• حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی ایک ممتاز صوفی شاعر ہیں جو اپنی پنجابی زبان میں "کافیوں” کے لیے مشہور ہیں آپ نے پنجابی حمد، نعت، نظم، غزل اور کافی شاعری کی شہرت حاصل کی ہے، انہوں نے پنجابی کافی شاعری میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ "کافی” پنجابی زبان میں عقیدتی شاعری کی ایک شکل ہے جو روحانی اور صوفیانہ عناصر سے مالا مال ہے۔ گہری فلسفیانہ موسیقی اور شدید جذباتی گہرائی سے نشان زد حکیم ناز جلالوی کی کافی شاعری، صوفیانہ افکار و خیالات پر مبنی بہترین شاعری ہے، آپ اپنی کافی شاعری کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ یہ کافیاں قاری کے دل کی گہرائیوں میں نقش ہوجاتی ہیں۔ آج کے اس کالم کا مقصد حکیم ناز جلالوی کی معروف پنجابی کافیوں میں سے ایک کافی کا تنقیدی تجزیہ پیش کرنا ہے اور ان کی پنجابی کافیوں کی موضوعاتی گہرائی، اسلوبیاتی عناصر اور فکری بنیادوں کا جائزہ لینا ہے، ساتھ ہی اس "،کافی” کے پنجابی زبان سے کھوار زبان میں کیے گئے تراجم کا بھی فنی و فکری جائزہ لینا ہے۔

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم
    حکیم ناز جلالوی


    سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب اور دانشور ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم رقمطراز ہیں کہ "حکیم ناز جلالوی دورِحاضر کے ایک معروف صوفی شاعر ہیں انہیں کافیوں کے میدان میں خوب شہرت حاصل ہے، ان کی ایک کافی پیش نظر ہے جس میں انہوں نے اپنے فن کاخوب جلوہ دکھایا ہے، پنجابی زبان میں لکھی گئی یہ کافی اپنے آنگن میں فکری حوالے سے بے پناہ وسعت رکھتی ہے”۔
    جہاں حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں میں موضوعاتی گہرائی ہے وہاں فنی و فکری دونوں لحاظ سے یہ کافیاں بہترین صوفیانہ شاعری کی اعلیٰ مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہیں۔
    حکیم ناز جلالوی کی کافی کا مرکزی موضوع الله تعالیٰ کی قادر مطلقیت اور ہمہ گیریت کے گرد گھومتا ہے، جو خالق کے ساتھ ملاپ کے لیے انسانی روح کی آرزو کو واضح کرتا ہے۔ اس آرزو کا اظہار واضح تصویری اور استعاراتی زبان کے ذریعے ہوتا ہے جو صوفی فلسفے کے دل سے بات کرتی ہے۔
    جلالوی تخلیق اور تباہ کرنے کی الٰہی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے "کافی” کہنا شروع کرتا ہے اور خدا کی مرضی کے سامنے انسانی حیثیت کی بے کاری پر زور دیتا ہے:
    "سبھ کُجھ توڑن پھوڑن والا جوڑن والا توں ایں.
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئی وی سائیاں چوں ایں”
    یہاں شاعر کائنات پر خالق کائنات کے مکمل اختیار کی بات کرتا ہے، جو صوفی ادب میں ایک بار بار چلنے والا موضوع ہے جو خدائی اجازت کے بغیر انسانی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    شاعر نے انسانی کمزوری اور الٰہی کی بے پایاں رحمت کا بڑے پُرجوش انداز میں اظہار کیا ہے:
    "اپنی مرضی والیا سائیاں جو چاہیں توں کردائیں۔
    جس دی چاہویں نال خوشی دے اُس دی جھولی بھردائیں”
    یہ اشعار تسلیم کرنے کے جوہر کو سمیٹتے ہیں، جو کہ تصوف کا ایک کلیدی اصول ہے، جہاں عقیدت مند اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تمام خوشی اور غم خدا کی مرضی سے پیدا ہوتے ہیں۔
    شدید تڑپ اور روحانی نشہ کے موضوع کو مہارت سے پیش کیا گیا ہے:
    "مینوں تیرے ملن دا چڑھیا عشق نشے دا جنوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئی وی سائیاں چوں ایں”
    جلالوی نشہ کے استعارے کا استعمال کرتے ہوئے روح کی الٰہی ملاپ کے لیے پرجوش خواہش کو بیان کرتے ہیں، یہ حالت اکثر صوفی شاعری میں پائی جاتی ہے۔
    شاعر خدائی فضل سے محروم لوگوں کی حالت زار بیان کرتا ہے:
    "ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں”
    یہ الٰہی احسان پر انسانی وجود کے انحصار کو نمایاں کرتا ہے، مزید عاجزی اور عقیدت کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے اسلوبی عناصر کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کافیاں پنجابی زبان کی بہترین اور مقبول کافیوں میں سے ایک ہیں
    آپ کی کافی میں پرہیز بھی نظر آرہا ہے مثلاً "تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں” الہٰی بالادستی کے غالب موضوع کی ایک طاقتور یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے، اس پیغام کو اس کی تکراری ساخت کے ذریعے تقویت دیتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کا بہترین تصوّر اور استعارہ کا استعمال، جیسے کہ الہٰی طاقت کا اس طاقت سے موازنہ کرنا جو پتھروں کو پنکھوں کی طرح اڑانے کی صلاحیت رکھتا ہے، کافی کے جذباتی اور روحانی معیار کو بڑھاتا ہے مثلاً:
    "ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں
    جے چاہویں تے پتھر اُڈاویں وا وچ وانگوں روں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں”
    شاعر کی مقدس ہستیوں کی دعوت اور خدائی فضل کی التجا پنجابی کافی کو ذاتی اور فلسفیانہ لہجے سے متاثر کرتی ہے، جو قاری کو شاعر کے روحانی سفر کی طرف کھینچتی ہے:
    "صدقہ پنج تن پاک دا سائیاں بخشیں آپ حضوری
    صدقہ کربل منگیاۓ سائیاں آپ کریں نہ دوری”
    آپ کی پنجابی کافیاں محض ایک عقیدت کا ٹکڑا ہی نہیں ہیں بلکہ یہ انسان اور الٰہی رشتے کی ایک فکری کھوج پر مبنی بہترین صوفیانہ شاعری بھی ہیں۔ آپ کی شاعری قارئین کو ان کی اپنی روحانی حالت اور دنیاوی زندگی کی عارضی نوعیت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ الہٰی مرضی، انسانی کمزوری، اور الہٰی محبت کی جستجو جیسے موضوعات کا شاعر کا فصاحت و بلاغت کا اظہار صوفی فلسفہ کے فکری اور جذباتی مرکز کی ترجمانی کرتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کا کھوار ترجمہ لسانی اور ثقافتی تقسیم کو ختم کرنے میں مدد گار ہوگا۔
    راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا جلالوی کی کافی کا کھوار میں ترجمہ اس گہری روحانی شاعری کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے کی پہلی کوشش ہے۔ میں نے اصل پنجابی کافیوں کی جذباتی شدت اور موضوعاتی گہرائی کو کھوار زبان کی باریکیوں کے مطابق ڈھالنے کی پہلی بار کوشش کی ہے امید ہے کہ یہ پنجابی اور کھوار دونوں زبانوں کے قارئین کو پسند آئیں گے۔ پنجابی زبان سے کھوار کا یہ ترجمہ ادبی اور ثقافتی تحفظ دونوں کے لیے ایک اہم شراکت ہے، میں نے تراجم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں میں شامل روحانی ورثہ متنوع لسانی برادریوں تک پہنچے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافی صوفی شاعری کا ایک شاہکار ہے، جو موضوعاتی گہرائی، اسلوبی خوبصورتی اور فکری سختی سے مالا مال ہے۔ اپنی پُر اثر اشعار کے ذریعے جلالوی قارئین کو روحانی سفر کی دعوت دیتے ہیں، اور ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ خدا کی قادر مطلقیت اور عاجزی اور عقیدت کی اہمیت کو پہچانیں۔ راقم الحروف کا کھوار میں ترجمہ مزید اس روحانی پیغام کی رسائی کو زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی اور ثقافتی تقسیم کو بھی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جلالوی کا کام صوفی فکر کی لازوال طاقت اور اس کی حدود کو عبور کرنے اور انسانی روح کو چھونے کی صلاحیت کا لازوال ثبوت ہے۔ میں حکیم نازؔ جلالوی کو ان کی شاندار پنجابی کافیوں کی تخلیق پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے حکیم نازؔ جلالوی کی پنجابی کافی اور کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔


    *
    تصوف رنگ (کافی)
    *
    سبھ کُجھ توڑن پھوڑن والا جوڑن والا توں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    اپنی مرضی والیا سائیاں جو چاہویں توں کردائیں
    جس دی چاہویں نال خوشی دے اُس دی جھولی بھردائیں
    مینوں تیرے ملن دا چڑھیا عشق نشے دا جنوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں
    جے چاہویں تے پتھر اُڈاویں وا وچ وانگوں روں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    باہجھ تیرے نہیں طاقت کوئ نہ کوئ ہور بیگاناں
    میں کہڑے ہاں باغ دی مولی تئیں نوں ہے خسماناں
    وچ ساہواں دی گڈّی بہہ کے کر کر چلدائیں گھوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    صدقہ پنج تن پاک دا سائیاں بخشیں آپ حضوری
    صدقہ کربل منگیاۓ سائیاں آپ کریں نہ دوری
    عشق عطا کر وانگ اویسؒ اہہ نازؔ کرے لوں لوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں۔
    *
    کھوار تراجم
    *
    اے مه خالق اوچے مالک خدائے کیہ قسمہ کی ہیہ دنیا ہر اشناریو چھینکو اوچے ساوزئیکو طھاقت تتے حاصل شینی ہش تانچقہ ہر اشناریو امچھئیکو قوات دی تتے تان حاصل شیر۔ وا ته قندرتو پروشٹہ کوس میجیل نیکی کی کا سانس گانیکو بوئے۔

    تو تان مرضیو مالک اسوس، تو کیاغکہ کوم ریتاو کوریکو بوس ہیہ تہ شان شیر کہ تو کوس سورا کی مہربان ہوؤ ہتو اوانو تان لطف اوچے کھرمار ٹیپیئسان۔
    اے مہ شیرین ژانو مالک مہ ہردیا تہ سوم ملاقاتو عشق انتہائی عروجہ شیر۔ ہیہ ای نشہ شیر کی ہیارا جنونو غون کیفیت پیدا بیتی شیر وا ہیہ لو دی متے معلوم شیر کی ته دربارا چوں و چراں کوریکو پھوک دی گنجائش نیکی۔

    اے مہ مالک تو کوسار کی ناراض بوسان ہتو اوان ته رحمتاری خالی بویان وا ہسے ای تھیش مشکاکو غون در پھدار بیتی راہ راہی کاسیران۔ وا ہتوتے سکون نصیب نو بویان۔
    اگر تو کی کوم ریتاؤ تھے بوھرتان دی پورمان غون ہوا اڑاؤ کوریکو بوس۔ تو سف طھاقتان مالک اسوس۔ تہ پروشٹہ لو دیکو کا دی جرات کوریکو نو بوئے۔
    اے مہ مالک تہ سار غیر کوستے دی کیہ طھاقت حاصل نیکی ہر ژاغا تہ نام چلوران۔
    اوا کیہ باغو مولیئی اسوم ته قندرتان سورا باث (بحث) کوروم
    اوا تان سانسان موٹیرا نیشی ته قندرتان نظارہ کوراؤ گومان۔
    متے پتہ شیر کی ته پروشٹہ روپھیکو کوس موژا ہمت نیکی کی ہسے ته پروشٹہ لو دیکو بوئے۔
    تتے پنجتن پاکو واسطہ سوال کومان کہ ہتے پاک نفسان صدقا متے تان دروازا حاضیری دیکو سعادتو نصیب کورے۔
    ہروش تانچقہ تتے کھربلو شہیدانن واسطہ کہ ہے پاک نفسان صدقا متے تان عظیم دروازاری کیاوت دی دودیری مو کورے۔


    مہ آرمان شیر کی مہ غون ناچاروتے حضرت اویس قرنیو قسمہ عشقو دولتاری مالا مال کورے۔ تو مہ درخواسو قبول کورے۔ اوا تہ بندہ اسوم متے معلوم شیر کہ تہ دربارا شونان کیژیبئیکوتے کوستے دی طھاقت حاصل نیکی۔

  • کیا آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں؟

    کیا آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں؟

    کیا آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں؟


    کسی کو یاد کرنے وجہ کچھ بھی نہیں ہوتی
    جو دل پہ راج کرتے ہیں زبان پہ رقص کرتے ہیں


    دنیا میں موجود ہر شخص پھر وہ خود چاہے کیسا ہی کیوں نہ ہو وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ معاشرے میں اس کی عزت ہو ، لوگ اس کا احترام کریں ، اس کے دوست ، ساتھی ، رشتہ دار ، ملازم یا مالک اس سے محبت کریں، اس کی قدر ہو ، لوگ اس سے مشورہ کریں ، اپنی پریشانیاں اس کے ساتھ شیئر کریں ، وہ محفلوں کی جان ہو اس کے بعد بھی اس کے تذکرے ہوں، لوگ اس کی کامیابیوں کو دل کھول کر بیان کریں ۔ اگر آپ بھی یہ مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں دنیا میں کوئی بھی کام محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اس مقام تک پہنچنے کے لیے آپ کو پانچ کام کرنا بند کرنے ہوں گے


