Blog

  • شذرات مقبول کی مقبولیت

    شذرات مقبول کی مقبولیت

    شذرات مقبول کی مقبولیت

    (تحریر۔پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر)

    جناب مقبول ذکی مقبول ضلع بھکر کے اُبھرتے ہوئے شاعر اور ادیب ہیں ، اُنہوں نے تنقید اور تحقیق کے میدان میں معقول کام کیا ہے ۔ سب سے پہلے انہوں ننے مختلف ادبی اور علمی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل دوکتابیں ٫٫ سنہرے لوگ ،، اور روشن چہرے کے نام سے شائع کی ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے عاصم بخاری کی شخصیت اور ادبی کام کے بارے میں ٫٫ اعتراف فن ،،کے نام سے تنقیدی اور توصیفی کتاب لکھی اب ان کی چوتھی نثری تخلیق ٫٫ شذرات مقبول ،، کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ہے ۔ یہ کتاب بھکر کے ادب میں خوشگوار اضافہ ہے ۔ یہ کتاب القلم رائٹرز فورم کی وساطت سے شائع ہوئی ہے جس میں مقبول ذکی کے نثری مضامین اور تبصرے شامل ہیں ۔ کتاب کے آغاز میں مقبول ذکی کی ادبی مساعی پرشاعر علی شاعر ، مقٓصود جعفری ، جاوید رسول جوہر ، شہاب صفدر ، سید ضمیر بخاری ، ریاض ندیم نیازی جیسے کہنہ مشق ادب شناس نقاد حضرات کے مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ افضل صفی اور رقیہ غزل کے تاثرات بھی شامل ہیں۔


    ٫٫ شذرات مقبول ،،کے مندرجات میں مختلف شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات ، علمی خدمات اور ان کی ادبی کاوشوں کے حوالے سے مقبول ذکی مقبول کی چھوٹی بڑی تحریریں جمع کی گئی ہیں جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع شدہ ہیں ۔ ہر تحریر کے بعد اس کے حوالہ جات درج کئے گئے ہیں ۔ جن شاعروں کا اس میں تذکرہ اور ان کی خدمات ادب کو زیرِ بحث لایا گیا ہے اُن میں ظہور احمد فاتح ، امان اللّٰہ کاظم ، غلام محمد تقی کوٹلہ جامی مرحوم ، محمد اقبال بالم ، شمشاد سرائی ، علی شاہ مرحوم ، صابر جاذب ، خالق داد خاکی ، حبدار حسیبن شاہ المعروف حبدار قائم اورابصار حیدری جیسے باکمال لوگ شامل ہیں ۔ ان کی کتابوں شاعری اور نثر پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔ نثر نگاری اور تنقید کے میدان میں عاصم بخاری ، شبیر ناقد ،خالق داد چھینہ اور فقیر امداد حسین کے تنقیدی نظریات اور خدمات ادب شامل کتاب ہیں ۔اقبال حسین کی تیسری کلیات ، ماہنامہ ارژنگ کی ادبی مساعی ، ابی ستارے اور راحت نعت جیسے ادبی عنوانات بھی قابل مطالعہ ہیں ۔
    لیہ سے شائع ہونے والے تھل میگزین پر خصوصی تبصرہ علاقائی ثقافت اور ادب کا آینہ دار ہے ، بھکر کی ادبی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ برائے سال۲۰۲۳ ایک جامع مضمون ہے جس میں بھکر کی ادبی شخصیات کتب اور ادبی تنظیموں و دیگر ادبی مساعی کے حوالے سے بھرپور معلومات دی گئے ہیں ۔ ٫٫ شذرات مقبول ،، میں عاقائی سطح پر تخلیق ہونے والے شعری اور نثری ادب کی نشان دہی کی گئی ہے جس سے مقبول ذکی کی شعر و ادب سے محبت کا انداذہ ہوتا ہے ۔انہوں نے ادبی اکابرین کے فن اور موضوعات سے قارئین کو متعارف کرایا ہے اور اپنے قلم کے جواہر سے بھی عوام کو آگاہ کیا ہے ۔ بھکر کے بزرگ شاعر غلام محمد کوٹلہ جامی مرحوم کی ادبی خدمات کو تابندہ رکھنے کے لئے انہوں نے ایک ادبی ایوارڈ جاری کیا ہے جو ان کی تنظیم بزمِ اوجِ ادب کی طرف سے ہر سال کسی نمایاں ادبی شخصیت کو دیا جاتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے تھل صحرا میں علم وادب کی شمع روشن کی ہے اور اس کی آبیاری کے لئے اپنے محدود وسائل کے باوجود پوری محنت اور کاوش کر رہے ہیں، اللّٰہ ان کے علم اور قلم کے استعداد میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تازہ تخلیقات دیکھنے کو ملیں ۔آمین
               *

    پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

شذرات مقبول کی مقبولیت

    پروفیسر جاوید عباس جاوید
    بھکر

  • سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    رپورٹ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    عید الاضحیٰ سے قبل سرائیکی نعتیہ مشاعرہ بزمِ اوجِ ادب منکیرہ کے (بھکر) زیرِ اہتمام نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا یہ خوبصورت و روحانی محفل مقبول ذکی مقبول کی رہائش گاہ منکیرہ ( بھکر) میں منعقد ہوئی ۔ اس نعتیہ نشست میں منکیرہ اور گردونواح کے شعراۓ کرام نے شرکت کی ۔ جن میں
    مقبول ذکی مقبول ، بشیر تصور ، شہباز ہادی ، عارف سہوانی ، راشد ناز اور مظہر قدیم شامل ہیں ۔ بار گاہ میں ہدیہ نعت پیش کیا اس روحانی محفل کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت مقبول ذکی مقبول نے حاصل کی اور نظامت و نقابت کے فرائض بھی سر انجام دیئے ۔ تمام نعت گو شعراء نے دل کھول کر اپنا اپنا نعتیہ کلام پیش کیا جس پر حاضرین محفل کا ایماں تروتازہ ہوا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں

