Blog

  • اوپرا گیل ونفری – Orpah Gail Winfrey

    اوپرا گیل ونفری – Orpah Gail Winfrey

    اوپرا گیل ونفری – Orpah Gail Winfrey

    Dubai Naama

    دنیا بھر میں چند گنتی کے لوگ ایسے بھی ہیں جو دائیں ہاتھ سے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بناتے ہیں مگر وہ اس کی خبر اپنے بائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہونے دیتے۔ امریکہ میں ایک مشہور براڈکاسٹر اوپرا گیل ونفری بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جو اب 70 سال کی ہو چکی ہیں۔ ان کا ٹاک شو 8ستمبر سنہ 1986ء سے لے کر 25مئی سنہ 2011ء تک شکاگو سے مسلسل 25 برس تک چلتا رہا۔ اوپرا شو میں مائیکل جیکسن کے انٹرویو کو 90 ملین لوگوں نے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ اس شو میں امریکی صدر باراک اوباما، ان کی اہلیہ مشیل اوباما اور جارج بش بھی شریک ہوئے۔ شاید ہی کوئی سیلیبریٹی ہو جس نے اس ٹاک شو میں شرکت نہ کی ہو۔ اوپرا ونفرے شو کا آخری پروگرام دو دن پر مشتمل تھا جس میں میڈونا اور بیانسی جیسی فنکارائیں شامل ہوئيں۔ جن مداحوں نے اوپرا کو آخری شو ریکارڈ کرتے دیکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ آخری بار الوداع کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

    اوپرا گیل ونفری – Orpah Gail Winfrey

    جب اوپرا نے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعزاز میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں ایک میلہ منعقد کیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ انہوں نے ایک چوتھائی صدی تک 65,000 غریب لوگوں کی کفالت کی، یہ جانے بغیر کہ وہ کون ہیں۔ ان افراد میں سے بہت سے اسٹیڈیم میں اس تقریب میں شریک ہوئے جن میں تقریبا 450 لوگ اپنے محسن کا دیدار کرنے اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے موم بتیاں لے کر آئے تھے۔ ان افراد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے 5 پروفیسر بھی شامل تھے جنہوں نے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ایک مختصر خطبہ دیا تھا اور کہا تھا کہ: "اگر یہ اوپرا نہ ہوتی تو اب ہم اس سے مختلف جگہ پر ہوتے”.

    کیا ایک شخصیت 65 ہزار لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہے؟ آج کی دنیا میں ایسے لوگ چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ قدیم یونان کے مشہور فلسفی جانسن قلبی بھی دن کی روشنی میں گلیوں میں چراغ لے کر گھوما کرتا تھا تاکہ دنیا میں اجالا پھیلایا جا سکے۔ لیکن آج کے مادہ پرستی کے دور میں بھی ایسے چند لوگ موجود ہیں جن کی مثال روشنی کی مانند ہے۔ ایسے لوگ انسانوں کے روپ میں فرشتے ہوتے ہیں جن کا مزہب صرف انسانیت کی خدمت ہوتی ہے جس کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی صلہ، بلکہ یہ ایک اعلی و ارفع درجہ اور مقام ہے جس پر چند گنے چنے درد دل لوگ ہی پہنچتے ہیں۔

    اوپرا ونفری جنہیں "میڈیا کوئین” کہا جاتا رہا ہے ایک انتہائی غریب افریکن خاندان میں 29جنوری سنہ 1954ء میں پیدا ہوئیں۔ لیکن وہ اپنی محنت، خوداعتمادی اور قابلیت کے بل بوتے پر مشہور زمانہ مصنفہ، اداکارہ، پروڈیوسر اور میڈیا پرسن بنیں جنہیں 20ویں صدی کی واحد امیرترین ارب پتی افریکی امیریکن خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سنہ 1986ء میں انہوں نے "ہارپو پروڈکشن” کے نام سے نیٹ ورک قائم کیا جس کی وہ پہلی سی ای او اور چیئرمین بنیں۔ سنہ 2007ء میں انہیں دنیا کی سب سے موثر ترین خاتون شخصیت قرار دیا گیا۔ وہ سنہ 2008ء میں باراک اوبامہ اور ڈیموکریٹک کی حمایت سے ایک سیاسی قوت کے طور پر بھی ابھریں جنہوں نے امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ون ملین ووٹرز کو متحرک کیا۔ اسی سال انہوں نے اپنے نام سے "اوپرا ونفری نیٹ ورک” بھی قائم کیا۔ سنہ 2013ء میں امریکی صدر باراک اوباما نے انہیں "صدارتی ایوارڈ برائے آزادی” سے نوازا۔ انہیں بے شمار دیگر ایوارڈز دیئے گئے اور کچھ یونیورسٹیوں نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔

    اوپرا ونفری سماجی خدمات میں اب تک 3 بلین ڈالر سے زائد رقم تعلیمی اداروں بشمول چارٹر اسکولوں، افریقی و امریکی طلباء کی بہبود اور جنوبی افریقہ میں قائم اوپرا ونفرے لیڈرشپ اکیڈمی اور دیگر پروجیکٹس پر خرچ کر چکی ہیں۔ سنہ 1998ء میں اوپرا نے "اینجل نیٹ ورک” قائم کیا اور اپنے ویوورز کی زندگیاں بدلنے کیلئے 3.5 ملین ڈالر جمع کیئے جس میں بہت سارے صاحب حیثیت افراد نے عطیات دیئے۔ اس فنڈ کی مدد سے اوپرا نے سنہ 2000ء میں 15000 رضاکاروں کے ذریعے 150 مستحقین کے گھر بنوائے اور فی گھر 25ہزار ڈالر وظیفہ مقرر کیا۔ عطیات کو جاری کرنے تک ونفرے کو 80ملین ڈالر سے زائد کی رقم مل چکی تھی اور یہ زائد رقم کیٹرینا اور ریٹا نامی طوفانوں کی وجہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کے کام آئی۔ یہ نیٹ ورک 13 ممالک کے 60 سے زائد اسکولوں کو چلا رہا ہے جہاں کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جاتی ہے۔ اب یہ اینجل نیٹ ورک اوپرا ونفرے چیریٹیبل فاوُنڈیشن کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔اس کے علاوہ بھی اوپرا کی کئی سماجی اور انسانی فلاح و بہبود کی خدمات ہیں جن کا اس مختصر کالم میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

    ان سطور میں اوپرا جیسی "سیلف میڈ وومین” کے ذکر کرنے اور ان کی سماجی و انسانی خدمات گنوانے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نیکی وہی ہے جو اعلانیہ کرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے کی جاتی ہے ناکہ اس میں دکھاوا کیا جاتا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنے والے مستحقین کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

    یاد رکھیں نیکی کا مزہ ہی چھپ کر کرنے میں ہے بتانے اور اس کا ڈھنڈورا پیٹنے سے ایک تو نیکی کا وزن کم ہو جاتا ہے اور دوسرا نیکی کرنے والے میں غرور پیدا ہوتا ہے جس سے لوگوں کی زندگیاں بدلنے والی نیکی بھی غارت ہو جاتی ہے۔ ایک یہ ونفری ہیں کہ جو آج بھی کیلیفورنیا مونٹیسوری میں پہاڑوں اور ساحل سمندر کے نظاروں میں گھری 42ایکڑ کی ریاست میں رہتی رہی ہیں جس کے دروازے ضرورت مندوں کے لئے آج بھی 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

  • خون کا عطیہ

    خون کا عطیہ

    خون کا عطیہ


    عظیم ہیں وہ لوگ جو بغیر کسی لالچ کے دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیئے خون کے عطیات پیش کر دیتے ہیں ایک طرف تو وہ خون دے کر دوسرے کی جان بچا رہے ھوتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کا یہ عمل ان کی اپنی صحت کی بہتری کے لیئے معاون ثابت ھوتا ھے ہر سال دنیا بھر میں 14 جون کو خون کے عطیہ کے حوالہ سے عالمی دن منایا جاتا یہ دن کارل لینڈ اسٹینر کی سالگرہ 14 جون کی مناسبت سے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں منایا جانا ھے کارل لینڈ اسٹینر وہ طبی ماہر تھے جہنوں نے پہلی بار بلڈ گروپ سسٹم ایجاد کیا جس کی بدولت آج تک اسی سسٹم کے تحت محفوظ طریقہ سے ضرورت مند افراد کو خون منتقل کیا جا رہا ھے خون کے عطیہ کے حوالہ سے عالمی دن کا مقصد خون کے عطیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور خون کے عطیات فراہم کرنے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنا ھے دنیا بھر میں سالانہ دس کروڑ افراد خون کا عطیہ دیتے ہیں مگر اس کے باوجود ھزاروں افراد بر وقت خون نہ ملنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں صرف پاکستان میں سالانہ تیس لاکھ خون کے عطیات کی ضروریات ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں خون کے عطیات بارے شعور بہت کم ھے نہ صرف عام باشندے بلکہ پڑھے لکھے صحت مند افراد بھی خون کا عطیہ دینے سے جان کتراتے ہیں۔ اپنے قریبی عزیزوں کو بستر مرگ پر پڑا چھوڑ کر بجائے اپنا خون عطیہ کرنے کے ان کے لیئے خون کے عطیات کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ خون دینے کے بہت ذیادہ فوائد ہیں۔

