ثناٸے محمد ﷺ کے اجالے

ثناٸے محمد ﷺ کے اجالے


تبصرہ نگار:۔ قاری محمد شریف زیدی القادری نعیم آبادی مقیم لاہور

نعت رسول مقبول ﷺ دراصل اصنافِ سخن کی وہ نازک صنف ہے جس میں طبع آزمائی کرتے وقت اقلیمِ سخن کے تاجدار
عاشقوں کے ہمراز پیکرِ سوز و گداز
صوفیء باصفا عاشقِ مصطفٰی ﷺ
حضرت مولانا جامی رحمتہ اللہ نے فرمایا ھے

لا یُمکن الثناء کما کان حقّہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ایک اور مقام پر فرماتے ھیں

ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

ثناٸے محمد ﷺ کے اجالے

اردو میں نعت ان اشعار کے لیے مخصوص ھے جو صرف اور صرف کریمِ کائنات نبی اکرم ﷺ کیلیے کہے گئے ھوں تعریف توصیف ستائش ثناء اسی شخص کی جاتی ھے جو پیارا ھو ھمارے آقا ﷺ تو جانِ کائنات ہیں اور مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ھیں تو ھمارا حق بنتا ھے کہ کریم کائنات کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہیں
زیر نظر کتاب ” ثنائے محمدﷺ” نعت گو شاعر برادرم مظہر علی کٹھڑ صاحب کی تصنیف ہے جو نبی کریم ﷺ کی مدح پر مشتمل نعتیہ کلام سے بھر پور ہے برادرم مظہر علی نے بوترابی عشق ومستی کی طہارت کے پانی سے شعرو سخن کے پودے کو خوب سینچا ھے شاعر کے جذبات قابلِ ستائش ھیں اور حبّ رسول ﷺ ہر شعر میں نمایاں ھے اضطرابِ مدینہ موصوف کے ھر اک شعر سے جھلکتا دیکھائی دیتا ھے

اجٙل آتی وہاں سرکار کے قدموں میں قسمت سے
یہ مظہر بھی مدینہ دفن ایسے ہو گیا ھوتا

مظہر کی فکری کاوش میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہاٸے جمیل ان اشعار میں ملاحظہ کیجیے:۔

یہ طوفاں تو ڈبو دیتا مری کشتی کو دریا میں
تمہارے صدقے پایا ھے کنارا یا رسول اللہﷺ

یہ مظہر بھی ترے در کا سوالی ھے مرے آقا ﷺ
کسی در پر نہیں جاتا یہ منگتا ھے ترا ایسا

امیروں کو فقیروں کو وہاں کاسہ بکف دیکھا
سدا مقبول ہوتی ھے دعا ان کے مدینے میں

نبی ﷺ کا ھے دانہ نبی ﷺ کا ھے پانی
تو کھانا پیمبر ﷺ سے کھائے پیے جا

لگ گئی مصطفیٰ ﷺ سے لو جن کی
وہ زمانے پہ چھا گئے دیکھو

اسی کے مزے ہیں زمانے میں یارو
مدینے میں جس کا ٹھکانہ ھوا ھے

ھر طرف دنیا میں جس کی ھے مہک پھیلی ھوئی
گل یہ بی بی آمنہ کے گھر کھلا ھی خوب ہے

سر بہ خم بیٹھا رہوں میں جالیوں کے سامنے
اُن ﷺ کے در پر سر جھکانے کا مزا ہی خوب ہے

تبھی تو مظہر بھی لکھ رہا ہے نبی ﷺ کی مدحت
خدا نے قسمت میں لکھ دیا ھے ثناء کا چرچا

جہاں تخت کی کوئی وقعت نہیں ھے
مرے مصطفیٰ ﷺ کی چٹائی ھے ایسی

مصطفےٰ ﷺ دیتے ہیں سہارا جب
بے سہارے درود پڑھتے ھیں

اُجالوں نے پائے اجالے ہیں جن کے
وہی مہ جبیں ہیں ھمارے محمد ﷺ

وہﷺ بے سایہ آئے زمانے میں لیکن
مگر اُن ﷺ کا سایہ ھے دونوں جہاں پر

ھے پیارے محمد ﷺ کی آمد کا چرچا
کہ کعبے پہ جھنڈے لگائے گئے ھیں

برستی ھے رحمت وہاں پر ہمیشہ
وہ بَضعَتہ منّی جہاں فاطمہ ھے

ملا اوجِ ثریا تم کو یہ صدقہ علی کا ھے
نجف میں جو مکیں بن کر علی آئے علی آئے

آخر پہ اللہ تعالٰی سے دعاگو ہوں اللہ موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کرنے اور ان کی مدح سرائی میں رطب اللسان رہنے کی توفیق دے آمین

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

سونیا بخاری

Next Post

لانگ ٹرم پالیسیوں کی ضرورت

ہفتہ مارچ 9 , 2024
ہمارے ہاں پالیسی سازی کا کوئی باقاعدہ شعبہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اعلی پائے کے سرکاری یا پرائیویٹ تھنک ٹینکس بھی نہیں ہیں
لانگ ٹرم پالیسیوں کی ضرورت

مزید دلچسپ تحریریں