    شہ رگ دے خون دی وی خوشبو ہے اے ڈسیندی
    آقاﷺ توں ساڈا آقا ﷺ بہوں مہربان آقا ﷺ

    ( مقبول ذکی مقبول )

    محمدﷺ دی مدحت بناں کوئی کم نئیں
    محبت بھری ہک صدا میکوں آدھن

    (بشیر تصور )

    سبز گنبد نگینہ ڈیکھاں
    رحمتاں دا خزینہ ڈیکھاں
    سوہنڑاں مدنی ﷺ جئے راضی تھیوے
    سہوانی میں وی مدینہ ڈیکھاں

    (عارف سہوانی)

    چایا قلم قرطاس لکھن کیتے لکھی پہلی شان خدا دی
    پڑھ بسم اللّٰہ قلم قرطاس تے آئی لکھی حمد رحمٰن دے ناں دی
    تے اگوں سوچ دے سوجھل مکن لگے گھدی ٹیک محبوب ﷺ خدا دی
    میڈی سوچ شہباز معراج کیتا لکھی نعت نبی ﷺ دے ناں دی

    ( شہباز ہادی )

    راشد ناز اور مظہر قدیم نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا
    بزمِ اوجِ ادب کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول نے کہا شرکاء کی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دئیے ہیں شعراء کرام نے جو نذرانہ عقیدت پیش کیا تو روح میں خوش گوار بہار آئی ہے بزمِ اوجِ ادب کے صدر عامر اقبال نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بزمِ کے زیرِ اہتمام ایسے اور بھی پروگرام کرنے کی حامی بھری اِن شاءاللہ کوشش کریں گے آخر میں مہمانوں کی چائے اور مٹھائی سے تواضع کی گئی
               *

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • لفظی منظر کشی

    لفظی منظر کشی

    لفظی منظر کشی

    تحریر: جہاں آراء تبسم
    کوئٹہ

    مقبول ذکی مقبول کے فردیات کا مجموعہ ٫٫ یہ میرا بھکر ،، جو اِس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ کتاب میں سے چند اشعار پڑھتے ہی بڑا لطف آیا
    اور پھر ہم نے ان کے بھیجے ہوئے اشعار غور سے پڑھ کر ہم نے خود کو تھر کے صحرا میں پایا یہ مقبول ذکی مقبول کا حسنِ تخیل ہے کہ ہم نے ان کی شعری کی بدولت جیسے ایک خاص علاقے کی سیر کی وہاں کے لوگوں سے ملے ان کی فطرت سے اگاہ ہوئے ان کے لب و لہجے کا ذائقہ چکھا ۔

    نمایاں منفرد ہر جا ملے گا
    لب و لہجہ تجھے میرے بھکر کا

    وہاں ۔ کے رہنے والے خصوصاََ خواتین کے لباس سے لے کر ان کی آرائش و زیبائش سمیت ان کے انچل کے تقدس تک کا ذکر ملتا ہے
    جیسے کہ۔۔۔

    کوئی عورت نظر نہ آئے گی
    ننگے سر تجھ کو شہر بھکر میں

    پردہ داری عروج پر اپنے
    قصرِ زینب (ع) کا شہر پر سایہ

    لفظی منظر کشی

    تھل کے علاقے کی پیداوار سے لے کر وہاں کی سوغاتوں کا علم ہوا جانکاری کے اس پورے عمل میں کہیں بھی شعری غنائیت کی کمی کا احساس نہیں ہوا ہر شعر تمام تر فنی لوازمات کے ساتھ اپنے عنوان کی لاج نبھائے ہوا تھا ۔
    ملاحظہ کیجئیے نمونے کے طور پر چند اشعار

    پاکستان میں پہچاں میرے بھکر کی
    خربوزے مشہور ذکی ٫٫ منکیرہ ،،کے

    بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
    ٫٫ پلی ،، ڈڈے ،، اور ٫٫ ترا ڑا ،،

    تحفتاً پیش تجھ کو میں کرتا
    تیل کرنا کا میرے بھکر کا

    ریت کے ٹیلوں کا اثر شاید
    نرم دِل لوگ میرے بھکر کے

    پیار سے رہنے والے ہیں سارے
    امن ہے میرے شہر بھکر میں

    آ ، چنیں مل کے بیریوں کے بیر
    تھل میں جوبن پہ بیریاں ہیں آج

    منہ میں موجود آج بھی اپنے
    ذائقہ تھل کے ںیروں کا ذکی

    جن کو چلاکیاں نہیں آتی
    سیدھے سادھے وہ لوگ بھکر کے

    کیا تو بھکر میں آ کے دیکھے گا
    میرے بھکر میں صرف ٹیلے ہیں

    مقبول کے تمام اشعار میں اپنے دیس اپنے علاقے کی محبت رچی بسی ہوئی ملتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ سارا عمل بے اختیاری ہے وہ خود کو محبت کے اس والہانہ اظہار سے روک نہیں پارہے

    تیرے اشعار میں مقبول ذکی
    جھلکتی ہے محبت ہی بھکر کی

    مجھے اِس لئے جان سے بھی عزیز
    میری جان پہچان بھکر سے ہے

    بعض اشعار میں تو انہوں نے اسقدر لفظی منظر کشی کی ہے کہ جیسے تھل کی ریت نظروں کے سامنے اڑتی محسوس ہوتی ہے حیرت اس وقت انتہا تک جا پہنچتی ہے جب وہ اپنے اشعار میں وہاں کی منغی خصوصیات کو نہایت مثبت انداز میں خوبیوں میں بدل کر پیش کرتے ہیں
    جیسے کہ