    آج کل کے دور میں سوشل الیکڑانک و پرنٹ میڈیا پر اس بات کو خوب اجاگر کرنے کی ضرورت ھے کہ خون کے عطیات دینا صحت کے لیئے کسی طور پر بھی نقصان دہ نہیں طبی ماہرین کے مطابق خون دینے سے ذھنی صحت بہتر ھوتی ھے دل کی بیماری کا خطرہ کم ھوتا ھے خون کے نئے خلیوں کی پیدوار بڑھتیھے نظام دوران خون میں بہتری آتی ھے اور خون کے جمنے کے امکانات کم ھوتے ہیں جس کی وجہ سے شریانوں کی بندش کے خطرات کافی حد تک کم ھو جاتے ہیں جو لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر خون کا عطیہ دیتے ہیں چند ہی ہفتوں میں ان کے جسم میں خون کی یہ کمی پوری ھو جاتی ھے ایسے افراد میں بیماریوں کا شکار ھو کر جلد طبی موت کے امکانات کم ھوتے ہیں۔ کیونکہ ایسے افراد میں کینسر اور ہارٹ اٹیک اور فالج کے امراض کم ھوتے ہیں عالمی ماہرین صحت کے مطابق خون کا عطیہ دینے کے کوئی نقصانات نہیں ہیں بعض اوقات جسم میں تھکاوٹ یا کمزوری محسوس ھوتی ھے جو خوراک کے ذریعے دور ھو جاتی ھے خون عطیہ کرنے کے بعد متوازن غذا اور پھلوں کا استعمال نئیے خلیوں کی تیزی سے نشوونماء کرتا ھے جس سے انسان اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ صحت مند اور فریش محسوس کرتا ھے 17 سال عمر سے اوپر اور 60 سال تک کا صحت مند انسان ایک محفوظ عمل کے ذریعے اپنا خون اپنے ہی گروپ یا کسی بھی ایسے بلڈ گروپ جس کو اس کا خون لگ سکے خون منتقل کروا سکتا ھے جس مریض کو اس خون کی ضرورت ھو ایسے افراد اگر ایک بار خون عطیہ کر دیں تو ان کے تمام تحفظات دور ھو جاتے ہیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی افراد زچگی کے دوران خواتین تھیلیسیمیاءکے مرض میں مبتلا بچوں اور دیگر کئی پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں کا انحصار صحت مند خون پر ھوتا ھے 17 سال سے زائد اور 60 سال تک عمر کے صحت مند افراد اپنے بلڈ گروپ کے کسی بھی افراد کو خون عطیہ کر سکتے ہیں خدمت انسانیت ایک عظیم عبادت ھے ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ھے راقم الحروف ذندگی میں متعدد مرتبہ خون کا عطیہ دے چکا ھے اور صحت پر کسی بھی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ھوئے ضرورت مند مریضوں کو خون کے عطیات دینے میں پیچھے نہ رہیں

    بقول غالب ۔۔
    رگوں میں دوڑنے پھیرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ھے

    Title Image by Robert DeLaRosa from Pixabay

  • سید حبدار قائم اور صبحِ نعت

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت


    تحریر : نیاز خان اعوان

    سید حبدار قائم کا تعلق غریب وال پنڈی گھیب ضلع اٹک سے ہے ۔ اب تک ان کی تین نثری کتابیں نمازِ شب ، اکھیاں وچ زمانے ، چھانگلہ ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخآری سیرت و کردار اور دو عدد نعتیہ مجموعے مدحِ شاہ زمن اور صبح نعت شائع ہوکر عوام میں سندِ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ، اور ان کی پزیرائی ، مقبولیت اور شہرت کا باعث بنے ہیں ۔ ان کے پہلے شعری مجموعے مدحِ شاہ زمن پہ انھیں گولڈ میڈل ملا ، ان کا دوسرا نعتیہ مجموعہ 160 صفحات پہ مشتمل ہے ۔ اس نعتیہ مجموعے میں ان کے ایک مضمون اظہارِ خیال ، گہر رحمان گہر مردانوی کی تقریظ کے ساتھ ایک عدد حمدِ باری تعالٰی ، اڑسٹھ نعتیں اور چھ عدد سلام و مناقب شامل ہیں ۔ اسلوب کے لحاظ سے انھوں نے اپنی نعتوں کے اظہار کے لیے آسان اور عام فہم زبان کا انتخاب کیا ہے ، جو کہ ان کی شاعری کا خاص وصف ہے ۔

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت


    ہیئت کے لحاظ سے ان کی حمدِ باری تعالٰی ، تمام نعتیں اور سلام و مناقب غزل نما ہیں ۔ جس سے ان کی شاعری میں غنائیت پیدا ہوگئی ہے ۔ کوئی بھی نعت خوان ان کی نعتیں آسانی سے ترنم سے پڑھ سکتا ہے ۔انھوں نے اپنی نعتوں میں خوب صورت ردیف اور قافیے استعمال کیے ہیں ، جس سے ان کی نعتوں میں خوب صورتی اور حسن پیدا ہوگیا ہے ۔ انھوں نے اپنے کلام کے اظہار کے لیے سالم و مزاحف اور طویل و قلیل بحور سے زبردست استفادہ کیا ہے ۔ انھیں بحور پر مکمل عبور حاصل ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان کی کاوشیں اپنے در میں منظور و قبول فرمائے اور انھیں مزید ترقیاں نصیب فرمائے ۔
    ان کی نعتوں سے نعتیہ اشعار کے نمونے ملاحظہ فرمائیں :
    جب نام ان کا آئے تو صلِ علٰی کہو
    آئے گی پھر مٹھاس تمھاری زبان میں

    ناموسِ مصطفٰی کے لیے جان بھی فدا
    کچھ تیر پاس رکھتا ہوں اپنی کمان میں

    اشک سے تر ہوگیا دامن مرا
    جب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نام آئے نعت میں

    اشک لے کر مدینے جاؤں گا
    اپنے رخسار پر سمائے ہوے

    درودِ نبی سے منایا ہے رب کو
    مجھے زندگی میں یہ کام آگیا

    چلنا ہے گر حضور کی سیرت پہ مستقل
    حبدار نفس و قلب کو پہلے سدھار رکھ

    نبی پر جو قائم رقم کی ہے مدحت
    منور معنبر یہی شاعری ہے

    مسلماں نے چھوڑا جو طرزِ نبی کو
    تو دنیا میں درگت بنی ہے ہماری

  • جبیں نازاں کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    جبیں نازاں کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    جبیں نازاں کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    جبیں نازاں ہندوستان سے تعلق رکھنے والی اردو کی ممتاز ادیبہ اور شاعرہ ہیں، انھوں نے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نویسی سے کیا ‘ بیک وقت کئ اصناف میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔ افسانے، کہانیاں، انشائیہ، فکاہیہ، ادبی اور سیاسی مضامین، کے علاوہ آپ حمد، نعت، منقبت، نظم اور غزل کی شاعرہ بھی ہیں، آپ کی غزل میں انسانی جذبات کی شاندار الفاظ میں عکاسی کی گئی ہے۔ آپ کی شاعری میں بار بار آنے والی گریز کی خصوصیت موجود ہے، محبت، آرزو اور معاشرتی مجبوریوں کو باریک بینی سے شاعری میں سمونے میں جبیں نازاں کی مہارت کا ثبوت ہے۔ آج کا یہ کالم جبیں نازاں کی غزلیہ شاعری کے موضوعاتی عناصر، اسلوبیاتی آلات اور فکری گہرائی کے تجزیاتی جائزے پر مبنی ہے، جس سے عصری اردو ادب میں جبیں نازاں کی شراکت کو اجاگر کیا جائے گا۔


