوع پر بات کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لفظ "بو الہوسی” استعاراتی طور پر بدعنوانی یا اخلاقی زوال کی رغبت کی نمائندگی کرتا ہے۔ شاعر قارئین کو محکومیت کا تجربہ کرنے کے لیے چیلنج کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” اک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ دیکھ”۔ شاعر اخلاقی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے ثابت قدمی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ

    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

    دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

    یہاں، شاعر خود کو راستبازی کے خطرات سے خبردار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ "پاکیٔ داماں” یعنی لباس کی پاکیزگی، ذاتی خوبی یا سالمیت کی علامت ہے۔ اپنے لباس یعنی "دامن کو ذرا دیکھ”، کے قریب سے معائنہ کرنے پر زور دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے، شاعر عاجزی اور خود آگاہی کی وکالت کرتا ہے اور کسی کی اخلاقی برتری کے بارے میں احتیاط کرنے پر زور دیتا ہے۔ شاعرانسانی تجربے میں مایوسی اور امید کا زکر یوں کرتا ہے کہ

    اک دم کے نہ ملنے پہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے

    اے شیفتہ مایوسیٔ امید فضا دیکھ

    آخری شعر میں، شاعر امید اور مایوسی کے دوہرے پن کو تلاش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لوگوں کا ایک لمحے کی غیر موجودگی کے لیے خود سے دوری اختیار کرنے کا تصور انسانی رشتوں کی فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر اپنے آپ کو "شیفتہ” سے مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” اے شیفتہ مایوسیٔ امید فضا دیکھ”۔ شاعر مایوسی اور ناامیدی کے وسیع ماحول کے ساتھ ذاتی جدوجہد کی تصویر کشی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    خلاصہ کلا یہ ہے کہ مصطفیٰ خان شیفتہ کی غزل انسانی جذبات اور سماجی تنقیدوں کی گہرائی سے تحقیق پر مبنی بہترین شاعری ہے، جسے شاعر نے بھرپور منظر کشی اور بہترین اسلوب کے ذریعے پیش کیا ہے۔ ہر مصرعہ غزل کے اسلوب پر اس کی مہارت کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے ہے، شاعر ذاتی عکاسی کو آفاقی موضوعات کے ساتھ جوڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شیفتہ کی شاعری کلاسیکی اردو ادب کا ایک اہم حصہ ہے، جو قارئین کو وجود کی پیچیدگیوں، اخلاقیات اور زندگی کی عارضی نوعیت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

  • فضاء فانیہ کی دعائیہ اسلوب کی شاعری

    فضاء فانیہ کی دعائیہ اسلوب کی شاعری

    فضاء فانیہ کی دعائیہ اسلوب کی شاعری

    فضاء فانیہ ایک قابل ذکر ہندوستانی شاعرہ ہیں جو اپنے خوبصورت اشعار کی وجہ سے مشہور ہیں آپ کی شاعری میں جابجا دعائیہ عناصر پائے جاتے ہیں، انہوں نے اپنی شاعری میں روحانیت اور خود شناسی کے موضوعات کو کثرت سے شامل کیا ہے، اپنی ایک دعائیہ نظم میں فضاء فانیہ نے دعا کی شکل کو مرکزی عنصر کے طور پر اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے، جو قارئین کو خود کی عکاسی اور الٰہی تعلق کے سفر میں رہنمائی کرتا ہے۔