    مانا گورے نہ ہوں گے لیکن
    دِل کے کالے نہ لوگ بھکر کے
    یا پھر۔۔۔
    میرے صحرا کی ایک خوبی ہے
    اِس میں کیچڑ کبھی نہیں ہوتی

    غرض یہ کہ مقبول ذکی مقبول نے اپنے اس خوبصورت فردیات کے مجموعہ کی شکل میں جیسے اپنے دیس کے پیار کا قرض چکا دیا ہو
    نیک خواہشات کے ساتھ

  • سپاہی ولیم کی لازوال جانی قربانی

    سپاہی ولیم کی لازوال جانی قربانی

    سپاہی ولیم کی لازوال جانی قربانی

    Dubai Naama

سپاہی ولیم کی لازوال جانی قربانی

    انسان کی عظمت و کردار کا اپنے وطن کی مٹی سے گہرا تعلق ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے رہائشی 29 سالہ مسیحی سپاہی ہارون ولیم نے مادر وطن کے لیئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
    مذہبی روایات اور سائنسی ارتقاء سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی سے ارتقاء کر کے تاریخی تہذیب و ثقافت تک پہنچا ہے۔ مادر ملت کے جن جوانوں کو یہ احساس ہے کہ ان کا جنم مٹی سے ہوا ہے وہ "دھرتی ماں” سے پیار اپنی جان سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ جب پردیسی وطن کو لوٹتے ہیں یا کوئی فوجی دشمن کی قید سے آزاد ہو کر وطن واپس پلٹتا ہے تو وہ جونہی اپنی دھرتی پر پہلا قدم رکھتا ہے وہ پہلے جھک کر اپنے وطن کی مٹی کو چومتا ہے۔ آپکو یاد ہو گا سنہ 1992ء میں جب پاکستان نے آسٹریلیا میں انگلینڈ کو شکست دے کر کرکٹ کا "ورلڈ کپ” جیتا تھا تو میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے معروف کھلاڑی جاوید میاں داد زمین پر سجدہ ریز ہو گئے تھے۔ یہ احساس تشکر ہے جو انسان اپنی بہترین پیشانی مٹی پر جھکا کر ادا کرتا ہے۔ زمین کی مٹی پر سجدہ کرنا یا اسے چومنا انتہائی عقیدت و احترام کی علامت ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام مذاہب میں سجدہ زمین پر کیا جاتا ہے۔ مسلمان تو پنچ گانہ نمازوں میں روزانہ زمین پر اپنی پیشانی ٹیکتے ہیں۔ آپ نے کبڈی کے کھیل میں بھی کچھ کھلاڑیوں کو دیکھا ہو گا کہ جب وہ دوڑ لگانے کے لیئے جاپھیوں کے جھرمٹ میں جاتے ہیں تو پہلے وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے زمین کو چھو کر چومتے ہیں اور پھر اپنی آنکھوں پر لگا کر ساہ ڈالنے لیئے آگے دوڑتے ہیں۔

    اگر ہم سب انسان مٹی سے بنے ہیں تو مٹی ہی کی کوکھ سے غذائی پیداوار بھی اگاتے ہیں، زندہ رہنے کے لیئے مٹی سے حاصل شدہ متوازن خوراک استعمال کرتے ہیں اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو تب بھی زمین کی یہی مٹی ہمیں اپنے دامن میں پناہ دیتی ہے۔ اسی لیئے دنیا کا ہر فرد اپنے وطن کی مٹی کو مقدس سمجھتا ہے اور اسے چوم کر یا سجدہ کر کے اس کا قرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وطن کی مٹی کے لیئے جان کی قربانی اس سے بھی زیادہ مقدس فریضہ ہے جس پر ولیم نے اپنی جان قربان کر کے اس کا حق ادا کر دیا۔ وطن پر قربان ہونے کا یہ جزبہ ہی ایسا حسین ہے کہ انسان اس پر قربان ہو کر بھی زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔

    جب آسمان سے بارش برستی ہے تو ابتدائی بوندوں کے ساتھ ہی مٹی کی یہ خوشبو چاروں طرف مہک اٹھتی ہے۔ اردو زبان کا ایک دلکش محاورہ ہے کہ: "آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں” جس کا مطلب و مفہوم ہے کہ کچھ لوگ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں اور وہ کبھی بھی ہمت نہیں ہارتے ہیں اور بہادری کے ساتھ ہمیشہ اپنے محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔ مٹی کی وفا کے بارے بھی بہت کچھ کہا اور سنا جاتا ہے، بزبان شاعر:
    روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو،
    کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری۔

    دھرتی ماں پر قربان ہو جانے کا یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت فاٹا (FATA) کے علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ضلع کرم میں ولیم ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا کر اپنی جان قربان کر گیا جس کی آخری رسومات سینٹ پال چرچ راولپنڈی میں ادا کی گئیں۔ اس کی آخری رسومات کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات و نشریات، چیف آف آرمی اسٹاف، اعلیٰ سول و فوجی افسران، فوجیوں، شہریوں اور لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ملک کی ترقی میں مسیحی برادری کے کردار اور قربانیوں کو سراہا۔ آرمی چیف نے سپاہی ہارون ولیم، سپاہی انوش رفون اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سپاہی ہارون ولیم کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔حوالدار عقیل احمد (اوکاڑہ)، لانس نائیک محمد طفیر (پونچھ)، سپاہی انوش رفون (اٹک) اور سپاہی محمد اعظم خان (ہری پور) کی نماز جنازہ بھی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی۔