    غزل کا یہ شعر "دن رات غزل ہوتی ہے” محبت کی پیچیدگیوں اور عاشق کے ہمہ جہتی تجربات کو بیان کرتی ہے۔ ہر شعر ایک الگ منظر نامے کو سمیٹتا ہے، جس میں خواہش اور مایوسی، امید اور ناامیدی کے درمیان دوغلے پن کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پرہیز "غزل ہوتی ہے” ایک شاعرانہ آلہ اور فلسفیانہ بیان دونوں کے طور پر کام کرتی ہے، شاعرہ یہ بتاتی ہے کہ زندگی اور محبت کا جوہر شاعری کی تخلیق کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
    جہاں آپ کی شاعری میں تڑپ ہے وہاں تخیل بھی ہے مثلاً
    "نیند شاعر کو نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
    چاند‌ منہ ان کا چڑائے تو غزل ہوتی ہے”
    یہ اشعار شاعرہ کی بے خواب راتوں پر زور دیتا ہے جہاں نیند کی عدم موجودگی شاعرانہ ترغیب کے لیے زرخیز زمین بن جاتی ہے۔
    "چاند‌ منہ ان کا چڑائے تو غزل ہوتی ہے” (یعنی ان کا چاند جیسا چہرہ جوں ہی نظر آتا ہے تو غزل ہوتی ہے): محبوب کے چہرے کو چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے، اردو شاعری میں خوبصورتی اور روشن خیالی کی علامت ہے۔
    آپ کی شاعری میں معاشرتی پابندیوں اور خوف کا ذکر بھی ملتا ہے جیسے
    ”ڈر سے ابا کے بھگائے تو غزل ہوتی ہے
    لاج دونوں کی بچائے تو غزل ہوتی ہے”
    (شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر باپ کا خوف ہو تو بندہ بھاگتا ہے اس گھبراہٹ کی وجہ سے تو غزل ہوتی ہے) یہ اسلوب سماجی دباؤ اور خاندانی مجبوریوں کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر رومانوی حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
    "لاج دونوں کی بچائے تو غزل ہوتی ہے” (شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر اس سے دونوں کی عزت بچ جاتی ہے تو غزل بنتی ہے) یہاں شاعرہ محبت میں عزت بچانے کے نازک توازن کو چھونے کی کوشش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، جو روایتی معاشروں میں ایک اہم تشویش ہے۔
    آپ کی شاعری میں وقتی خوشی کے ساتھ ساتھ فریب کا بھی ذکر ملتا ہے مثلاً
    "در پہ مجبوب بلائے تو غزل ہوتی ہے
    پھر جھٹک ہاتھ چھڑا ئے تو غزل ہوتی ہے”
    (شاعرہ کہتی ہیں کہ محبوب دروازے پر پکارے تو غزل ہوتی ہے) یعنی اس شعر میں محبوب کے بلائے جانے کی خوشی لمحاتی ہے۔
    "پھر جھٹک ہاتھ چھڑائے تو غزل ہوتی ہے” (یعنی پھر اگر وہ آپ کا ہاتھ چھڑائے تو ایک غزل بنتی ہے) شاعری کا یہ اسلوب اچانک دستبرداری اور محبت میں شامل غیر متوقع اور دل کی تکلیف کی علامت ہے۔
    جبیں نازاں کی غزل شاعری کے روایتی ڈھانچے پر قائم ہے، جس میں ایک مطلع لہجے کو ترتیب دیتا ہے اور ایک مقطع دستخطی تکمیل فراہم کرتا ہے۔ سادہ لیکن فکر انگیز زبان کا استعمال جذباتی اثر کو بڑھاتا ہے، جس سے غزل قابل رسائی ہونے کے ساتھ ساتھ گہری بھی ہو جاتی ہے۔
    آپ کی شاعری میں جہاں تکرار ہے وہاں پرہیز بھی ہے مثلاً
    پرہیز "غزل ہوتی ہے” ایک تال کا تسلسل پیدا کرتی ہے، جو انفرادی دوہے کو ایک مربوط پوری شاعری میں باندھ دیتی ہے۔ یہ تکرار نہ صرف موضوعاتی وحدت کو تقویت دیتی ہے بلکہ آرزو اور عکاسی کی تکراری نوعیت کا آئینہ دار بھی ہے۔
    آپ کی شاعری میں بہترین تصویر کشی کے ساتھ ساتھ بہترین استعارات و تلمیحات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
    جبیں نازاں حسی تجربات کو جنم دینے کے لیے واضح تصویر اور استعارے کا استعمال کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، محبوب کے چہرے کا چاند اور خوابوں کو چوری شدہ امن سے تشبیہ دینا ایک بہترین جذباتی منظر نامہ بنانے میں کارگر نظر آتا ہے۔
    غزل میں جہاں جہاں تضاد کا ذکر آیا ہے – وہاں ملاپ کا بھی ذکر ملتا ہے۔
    ہر شعر متضاد جذبات اور حالات کو جوڑتا ہے، جیسے خوشی اور غم، موجودگی اور غیر موجودگی، اور امید اور مایوسی۔ یہ تضاد شاعری کی جذباتی گونج کو بڑھاتا ہے اور محبت اور زندگی میں موجود تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔
    آپ کی غزل صرف شاعرانہ تاثرات کا مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ محبت کی تہذیبی اور معاشرتی حرکیات پر بھرپور تبصرہ بھی ہے۔ معاشرتی مجبوریوں، خاندانی دباؤ، اور خوشی کی عارضی نوعیت کا حوالہ انسانی رشتوں اور سماجی تانے بانے کی گہری سمجھ کی عکاسی کرتا ہے۔
    غزل ایسے موضوعات کو چھوتی ہے جو جنوبی ایشیائی معاشروں میں ثقافتی طور پر اہم ہیں، جیسے عزت، خاندانی اختیار، اور محبت کی عوامی-نجی اختلافات وغیرہ۔ یہ ثقافتی تناظر غزل کے بیانیے کو تقویت بخشتا ہے اور معنی کی تہوں کو جوڑتا ہے۔
    آپ کی شاعری میں فلسفیانہ مظاہر بھی دکھائی دیتے ہیں گریز کے ذریعے جبیں نازاں فلسفیانہ طور پر یہ تجویز کرتی ہے کہ شاعری کی تخلیق انسانی تجربے کا ایک موروثی حصہ ہے، خاص طور پر جذباتی انتشار کے وقت۔ یہ خیال غزل کو محض اظہارِ محبت سے انسانی کیفیت کی عکاسی تک پہنچاتا ہے۔
    جبیں نازاں کی غزل کا یہ شعر "دن رات غزل ہوتی ہے” ایک پُرجوش اور فکری طور پر محرک کام ہے جو محبت، آرزو، اور معاشرتی مجبوریوں کے لازوال موضوعات کو حل کرتے ہوئے غزل کے جوہر کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ زبان، منظر نگاری اور ساخت کے اپنے ماہرانہ استعمال کے ذریعے، جبیں نازاں نہ صرف غزل کی روایتی جڑوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے بلکہ اسے عصری مناسبت سے بھی متاثرکن بناکر پیش کرتی ہے۔ یہ غزل اس کی شاعرانہ صلاحیت اور انسانی دل کے بارے میں اس کی بصیرت اور افہام و تفہیم کا ثبوت ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے جبیں نازاں کی غزل پیش خدمت ہے۔
    *
    غزل
    *
    نیند شاعر کو نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
    چاند‌منہ ان کا چڑائے تو غزل ہوتی ہے