    آپ کی شاعری میں بار بار گریز "تیرے در پر آئی” ایک پُرجوش دعا کے طور پر کام کرتا ہے، جو روحانیت کی دہلیز پر سکون اور چھٹکارے کی تلاش کے عمل کی علامت ہے، یہ استعاراتی اسلوب ماورائی ہونے کے لئے ایک امید کی نمائندگی کرتا ہے، جو افراد کو اپنی باطنی جدوجہد کا مقابلہ کرنے اور الٰہی حضوری کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دعوت دیتا ہے۔
    مختصر لیکن گہرے اشعار کے ذریعے فضاء فانیہ نے دعا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، ہر شعر ایک منفرد غور و فکر کو سامنے لاتا ہے جیسے۔ "شرم سے اپنا سر جھکانا” اور "خود کو بیدار کرنے کے لئے” کی سطریں روشن خیالی کی جستجو کے ساتھ عاجزی کو جوڑتی ہیں، اور قارئین کو روحانی بیداری کے لئے کوشش کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔
    مزید برآں فضاء فانیہ ہمدردی اور بے حسی کے درمیان فرق کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور مصائب و مشکلات کے عالم میں انسانی رویے کی متضاد نوعیت پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں۔ "درد کو سننے کے بعد بھی، لوگ یہاں لطف اندوز ہوتے ہیں” یہ شعر ہمدردی اور عمل کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے اور بے حسی سے دوچار دنیا میں حقیقی ہمدردی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
    "چار سو سے” پھیلے ہوئے اندھیرے کی منظر کشی اور "تقویٰ کی شمع جلانے” کا استعارہ روحانی ویرانی اور مشکلات کے درمیان روشن خیالی کے لئے پائیدار جدوجہد کو جنم دیتا ہے، فضاء فانیہ نے مہارت سے روحانی روشنی کے موضوعات کو ماضی کی سرکشیوں کے بوجھ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے، جس کی علامت اس لائن سے واضح ہوتی ہے "میں اپنی خطاؤں سے بوجھل ہوں۔”
    مزید برآں فضاء فانیہ قربانی اور وفاداری کو خراج عقیدت پیش کرتی ہیں، خاص طور پر راہِ خدا میں اپنی جانیں قربان کرنے کے حوالے سے اشعار بھی آپ کی شاعری میں شامل ہیں۔ قربانی کے لئے یہ تعظیم ایمان اور عقیدت کے درمیان گہرے بندھن کی نشاندہی کرتی ہے، اور روحانی تکمیل کے لئے دنیاوی وابستگیوں کو ترک کرنے کی خواہش پر زور دیتی ہیں۔
    نظم کے آخری حصے میں فضاء فانیہ اپنی توجہ ذاتی چھٹکارے اور اندرونی انتشار سے نجات کی طرف مبذول کراتی ہیں۔ "فنا و تباہ جہان کی رونق کو کہاں چھوڑا ہے” اور "میں آپ کو اپنے دل میں بسانے کے لئے دروازے پر آئی ہوں” اندرونی سکون اور مفاہمت کی آرزو کی عکاسی کرتے ہیں، جو خود قبولیت اور خدائی فضل کی طرف ایک تبدیلی کا سفر تجویز کرتے ہیں۔
    مناجات کا اختتام خود خواہش اور انا کے طوق سے نجات کی التجا کے ساتھ ہوتا ہے، جس کا مظہر "خود کو ذلت سے بچاؤ” میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ پُرجوش اپیل روحانی طور پر ہتھیار ڈالنے کے جوہر کو سمیٹتی ہے اور لوگوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات سے بالاتر ہو جائیں اور الہٰی راستے کے طور پر عاجزی کو اپنا لیں۔
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ فضاء فانیہ کی دعائیہ شاعری محض شاعرانہ اظہار سے بالاتر ایک بہترین دعا بھی ہے، جو قارئین کو دعا، التجا، اور روحانی روشن خیالی کی ابدی جستجو کی نوعیت پر عمل کرنے کی دعوت دیتی ہے، اپنی فکر انگیز منظر کشی اور خود شناسی والے اشعار کے ذریعے فضاء فانیہ ایمان کی پائیدار طاقت اور انسانی تجربے کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرنے میں دعا کی صلاحیت کے لازوال ثبوت کے طور پر کام کرتی ہیں، اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لئے فضاء فانیہ کی شاعری سے اقتباس پیش خدمت ہے!
    *
    اے خدا تجھ کو منانے۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی
    شرم سے سر کو جھکانے۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    خوابِ غفلت میں کٹی عمر مری لیکن اب
    خود کو بیدار کرانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    درد سن کر بھی یہاں لوگ مـزے لیتے ہیں
    حالِ دل اپنا سنانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    چار سو سے مجھے گھیرا ہے شبِ ظلمت نے
    شمعِ تقویٰ کو جلانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    بوجھ سے اپنی خـطاؤں کے دَبی جاتی ہوں
    بارِ عِصیاں کو ہٹانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    کردوں قربان تری رَہ میں سبھی کچھ اپنا
    اپنی یہ جاں بھی لُٹانے۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    رونقِ دارِ فنا زیـبِ جہـاں چھوڑ چکی
    تجھ کو اب دل میں بسانے ترے در پر آئی