    Title Image by congerdesign from Pixabay

  • سالانہ 40روزہ فہم دین کورس کا آغاز

    سالانہ 40روزہ فہم دین کورس کا آغاز

    سالانہ 40روزہ فہم دین کورس کا آغاز

    اٹک( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)معروف علمی و روحانی درسگاہ جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ میں ہونے والے سالانہ 40روزہ فہم دین کورس کے اسباق کا آغاز3جولائی کو ہوگا، جامعہ کے ناظم اعلیٰ صاحبزادہ مفتی محمد طیب میلادی گولڈمیڈلسٹ نے تمام تفصیل اور شیڈول جاری کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہہ ہر سال کی طرح امسال بھی گرمیوں کی تعطیلات میں سکول،کالج کے طلباء و نوجوانوں کے لئے قرآن، حدیث، فقہ،نماز، بنیادی ضروری مسائل، معاشرتی واخلاقی موضوعات کے جامع نصاب پر مشتمل ”40روزہ فہم دین کورس“ فی سبیل اللہ استاذ العلماء ابوطیب رفاقت علی حقانی بانی و مہتمم جامعہ ھذا کی زیر نگرانی کرایا جائے گا جس کے اسباق کا افتتاح 3جولائی بروز بدھ صبح سات بجے ہوگا,

    سالانہ 40روزہ فہم دین کورس کا آغاز

    شرکاء کورس کے لئے روزانہ صبح 7بجے تا 9بجے کلاس ہوا کرے گی جبکہ کورس کا اختتام 11اگست کو ہوگی،داخلہ کرانے کی آخری تاریخ 30جون رکھی گئی ہے،صاحبزادہ طیب میلادی نے بتایا کہ کورس میں تفسیرالحقانی سے پورے قرآن کی تفسیر کا خلاصہ، منتخب احادیث نبویہ کی تحفیظ، نماز، کلمے، نماز جنازہ، صفاتِ ایمان، روز مرہ کی ضروری دعاؤں کی مع ترجمہ تحفیظ و دہرائی، وضو، تیمم، غسل، جنازہ،دفن و کفن، نماز اور روز مرہ کے ضرورہ بنیادی فقہی مسائل کی تفہیم و تدریس، اخلاقی و روحانی تربیت، تجوید و قرأت کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں قرآن مجید کے تلفظ اور ترتیل وحدر میں مشق،بنیادی اسلامی عقائد کی تفہیم و تدریس،اور سیرت النبیﷺ، معاشرت واخلاقیات کے منتخب موضوعات پر لیکچرز اس کورس میں شامل ہیں، کورس کے اختتام پر اظہار تشکر کی تقریب میں شرکائے کورس میں اعزازی اسناد بھی تقسیم کی جائیں گی۔

  • حجاج کی شہادت اور گرمی سے بچاؤ

    حجاج کی شہادت اور گرمی سے بچاؤ

    حجاج کی شہادت اور گرمی سے بچاؤ

    Dubai Naama

حجاج کی شہادت اور گرمی سے بچاؤ

    حج کے دوران گرمی کی شدت سے کم و بیش 920 حاجیوں کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا۔ ‏اس دفعہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور پاکستان میں گرمی کی شدید لہر آئی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئیندہ دنوں میں گرمی مزید بڑھے گی۔ لھذا ضروری ہے کہ گرمی سے بچاو’ کے بارے عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے۔ خاص طور پر شدید دھوپ اور لو سے بچنے کے لیئے ضروری ہے کہ گرم موسم میں حفظان صحت اور احتیاطی تدابیر پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔

    سعودی سفارت خانہ کی وضاحت کے مطابق گرمی کی شدت سے شہید ہونے والے حجاج بغیر اجازت کے حج کر رہے تھے۔ یہ شہداء حج ویزوں پر نہیں تھے بلکہ وہ سیاحتی ویزوں پر مناسک حج کے آغاز سے پہلے سعودی عرب پہنچے تھے۔سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ رواں برس حج کے دوران انتقال کرنے والے عازمین کی اکثریت کے پاس حج کرنے کا اجازت نامہ نہیں تھا۔ سعودی سفارت خانہ کے مطابق رواں برس حج کے دوران مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور رواں سال مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں زائرین سیاحت یا وزٹ ویزوں پر سعودی عرب پہنچے۔ بیان میں کہا گیا کیونکہ یہ لوگ سیاحتی ویزوں پر آئے تھے اور حج کا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا تھا جس وجہ سے کسی کمپنی یا ادارے کی فراہم کردہ رہائش، کھانا اور نقل و حمل کی سہولیات انہیں حاصل نہیں تھیں جس وجہ سے یہ شہادتیں ہوئیں۔

    مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت 51 سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا جس کی وجہ سے اتنے حاجی گرمی کی وجہ سے شہید ہوئے۔ اللہ پاک حاجی شہدا کے درجات بلند فرمائے۔ یہ زائرین چلچلاتی دھوپ میں مقدس شہروں میں طویل فاصلہ پیدل طے کرتے رہے جو پیدل چلنے والوں کے لئے مختص نہیں تھا، یہ حالات بہت سے حجاج کی شہادت کا باعث بنے۔ دوسری جانب تیونس، اردن اور مصر کے سفارت خانوں کے ترجمان کا بھی یہی کہنا تھا کہ گرمی کی وجہ سے حج کے دوران انتقال کر جانے والے افراد ان ممالک کے سرکاری حج کا حصہ نہ تھے بلکہ انفرادی طور پر سیاحتی ویزے پر پہنچے تھے۔
    رواں برس حج کے دوران شدید گرمی کے باعث جو عازمین حج شہید ہوئے ان میں سے 320 کا تعلق مصر، 144 کا انڈونیشیا، 60 کا اردن، 68 کا بھارت، 35 کا پاکستان، 11 کا ایران اور 3 کا تعلق سینیگال سے تھا۔