    ڈر سے ابا کے بھگائے تو غزل ہوتی ہے
    لاج دونوں کی بچائے تو غزل ہوتی ہے

    در پہ مجبوب بلائے تو غزل ہوتی ہے
    پھر جھٹک ہاتھ چھڑا ئے تو غزل ہوتی ہے

    روز اک خواب دکھائے تو غزل ہوتی ہے
    چین تعبیر چرائے تو غزل ہوتی ہے

    غیر کو دولہا بنائے تو غزل ہوتی ہے
    دلربا ٹھینگا دکھائے تو غزل ہوتی ہے

    آئے معشوق کی بارات کہ نکلے ڈولا
    وقت منحوس رلائے تو غزل ہوتی ہے

    نازاں! مہمان جو آئے تو غزل ہوتی ہے
    اور آ کر وہ نہ جائے تو غزل ہوتی ہے۔

    Title Image by Kev from Pixabay

  • موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی چھْٹیاں ہوتے ہی طلبا و طالبات کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا،جبکہ خوشی کی بات یہ کہ عید الضحٰی موسم گرما کی چھٹیوں میں آرہی ہے، ان چھٹیوں کا لطف دوبالا کرنے کے لئے بچے مختلف پروگرام ترتیب دیتے ہیں اس موقع پر اپنے عزیزواقارب کے ہاں جانے کے پروگرام بنتے ہیں،معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے تفریحی مقامات پر جایا جاتا ہے، شمالی علاقہ جات کی سیر کی جاتی ہے جبکہ بچوں کی اکثریت سمر کیمپ کو ترجیح دیتی ہے۔بہت سے سکول و کالجز بھی سمر کیمپ پروگرامز کا اعلان کردیتے ہیں اور بہت سے ایجوکیشنل اکیڈمیز یا کمیونٹیز بھی سمر پروگرامز کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ بچوں کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ اس ضمن میں بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق پروگرام مرتب کرکے دیے جاسکتے ہیں۔


    سمر کیمپ ایسا ہونا چاہئے جہاں طا لبِ علموں کی ذہنی آبیاری ہو،کھیلوں کاسامان ہو۔وسیع وعریض گراؤنڈز ہوں،تقریری مقابلے ہوں، پینٹگز کے مقابلے ہوں،غرضیکہ بچوں کی دلچسپی کے ہرقسم کے پروگرامزشامل ہونے چاہئیں ۔ یوں تو تعلیمی اداروں میں تقریباً سارا سال بچوں کے لئے نصابی و غیرنصابی گرمیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن موسم گرما کی چھٹیوں میں خاص طور پرسمر کیمپ کا اہتمام کیا جاتا ہے،جہاں بچے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ سمر کیمپ میں مختلف موضوعات پر تقریبات ہوتی ہیں اس لئے کہ طلبہ و طالبات کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی آبیاری اور معلومات میں بھی اضافہ ہواور وہ بڑے ہو کر معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ طلبہ وطالبات ان تقاریب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نئی نسل کو باصلاحیت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ، مختلف مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ بچے مختلف زبانوں میں ملی نغمے اور ترانے پیش کر تے ہیں۔ اس کے علاوہ سمر کیمپس میں طلبہ و طالبات کو عملی کام سکھانے کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔ کئی ایسے سمر کیمپ ہیں جہاں طلبہ و طالبات کو کوکنگ و بیکنگ کے کورسز کرائے جاتے ہیں۔آج کل لڑکیاں ہی نہیں ، لڑکے بھی کھانے پکانے میں دلچسپی لیتے ہیں تو،انہیں ایسے سمر کیمپ میں بھیجا جاسکتا ہے جہاں بچوں سے ہی پوچھ کر ڈش کا انتخاب کیا جاتاہے اور اس کی تیاری کرتے ہوئے بچوں کو تمام چیزوں کے بارے میں بتایا جاتاہے اور چھوٹے چھوٹے کام بچوں سے بھی کروائے جاتے ہیں۔
    طالبِ علموں کو باغبانی بھی سکھائی جاتی ہے۔ بچے روزانہ کیاری کی دیکھ بھال کرنے اور پودوں کو بڑھتادیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ اس سے بچوں میں اپنا کام خود کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پکنک اور مختلف تفریحی و مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، خاص طور پر تاریخی مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے۔
    آرٹ اینڈ کرافٹ سمر کیمپ کا خا ص حصہ ہو تے ہیں۔ بچوں کو پینٹنگ کرنے کے لیے بڑی شیٹ اور پینٹ دیا جاتاہے لیکن یہ کام کرنے سے پہلے فرش پر اخبار یا پلاسٹک بچھوائیں پھر اس پر شیٹ رکھ کر ان سے پینٹنگ کروائیں۔ بچے اپنی پسند کی چیزیں بنانے میں انجوائے کریں گے۔ جب وہ اپنا کام کر چکیں تو تمام چیزیں سمیٹنے کی ہدایت کریں اور جگہ کو صاف کروائیں۔
    مختلف سائز کے موتی اور تار بچوں کو دیں اور انھیں جیولری بنانے میں مصروف کریں۔ یہ کام چھوٹے بچے بھی کرسکتے ہیں۔ بچے جیولری بنانے میں بہت دلچسپی لیں گے اور اپنی بنائی ہوئی جیولری پہننے میں انھیں بھی بہت ہی اچھا لگے گا۔
    بچوں کو لائبریری لے جایا جاتا ہے۔ جہاں بچوں کو دلچسپ معلوماتی اور کہانیوں کی کتابیں دی جاتی ہیں تاکہ کورس کی کتابوں کے علاوہ بچے مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھیں ۔کتابیں پڑھنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ پڑھنے سے انہیں ، لکھنے کا شوق ہوگا اور ان کا تخیل مزید پروان چڑھے گا۔
    بہت سے سمر کیمپ کمیپوٹر کورسز پر مشتمل ہوتے ہیں ، جہاں بچے بنیادی تعلیم سے لے کر گرافک ڈیزائننگ بھی سیکھتے ہیں اور پروگرامنگ میں بھی صلاحیتوں کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔
    اگر بچہ انگلش بولنے ، سمجھنے یا سمجھانے میں مشکلات کا شکار ہے تو یہی موقع ہے کہ اسے انگلش لینگویج کورس کروائیں ،اگر اس کی انگلش اچھی ہے تو پھر دیگرزبانیں جیسے فرینچ یا چائنیز لینگویج بھی سیکھنے بھیجا جاسکتاہے۔
    تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بچے ایک سے زیادہ چیزوں میں مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر نصابی سرگرمیاں شخصیات ابھارنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں غیرنصابی سرگرمیوں پر توجہ بہت ہی کم دی جا رہی ہے۔ بیالوجی، سائیکلولوجی اور نیورولوجی میں ہونے والی جدید تحقیق نے بھی کھیلوں کی اس غیرنصابی سرگرمی کی لازمی ضرورت کو ثابت کیا ہے۔عموماََ بچے پانچ ماہ کی عمر میں دستیاب چیزوں کے ساتھ کھیلنے کی ابتدا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ننھے منے سائنسدان ہوتے ہیں۔ بچے تجربے کرکے چیزوں کی خصوصیات جان لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کام کیسے کرتی ہیں؟ ان کے ساتھ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ پھر ان سے ملتی جلتی اشیاء پر بھی یہی تجربات کرکے دیکھتے ہیں۔ چیزوں کو توڑنے جوڑنے کی کوشش میں جو مشکلات انہیں درپیش ہوتی ہیں، ان پر اپنی عقل کے مطابق قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے بچوں نئے نیورل کنکشن قائم کرتے ہیں اور بچوں میں ذہنی نشوونما پروان چڑھتی ہے، جو انہیں اپنے اردگرد کے ماحول سے جڑے رہنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

    اگر بچوں کو غیرنصابی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے تو وہ نیورل کنکشن قائم کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نصابی سرگرمیوں میں بہ نسبت دوسرے بچوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس طرح ان کے سمجھنے کی صلاحیت میں ایک حد تک خلل واقع ہوجاتا ہے۔ ایسے بچوں کے لیے ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ناممکن ہوتا ہے۔ ہماری سوسائٹی میں سکول میں پڑھائی کے اوقات میں اضافہ اور بے جا ٹیسٹ کی وجہ سے بچے ہر وقت پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی غیرنصابی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو بچوں کی ذہنی وجسمانی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سکول میں دیا جانے والا ہوم ورک اور ٹیوشن ورک سے بچہ ہر وقت اسکول کے ماحول سے جڑا رہتا ہے۔ اسے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ جن بچوں کو کھیل کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے ایسے بچوں کے دماغ میں نقص رہ جاتا ہے۔ بڑھوتری کے مطابق جو بچے نہیں کھیلتے یا جن کو کھیلنے کے مواقع نہیں ملتے ان کے غیر معمولی حد تک متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ میدان ویران پڑے ہیں۔ بگڑتے حالات کی وجہ سے بچے آزادی سے کھیل نہیں سکتے۔ بچے اسکول کے بعد ذہنی طور پر اس قدر تھک چکے ہوتے ہیں کہ وہ کھیلنے کے بجائے گھر پر بیٹھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور گھر گھر میں موجود انٹرنیٹ کی سہولت ان کے لیے مزید مسئلہ بن چکی ہے۔ پڑھائی کے بعد وہ اپنا وقت انٹرنیٹ کو ہی دینا پسند کرتے ہیں۔ کھیلوں کے میدان آباد رکھنے کے لیے اور بچوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے اسکول وکالج انتظامیہ کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