    خواہشِ نفس نے رسوا ہی کیا ہے مجھ کو
    خود کو ذلت سے بچانے۔۔۔۔۔ ترے در پر آئی

    Title Image by Himsan from Pixabay

  • تبصرہ : ثناۓ محمد

    تبصرہ : ثناۓ محمد

    تبصرہ : ثناۓ محمد


    تبصرہ نگار: راویء کربلا ارشاد ڈیروی ڈیرہ غازی خان


    اردو ادب دیں صِنفیںں وچوں حمد ہک اِینجھی صنف ھے جئیندے وچ صرف اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی تعریف و توصیف بیان کیتی ویندی ھے اے ہک مکمل کامل موضوعاتی صنفِ سُخن ھے ،
    اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی تعریف دے علاوہ بیا کہیں موضوع دی ایندے وچ گنجائش کائنی ، ایں نازک تے ملوک صنف وچ
    تعریف دا تعلق خالص خالقِ کائنات دی ذات پاک نال ھے،
    حمد لِکھنڑ کیتے شاعر دے قلم تے ہیئت دی کوئی قید کائنی ہوندی حمد کہیں وی ہیئت وچ لکھی ونج سگدی ھے اِیں مقدس صنف کوں اکثر شعراء کرام تمہیدی طور تے استمعال کریندے آئین ، اِیں قدیم روایت کوں قائم رکھیندیں ہُوئیں
    جناب عزتِ مآب سئیں مظہر علی کھٹڑمہورہ صاحب نے
    اینٹی تخلیق کردہ کتاب ،، ثنائے محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلِہ وسلم ،، دی ابتدا اِیں حمدِ باری تعالٰی دے نال فرمائی ھے

    تبصرہ : ثناۓ محمد

    خدا نے بنائے جہاں ہیں یہ سارے
    اسی کی ہیں قدرت کے سارے نظارے

    زمیں آسماں بھی اسی نے بنائے
    اسی نے بنائے ہیں یہ چاند تارے

    شجر بھی حجر بھی بنائے خدا نے
    اسی نے یہ سارے چمن بھی نکھارے

    خدا کی ہے تخلیق حوا و آدم
    زمیں پر اسی نے یہ دونوں اتارے

    اسی کا ہے دانہ اسی کا ہے پانی
    خدا کے دیے پر ہیں سب کے گزارے

    دعا ہے کہ مظہّر یہ کل زندگانی
    خدایا تری بندگی میں گزارے

    انسانیت دی تاریخ گواہ ھےکہ اے دعائیں دا رشتہ جناب آدم علیہ السلام تے اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دے درمیان سب توں پہلے قائم تھئے تے اِیں دھرتی دے آخری انسان تئیں راہسی ، جیڑھے انسان دے اندر تھوڑی جھئیں وی حیا دی رمق باقی ھے تاں او اپنڑیں خدا دے حضور سجدہ ریز تھی کے اپنڑیے غلطیوں دی معافی منگدیں ہُوئیں آہدے ،