    یہ پانچ اصول سیکھنے سے پہلے اپنے ذہن میں ایسا شخص لے کے آئے جو کامیاب ہے ، جس سے لوگ محبت کرتے ہیں جس کے ساتھ لوگ جڑنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے پانچ اصول آپ کو فائدہ دیں گے
    پہلا اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ تنقید کرنا بند کر دیں اور بلا وجہ کی تنقید نہ صرف کام بلکہ تعلقات خراب کرتی ہے ایسا کیوں نہیں ہوا ، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، ایسا تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس کے بارے میں۔ تنقید سے کچھ نہیں ہوتا سوائے تنقید کرنے والا اپنا من جلاتا ہے اور لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اس لیے تنقید کرنے کی بجائے لوگوں کی مدد کیا کریں جس شعبے میں آپ کو تجربہ حاصل ہے تو بڑے ہی خوبصورت، میٹھے انداز سے اپنے سے جونیئرز کو خود سکھائیں تاکہ آپ سے لوگ محبت کریں
    دوسرا اہم کام شکایت مت کریں خصوصا وہ اساتذہ جو چاہتے ہیں اپنے شاگردوں کے دل میں ان کا راج ہو ۔ وہ والدین اور پرنسپل کو دیکھتے ہی شکایات کا انبار نہ لگا دیا کریں دو ساتھیوں کی ایک ساتھ دو دن کی ڈیوٹی تھی خود ہی ایک صاحب نے یہ طے کیا کہ ایک ایک دن کر لیتے ہیں اب ایک دن اپنا کام کرنے کے بعد دوسرے دن پہلے صاحب کو صرف اس بات کا مسئلہ تھا کہ دوسرا ساتھی وہاں کیوں نہیں حالانکہ پہلے ساتھی پہ نظر رکھنا ان کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا سارا وقت یہ شور مچائے رکھا کہ میں نے کام کیا ہے یہ کیوں نہیں کر رہے اس سے لوگ آپ سے نفرت کرتے شکایت کرنے کی بجائے اپنے کام میں خلوص پیدا کریں۔ دوسروں کی مدد کریں
    تیسرا کام رونا رونا بند کر دیں آپ نے نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی روتلو محفلوں کی جان ہو، لوگ اس کا انتظار کریں اس کے برعکس لوگ ایسے شخص سے جان چھڑاتے ہیں اس لیے یہ لوگ اکثر ماضی میں رہتے ہیں پچھلا استاد اچھا تھا ، وہ والا مالک اچھا تھا، وہ دوست اچھا تھا اس لیے یہ آئیڈیل شخصیت کے مالک نہیں ہوتے حال میں رہیں خود بھی جیں دوسروں کو بھی جینے دیں کے اصول پر کام کریں آپ کی عزت بڑھ جائے گی
    چوتھا کام بددعا مت دیں گے، ناکام، نامراد شخص ناپسندیدہ شخصیت، ایسا مالک، ایسا استاد، ایسا ٹیم لیڈر ہمیشہ لوگوں کی حقارت ، نفرت کا باعث بنتا ہے جو ہر وقت چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ، جب بھی کام اس کی مرضی کے خلاف ہو فورا بد دعائیں دینے لگ جائے اکثر بزرگ جو چڑچڑے طبیعت کے مالک ہوتے ہیں یہاں تک کہ کئی والدین بھی بلا سوچے سمجھے اپنی اولادوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان کو بد دعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ تیرا کام کبھی نہ بنے ، تو ہمیشہ نامراد رہے ، تو ہمیشہ ناکام رہے ایسے لوگ قابل نفرت ہوتے ہیں یہ کبھی محفلوں کی جان نہیں بن سکتے ایک تو بات ذہن میں رکھیں بددعا دینے وقت کہ آپ کوئی ولی اللہ تو ہیں نہیں جو فورا ہی آپ کی بددعا لگ جائے الٹا آپ خود معاشرے میں، اس علاقے میں ، ارد گرد کے لوگوں کی نظر میں قابل نفرت شخصیت بن جائیں گے اگر آپ چاہتے ہیں کہ پسندیدہ شخصیت بنیں تو بددعا دینے کی بجائے دعا دینے کی کوشش کرے اللہ آپ کے لے آسانیاں کرے، اللہ آپ کو یہ کام کرنے کی توفیق دے ، اگر آپ میرے کام کا ذریعہ نہیں بن سکے اللہ آپ کو کسی اور کا ذریعہ بننے کی توفیق دے ۔ برداشت اور قوت کا مظاہرہ کریں تاکہ لوگ آپ سے محبت کر سکیں
    پانچواں اور آخری کام اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اپ لوگوں کے محبوب بن جائیں محفلوں کی جان بنیں اور لوگ اپ کا انتظار کریں آپ کی معمولی باتوں کو بھی سبق آموز لیں آپ کے رویے سے سیکھیں آپ کے اخلاق کو پسند کریں تو آپ موازنہ کبھی مت کریں ۔ موازنہ چاہے دو شاگردوں کے درمیان ہو یا کسی بھی جگہ پہ ہو موازنے کے مثبت نتائج کبھی بھی نہیں آتے اس کے مقابلے میں لوگوں کے ساتھ مل کے مقابلے کی عادت بنائیں اچھا استاد کبھی شاگرد کو نالائق نہیں سمجھتا دو لائک شاگردوں کے درمیان ایک نالائق کو بٹھا کر ان کو ایک ٹیم بنا کر ٹیم سے سوالات پوچھتا ہے تو جب وہ مل کے جواب دیتے ہیں تو ایوریج بندے کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اسی طرح اکثر آپ نے دیکھا ہوگا محفلوں میں ناکام شخص کے سامنے جب کسی دوسرے کی تعریف ہونے لگتی ہے مثلاً کسی عورت کی خوبصورتی کی، کسی کے کھانوں کی، کسی استاد کی تعریف ہونے لگتی ہے تو وہ جلن محسوس کرتا ہے وہ اس کی تعریف کرے یا خوش ہو الٹا وہ اپنے قصیدے پڑھنا شروع کر دیتا ہے کہ میری یہ ڈش بہت اچھی ہے ، میں بھی تو خوبصورت ہوں ، میرا بھی یہ سبجیکٹ بہت اچھا ہے تو وہ چاہے کلاس کے شاگرد ہوں یا محفل میں بیٹھے ہوئے لوگ ہوں وہ فورا لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے


    جو بھی شخص دلوں پر راج کرنا چاہتا ہے کہ چاہے وہ ایک اچھا ٹیم لیڈر ہو ، چاہے وہ استاد ہو ، چاہے کسی خاندان کا سربراہ ہو یا معاشرے کے کسے بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کوچاہے کہ تنقید,شکایت رونا رونے ، بددعا اور موازنہ کرنے کی بجاے تعریف کرے ،حقائق کے مطابق اور مثبت گفتگوکرے ،لوگوں کہ زندگی میں مداخلت بند کر دے، دعائیں دے کر حوالہ بڑھاے ،مل کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت اپناے
    ہمیشہ کی طرح یہی کہوں گا کہ ذرا نہیں مکمل غور کریں تجربہ شرط ہے

    Title Image by Microsoft Designer

  • ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    Dubai Naama

ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    گزشتہ روز ناسا کے امریکی سائنس دانوں نے کائنات کی سب سے دور افتادہ کہکشاں دریافت کی۔ اس قدیم ترین فلکی کہکشاں کا نام "جیڈز جی ایس زیڈ ون فور زیرو” JADES-GS-Z14-0 رکھا گیا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے عظیم سائنسدانوں نے یہ کارنامہ "جیمز ویب اسپیس” نامی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے انجام دیا جس کے کام میں خلا میں کائنات کے موجودات کی ابتداء اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار وغیرہ کے بارے میں کھوج لگانا شامل ہے۔ قرآن پاک میں کائنات کے انہی سربستہ رازوں اور زندگی کے بارے غور و فکر اور اسے عملی جامہ پہنانے کا کم و بیش 765 مرتبہ ذکر آیا ہے۔ ان عنوانات میں کائنات کی پیدائش، ستاروں کی گردش، آسمانی ستون اور زندگی کے مختلف مراحل سرفہرست ہیں۔