    Title Image by Rosy / Bad Homburg / Germany from Pixabay

  • اے آر وائی ARY والے حاجی عبدالرزاق مرحوم

    اے آر وائی ARY والے حاجی عبدالرزاق مرحوم

    اے آر وائی ARY والے حاجی عبدالرزاق مرحوم

    Dubai Naama

    کاروبار کی کامیابی میں قسمت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک عام آدمی اگر مصمم عزم کر لے اور مسلسل محنت کرنے لگے تو وہ اپنے کاروبار کو ملٹی نیشنل بزنس میں بھی بدل سکتا ہے۔پاکستان کی جن عظیم الشان کاروباری شخصیات نے کامیاب کاروبار کے ساتھ ساتھ ایمانداری اور اصول و ضوابط میں نیک نامی کمائی ان میں اے آر وائی ARYجیولرز، اے آر وائی ٹی وی چینل اور اے آر وائی گروپ آف کمپنیز کے مالک حاجی عبدالرزاق مرحوم سرفہرست ہیں۔ اللہ پاک حاجی عبدالرزاق مرحوم کو غریق رحمت کرے، انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے کاروبار کو متحدہ عرب امارات اور دبئی و ایشیاء سے لے کر یورپ اور افریقہ تک پھیلا لیا تھا۔

    اے آر وائی ARY والے حاجی عبدالرزاق مرحوم

    میری حاجی عبدالرزاق صاحب کی زندگی میں ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر ان کے بارے میں بہت کچھ سنا جو سینہ بسینہ آگے بڑھتا رہا ہے۔ حاجی عبدالرزاق کی کاروباری کامیابیوں پر اگرچہ بہت کچھ نہیں لکھا گیا مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان کے کاروباری خاندانوں میں ان کا ایک منفرد نام ہے۔ پاکستان میں بڑے کاروباری گروپس اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیئے سیاست کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں جیسا کہ خود زرداری اور شریف فیمیلز کرتی آئی ہیں یا جس طرح ملک ریاض اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیئے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کو بطور چھتری استعمال کرتے آئے ہیں۔ لیکن حاجی عبدالرزاق یا اے آر وائی ARY گروپ نے اس قسم کا کبھی کوئی ہتھکنڈا استعمال نہیں کیا۔ اگرچہ ان کے بارے میں کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی مگر حاجی عبدالرزاق پاکستان کے ایسے کاروباری ٹائیکون تھے جنہوں نے ایک متوسط طبقے سے بھی نچلی کلاس کے ایک عام آدمی کے طور پر کوڑیوں کے سرمائے سے کاروبار کا آغاز کیا اور پھر جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت اے آر وائی گروپ کی ایک پوری بزنس ایمپائر کھڑی ہو چکی تھی۔

    امریکی امیر ترین بزنس مین بل گیٹس کا ایک قول ہے کہ وہ کاروبار میں سرمایہ نہیں لگاتے بلکہ وہ اس کی کھپت انسانوں کی جماعت پر کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کاروبار کو بڑھانے کے لیئے انسانوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ملٹی نیشنل بزنس کی کامیابی کا بنیادی راز بھی یہی ہے کہ آپ اپنے کاروبار میں سرمایہ لگانے کی بجائے اپنی کاروباری ٹیم پر لگاتے ہیں تو آپ کی ٹیم کا ہر رکن آپ کے کاروبار کو اپنا کاروبار سمجھ کر ترقی دیتا ہے۔ حاجی صاحب انتہائی ملنسار شخصیت کے مالک تھے اور وہ اپنے ادارے سے منسلک افراد کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے، کسی کاروبار کی تنظیم سازی ہی اس کی وفاداری کی ضمانت ہو سکتی یے۔ چونکہ حاجی عبدالرزاق کے بارے میں بھی یہی سنا ہے کہ ان کی نظر انتخاب اس بلند پائے کی تھی کہ انہیں وفادار ملازمین کی ایک ٹیم ملی اور ان کا کاروبار آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔

    آج حاجی عبدالرزاق دنیا میں نہیں رہے اور ان کا کاروبار ان کی بیٹیاں چلا رہی ہیں جن کا شائد کوئی نام بھی نہیں جانتا مگر اے آر وائی ARY گروپ کی کامیابیوں کی کہانی سب لوگ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے حاجی عبدالرزاق کی محنت، اصول و ضوابط اور ایمانداری شامل تھی۔

    حاجی عبدالرزاق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی درد دل رکھنے والے شریف النفس انسان تھے۔ وہ سنہ 1944ء میں انڈیا کے شہر سورت میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام عبدالرزاق یعقوب تھا۔ اے آر وائی (ARY) ان کے نام کا مخخف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد حاجی عبدالرزاق یعقوب اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آئے اور سنہ 1969ء میں وہ دبئی تشریف لے گئے۔ انہوں نے انتہائی قلیل سرمائے سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ سنہ 1972ء میں حاجی صاحب نے "اے آر وائی” کی بنیاد رکھی۔ حاجی عبدالرزاق یعقوب "ورلڈ میمن آرگنائزیشن” کے سربراہ بھی تھے۔ لیکن انہوں نے ملت اسلامیہ اور دکھی انسانیت کے لئے جو خدمات انجام دیں اسے پورا پاکستان خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ حاجی عبدالرزاق مرحوم نے علم اور معلومات کے خزانے کو جس طرح دوسروں تک پہنچانے کیلئے اے آر وائی ڈیجیٹل کو استعمال کیا وہ ان کی انتھک محنت و لگن، کاوشوں اور دواندیشی کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے عمر بھر اسلام، پاکستان اور عوام کی خدمت کی، مرحوم سچے عاشق رسول ﷺ اور محب وطن پاکستانی تھے۔ وہ ایسے فرشتہ صفت انسان تھے جو پاکستان کی کاروباری دنیا میں اس سے پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا، جنہوں نے انسانیت کی خدمت کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کیئے رکھی۔ حاجی عبدالرزاق اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے۔ حاجی عبدالرزاق نے اپنی شرافت اور سماجی کاموں سے دنیا میں جو مثال قائم کی انہیں کاروباری سلطنت کھڑی کرنے کے علاوہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • سید مبارک حسین شاہ ہمدانی

    سید مبارک حسین شاہ ہمدانی

    سید مبارک حسین شاہ ہمدانی

    تلہ گنگ کے معروف گاؤں ڈھلی کے ممتاز شاعر اور بیروکریٹ سید مبارک حسین شاہ ہمدانی کا سلسلہ نسب پیر سید ولایت حسین شاہ ہمدانی بن سید محمد شاہ ہمدانی بن سید مبارک شاہ ہمدانی بن سید شاہ سیال ہمدانی بن سید شاہ فتح نور ہمدانی المعروف تیغ بہادر ( مزار مبارک تلہ گنگ) بن سید شاہ لطیف ہمدانی ( مزار مبارک میال) بن سید محمود ہمدانی بن سید شاہ عبداللہ ہمدانی کے توسط سے ان کے جدامجد سلطان الاولیاء حضرت سید احمد ہمدانی المعروف حضرت شاہ بلاول ہمدانی( مزار مبارک دندہ شاہ بلاول لاوہ) سے جا ملتا ہے۔ سید مبارک شاہ ہمدانی یکم جنوری 1961ء کو پیر سید ولایت حسین شاہ ہمدانی کے ہاں ڈھلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم ڈھلی میں حاصل کی میٹرک کا امتحان 1976ء میں ایف جی ٹیکنیکل سکول راولپنڈی سے پاس کیا ۔ ایف اے کا امتحان 1978ء میں ، بی اے کا امتحان 1980ء میں گارڈن کالج راولپنڈی سے پاس کیا ۔ ایم اے سیاسیات کی ڈگری 1983ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی سید مبارک شاہ نے 1984ء میں ملازمت کا آغاز بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر واپڈا سے کیا 1985ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1986ء میں سی ایس ایس کی بنیاد پر سول سروسز آف پاکستان میں شامل ہوئے، پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں گریڈ 17 سے 20 تک مختلف مناصب پر لاہور ، اسلام آبا، راولپنڈی ، تربیلہ، کندیاں اور گدوال وغیرہ میں خدمات سر انجام دیں سید مبارک شاہ نے سعودی عرب برطانیہ تھائی لینڈ اور فلپائن کے سفر بھی کئے۔ سید مبارک شاہ ہمدانی کا پہلا شعری مجموعہ "جنگل گمان کے ” کی اشاعت اول 1993ء دوم 2010 ء اور سوم 2014 ء میں ہوئی ۔ مبارک شاہ "جنگل گمان کے” کے تعارف میں رقم طراز ہیں