    نگاہِ کرم سے سبب تو بنا دے
    خدایا مُحّمّد، ص ، کی بستی دِکھا دے

    بڑھی تشنگی ہے کہ دیکھوں مدینہ
    بُلا کر مری تشنگی یہ مٹا دے

    جودل پرپڑے ہیں یہ غفلت کے پر دے
    نبی ،ص، کے وسیلے سے ان کو ہٹا دے

    گناہوں سے لِتھڑا ہوا میرا تن ہے
    کرم سے تو اس کی سیاہی مٹا دے

    برائی سے قسمت بگڑ جو گئی ہے
    محمد ،ص، کے صدقے تو بگڑی بنا دے

    جو سوئی ہےمظہر کی قسمت یہ مولا
    کرم سے تو اپنے اسے بھی جگا دے

    اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی اِیں بنڑی ہوئی کائنات وچ بلکہ تمام عالمین وچ خدائے لم یزل دے بعد اگر کّئی تعریف دے لائیق ھے تاں او صرف اور صرف سردارِ انبیاء حضرت مُحمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلِ وسلم دی ذات مبارک ھے کیونکہ آپ دے

    اسم مبارک دا معنیٰ ہی تعریف کیتا گیا بنڑدے،
    ،ع،
    مدینے میں اگر میرا بھی گھر ہوتا تو کیا ہوتا
    الگ ہی زندگی ہوتی الگ ہی پھر مزا ہوتا

    رہائش بھی ملی ہوتی مجھے شہرِ مدینہ میں
    مرے مولا اگر میں بھی وہاں پیدا ہوا ہوتا

    نبی،ص، کے جانثاروں میں مرابھی نام آجاتا
    رسالت کی میں حرمت پر ہوا کب کا فدا ہوتا

    اگر غارِ حرا کے پاس مرا ایک گھر ہوتا
    تو پھر دیدارحاصل روز وشب مجھ کو ہوا ہوتا

    عجب ہی پھر مزا آتا مجھے آقا کی محفل میں
    پیالہ دُودھ کا ان کے جو ہاتھوں سے پیا ہوتا

    اجل آتی وہاں سرکارکےقدموں میں قسمت سے
    یہ مظہر بھی مدینہ دفن ایسے ہو گیا ہوتا
    ،ع،
    دلوں کو مدینہ بنا کر تو دیکھو
    محمد،ص، سےدل تم لگاکر تو دیکھو

    دلوں کی صفائی بھی ہوتی وہاں ہے
    محمد،ص،کےروضےپہ جاکرتودیکھو

    خدا بھی نہ رد پھر دعائیں کرے گا
    وسیلہ اِنہیں تم بنا کر تو دیکھو

    کمی پھرنہ کوئی رہے گی اے مظہر
    مدینے میں دامن پھیلا کرتو دیکھو

    دنیادا کوئی وی فقیر اُوتئیں غوث ، قطب ، ابدال ،قلندر نئی بنڑ سگدا جے تئیں او وِلایتِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام دی خوشبو نال اپنڑیں روح کوں معطر نہ کر گِھنے جیڑھے شاعر اپنڑی عقیدت دے قلم کوں مودتِ علی دے سانچےوچ ڈھالیا ہُویا ہو وے اُوندے قلم دی نوک توں اِینجھے قصیدے کیوں نہ لّہِین ،

    ہمارا سہارا علی ہے علی ہے
    زباں پر یہ نعرہ علی ہے علی ہے

    عبادت جسے دیکھنے سے ہوجائے
    وہ ایسا ستارا علی ہے علی ہے

    گھرانہ نبی،ص، کا ملا ہےعلی کو
    نبی ،ص، کا دلارا علی ہے علی ہے

    ہر اک معر کے میں ملی کامیابی
    کہیں جو نہ ہارا علی ہے علی ہے

    گرایا تجھے کس نے اے خیبر بتا دے
    تو خیبر پکارا علی ہے علی ہے

    مری کشتی مظہر نہیں ڈوبنے کو
    کہ اس کا کنارا علی ہے علی ہے

    سئیں مظہر علی صاحب نے جِتھاں حمد، مناجات ، نعت ، منقبت ، جّھئیں صنفیں کوں نویِں روحانیت عطا فرمائی ھے اُتھاں اُنھیں اسلامِ امامِ عالی مقام دے بغیر اپنڑی کتاب کوں ادھورا سمجھندیں ہوئیں سلامِ عقیدت دا نذرانہ وی پیش کیتے،
    ،ع،
    حُسین ابن حیدر نے باطل سے لڑ کے
    سکھایا نہ رہنا زمانے سے ڈر کے