    ایک تخمینے کے مطابق اس کہکشاں کا قیام "بگ بینگ” کے 29 کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا۔ 13اشاریہ 8ارب سال قبل کائنات کی ابتداء میں تشکیل پانے والی اس کہکشاں کی چند منفرد خصوصیات بھی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیں۔ اس کہکشاں کو کائنات کا قدیم ترین اور بہت بڑا بلیک ہول بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ کہکشاں بہت زیادہ روشن بھی ہے۔ حالانکہ بلیک ہولز کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کے احاطہ یعنی ایونٹ ہوریزون Event Horizon سے 3لاکھ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑنے والی روشنی بھی بچ کر نہیں نکل سکتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا راز ہے جو اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی سے عیاں ہوتا ہے۔ جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کہکشاں کی روشنی سے آئیونائزڈ ionized گیس کے اخراج کا عندیہ بھی ملتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی خود کو کائنات (اور آسمانوں) کا نور کہتا ہے یعنی اللہ تبارک و تعالی کی ذات "نور السماوات والارض” ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے جو کہ ایک حیران کن ترین دریافت ہے، کیونکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔

    اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاؤں جیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاؤں کو دریافت کر سکیں گے جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔

    اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا۔ نومبر 2023ء میں ناسا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا یہ بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر کائنات کے برابر تقریبا 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔ اس بلیک ہول کو "یو ایچ زیڈ ون” UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔

    کائنات کے انہی رازوں کو دریافت کرنے کی بناء پر انسان جدید ترین سائنسی ایجادات اور سہولیات سے بہرہ ور ہو رہا ہے اور جن کے بل بوتے پر وہ دوسرے ستاروں پر انسانی آبادیاں قائم کرنے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔ لیکن صد افسوس ہے کہ کائنات کی دریافت کا یہ سارا مقدس کام غیرمسلم کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے مطابق اللہ تعالی کو کائنات کا نور بابرکات کہا گیا ہے تو مسلمان اس انتہائی اہم فریضہ کی ادائیگی سے کیوں غافل ہیں؟ اگر قرآن پاک کے ان احکامات کو مسلمان بھی اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو ان میں بھی اہل مغرب کی طرح انقلاب آ سکتا ہے۔

    رب کریم کتاب مبین میں ارشاد فرماتا ہے

    وَ سَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ.

    ’’اور اُس نے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے۔‘‘

    (الجاثیة، 45: 13)

    یعنی کائنات کو تمہارے (انسان)کے لئے بنایا گیا ہے اور تمہارے تابع کر دیا گیا ہے لیکن ایسا نہیں کہ تم اٹھو اور ہر چیز تمہاری جھولی میں آجائے، درحقیقت تمہارے اندر وہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے جس سے تم اس کائنات کو تسخیر کر سکتے ہو ۔ اب اس صلاحیت کو علم و عمل سے کام میں لاتے ہوئے کائنات پر حکمرانی کرنا تمہارا کام ہے۔

    اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؒ نے جواب شکوہ میں اس طرح بیان کیا تھا

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    Title Image by sun jib from Pixabay

  • گلزار دانش کا افسانہ “وصال” کا تنقیدی مطالعہ

    گلزار دانش کا افسانہ "وصال” کا تنقیدی مطالعہ

    گلزار دانش کا افسانہ "وصال” کا تنقیدی مطالعہ

    گلزار دانش کا تعلق نارووال کے نواحی گاوں ہلووال سے ہے، آپ اسوقت ساوتھ افریقہ میں مقیم ہیں. آپ نوجوان شاعر و ادیب ہیں آپ کی تخلیقات کے حوالے سے آپ کو مختلف ایوارڈ و اعزازات سے نوازا گیا ہے آپ کو ایک ادبی تنظیم کی طرف سے چاندی کا قلم بطور اعزاز دیا گیا ہے۔