    21 جون سال کا سب سے بڑا دن اور سب سے چھوٹی رات تھی 22 جون سے 22 دسمبر تک روزانہ 80 سیکنڈ کے حساب سے دن چھوٹا ہوتا ہے یہاں تک کہ 10گھنٹے کا دن اور رات 14گھنٹے کی ہو جاتی ہے اسی طرح 22 دسمبر سے 21 جون تک 45 سیکنڈ کے حساب سے دن بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ دن 14 گھنٹے اور رات 10 گھنٹے کی ہو جاتی ھے۔
    ویسے تو گرمی کے موسم میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں، لیکن 21 جون کا دن شمالی نصف کرے میں سال 2024 کا سب سے طویل ترین دن تھا۔ ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے اور اس موقع کو خط سرطان (summer solstice) کہا جاتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں اسے موسم گرما کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے۔
    خط سرطان سے مراد زمین کی وہ حالت ہے جب سورج آسمان پر اپنے طویل ترین راستے پر سفر کرتے ہوئے سب سے زیادہ بلندی پر پہنچتا ہے۔
    ماہرین فلکیات کے مطابق 21 جون کا دورانیہ 13 گھنٹے 40 منٹ 58 سیکنڈ کا تھا جبکہ رات تقریباً 11 گھنٹوں کی تھی، یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔
    ماہرین فلکیات کے مطابق اس کے بعد راتوں کے دورانیے میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 22 دسمبر کو سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔

    چونکہ گرمی کی شدید دھوپ میں لو لگنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ دھوپ اور لو میں گرمی کی شدت سے کیسے بچنا ہے تو ہم ایسے اندوہناک واقعات سے بچ سکتے ہیں جو اس دفعہ دوران حج پیش آئے۔ ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت واقع ہو جاتی ہے کیونکہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں. ہمارے جسم کا نظام پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر 37 سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے. اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، ہمارے جسم کا 70فیصد حصہ پانی پر مبنی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. جب باہر درجہ حرارت 45 ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم بند ہو جاتا ہے تب جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے. جسم کا درجہ حرارت جب 42 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تو خون زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتے ہیں. پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں. جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے. انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں جس سے گرمی میں رہنے والے کی موت ہو جاتی ہے.

    لھذا انتہائی ضروری ہے کہ گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری پر برقرار رہتا یے۔
    آنے والے کچھ دنوں میں "اکونکس” Equinox کے گہرے اثرات پاکستان کے موسم پر پڑیں گے، کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے. ہمیں چایئے کہ ہم دوپہر 12 سے 3 بجے کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں. درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہو گا. موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر دے گی.
    یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج کے چمکنے کی وجہ سے پیدا ہونگے۔ ہمیں چایئے کہ ہم خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں. بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں یعنی روزانہ کم از کم 10 گلاس پانی پیئیں اور دیگر ٹھنڈے مشروبات استعمال کریں۔


    جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگ سکتی ہے یعنی "ہیٹ اسٹروک” ہو سکتا ہے. ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں۔ گوشت کا استعمال بند یا کم کر دیں. پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں.
    سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے. اس دوران اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو بھی نم رکھنے کی کوشش کریں. اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

    Title Image by GLady from Pixabay

  • حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے کوشاں

    حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے کوشاں

    حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے کوشاں

    اٹک ( خصوصی رپورٹ ) وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سیدعاشق حسین کرمانی نےکہاکہ حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہاربارانی لائیو سٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ،کھیری مورت تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک کےدورے کے موقع پر کیا،ان کے ہمراہ اس موقع پرڈائریکٹر جنرل پروڈکشن ڈاکٹر آصف رفیق،ڈائریکٹرکھیری مورت ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر مرتضی علی ٹیپو،ڈائریکٹر لائیو سٹاک راولپنڈی ڈاکٹرنویدسحرزیدی اورایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک اٹک ڈاکٹر عبدالحمید بھی موجودتھے،صوبائی وزیر نےبارانی لائیوسٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور پیراویٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا بھی دورہ کیا متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔

    حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کے لیے کوشاں

    بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں لائیو سٹاک کی ترقی کے لیےتمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،اس کے علاوہ پیراویٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کھیری مورت میں دو سال کا ڈپلومہ بھی کروایا جا رہا ہے،صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی نے ادارے کہ مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور انتظامی امور کا جائزہ لیا،انہوں نے اس موقع پر کہا کہ لائیو سٹاک کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام اقدامات کیے جارہےہیں،صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں صوبہ بھر کے لائیو سٹاک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کادورہ کریں گے اور ان کی ترقی کے لیے مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا تاکہ صوبہ پنجاب میں لائیو سٹاک کے فروغ کے لیے کام کیا جا سکے

  • شبانہ روز محنت والا وزیراعظم

    شبانہ روز محنت والا وزیراعظم

    شبانہ روز محنت والا وزیراعظم

    Dubai Naama

شبانہ روز محنت والا وزیراعظم

    مکرمی وزیراعظم صاحب کا جوش خطاب رنگ لایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عید سے پہلے بروز ہفتہ حکومت کی 100دن کی کارکردگی کی وضاحت کرتے ہوئے قوم سے اپنے نشری خطاب میں کہا تھا کہ موجودہ آئی ایم ایف (IMF) پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری قرضہ ثابت ہو گا۔ اقتصادی سروے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ہر شہری اس وقت بھی 2لاکھ 80ہزار روپے کا مقروض ہے اور ملک کا مجموعی قرض 67ہزار 525ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ قرض کا 80فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ وفاق کی آمدن 5ہزار 313 ارب روپے تھی۔ گزشتہ 9ماہ میں اندرونی و بیرونی قرضوں پر 5ہزار 518 ارب روپے سود دیا۔ حکومت کی آمدن اور قرض پر سود کی ادائیگی پر یہ تفاوت معیشت سے نابلد اور عقل کے ایک اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ قرض تو واپس ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف سود کی ادائیگی ہو رہی ہے تو قرضہ کیسے اترے گا؟ ملک میں خوانحصاری کی بھی کوئی پالیسی متعارف نہیں کروائی جا رہی ہے بلکہ عرب برادر اور دوست ممالک کی سرمایہ کاری کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ہم نے کشکول توڑ دیا ہے۔