    کبھی نہ باطل کا تم ساتھ دینا
    بتایا زمانے کو بیعت نہ کر کے

    کتابِ خدا کی تلاوت کا رتبہ
    بتایا اُنھوں نے ہے نیزے پہ چڑھ کے

    جہنم خریدی سپاہِ عدو نے
    جو منکر تھے زہرا کے لختِ جگر کے

    قدم ان کے چومےگی جنت یہ سن لو
    جوساتھی بنےہیں نبی،ص، کےپسرکے

    انھیں تو خدا بھی محبت سےدیکھے
    گداگر ہیں مظہر جو مولا کے در کے

    اساں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دا لکھ شُکر ادا کریندے ہئیں جو اساڈے ملک پاکستان کوں خالقِ کائنات نے اِینجھے عظیم شاعر عطافر مائین زندگی رہی تاں وت کہیں کتاب وچ مِلسُوں ، والسلام

     ارشاد ڈیروی

     ڈیرہ غازی خان

  • شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    شندور پولو فیسٹیول چترال اور گلگت بلتستان کا ایک مشہور سالانہ تقریب ہے جو دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں ہر سال 7 جولائی سے 9 جولائی تک منعقد ہوتا تھا لیکن اب یہ فیسٹول 28 جون سے 30 جون تک منعقد ہوگا۔ شندور پولوگراونڈ جو کہ خیبر پختونخوا، پاکستان کی بالائی چترال کی وادی لاسپور سے منسلک سیاحتی مقام شندور میں واقع ہے۔ یہ علاقہ "دنیا کی چھت” کے نام سے جانا جاتا ہے، شندور دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے، جو سطح سمندر سے 3,700 میٹر (12,139 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ چترال کا یہ تہوار جسے اکثر "کھیلوں کا بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے، 20ویں صدی کے اوائل کا ہے اور یہ اب ایک اہم ثقافتی تقریب میں تبدیل ہوا ہے جو فری اسٹائل پولو کے روایتی کھیل میں تبدیل ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپر چترال کی وادی لاسپور سے منسلک شندور میں منعقد ہونے والے سالانہ شندور پولو فیسٹیول کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے 28 جون سے منعقد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیسٹیول کیلئے تمام تیاریوں کو فی الفور حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کا انعقاد بہترین طریقے سے کیا جائے اور سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو شندور پولو فیسٹیول کیلئے کی جانیوالی تیاریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیسٹیول کا کامیابی سے انعقاد اور آگاہی مہم ابھی سے چلائی جائے۔ انٹرنیشنل سطح پر مشہور اس فیسٹیول میں ہر سال کثیر تعداد میں سیاح شندور وادی کا رخ کرتے ہیں۔
    شندور پولو فیسٹیول کی ابتدا کا ذکر چترال اور گلگت بلتستان کی مقامی داستانوں اور روایات سے ہوتی ہے۔ پولو جسے کھوار زبان میں "استور غاڑ” (گھوڑوں کا کھیل) اور "باچھانن اشٹوک” (بادشاہوں کا کھیل) کہا جاتا ہے، یہ کھیل صدیوں سے اس خطے میں کھیلا جاتا رہا ہے، قدیم دور سے ہی شندور پاس علامتی میدان جنگ بن گیا جہاں چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں اپنی بالادستی کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ جدید پولو کے برعکس، جس میں سخت اصول و ضوابط ہیں، شندور میں کھیلا جانے والا ورژن فری اسٹائل ہے، جو اپنی روایتی جڑوں پر قائم ہے۔ پولو کی یہ شکل زیادہ سخت اور جسمانی طور پر محنت اور سختی زیادہ مانگتی ہے، جو مقامی کھوؤ، بلتی اور شین ثقافتوں کی لچک اور برداشت کی عکاسی کرتی ہے۔
    یہ میلہ نہ صرف شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے بلکہ اس کے تماشائیوں کے تنوع کے لحاظ سے بھی برسوں کے دوران پروان چڑھا ہے۔ اب یہ بین الاقوامی سیاحوں، ثقافتی شائقین، اور میڈیا کوریج کی ایک قابل ذکر تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، جو ایک ثقافتی اور سیاحتی تقریب کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    2024 کے لیے شندور پولو فیسٹیول 28 جون سے 30 جون تک منعقد ہونے والا ہے۔ یہ اعلان گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کیا، جنہوں نے سیاحوں کی آمد کے لیے محتاط تیاری اور سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے، مشیر برائے سیاحت و ثقافت، زاہد چن زیب کو حتمی تیاریوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے، اس تاریخی فیسٹول کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک کامیاب تقریب کے لیے مؤثر طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل


    اس میلے کا اہتمام خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی نے پاکستان آرمی، لوئر اور اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ اور چترال سکاؤٹس کے اشتراک سے کیا ہے۔ یہ کثیر جہتی تعاون اس تہوار کی اہمیت اور اس کے ہموار عمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو واضح کرتا ہے۔اس فیسٹول کے منعقد کرانے میں کچھ چیلنجز بھی ہیں ان کے حل کے چند سفارشات پیش خدمت ہیں:
    1۔ بنیادی ڈھانچہ اور رسائی:
    موجودہ صورتحال: ناہموار علاقے اور محدود انفراسٹرکچر شرکاء اور تماشائیوں دونوں کے لیے اہم چیلنجز کا باعث ہیں۔ شندور درہ تک رسائی بنیادی طور پر تنگ اور اکثر دشوار گزار پہاڑی سڑکوں سے ہوتی ہے۔ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ اپر چترال اور گلگت سائیڈ سے آنے والے سیاحوں کے لیے سڑکوں کے حالات کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے، نقل و حمل کی زیادہ قابل اعتماد سہولیات کی تعمیر، اور باقاعدہ دیکھ بھال کو یقینی بناکر شندور تک رسائی کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ مزید برآں، راستے میں ہنگامی طبی سہولیات کا قیام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
    2۔ رہائش اور سہولیات:
    موجودہ صورتحال:ہر سال ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد چترال، گلگت بلتستان اور شندور کا وزٹ کرتی ہے، شندور پولو فیسٹول کے موقع پر ان کے لیے رہائش کی طلب اکثر سپلائی سے بڑھ جاتی ہے۔ یہاں کے پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، صفائی ستھرائی، اور کھانے پینے کی خدمات بھی انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔
    اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ماحول دوست کیمپ سائٹس اور چھوٹے گیسٹ ہاؤس جیسے پائیدار رہائش کی سہولیات کو تیار کرنا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحوں کو مناسب رہائش فراہم کر سکتا ہے۔ مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بنیادی سہولیات کو بڑھایا جائے اور سیاحوں کے لیے مجموعی تجربے کو بہتر بنایا جائے تاکہ وہ ہر سال شندور پولو فیسٹول دیکھنے کے چترال کا رخ کرسکیں۔
    3۔ ماحولیاتی پائیداری:
    اس فیسٹول کے دوران ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں کی چترال اور گلگت بلتستان آمد شندور کے ساتھ ساتھ چترال اور دیگر شمالی پاکستان کی وادیوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے۔
    اس سلسلے میں تجویز ہے کہ ماحولیاتی رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، ماحول دوست طرز عمل کو فروغ دیا جائے، اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں آگاہی مہم چلانے سے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ منتظمین کو چترال اور شندور کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ویسٹ مینجمنٹ پروٹوکول کو بھی نافذ کرنا چاہیے تاکہ ماحولی آلودگی سے بچا جاسکے۔
    4۔ ثقافتی تحفظ:
    اگرچہ یہ تہوار چترال اور گلگت بلتستان کی مقامی ثقافت کو فروغ دیتا ہے، لیکن مقامی کھوؤ اور شمالی ثقافت کے روایتی پہلوؤں کو کمزور کرنے کا خطرہ بھی ہے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقامی کمیونٹیز تنظیم میں فعال طور پر شامل ہوں اور میلے کو انجام دینے سے اس کی ثقافتی سالمیت کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تہوار کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے والے آگاہی پروگراموں کو ایونٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
    5۔ مارکیٹنگ اور فروغ:
    گو کہ یہ میلہ چترال اور گلگت بلتستان میں مقامی طور پر مشہور ہے لیکن اس میں زیادہ بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
    اس سلسلے میں تجویز ہے کہ مارکیٹنگ کی ایک مضبوط حکمت عملی جس میں سوشل میڈیا مہمات، بین الاقوامی سیاحتی بورڈز کے ساتھ شراکت داری، اور بڑے شہروں میں پروموشنل ایونٹس شامل ہیں اس فیسٹول کی مقبولیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ میلے کے منفرد پہلوؤں کو ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اجاگر کیا جائے، اونچائی پر کھیلے جانے والے پولو میچز اور شاندار قدرتی مناظر، وسیع تر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔


    شندور پولو فیسٹیول نہ صرف چترال اور گلگت بلتستان کے کھیلوں کی تقریب ہے بلکہ یہ ایک ثقافتی جشن بھی ہے۔ اس کھیل کے فروع اور سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، رہائش، ماحولیاتی پائیداری، ثقافتی تحفظ، اور مارکیٹنگ کے چیلنجوں سے نمٹنا ضروری ہوگا۔ خیبرپختونخوا حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس تہوار کی مدد سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں سے زر مبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے صوبے کو معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شندور پولو فیسٹول اپنی منفرد روایات اور قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ثقافتی تقریب بھی بنے اور سیاح جوق در جوق چترال، وادی کالاش اور گلگت بلتستان کا رخ کر سکیں۔

  • صدر اپیکا ڈسٹرکٹ اٹک احمد خان کی محکمانہ پرموشن

    صدر اپیکا ڈسٹرکٹ اٹک احمد خان کی محکمانہ پرموشن

    صدر اپیکا ڈسٹرکٹ اٹک احمد خان کی محکمانہ پرموشن

    اٹک ( پ ر ) احمد خان کی محکمانہ پرموشن محنت لگن اور خلوص نیت کا نتیجہ ھے انہوں نے ہمیشہ ملازمین کی فلاح کے لیئے کام کیا ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی میڈم ساجدہ مختیار نے محکمہ ایجوکیشن کے ترقی پانے والے صدر اپیکا ڈسٹرکٹ اٹک احمد خان اور آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے وفد سے بات چیت کرتے ھوئے کیا احمد خان کی محکمانہ پروموشن پر سی ای او ایجوکیشن کے آفس میں مبارکباد پیش کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا

    صدر اپیکا ڈسٹرکٹ اٹک احمد خان کی محکمانہ پرموشن

    دوستوں آفس ملازمین۔ و یونین اراکین نے پھولوں کے ہار پہنائے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی جبکہ اس خوشی کے موقع پر مٹھائی تقسیم کی گی صدر اپیکا ہیلتھ یونٹ خالد محمود نے سی ای او ایجوکیشن میڈم ساجدہ مختار کی ملازمین کے ساتھ مشفقانہ رویہ کی تعریف کی اور پروموشن آڈر بروقت جاری کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ھوئے ملازمین۔ کی طرف سے آئندہ بھی انہیں بھر پور تعاون کا یقین دلایا اس موقع پر ممبران ایگزیکٹو باڈی ملک رفعت حیات عبد الستار اسد علی اپیکا تحصیل حسن ابدال کے صدر مبارک علی صدر اپیکا پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ندیم اسلم حیدری میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شجاع اختر اعوان علی رضا ایجوکیشن یونٹ محمد فیاض چیئرمین اپیکا ہیلتھ یونٹ اقبال خان و دیگر کارکنان و عہدادارن سمیت ملازمین محکمہ تعلیم کثیر تعداد  میں موجود تھے