    گلزار دانش کا تحریر کردہ اردو افسانہ "وصال” محبت، خواہش اور نجات پر مبنی بہترین کہانی ہے جو کہ مصنف کے قلم کے ذریعے روحانی بیداری کے پیچیدہ موضوع پر روشنی ڈالتی ہے۔ ایک متقی مسلمان کی مکہ مکرمہ کی زیارت کے پس منظر میں یہ افسانہ لکھا گیا ہے، یہ داستان مرکزی کردار شاہ صاحب کے اندرونی انتشار کو سامنے لاتی ہے جب وہ اپنی خواہشات کے ساتھ خود کو جکڑا ہوا پاتا ہے اور بالآخر روحانیت کے حصول سے سکون پاتا ہے۔ گلزار دانش لکھتے ہیں "میری تین نمازیں اس خاتون کے چکر میں باطل ہو گئیں، باقی ایک قضاء۔ میں بختوں کا ہارا کہاں جا کر عشق کے لپیٹے میں آ گیا”
    کہانی کا آغاز نماز کے دوران شاہ صاحب کے عجیب رویے سے ہوتا ہے، جہاں وہ اپنی جماعت کو حیران کر کے کئی بار اچانک نماز چھوڑ کر مسجد سے نکل جاتے ہیں۔ یہ حالت شاہ صاحب کی اندرونی کشمکش کے گرد گھومنے والے مرکزی تصادم کی منزلیں طے کرتا ہے، جو ایک معتمد کے ساتھ دھیرے دھیرے مکالمے کے ذریعے آشکار ہوتے ہیں۔
    داستان اس وقت سامنے آتی ہے جب شاہ صاحب اپنے مکہ مکرمہ کے سفر کا ذکر کرتے ہیں، جہاں ان کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوتا ہے جس کی خوبصورتی انہیں مسحور کرتی ہے، جس سے وہ اپنے ایمان اور اپنے مذہبی فرائض سے وابستگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ شاہ صاحب کے جذباتی اتھل پتھل اور اندرونی کشمکش کے ذریعے مصنف نے بڑی مہارت سے آزمائش، توبہ، اور روحانی روشن خیالی کی جستجو کے آفاقی موضوعات کو تلاش کیا ہے۔
    گلزار دانش لکھتے ہیں "نماز اشراق کے بعد میں نے ایک خاتون دیکھی یوں لگتا تھا جیسے یوسف و زلیخا کی نسل سے ہے ۔ اس قدر حسین عورت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی گویا زلیخا کو ملی ہوئی دوسری جوانی ہو ۔ بڑی بڑی غزال آنکھوں میں پر کشش سحر ابلیس جو انسان کے ایمان کو پس پردہ کر دے اور خواہشوں کو اتنی قوت دے کے وہ ضمیر پر قابض ہو جائیں۔ اسکا ٹھوڑی تک حجاب سے باہر نکلا ہوا چہرہ جسے دیکھ کر بندہ حوروں کے اس تصور میں چلا جائے جو بطور انعام جنتیوں کو ملیں گی ۔ اس عورت کو دیکھ کر مجھے اپنی بیوی بچے بھول گئے میں کعبے میں کھڑا ہو کر اسکی خواہش کرتا رہا”
    کہانی کی ایک خوبی شاہ صاحب کی داخلی تبدیلی کی تصویر کشی میں مضمر ہے، کیونکہ وہ اپنی خواہشات کا مقابلہ کرتے ہیں اور بالآخر خود شناسی اور خود کی دریافت کے ذریعے نجات پاتے ہیں۔ روحانی عقیدت کے ساتھ دنیاوی خواہشات کا امتزاج داستان میں گہرائی کا اضافہ کرتا ہے، انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور مادی اور الٰہی قدرت کے درمیان مسلسل جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔
    مزید برآں گلزار دانش کی فکر انگیز نثر اور واضح منظر نگاری قاری کو مکہ مکرمہ کے نظاروں اور آوازوں میں غرق کرتی ہے، جس سے داستان کی صداقت اور جذباتی گونج میں اضافہ ہوتا ہے۔ کہانی کا بھرپور ثقافتی اور مذہبی پس منظر معنی کی تہوں کو جوڑتا ہے اور قارئین کو ایمان، محبت اور نجات کی نوعیت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
    گلزار دانش ایک جگہ لکھتے ہیں "اس عورت نے کہا تم پر مجھے ترس آیا ہے خدا نے تم کو یہاں بلا تو لیا لیکن یہاں بلا کر بھی دنیاوی لذت کی خواہش میں ڈال دیا ۔ شاہ جی کہتے ہیں یہ بات سن کر میں میں اپنے آپ سے ملنے لگا ۔ مجھے یوں عزت دے کر رسوا کیا گیا کے میری شرمندگی پر میرا خوف بھاری پڑنے لگا ۔ کھجور ہاتھ میں پکڑے اٹھا ہی تھا کے اس عورت نے مخاطب کر کے کہا جس وجود کو دیکھ کر تم کعبے کی حرمت بھول گئے ہو وہ ایک طوائف کا وجود ہے جو ہزاروں لوگوں کی جوٹھن ہے، یہ بات سن کر میرے وجود پر سکتہ طاری ہو گیا رونگٹے کھڑے ہو گئے دماغ جیسے مفلوج ہو گیا میرے اندر دھواں سا بھر گیا۔ جس کی کڑواہٹ نے کچھ اس طرح میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔ میں وہاں سے بھاگا اور سیدھا کعبے کے سامنے سجدے میں گر گیا”۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ گلزار دانش کا افسانہ "وصال” روحانیت، خواہش، اور نجات کی ایک فکر انگیز تحقیق پر مبنی بہترین کہانی ہے جو ہر عمر کے قارئین میں مقبول ہوسکتی ہے۔ شاہ صاحب کے خود شناسی کے سفر کے ذریعے گلزار دانش انسانی حالت اور معنویت اور ماورائیت کی ابدی جستجو کے بارے میں بہترین کہانی تخلیق کی ہے میں مصنف کو اتنی بہترین کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    Title Image by Petra from Pixabay

  • آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    ضلع چکوال کو غازیوں ، شہیدوں اور کھلاڑیوں کی سر زمین ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس خطہ میں ایسے بے شمار نوجوان منظر عام پر آئے جنہوں نے عسکری خدمات کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا ان میں سے ایک ضلع چکوال کے نامور ایتھلیٹ اور قومی ٹیم کے کوچ آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین ہے انہوں نے ایتھلیٹکس کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرنے کے علاوہ کوچنگ کے شعبہ میں بھی ملکی سطح پر گراں قدر خدمات انجام دین ان کی عمدہ کوچنگ کی بدولت وطن عزیز میں کئی ایسے کھلاڑی منظر عام پر آئے جنہوں نے نیشنل انٹرنیشنل سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا۔

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن ارشاد حسین 15 ستمبر 1938ء کو تحصیل و ضلع چکوال کے گاؤں تاسہ موہڑہ میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم کا اسم گرامی راجہ فرمان علی ہے ارشاد حسین نے ملازمت کا اغاز 15 دسمبر 1953ء کو پاکستان آرمی آرٹلری سینٹر اٹک سے کیا انٹر سروسز ایتھلیٹکس مقابلوں میں کامیابی کے بعد قومی ٹیم کے چناؤ کے لئے گائے گئے تربیتی کیمپ کے لیے منتخب ہوئے 1952ء میں قومی سطح کے مقابلوں میں کامیابیوں کا آغاز کیا 1958 میں نیشنل ایتھلیٹکس مقابلے پشاور میں منعقد ہوئے جن میں محمد ارشاد 110 میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے 1958ء میں ہی انٹرنیشنل ایتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہانگ کانگ میں ہوا جن میں ارشاد حسین نے 110 میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل کا اعزاز حاصل کیا ارشاد حسین نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں عسکری خدمات بھی انجام دیں جرآت و بہادری کے ساتھ وطن عزیز کا دفاع کرنے پر ارشاد حسین کو حکومت پاکستان کی طرف سے 13 اپریل 1971ء کو تمغہء ستارہ جرآت سے نوازا گیا اور 23 مارچ 1975ء میں پاکستان آرمی کی طرف سے تمغہء خدمت ملٹری درجہ دوم عطا کیا گیا انہیں پاکستان آرمی کی طرف سے بطور بیسٹ سپورٹس مین حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 1999ء میں آٹھویں سیف گیمز نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں منعقد ہوئیں جن میں ان سے تربیت حاصل کرنے والے ایتھلیٹ مقصود احمد (ٹمن تلہ گنگ) نے 200 میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے کے علاوہ نیا قومی ریکارڈ بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا 1991ء میں سیف گیمز کا انعقاد سری لنکا کے شہر کولمبو میں ہوا جن میں ارشاد حسین کی عمدہ کوچنگ کی بدولت ہی مسسز شبانہ اختر نے 100+4 میٹر ریلے دوڑ اور 400+ 4 میٹر ریلے دو ڑ کے ایونٹ میں دو بروز میڈل حاصل کئے 1995ء میں سیف گیمز انڈیا کے شہر مدراس میں منعقد ہوئیں جن میں شبانہ اختر 100+4 میٹر ریلے دوڑ ، 400+4 میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل اور لانگ جمپ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہیں ۔ شبانہ اختر 100 ، 200 میٹر ، ٹرپل جمپ ، ہائی جمپ ، لانگ جمپ اور HEC LAN کے ایونٹ میں قومی چیمپین اور ریکارڈ ہولڈر رہ چکیں ہیں۔