    بلاشبہ گزشتہ انتخابات کے بعد میاں شہباز شریف صاحب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس عزم کے ساتھ حکومت سنبھالی تھی کہ وہ ملک کو معاشی گرداب سے نکال کر حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ میاں شہباز شریف صاحب جب اتحادی حکومت پی ڈی ایم (PDM) کے وزیراعظم تھے تو تب بھی آئی ایم ایف کی قسط اتارنے کے لیئے چین اور خلیجی ریاستوں سے ایک ایک، دو دو ارب ڈالر کی امداد لی تھی۔ اس دفعہ بھی انہوں نے اپنے معاشی پروگرام کو تقویت دینے کیلئے بغیر کوئی دیر کیئے سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور چین کے دورے کئے، جس سے آنے والے دنوں میں ملک میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی، کاروباری شعبے کو از سر نو حوصلہ ملا، مہنگائی میں کمی آئی اور شرح سود بھی 22 سے 20 فیصد پر آ گئی۔ یہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جزوقتی کارکردگی قابل اطمینان ہے مگر اس سے ملک معاشی طور پر خود مختار ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ کے لیئے کشکول توڑ سکتا ہے کیونکہ حکومت "اشرافیہ” یعنی "مراعات یافتہ طبقہ” جس میں خود حکومت بھی شامل ہے پر ہاتھ ڈالنے کے لیئے تیار نہیں ہے۔

    پاکستان کے 10ویں وزیراعظم محمد خان جونیجو جو صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں سنہ 1985ء سے 1988ء تک وزیراعظم رہے تھے انہوں نے وفاقی وزراء اور وفاقی بیوروکریسی کے سیکٹریوں سے مہنگی غیر ملکی گاڑیاں واپس لے کر انہیں پاکستان کی تیار کردہ سستی سوزوکی کاریں استعمال کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن 29 مئی سنہ 1988ء کو صدر موصوف ضیاءالحق نے انہیں بھی وزارت عظمی سے فارغ کر دیا تھا۔ میاں شہباز شریف نے حکومتی محکموں میں کفائت شعاری کی ہدایت تو کی ہے مگر محمد خان جونیجو کی طرز پر معاشی بچت کا کوئی پروگرام متعارف نہیں کروایا۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم، وفاقی وزراء، وفاقی بیوروکریسی اور پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز اور ان کی کابینہ اور خود ان کے پروٹوکول، ہیلی کاپٹروں اور قیمتی ترین گاڑیوں کے جتھوں میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آئی ہے!!

    یہ بھی حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف کے مقابلے میں میاں شہباز شریف صاحب چاک و چوبند اور مستعد وزیراعظم ہیں۔ وہ اپنی اکثر تقاریر میں "شبابہ روز محنت” کا زکر کرتے آئے ہیں اور ملک کو معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن زمینی اعدادوشمار کے مطابق یہ ایسا ہی دعوی ہے جو ماضی میں کئی بار ن لیگ کی قیادت "کشکول” توڑنے کا کرتی آئی ہے۔ یہ ایک قسم کی تقریری کرشمہ سازی یے جو عوام کے زہنوں میں راسخ کروائی جاتی ہے تاکہ بغاوت نہ ہو یا سیاسی ووٹ بنک نہ ٹوٹے۔ حقیقت میں معیشت میں بہتری اسی وقت آئے گی جب خودانحصاری اور بچت پر مبنی پائیدار پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہ ایک خواب ہے۔ جب اشرافیہ کو بچت کی سکیمیں بنا کر اسے اس میں شامل کیا جائے گا تو یہ خواب تبھی پورا ہو گا۔ ورنہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دعوی ایک دعوی ہی رہے گا۔ خدا کرے اس دفعہ محترم وزیراعظم شہباز شریف اپنا وعدہ وفا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ایسا نہ ہوا تو قرضوں پر سود میں جکڑی معیشت اسی طرح خطرے میں رہے گی اور ایسے دعووں کے برعکس پاکستان آئی ایم ایف (IMF) کے چَن٘گُل سے کبھی آزاد نہیں ہو گا۔

    Title Image by Wikipedia

  • حسین امجد کی ادھ راتا

    حسین امجد کی ادھ راتا

    حسین امجد کی ادھ راتا

    حسین امجد سے میری ملاقات تقریباً نو سال سے جاری ہے ان کی جو کتاب بھی منصہء شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے وہ بڑی محبت اور شفقت سے میرے پاس تشریف لاتے ہیں اور مجھے کتاب کا تحفہ عنایت فرماتے ہیں اس دفعہ جب ان کی کتاب ادھ راتا شائع ہوئی تو مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ اس دفعہ ان کی کتاب پنجابی زبان کے کیمبل پوری لہجہ میں تھی میں جوں جوں کتاب پڑھتا گیا حیرت زدہ ہوتا گیا کیونکہ حسین امجد نے اس میں کافی متروك الفاظ استعمال کیے ہیں جن کے بارے میں موجودہ نسل کو بالکل علم نہیں ہے متروک الفاظ کو نئی زندگی دینا ایک اچھے شاعر کا وصف ہوتا ہے اس لحاظ سے حسین امجد بہت خوش نصیب ہیں چھوٹی بحروں میں سلاست اور بلاغت کے ساتھ پنجابی میں لکھنا خاصہ مشکل کام ہے جس کو حسین امجد نے بہت اچھے انداز سے نبھایا ہے۔