    سید مبارک حسین شاہ ہمدانی

    ( اقتباس) اپنی شاعری کی اشاعت کے لئے شکیب جلالی اور اقبال ساجد کی طرح اپنی موت کا انتظار نہ کر سکا اور دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح احتیاطاً یہ کام اپنی زندگی میں ہی کر رہا ہوں اس سلسلے میں کسی انفرادیت کا مظاہرہ نہ کر سکنے کا مجھے احساس بھی ہے اور افسوس بھی البتہ ایک لحاظ سے عام روش سے ضرور ہٹا ہوں اور وہ یہ کہ اپنی ادبی قامت اور کتاب کی ضخامت بڑھانے کے لئے اس کتاب میں کسی شاعر ادیب یا نقاد کا تبصرہ شامل نہیں کیا اس کی دو وجوہات ہیں اول تو یہ کہ جو کتاب لفظ لفظ میری ہے میں اس کا اغاز مانگے ہوئے لفظوں سے کیوں کرتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اردو ادب کے معتبر لوگوں نے عصر حاضر کی اکثر کتابوں پر جو تبصرے لکھے ہیں وہ مجھے معتبر نہیں لگتے میں کسی طرح کسی طرف اشارہ نہیں کرتا لیکن اکثر نئے شاعروں کی کتابوں میں موجود تبصروں میں ان کی شاعری کے بارے میں جو تاثر ملتا ہے وہ کتاب پڑھنے کے بعد زائل نظر آتا ہے ۔ قارئین اس کتاب میں حمد باری تعالیٰ ، نعت رسول اکرم (ص) کے علاوہ غزلیں ، نظمیں اور بازگشت شامل ہیں نمونہ کلام ، اے محبت کے پیمبر تو وفاؤں کا امیں، باعث تخلیق عالم درد مند عالمیں ، اور تیری امت دہین پیشہ کزبب و ریا ، جیسے طائف کے ستمگر جیسے کوفے کی مکیں ، تو نے بس اس شخص کو محروم جنت کہہ دیا ، جس کے ہمسائے کبھی فاقہ کشی میں سو گئے ، ایک ہمسایہ تو کیا اے رحمتہ للعالمیں ، ہم تو نسلوں کے لئے فاقوں کی فصلیں ہوگئے ، اے ردائے خاکساراں ! جو ہمارا بس چلے ، بے اماں لوگوں کے سر سے آسماں کو کھینچ لیں ، تو نے فرمایا تھا ” حق گوئی میرا دستور ہے” اور ہم جو سچ کہے اس کی زباں کو کھینچ لیں ،

    ہم ریا پیشہ جو سچی بات کہہ سکتے نہیں ،
    لاکھ چاہیں بھی تو تیری نعت کہہ سکتے نہیں ۔
    سید مبارک شاہ ہمدانی کی دوسری کتاب ” ہم اپنی ذات کے کافر” کی اشاعت اول 1995ء دوم 2010ء اور سوم 2014 ء میں ہوئی ، یہ کتاب غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے ، سید مبارک شاہ ہمدانی پیش لفظ میں تحریر کرتے ہیں

    آج سے تقریبا دو برس پہلے جب میں ” جنگل گمان کے” ترتیب دے رہا تھا مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میں اتنی جلدی دوسری کتاب کے بارے میں سوچوں گا دوسری کتاب تو دور کی بات ہے کوئی بھی اچھی غزل یا نظم کہنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے بعد شاید ہی کچھ لکھ سکوں پہلی کتاب کی اشاعت کے بعد بھی یہی خیال دامن گیر تھا لیکن گزشتہ ڈیڑھ برس میں شاعری میں جس طرح مجھ پر بیتی ہے اس کا اندازہ کسی حد تک اس کتاب کے کارئین کو ہو جائے گا "جنگل گمان کے” کی اشعار میرا ایک دیرینہ خواب تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے موجودہ اشعار ایک فریضہ ہے کچھ دوستوں کی رائے میں مجھے کچھ تو انتظار کرنا چاہئے تھا ورنہ افراطِ ادب کا الزام جو میں دوسروں پر لگاتا رہا ہوں مجھ پر بھی عائد ہو سکتا ہے میں اپنے دوستوں کی رائے کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کتاب میں موجود شاعری نے شاعر سے بھی زیادہ عجلت سے کام لیا ہے یہ شاعری زندگی کے بارے میں میرے بہت سارے نا اسودہ سوالوں کے جواب کی صورت میں میرے پاس امانت ہے یہ میری تخلیق نہیں ہے دریافت ہے اور اس دریافت شدہ امانت کو متعلقہ لوگوں تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے

    مبارک شاہ صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں

    اپنی شاعری کے ذریعے شہرت کمانے کا جنون اگر کبھی تھا تو اب نہیں ہے اگرچہ ذاتی خیال ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام خصوصا تخلیقی کام شناخت لذت اور راحت میں سے کسی ایک لالچ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تاہم میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ افراط و انحطاط ادب کے اس زمانے میں جہاں شعر کہنے والے بہت اور سننے والے کم ہیں مجھے اپنی شاعری سے نہ تو اپنی شناخت کی توقع ہے اور نہ ہی کوئی لذت مقصود ہے راحت تو بہت دور کی بات ہے مجھے سوائے اضطراب کے اس اقلیم سخن سے کچھ نہیں ملا ہے مگر یہ اضطراب مجھے شناخت لذت اور راحت تینوں سے زیادہ عزیز ہے اور یہی میری شاعری کا جواز بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اندیشہ ہے کہ لذت و راحت ڈھونڈنے والے شاید اس کتاب کو اپنے لئے کارآمد نہ پائیں لیکن اس طرح وہشت شناس اس شاعری سے مایوس نہیں ہوں گے ۔

    کلام ، دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
    ، کس کو کھنڈر ملے گا مری باش و بود کا ،

    الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں ،
    ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا ،

    اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی ،
    اعلان کر رہا ہے تعفن وجود کا ،

    پیراہن بدن کی تنگی عبث نہیں ،
    یہ مرحلہ ہے مری نمو کی نمود کا ،

    تجدید کر رہی ہیں قدامت کی جدتیں ،
    ہر انقلاب نو ہے مجدد جمود کا ،

    روز حساب اجرت کار حیات ہے ،
    یا قرض جاں پہ کوئی تقاضا ہے سود کا ۔

    سید مبارک شاہ ہمدانی کی تیسری کتاب ” مدار نارسائی میں ” کی اشاعت اول 1998 ء اشاعت دوم 2010 ء اور اشاعت سوم 2014 ء میں ہوئی ۔
    مبارک شاہ نے اس کتاب کا انتساب اپنی پیاری ماں کے نام کیا ۔
    اس میں بھی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں ۔
    ” مدار نارسائی میں” کے پیش لفظ میں شاہ صاحب رقم طراز ہیں