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن ارشاد حسین کو متعدد ممالک میں ایتھلیٹکس ٹیم کے ساتھ بطور کوچ اور آفیشل جانے کا موقع ملا 1989ء میں سیف گیمز اسلام اباد میں منعقد ہوئیں جن میں انہوں نے بطور آفیشل اور قومی خواتین ایتھلیٹکس ٹیم کوچ کی حیثیت سے شرکت کی تمام تر کامیابیوں کے بعد ارشاد حسین کو 15 اکتوبر 1982ء کو پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ ہو گئے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی سال تک پنجاب سپورٹس بورڈ میں کوچنگ کے شعبہ سے وابستہ رہے 1997ء میں اہلیان علاقہ نے آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین کو بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل چکوال منتخب کیا اس کے علاوہ وہ ممبر ضلعی عشرو زکوٰۃ کمیٹی رہے آنریری کیپٹن ارشاد حسین 20 اگست 2014ء کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس جہاں فانی سے رخصت ہو گئے ان کی نماز جنازہ علاقہ کی روحانی شخصیت سید غلام علی شاہ صاحب گدی نشین دربار عالیہ چھبر سیداں نے پڑھائی نماز جنازہ میں عوام الناس کے علاوہ ضلع چکوال کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ ابائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا دعا ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے امین ۔

  • خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا اردو افسانہ ‘عید’ منقطع روایات کی دلچسپ اور سبق آموز کہانی ہے جس میں مصنف نے شاہد نامی لڑکے کی سفر کے حالات و واقعات کو بیان کیا ہے، ایک محنتی اور تعلیم یافتہ لڑکا جو کینیڈا میں بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا وطن پاکستان چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ کینیڈا میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد شاہد نے عید منانے کے لیے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا وہ یہ سفر صرف یہ معلوم کرنے کے لیے کیا کہ تہوار کی روایات اور خوشی کا جذبہ بالکل بدل گیا ہے یا نہیں۔ کہانی شاہد کی مایوسی اور ناامیدی کو سامنے لاتی ہے کیونکہ وہ اپنے آبائی شہر میں عید کے ختم ہوتے ہی ثقافتی اور فرقہ وارانہ پہلوؤں کا مشاہدہ کرتا ہے۔


    ‘افسانہ عید’ کا مرکزی موضوع معاشی مشکلات اور سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے ثقافتی اور روایتی اقدار کے زوال کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ خالد اسراں نے عید کے ایک بار متحرک اور جشن کے ماحول پر مہنگائی، بے روزگاری اور جدیدیت کے اثرات کو اپنے افسانے میں پیش کیا ہے۔ کہانی فرقہ وارانہ جذبے کے نقصان اور سماجی و اقتصادی حرکیات کو بدلنے کی وجہ سے نسلوں کے درمیان تعلقات منقطع ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔
    افسانہ ”عید ” کی کہانی کو ساخت اور تھیم کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ افسانہ ‘عید’ کا بیانیہ شاہد کے خاندانی پس منظر، کینیڈا میں اس کی کامیابی اور پاکستان واپسی کے فیصلے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کہانی شاہد کے اپنے آبائی شہر میں عید کی تقریبات کی عصری حالت کے مشاہدات کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ اس کی پرانی یادوں اور تلخ حقیقت کے درمیان بالکل تضاد افسانے کے پلاٹ کی جڑ ہے۔ اسراں نہایت مہارت کے ساتھ داستان کو ایک منفرد اسلوب میں بیان کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جو قاری کو ثقافتی تبدیلیوں اور سماجی زوال کی پُرجوش تلاش کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
    خلد اسراں نے افسانہ ”عید” کی کہانی کی جذباتی گہرائی کو قارئین تک پہنچانے کے لیے مختلف ادبی آلات کا بھی استعمال کیا ہے۔ پاکستان میں ماضی کی عید کی تقریبات کو واضح طور پر پیش کرنے کے لیے امیجری کا استعمال کیا جاتا ہے، جو ان کے موجودہ حالات سے متصادم ہے۔ "زندہ لوگوں کا قبرستان” اور "انسانی شکل میں کالے جنات” جیسے استعارے روایت کے کھو جانے اور معاشرتی تبدیلیوں کے غیر انسانی اثرات پر زور دیتے ہوئے علامت کی ایک تہہ شامل کرتے ہیں۔
    افسانہ ‘عید’ کا تفصیلی تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ افسانہ ثقافتی طریقوں پر جدیدیت کے اثرات پر تنقید کرنے کے مصنف کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سنگین حقیقت کے مقابلے میں شاہد کی توقعات کی تفصیل کمیونٹی کو درپیش وسیع تر سماجی و اقتصادی چیلنجوں کا استعارہ ہے۔ روایتی سرگرمیوں کی عدم موجودگی، جیسے سوئی کا کام، فرقہ وارانہ اجتماعات میں کمی، اور تہواروں کی تجارت کاری، ثقافتی بندھنوں کے ٹوٹنے کی علامت ہے۔
    شاہد کا اپنے ایک زمانے میں مانوس پڑوس کی تلخ حقیقتوں سے ملاقات ایک بہترین اور سچ پر مبنی کہانی کو سامنے لاتی ہے۔ یہ کہانی عصری زندگی کے دباؤ کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔کہانی کا بیانیہ قارئین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ روایات، برادری کی اہمیت اور انفرادی شناخت پر سماجی تبدیلیوں کے اثرات پر غور کریں۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’ اقتصادی چیلنجوں اور جدیدیت کے تناظر میں ثقافتی روایات کے ابھرتے ہوئے منظر نامے پر ایک پُر اثر تنقیدی تبصرہ ہے۔ شاہد کے سفر کے ذریعے مصنف نے قارئین کو ثقافتی ورثے کی نزاکت اور عید جیسے تہوار کے جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسراں نے بڑی مہارت کے ساتھ کہانی سنانے کو سماجی تنقید کے ساتھ جوڑ کر ایک زبردست بیانیہ تخلیق کیا ہے۔ میں مصنف کو اتنی شاندار کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی

    یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی

    یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی

    بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی قواعد و ضوابط کی تاریخ میں قونصلر رسائی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ویانا کنونشن 1963ء کے تحت، جب کسی ملک کا شہری کسی دوسرے ملک میں گرفتار ہوتا ہے تو اسے قونصلر رسائی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ قونصلر رسائی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی فرد کے قانونی حقوق محفوظ رہیں اور اسے مناسب مدد فراہم کی جائے۔