    Hussain Amjad and Hubdar Qaim
    حسین امجد ” ادھ راتا” حبدار قائم کو پیش کرتے ہوئے

    کتاب میں ہلکے پھلکے طنز و مزاح نے کتاب کا حسن دوبالا کر دیا ہے ۔ روز مرہ حالات کو حسین امجد نے بہت اچھے انداذ میں بیان کیا ہے ۔جس میں خصوصا پنشنرز کے احوال اور بہنوں بیٹیوں کو ان کے حقوق دلانے کی بات کی ہے۔ حسین امجد نے اپنے اداریے میں کچھ نامعلوم دوستوں کا ذکر کیا ہے جن کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ ان دوستوں نے حسین امجد کو پنجابی لکھنے سے منع کیا ہے بلاشبہ ان دوستوں میں میں بھی شامل ہوں۔ پنجابی ہماری ماں بولی ہے جو شکر سے میٹھی اور رس بھری ہے اور اس میں ہم نے اپنی ماوں کی شہد سے میٹھی لوری سنی ہے ماں بولی سے کبھی اور کسی صورت میں اختلاف نہیں ہو سکتا اصل میں بات صرف اتنی ہے کہ حسین امجد نے اپنی اردو کی بہترین تصنیف رہگزر کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ ایسی پنجابی نظمیں کہی ہیں جو ان کے شایان شان نہیں تھیں۔اور وہ پنجابی میں تھیں یہ پنجابی زبان کا مسئلہ نہیں تھا بل کہ ان کو اس لیے روکا گیا تھا کہ ان کی اردو تصنیف رہگزر کے بعد ایسی نظمیں لکھنا ان کی بڑھتی ہوئی ساکھ اور مقبولیت کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ لیکن ادھ راتا کا قاری ہونے کے بعد مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ وہ نظمیں آپ نے ادھ راتا میں شامل نہیں کیں۔ بے شک حسین امجد خوبصورت شعر لکھنے والے خوبصورت لب و لہجہ کے شاعر ہیں جنہوں نے ہلکے پھلکے خوبصورت مضمون ادھ راتا میں شامل کیے ہیں جس میں میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔

    حسین امجد کی ادھ راتا


    ادھ راتا میں ان کا کلام سہل ممتنع اور تغزل کا عملی ثبوت ہے جو ان کے شوق اور وارفتہ پن کو ظاہر کرتا ہے ان کے نگار خانہ ء شوق میں ڈھلے فن پاروں کا عکس ہائے جمیل ان کے درج ذیل فرخندہ بخت اشعار میں ملاحظہ فرمائیے:۔
    اللہ سوھنا تینڈھے باہجوں
    محرم مینڈھے حال نا کیہڑا ؟

    پڑھنی رہ درود نبی نا
    نالے کڑیے چرخہ کت

    علی آلے سارے چنگے لگنے ان
    نعرہ مار کے جنہاں، اندر ٹھڈ پینی

    گُھراں نے وچ وڑ کے بیٹھا
    گدڑ حلے نسا کوئی نئیں

    ہبا کجھ لکھوا کے متا
    اساں کوڑ ای جاتا نیں

    وت نانہہ گھنیں سکی چس
    تکیں مندوں ویسیں پھس

    پنسن گھن کے چٹا سوٹ سواساں میں
    بابے آسے کھونڈی گھن کے آساں میں

    بابا مینڈھا آلو پالک نئیں کھانا
    رتا ککڑ کوھ کے آپ پکاساں میں

    اس نا مکو ٹھپنا پیسی
    ایہہ پیا مینڈھے چیڑے لاھنا

    پتلا میں پلستر کرساں
    مساں ہک تروڑا لگسی

    ٹریکٹر نال میں پٹی واہساں
    اس واری بی پھلیاں راہساں
    جس ویلے میں فصل چاساں
    دھی رانی دا داج بناساں

    اسی ہر شے ونڈ کے کھاساں
    ہک دوۓ توں وکھ نہ رکھساں

    بھانویں ہولی ہولی لکھ
    کیمل پور نی بولی لکھ
    وڈیاں قوماں چھیکڑ لکھیں
    پہلوں چنگڑ پولی لکھ

    لیراں نی میں رسی وٹ کے
    گائیں آں گداواں پاساں

    چھیکڑ ونج سکولے وڑنے
    رٹے لا لا سبق پڑھنے
    ہک دوۓ نا مڑ مڑ کھینے
    مینڈھے بال سکولے وینے

    پچھے ہٹ کے کھل توں بابو
    کرسیں یار کلل توں بابو

    مینڈھے پتر آدی ،احمد
    پڑھنے وچ ان رچ
    لکھن گھچ مگھچ
    انگریزی نے وچ

    نکے ، بونے، لوک منافق
    ظالم ہونے، لوک منافق

    اس نی ہر اک گل توں من کے
    چنگا رہسیں رن مریدا

    کیمبل پور نے آسے پاسے
    مٹھا کھنڈ ادھوانا کوئی نئیں

    کوئی تینڈی گل نہ کرے
    ایہجی بھین بھروٹی رکھ

    کیہڑا کلیہ، قیدہ تکنا
    ہر کوئی اپنا فیدہ تکنا

    اللہ کولوں مدد منگساں
    اللہ باہجوں یاور کوئی نئیں

    بابے اتے کمل سٹو
    بابے آں بہوں سی پئیا لگنا

    سدھا ساھنواں جھبل جیہا
    سنگی لدھا چبل جیہا
    ادھی پٹی کپ بیٹھا واں
    سنا سکا کھبل جیہا
    امجد مانہہ بہوں سی لگنا وے
    کمل گھنساں ڈبل جیہا