    (اقتباس) اپنے محور میں مسلسل گھومتے ہوئے مرکز کا پیہم طواف کرنا ، دو مختلف راستوں پر مسلسل سفر کرنا اور دو الگ الگ گردشوں میں بیک وقت موجود رہنا مدار نارسائی میں قائم رہنے کی شرط ہے اور ضمانت بھی اس قانون کو توڑ کر خط وقت میں برقرار رہنا ناممکن ہے لیکن اس جبر میں رہتے ہوئے اس کے بارے میں سوچنا اور سوال اٹھانا تو ممکن ہے اور سوچا جا سکے تو احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے آزمائشی شرط ہے اس نظام جبر میں احتجاج کا جواز بھی ہے اس کی گنجائش بھی ہے اور اس کی سزا اور صلہ بھی ہے ، سیارہ اپنے محور میں گھومتے ہوئے اپنے ستارے کا طواف کر رہا ہے اس جبری گردش کے تسلسل میں ایک لمحہ توقف کو ایک قدم انحراف کی گنجائش نہیں لیکن اس قید میں رہتے ہوئے سیارہ اپنے تئیں ذرا سی ایک جنبش ایک ہلکی سی جھرجھری تو لے سکتا ہے اور یہی ارتعاش سیارے کا وہ احتجاج ہے جس سے اس کے وجود میں بھونچال آجاتا ہے زلزلے احتجاج کی سزا ہیں زلزلوں سے رونما ہونے والا تغیر اس جسارت کا صلہ ہے ، فطرت کے اس جبر کے بارے میں ہر طبقہ وجود اپنے طور پر سوچنے اور سوال اٹھانے کا حق رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر احتجاج کا اختیار بھی ہم بھی اس مدار نا رسائی میں انہیں گردشوں کے اسیر ہیں جو اپنی ذات کے محور میں رقص کرتے ہوئے کسی مرکز کا مسلسل طواف کئے جا رہے ہیں، مانا کہ اس مدار سے نکل کر اپنے وجود میں رہنا ہمارے بس میں نہیں مگر بے جان سیاروں کی طرح اس جبر میں رہ کر کیا اپنی خواہش اور اپنے Risk پر اس قدر جرات اور حرکت بھی ممکن نہیں جس سے ہمارے وجود میں زلزلے پیدا ہو جائیں ہمیں اپنی ذات میں ارتعاش پیدا کرنے کے لئے جس جنبش کی ضرورت ہے اس کا تعلق گنبد استخوان میں رکھے ہوئے اس سرمئی لوتھڑے سے ہے جو ازخود تو ساکت رہتا ہے مگر اس کے اندر قیامتیں دھڑک رہی ہیں یہ کوئی چونکا دینے والی بات نہیں بلکہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے اپنی سوچ کے دھارے سے دنیا بدل ڈالی انہوں نے بھی اپنے ذہن کا کچھ حصہ ہی دریافت کیا ۔

    نمونہ کلام۔
    میں کہاں چلا گیا ہوں ،
    میں ابھی یہیں کہیں تھا ،
    کسی محفل سخن میں ،
    کوئی گفتگو غزل پر ،
    کہیں بزم دوستاں میں ،
    کوئی نظم نامکمل ،
    میں کہاں چلا گیا ہوں

    سید مبارک شاہ ہمدانی کی کتاب” دستک زمین پر” کلیات سید مبارک شاہ میں شامل کی گئی ہے ۔ کلیات سید مبارک شاہ بک کارنر جہلم نے 2017 ء میں شائع کی ، ان کی غیر مطبوعہ کتب میں نثر سراب مستقیم ، (تحقیق قرآنیات) انا الحسین (حلاج سے روحانی ربط ) شامل ہیں ،
    سید مبارک شاہ ہمدانی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے 27 جون 2015 ء کو وصال فرما گئے انہیں ڈھیری حسن آباد الف شاہ قبرستان ریاض قریشی روڈ راولپنڈی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔
    قارئین راقم الحروف کے آباؤاجداد کے ان کے خاندان سے دینی اور روحانی مراسم تھے سید مبارک شاہ کے بڑے بھائی سید مصطفٰی شاہ ہمدانی میرے پھپھو زاد ، ماموں زاد بھائیوں کے رضائی بھائی ہیں ۔ اس نسبت سے دونوں خاندان ایک دوسرے سے باہم پیار و محبت کا رشتہ استوار کئے ہوئے ہیں،
    سید مبارک شاہ کے والد محترم پیر سید ولایت حسین شاہ ہمدانی نے ملازمت کا آغاز پاکستان نیوی سے کیا چند سال بعد ملازمت ترک کرکے پی ائی اے میں ملازمت اختیار کی اور اسی ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرڈ ہوئے سعودی عرب میں قیام کے دوران جماعت اسلامی کے رکن تھے گاؤں میں ہمارے آباؤاجداد کی تعمیر کردہ مسجد میں میرے ماموں جان اے ڈی آئی ملک محمد نواز مرحوم اور پیر سید ولایت حسین شاہ ہمدانی مرحوم نماز جمعہ بھی پڑھایا کرتے تھے اہلیان علاقہ ان ہر دو شخصیات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور دل وجان سے ان کی عزت کیا کرتے تھے ۔


    پیر سید ولایت حسین شاہ ہمدانی2001 ء میں وصال فرما گئے انہیں ڈھلی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیر ولایت شاہ اور سید مبارک شاہ اور میرے ماموں جان کی قبر انور پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے آمین

  • کیپٹن فراز الیاس کی شہادت

    کیپٹن فراز الیاس کی شہادت

    کیپٹن فراز الیاس کی شہادت

    کیپٹن فراز الیاس کی نماز جنازہ چونیاں میں ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعظم  میاں شہباز شریف سمیت اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ یہ موقع نہ صرف غمگین تھا بلکہ اس میں وطن کے لیے جان نچھاور کرنے والوں کی عظیم قربانیوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔

    پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ 2001ء میں 9/11 کے بعد سے پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہزاروں فوجی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور متعدد دہشتگرد حملوں کا سامنا کیا۔ کیپٹن فراز الیاس کی شہادت بھی اسی جنگ کا حصہ ہے۔ لکی مروت میں دہشتگرد حملے میں ان کی شہادت قوم کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ابھی بھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔

    کیپٹن فراز الیاس کی شہادت ایک جانب وطن کی حفاظت کے عزم کا اظہار ہے تو دوسری جانب اس بات کا اشارہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی نماز جنازہ میں شرکت اور ان کے بیانات کافی حوصلہ افزا تھے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور فوج شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اللہ تعالیٰ کسی کسی کو یہ عظیم مقام بخشتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ شہید کو مردہ مت کہو یہ زندہ ہیں۔”

    اگرچہ حکومت نے کیپٹن فراز الیاس کے گاؤں کا نام ان کے نام سے منسوب کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، لیکن یہ صرف ایک علامتی اقدام ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عملی اقدامات بھی کرے تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کا حق ادا ہو سکے۔ مثال کے طور پر، شہید کے خاندان کی بھرپور مالی معاونت اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کو بالغ ہونے بطور کیپٹن فوج میں بھرتی کو یقینی بنانا چاہئے۔ اس سلسلے میں چند سفارشات ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

    پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات: حکومت کو چاہئے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف پائیدار امن کے قیام کے لئے جامع حکمت عملی اپنائے۔

    شہداء کے خاندانوں کی مدد: شہداء کے خاندانوں کی مالی معاونت اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے خصوصی پیکجز فراہم کئے جائیں۔

    عوامی شعور میں اضافہ: عوام میں دہشتگردی کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لئے خصوصی مہمات چلائی جائیں۔

    فوجی اعزازات: فوجی جوانوں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مزید اعزازات سے نوازا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔

     خلاصہ کلام یہ ہے کہ کیپٹن فراز الیاس کی شہادت نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ابھی بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ گوکہ حکومت اور فوج کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں، لیکن انہیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال کرنا ہمارا قومی فرض ہے۔ اس سے نہ صرف شہداء کے خاندانوں کو سہارا ملے گا بلکہ قوم میں حب الوطنی کا جذبہ بھی مضبوط ہوگا۔

  • باغبانی,ایک زبردست مشغلہ

    باغبانی,ایک زبردست مشغلہ

    باغبانی,ایک زبردست مشغلہ

    فیصل جنجوعہ

    باغبانی ایک زبردست مشغلہ ہے جو انسان کی جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ عمدہ جسمانی ورزش ہے جو وزن گھٹاتی اور صحت بڑھاتی ہے۔ وزن کی زیادتی بذاتِ خود کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گھر میں اُگنے والی بہت سی سبزیاں انسان کی کئی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پچاس فیصد سے زیادہ حاملہ خواتین فولاد کی کمی کے باعث خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ فولاد سبزیوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ گھریلو باغیچہ غذائی کمی کے مسئلے کا بہترین حل ہے۔ علاوہ ازیں رنگ برنگی سبزیوں کے پودے گھروں کی آرائش، ماحول کی خوبصورتی اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتے ہیں۔

    قدرت نے بہت سے ایسے پودے پیدا کئے ہیں جن سے مختلف زرعی اور ماحولیاتی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں اور جدید تحقیق کے مطابق انہیں گھریلو باغیچے میں بآسانی اگایا جاسکتا ہے مثلاً پودینہ جو کئی اقسام کے کیڑے مکوڑوں سے نجات کےلئے بے مثال ہے۔ پودینہ کھانے کے جہاں کئی فوائد ہیں، وہیں اس کی خوشبو مکھی، مچھر کو بھگانے میں کارآمد ہے۔ جس کمرے میں اس کا گملا رکھا ہو مچھر وہاں سے بھاگ جائے گا اور انسان ملیریا اور ڈینگو جیسے امراض سے بچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پودے فضا میں آکسیجن خارج کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ یعنی بری ہوا کو جذب کرکے ہمارے گھروں کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ درختوں کی کمی سے ماحول میں بڑھتی گرمی جہاں ایک طرف خشک سالی کا باعث ہے، وہیں دوسری طرف شدید بارش، سیلاب اور طوفانوں سے تباہیوں کا باعث رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر لوگ اپنے گھر وں میں اونچی زمین پر زیادہ سے زیادہ مختلف اقسام کے پھل اور سبزیاں اگائیں اور مرغیاں رکھیں، تو کم سے کم وہ غذا کی کمی کا شکار نہ ہوں گے۔
    بچت کرنے اور آمدنی کا ذریعہ
    ایک طرف گھریلو باغیچے سے بچت بھی ممکن ہے۔ ہمارے گھروں میں آمدنی کا بڑا حصہ کچن کی اشیا خریدنے کے کام آتا ہے۔ جب روزانہ کی سبزی گھر ہی سے مل جائے تو یہ رقم بچ جائے گی۔ اور سبزیوں کو مختلف گھریلو ٹوٹکوں میں استعمال کرکے بھی بچت ممکن ہے۔دوسری طرف زائد پودوں اور سبزیوں کا کاروبار آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ پودے مختلف نرسریوں اور اداروں کو سپلائی کئے جاسکتے ہیں، جبکہ گھر کی تازہ، کیمیکل سے پاک اور صاف پانی میں اُگنے والی نامیاتی سبزیاں آج کل ناپید ہیں اور بڑے شہروں میں بہت مہنگی ہیں۔ ان سبزیوں کا کاروبار نفع بخش ہے۔ سبزیوں سے مختلف بیوٹی مصنوعات گھر پر تیار کرکے ان کا کاروبار بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے
    ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان کےپاس چند لمحوں کی بھی فرصت نہیں ہے۔ وہ اکثر بازار میں دستیاب سبزیاں اور پھل خرید لیتا ہے، اور انہیں اچھی طریقے سے دھو کر کھا بھی لیتا ہے۔ بیشتر لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ آج تکنالوجی کی مدد سے کئی سبزیاں اور پھل تیار کئے جارہے ہیں جس کے اثرات انسانی صحت پر مختلف بیماریوں کی صورت میں نظر بھی آرہے ہیں۔ اب بازار میں ایسی سبزیوں اور پھلوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے جو قدرتی طریقے سے اگائے جاتے ہیں۔ ایسے میں گھریلو باغیچے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ جن لوگوں کے گھر بڑے ہیں، وہ اپنے گھروں ہی میں سبزیاں اور پھل اگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہر چندکہ بڑے پیمانے پر یہ ممکن نہیں ہے لیکن جہاں تک ممکن ہے وہ اس کے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    صدیوں سے انسان اپنے گھروں میں پھل اور سبزیاں اگاتا آیا ہے تاکہ اپنی غذا کا بندوبست کرسکے۔ سبزیاں انسانی خوراک کا ایک اہم جزو ہیں اور اچھی صحت کا راز بھی۔ یہ تھوڑی سی زمین یا گملوں، ڈبوں، پلاسٹک کی بوتلوں اور لکڑی کے کریٹس میں کاشت کی جاسکتی ہیں۔ صحت کے حوالے سے گھریلو باغیچے کے کئی فوائد ہیں

    Title Image by Ekaterina Ershova from Pixabay

  • امریکی ٹیم سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بدترین شکست

    امریکی ٹیم سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بدترین شکست

    امریکی ٹیم سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بدترین شکست: ذمہ دار کون؟

    ٹی 20 ورلڈ کپ کرکٹ کے حالیہ مقابلوں میں امریکہ کی غیر معروف ٹیم نے سابق عالمی چیمپئن پاکستان کو حیرت انگیز شکست سے دوچار کیا، جس نے پوری پاکستانی قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ شکست خاص طور پر چونکا دینے والی ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے اور اس کی شکست ایک ناتجربہ کار امریکی ٹیم کے ہاتھوں ہوئی، جو کہ زیادہ تر مختلف ممالک سے آئے ہوئے آباد کار نوجوانوں پر مشتمل تھی، اس شکست کا ذمہ دار کون ہے؟۔


    تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ماضی روشن اور بے داغ ہے۔ اس نے سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں 1992 کا ورلڈ کپ جیتا اور 2009 میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی فتح حاصل کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور اس کی انتظامیہ کی کئی سالوں کی محنت اور لگن نے ٹیم کو اس مقام تک پہنچایا جہاں ساری دنیا اس کی عزت کرتی ہے۔ تاہم حالیہ سالوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو کچھ مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں ٹیم کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ، انتظامی مسائل، اور کھلاڑیوں کی فارم میں کمی شامل ہیں۔
    حالیہ ٹی ٹونٹی میچ کی تفصیلات کے مطابق جمعرات کو ڈیلاس میں ہونے والے گروپ میچ میں امریکہ کی غیر معروف ٹیم نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی ٹیم سات وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی، جو کہ ایک معقول سکور تھا۔ لیکن امریکی ٹیم نے اپنی مضبوط بیٹنگ کے ذریعے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر یہ سکور برابر کردیا اور میچ کو سپر اوور تک پہنچا دیا۔ سپر اوور میں محمد عامر کی گیند بازی میں 18 رنز دیئے گئے، جس میں 8 زائد رنز بھی شامل تھے۔ پاکستان کی ٹیم صرف 13 رنز بناسکی اور یوں امریکہ پانچ رنز سے جیت گیا۔
    یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس شکست نے پاکستان کے سپر ایٹ مرحلے تک پہنچنے کو مشکل بنا دیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ، بولنگ، اور فیلڈنگ سب ہی میں کمی نظر آئی۔ خاص طور پر اہم میچ میں محمد عامر جیسے تجربہ کار بولر کا سپر اوور میں کنٹرول کھونا تشویشناک صورت حال ہے اس کی انکوائری ہونی چاہئیے کہ پاکستان کو کیوں شکست سے دوچار کیا گیا۔
    پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ٹیم میں اہلیت کے بجائے سفارش کی بنیاد پر کھلاڑی شامل کئے جا رہے ہیں، جس سے ٹیم کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ کوچنگ سٹاف اور انتظامیہ کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ میچز میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں مستقبل کے میچز کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر سختی سے عمل کیا جائے:
    ٹیم سلیکشن میں اہلیت کو ترجیح دیں: سفارشی کھلاڑیوں کو نکال کر صرف ان کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے جو واقعی قابلیت رکھتے ہیں۔
    فیلڈنگ اور بولنگ پر توجہ: پاکستانی ٹیم کو اپنی فیلڈنگ اور بولنگ کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید محنت کرنی ہوگی۔
    نئی حکمت عملی ترتیب دیں: آئندہ میچوں کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملی تیار کریں۔
    ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں: حالیہ شکستوں سے سبق لیتے ہوئے، ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں اور ان غلطیوں سے سبق سے سیکھیں۔
    کرکٹ پاکستانی قوم کے لیے قومی وقار کا مسئلہ ہے ،کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے اور اس میں کسی بھی چھوٹی ٹیم سے شکست قوم کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کو اگلے میچز میں بہترین کارکردگی دکھا کر قوم کی امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کی امریکہ کی غیرمعروف ٹیم سے حالیہ شکست نے اس کی کارکردگی اور ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس نازک مسئلے کے حل کے لیے ٹیم اور اس کی انتظامیہ کو نہایت سنجیدگی سے اپنی خامیوں پر غور کرنا ہوگا اور فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ آئندہ مقابلوں میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔یہ صرف ایک کرکٹ کا میچ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی قوم کے قومی وقار کا مسئلہ ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے، امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام اس قومی مسئلے پر خود کو جھنجوڑنے کی زحمت گوارا کریں گے

    Title Image by PDPics from Pixabay