    یونان میں گرفتار پاکستانی صحافی کی قونصلر تک رسائی


    حال ہی میں یونان میں پاکستانی صحافی اور میراتھن رنر مونا خان کی گرفتاری کا معاملہ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یونان میں پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مونا خان ہائیکنگ کے لیے یونان گئی تھیں اور پولیس نے ان کا فون بھی ضبط کر لیا تھا۔ ان کے کوچ محمد یوسف نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتاری سے ایک گھنٹہ قبل ان کا مونا خان سے آخری بار رابطہ ہوا تھا۔
    پاکستانی وزارت خارجہ نے یونانی حکام سے فوری طور پر صحافی مونا خان کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست کی تھی، جو کہ بالآخر منظور کر لی گئی ہے۔ قونصلر رسائی کی فراہمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ قونصلر رسائی کی بدولت پاکستانی حکام کو یہ موقع ملے گا کہ وہ مونا خان کے کیس کی تحقیقات کریں اور ان کی قانونی مدد کو یقینی بنائیں۔
    یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے قابل غور ہے:
    سفارتی آداب اور قانونی حقوق: مونا خان کی گرفتاری نے سفارتی آداب اور قانونی حقوق کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا یونانی پولیس کا رویہ مناسب تھا؟ کیا مونا خان کے قانونی حقوق کا احترام کیا گیا یا نہیں؟
    قومی پرچم کا احترام: قومی پرچم کا لہرانا کسی بھی شہری کا حق ہے اور اس کے ذریعے اپنی قومی شناخت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مونا خان کی گرفتاری سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا یہ اقدام غیر قانونی تھا یا نہیں۔
    میڈیا اور عوامی ردعمل: مونا خان کی گرفتاری کے اس ناخوشگوار واقعے نے پاکستانی میڈیا اور عوام میں بڑی ہلچل مچائی ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ قومی وقار اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔
    صحافی مونا خان کی آزادی کے لیے چند تجاویز نیچے دیئے گئے ہیں جن پر عمل کرکے ان کو آزاد کرایا جاسکتا ہے:
    قانونی معاونت: پاکستانی حکومت کو مونا خان کی قانونی معاونت کے لیے بہترین وکلاء فراہم کرنے چاہئیں تاکہ ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے اور وہ جلد از جلد رہائی حاصل کر سکیں۔
    سفارتی رابطے: یونانی حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
    میڈیا کے کردار کا تعین: میڈیا کو اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہئے تاکہ عوام میں درست معلومات پہنچ سکیں۔


    عوامی آگاہی: پاکستانی عوام کو بین الاقوامی قوانین اور ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیرون ملک سفر کرتے وقت وہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔
    صحافی و ایتھلیٹ مونا خان کی گرفتاری کا واقعہ ایک یاد دہانی کے طور ہمارے سامنے ہے وہ یہ کہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی پاسداری کس قدر اہم ہے۔ قونصلر رسائی کی فراہمی سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مونا خان کو جلد انصاف ملے گا اور ان کی قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان اور یونان کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔

  • دھوکے بازوں سے بچیے

    دھوکے بازوں سے بچیے

    دھوکے بازوں سے بچیے

    کیا آپ کا یہ مسئلہ ہے کہ آپ اپنے دوستوں ، رشتہ داروں اور جاننے والوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ایک دفعہ دھوکہ کھانے کے بعد دوبارہ ان پہ اعتماد کر لیتے ہیں اور وہ پھر آپ کو اسانی سے دھوکہ دے جاتے ہیں اگر آپ کا واقعی یہ مسئلہ ہے تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے


    ہم اپنے کاروباری ساتھیوں سے لے کر سیاسی لیڈروں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ مایوس نہ ہو ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی دھوکا کھاتا ہے سمجھدار وہ ہے جو اس سے سبق سیکھے وہ کسی دانا کا قول ہے
    عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ دھوکہ کھانے سے آتی ہے۔
    اسی سلسلے میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمام انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں آپ کا ارشاد مبارک ہے کہ "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں”
    انسان کے دھوکہ کھانے کی چار بنیادی وجوہات ہیں ان کا سد باب کر کے قوی امکان ہے کہ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ آپ انتہائی سادہ ہیں آپ سادہ کپڑے پہنتے ہیں سادہ زندگی تو یہ ایک اچھی بات ہے یہاں سادگی سے مراد میری یہ ہے کہ آپ معاملہ فہم نہیں ہے اپ لوگوں کی باتوں اور چاپلوسی کو اچھی طرح نہیں سمجھ پاتے ۔ عام طور پر لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں
    ایک جو دوسروں کی ہر بات کو ہی سچ سمجھ لیتے ہیں اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ دوسرا وہ جو ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں کسی بات پر بھی اعتبار نہیں کرتے یہ لوگ بھی آئیڈیل نہیں ہوتے ہر وقت الجھاؤ کا شکار رہتے ہیں تیسرا وہ لوگ جو نہ ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور نہ ہر بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں ، بلکہ ہر معاملے پر تحقیق کر کے اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو دھوکہ دینا آسان نہیں ہوتا
    دھوکہ کھانے کی دوسری وجہ ہے لالچ آپ نے سنا ہوگا کہ
    ٹھگ نہیں مر سکتے جب تک لالچی زندہ ہے
    اس کی مثال عام ہے ایک شخص کو کال آتی ہے کہ آپ کی گاڑی نکلی ہے اور اس کو آپ تک پہنچانے کے لیے اتنے پیسے درکار ہیں یا بے نظیر انکم پروگرام میں آپ کے اتنے پیسے نکلے ہیں وغیرہ وغیرہ یا سوشل میڈیا پر ویڈیو کے شروع میں لکھا ہوتا ہے یہ صرف ایک شربت ایک ہفتہ پینے سے آپ پتلے ہو جائیں گے آپ اس ویڈیو کو فورا دیکھتے ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی ویڈیو دیکھ رہے ہوتے ہیں جن کے جسم پر بوٹی کا نام و نشان نہیں ہوتا اب وہ اس بات میں اپنا دماغ استعمال نہیں کرتے کہ اگر ایک شربت پینے سے کوئی شخص پتلا ہو سکتا ہے تو دنیا میں کوئی شخص موٹا ہی نہ ہوتا اور اگر جس کمپنی نے لاکھوں روپے کی گاڑی آپ کو دی ہے تو وہ اب گاڑی آپ تک پہنچانے کے لیے آپ سے کچھ پیسے کیوں مانگ رہے ہیں اس لیے اپنے آپ کو لالچ سے بچائیں پھر آپ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکے گا۔
    دھوکہ کھانے کی تیسری وجہ آپ کے ارد گرد شاطر لوگ ہیں جو اپ کو اپنی گھٹیا چالوں میں پھنسا لیتے ہیں جیسے آپ کو نئے کاروبار کے لیے کسی کو ملنے جانا ہے تو وہ بندہ اپ کے سامنے فقیر کو 10 روپے کی بجائے 100 روپے دے دیتا ہے یا رشتے کے لیے آنے والے مہمانوں کے سامنے لوگ خود کو دیندار بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن ایک دفعہ دھوکہ تو کوئی بھی دے سکتا ہے لیکن اگر آپ بار بار دھوکہ کھاتے ہیں تو قصور آپ کا اپنا ہے آپ اناڑی ہیں آپ کو معاملہ فہمی نہیں آتی ۔ یہاں آپ کو لوگوں سے فورا متاثر ہونے کی عادت ہو چھوڑنا ہوگا


    دھوکہ کھانے کی چوتھی اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ خود کو نہیں جانتے آپ اپنے بارے میں لوگوں کی رائے پر بھروسہ کرتے ہیں جیسے آپ عام خدوخال کے مالک ہوں اور خود کو بہت خوبصورت سمجھتے ہو دوسرا آپ کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھائے گا اور اپ کو یہ یقین دلے گا کہ آپ بہت خوبصورت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری باتوں پر یقین دلا کر اپنا کام نکال لیتا ہے اور آپ دھوکہ کھا جاتے ہیں اس لیے اپ کو چاہیے کہ ہر ایک کی بات پر فورا یقین نہ کریں ، خود کو لالچ سے کوسو دور رکھیں ، لوگوں سے جلد اور بلا وجہ متاثر نہ ہوں اور اپنے بارے میں خود جانے اور اپنی رائے خود بنائیں اس کے برعکس جب کوئی آپ کو پھنسانے کے لیے کوشش کرے گا تو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں کوئی آپ کو دھوکہ نہیں دے پائے گا ذرا نہیں مکمل غور کریں

    Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

  • اٹک میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے اقدامات

    اٹک میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے اقدامات

    اٹک میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے اقدامات

    اٹک(ڈاکٹر شجاع اختر اعوان سے )ضلع بھر میں کانگو وائرس سے بچاو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں ان خیالات کا اظہارڈپٹی کمشنر راو عاطف رضا نے انسداد کانگو مہم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل انیل سعید،اسسٹنٹ کمشنر اٹک شگفتہ جبیں،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر اسد اسماعیل،ایڈیشنل ڈائر یکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر عبدالحمید،ڈی ایچ او ڈاکٹر کاشف حسین اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے،بر یفنگ دیتے ہوئے بتا یا گیا کہ ضلع اٹک میں اب تک دومریضوں کی کانگو وائرس کی وجہ سے اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ کا نگو کے تیسرے مریض کاٹیسٹ منفی آیا ہے اور وہ روبصحت ہے۔

    اٹک میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے اقدامات

    ڈپٹی کمشنر نے ہنگامی اقدامات کے احکامات دیتے ہوئے ضلع بھر میں دفعہ144کے تحت مویشی منڈیا ں بند کر نے اور مویشیوں کی بین الاضلاعی اور بین الا صوبائی منتقلی پر24مئی سے30مئی تک پابندی لگانے کا حکم دیا، انہوں نے ضلع بھر میں اینٹی کانگو سپرے،یو نین کو نسل کی سطح سے لے کر ضلعی سطح تک افسران کی کمیٹیاں تشکیل کر نے،متعلقہ افسران کے ذریعے انسد اد کانگو مہم کی کڑی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کر نے،عوامی آگاہی مہم،مویشیوں کی صحت اور نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کے لیے سر حدی چیک پوسٹوں کے قیام،کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمیٹی کو تمام جراثیم کش اور دیگر متعلقہ ادویات کی سٹاک کی تفصیلا ت اورعملے کو تمام داخلی اورخارجی راستوں پرمتعین کر نے کے بھی احکا مات جاری کیے ،وہ خود انسداد کانگو مہم کے سلسلے میں تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر یں گے،محکمہ صحت،لائیو سٹاک تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ڈی سی آفس کو لمحہ بہ لمحہ تمام حالا ت سے با خبر رکھیں

  • ٹیکے والا تربوز

    ٹیکے والا تربوز

    ٹیکے والا تربوز

    گرمی وطن عزیز پر اپنے عروج پر ہے ۔ ہر شخص اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو اس کے اثرات سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے ویسے ایک بات آپ لوگوں کی خدمت میں عرض کر دوں کہ گرمی تخ ملنگا، زیرہ، سونف، آلو بخارا سے کم صرف ہمارے ہی ملک میں ہوتی ہے باقی دنیا اس راز سے شاید لا علم ہے جو درخت لگا رہی ہے بہرحال اس موسم میں تربوز کسی نعمت عظیم سے کم نہیں یہ ہمیں سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دل ، آنکھوں اور جلد کے لیے مفید ہے ۔ بلڈ شوگر جسم میں بڑھنے نہیں دیتا ۔ جسم کو پانی کی کمی سے بھی بچاتا ہے تربوز میں اینٹی آکسائیڈنٹس ،غذائی اجزاء اور فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کو صحت مند رکھنے کے ساتھ ساتھ وزن میں کمی کا سبب بنتے ہیں اس کا لال رنگ دیکھنے سے ہی راحت محسوس ہوتی ہے پر سوشل میڈیا کے دانشوروں کا کیا کریں جو بلا تحقیق کچھ بھی کہہ دیتے ہیں ہے اور اس کا زیادہ تر نشانہ غریب لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ صرف اپنے ویوز بڑھانے کے لیے کسی بھی مفید چیز بلا وجہ تنقید کرتے ہیں ان میں سے اکثریت کم علم لوگوں کی ہوتی ہے جن کو سمجھدار لوگ نظر انداز کر دیا کرتے ہیں لیکن حال ہی میں کسی نے ویڈیو میں مبینہ طور پر دعوی کیا کہ تربوز کو انجیکشن لگایا جاتا ہے جب کسانوں سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے تربوز کو کبھی انجکشن لگاتے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہماری ساری زندگیاں کھیتوں میں گزر گئی ایسا تو ہم نے دیکھا نہ سنا ۔ اکثر کہتا ہوں کہ ہمارا رویہ ہی غیر پڑھا لکھا ہے . اگر یہ واقعہ کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوا ہوتا تو فورا اس بندے کو عدالت میں اپنے بیان کو ثابت کرنے کے لیے کہا جاتا ۔

    حیرانی کی بات ہے کہ دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے بھی توجہ نہ دی جو ان خود ساختہ دانشوروں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتے ۔ الیکٹرانک میڈیا ماہرین کو بھی عوام کی آنکھیں کھولنے کی زحمت نہیں ہوئی کسانوں کا نقصان ہوتا رہا ان کی محنت پر پانی پھر گیا اور یہ عوام کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں تو بجلی کے بل کم کروا دیں، کھاد کی قیمت کم کروائیں، دوائیوں کی قیمت کم کروائیں لیکن پتہ ہے نا وہاں مافیا ہے اس لیے لے دے کے تربوز ہی نظر آیا ۔ سوشل میڈیا کے بارے میں عوام کو سمجھنا چاہیے کہ یہ دانشور اس چوہے کی طرح ہے جو بند میں سوراخ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتا کہ اس کی صرف اس ایک حرکت سے گاؤں کے گاؤں ڈوب جائیں گے ۔ اسی طرح کا ایک دانشور ایک گاؤں میں رہتا تھا ایک دن ایک شخص ایک بڑی اونچی جگہ پر چڑھ گیا یہاں سے اترنا ممکن نہیں تھا تو اس دانشور نے رسی پھینکی اور بولا کے کمر پہ باندھ لو اور نوجوان لڑکوں کو بولا زور سے کھینچو جیسے ہی لڑکوں نے زور لگایا وہ دھڑام سے زمین پہ آ گرا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ دانشور شرمندہ نہیں ہوا بلکہ بولا کہ اس کی قسمت میں لکھا تھا میں نے تو اسی طرح کئی لوگ کنویں سے باہر نکالے ہیں۔ عوام میں ذی شعور لوگ جیسے اساتذہ، علماء وکلا اور ایماندار صحافی ان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے عوام سوشل میڈیا پہ ٹرینڈ کو فالو نہ کریں اور تربوز اور اس طرح کے دوسرے پھلوں کو کھا کر اپنی صحت بڑھائیں کیونکہ ماہرین کے مطابق تربوز کو ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا بلکہ یہ لوگ عوام کو ٹیکہ لگا کر بیوقوف بناتے ہیں اور مال کماتے ہیں اسی لیے ان سے دور رہیں ۔ کھائیں پئیں اور خوش رہیں

    Title Image by Microsoft Designer