    آخر پر میں حسین امجد کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔آمین

  • کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    Dubai Naama

کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    عید الاضحٰی سے چند روز قبل سانگھڑ کے علاقے منڈھ جمڑاؤ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا جو ظالمانہ اور دلخراش واقعہ پیش آیا اس نے عید کی خوشیوں کو گہنا دیا۔ ایک سندھی وڈیرے کے مزارعے کا اونٹ اس کے کھیت میں کیا گھس گیا کہ اس نے اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا جاہلانہ حکم دے دیا۔ شائد اس واقعہ میں ملوث مجرمان کو احساس تھا کہ اونٹ کو یہ اذیت پہنچانے کے لیئے ان سے کوئی پوچھ گچھ یا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ اگر یہ مجرم کسی انسان کے ساتھ ایسا کرتے تو ممکن ہے کہ اس کے وارثین ان مجرموں کی ٹانگیں کاٹتے یا انہیں قتل ہی کر دیتے۔ اس سے بڑھ کر بزدلی اور سنگ دلی کیا ہو سکتی ہے کہ یہ اندوہناک جرم انہوں نے ایک حیوان کے ساتھ کیا جس کے خطرناک نتائج کا انہیں کوئی خوف نہیں تھا۔

    اس سے قبل عرب کے قبائلی معاشرے میں اونٹوں کی لڑائی پر جھگڑے ہوتے تھے اور انسانوں کے درمیان قتل و غارت نسلوں تک چلتی رہتی تھی۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد یہ جہالت ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ختم ہو گئی۔ لیکن اس واقعہ نے اللہ تعالی کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قتل کا واقعہ یاد دلا دیا جس کے قاتل تو صرف 4 تھے مگر اس واقعہ کے بعد اللہ تعالی کے غضب سے ان کی پوری بستی تباہ ہو گئی تھی۔

    یہ واقعہ اس انداز سے سوشل میڈیا پر تحاریر اور ویڈیوز کی شکل میں وائرل ہوتا رہا کہ عید سے پہلے ہر درد دل اداس تھا۔ ممکن ہے یہ بہت سے لوگوں کے لیئے کوئی واقعہ ہی نہ ہو۔ جو قوم فلسطین میں روزانہ بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کے کٹنے پر خاموش ہو اور احتجاج تک کرنے کی اخلاقی جرات نہ رکھتی ہو وہ اس واقعہ پر اونٹ کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کیا دلچسپی ظاہر کر سکتی ہے۔ اگرچہ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے والے 5 ملزمان کو سوشل میڈیا کے احتجاج کی وجہ سے گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور ان کا جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا گیا۔ لیکن اگلے ہی روز یہ خبر آئی کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر اونٹ سرکاری تحویل میں کراچی پہنچایا گیا جہاں اس کا علاج بھی ہو گا اور اسے مصنوعی ٹانگ بھی لگائی جائے گی۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا یہ اعلان اس کے بعد آیا جب انڈیا کی حکومت نے اس اونٹ کے علاج اور اس کو مصنوعی ٹانگ لگانے کی آفر کی تھی۔ یہ ایک شرمناک واقعہ ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ اب یہ خبر بھی آئی ہے کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اونٹ کے مالک کو دو اونٹ دے دیئے ہیں جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ مالک کو راضی کر دیا گیا ہے اور کیس عنقریب ٹھپ ہو جائے گا۔

    انڈیا میں جانوروں پر ظلم اور ایذا پہنچانے کے خلاف 1960 کا ایکٹ موجود ہے جس کے تحت دو سال تک کی سزا اور جرمانہ شامل ہے۔ برطانیہ میں جانوروں پر ظلم کے خلاف پارلیمنٹ کا 1876 ( سیکشن 39 اور 40) کا ایکٹ اور سزا موجود ہے۔ اسی طرح امریکہ اور یورپ میں بھی جانوروں کے حقوق اور ایذا رسانی کے قوانین اور سزائیں موجود ہیں۔ حتی کہ فلپائن میں بھی جانوروں کو نقصان پہنچانے کی دو سال تک سزا اور جرمانہ ہے۔ عجب تماشہ ہے کہ پاکستان میں کسی جانور کو بلاوجہ قتل کی سزا 200 روپے جرمانہ یا چھ ماہ تک قابل ضمانت قید ہے مگر انہیں تکلیف دینے یا اونٹ کی ٹانگ وغیرہ کاٹ دینے کی بظاہر کوئی قانونی سزا موجود نہیں ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ اپنے اردگرد ہونے والے ظلم پر خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا جرم ہے۔جانوروں پر ظلم کرنے والے کا دل پتھر کا ہوتا ہے۔ آج جو جانوروں پر ظلم کرتا ہے وہ کل انسانوں پر ظلم کرے گا۔ سندھ میں "وڈیروں” کے ہاتھوں ہاریوں اور غریب مزارعوں کو قید کرنے اور ان پر ظلم کرنے کی داستانیں بھی مشہور ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ انسانوں پر ظلم ہونے کا معاملہ ہے، پھر جانور تو جانور ہیں وہ کس کھیت کی مولی ہو سکتے ہیں۔ شائد ہو گا بھی یہی کہ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے والے مجرمان کی ٹانگیں نہیں کاٹی جائیں گی کیونکہ وہ انسان ہیں کے درجہ پر فائز ہیں جس وجہ سے ان ظالموں کو رعایت دی جائے گی۔ اونٹ بے زبان جانور ہے۔ وہ فریاد کے لیئے کسی عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے اور اللہ کے سوا نہ وہ داد رسی کے لیئے کسی انسان کے سامنے گڑگڑا سکتا ہے۔

    جس معاشرے کے لوگ نرم دلی اور احسان و انصاف سے خالی ہوں ان پر رحمت کے بادل نہیں برستے کہ:

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں