علی آٹوز کے زیر اہتمام عظیم الشان شہداء کربلا کی تقریب
اٹک(ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)الکویت ھارڑویر۔اٹک ٹریکٹر ۔علی آٹوز کے زیر اہتمام عظیم الشان شہداء کربلا کی تقریب سے علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ شہداء کربلا کے سرخیل تھے جبکہ کربلا میں ابو بکر بن علی۔عمر بن علی۔عثمان بن علی بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسنؑ نے عظیم قربانی دیکر امت مسلمہ کو متحد ہونے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام اور ال بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
امام حسینؑ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور مکہ مکرمہ مدینہ منورہ کی گلیوں کو خون کی رنگین سے بچا کر ہمیں ادب مصطفیؐ کا درس دیا۔اس موقع پر پیر زادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی چیئرمین کاروان حقانیہ۔مولانا قاری نبیل افضل قادری۔اور محمد ابرار اعوان نے شہداء کربلا کو نظم کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا جبکہ سیاح الحرمین الحاج قاری محمد ضیاء الدین مدنی عباسی نے عالم اسلام کے لیئے دعا کی ۔اختتام پر لنگر حسینی سے سینکڑوں شرکاء کی تواضع کی
زندگی اتار چڑھاو’ کا دریا ہے۔ اگر زندگی میں کبھی ابتلاء کا دور آئے تو گھبرانا نہیں چاہئے۔ بعض دفعہ کٹھن واقعات انسان کی زندگی کو امر کر دیتے ہیں۔
جب تک کوئی مشکل یا امتحان کی گھڑی زندگی میں نہ آئے تب تک کسی انسان کی عظمت و رتبے یا معیار و مقام کا پتہ نہیں چلتا۔ ایک بڑی اور عالی مقام شخصیت کا تعین تب ہوتا ہے جب وہ امتحان کے ایسے نازک لمحات میں سرخرو ہو کر نکلتا ہے جیسا کہ حضرت امام عالی مقام علیہ السلام میدان کربلا میں کامیاب ہو کر نکلے۔ آج کے عہد میں ہم عام انسان ایسی قربانی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ جیسی قربانی سچائی کی راہ میں حضرت امام حسینؑ نے اپنا پورا کنبہ قربان کر کے پیش کی۔
واقعہ کربلا محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو عراق کے مقام کربلا میں پیش آیا۔ اس واقعہ کو گزرے 1385سال ہو گزر گئے ہیں۔ عام طور پر مسلم امہ میں واقعہ کربلا کو عقیدے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن یہ واقعہ اہل بیت کے سربراہ حضرت امام حسینؑ کی شخصیت و کردار، استقامت اور مستقل مزاجی کا نمونہ ہے، جس کی دنیا بھر کی تہذیبی تاریخ میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک عظیم اور بلند مقصد کے لئے خاندان کی اتنی جانوں کی قربانی پیش کرنا انسانی حوصلے اور جوانمردی کے اعتبار سے تقریبا ناممکن ہے کہ جب اصولوں کی پاسداری کا احساس اس قدر بلند ہو اور سچائی و مقصد کی خاطر قربانی پیش کرنا مقصود ہو مگر جھکنا منظور نہ ہو، تو ایسا صرف امام عالی مقام ؑ ہی کر سکتے تھے۔
واقعات کے مطابق 7محرم الحرام کو امام حسینؑ کے قافلے پر پانی بند کر دیا گیا اور 10 محرم روز عاشور کو یزیدی فوج نے امام حسین ؑ اور اولاد حسینؑ کو شہید کیا۔ اس حوالے سے حضرت امام حسین ؑ کو مظلوم بھی محسوس کروایا جاتا ہے کہ اہل بیت کو بھوک اور پیاس کے عالم میں بے دردی سے شہید کیا گیا مگر ایسی دہرانا ناانصافی ہے کہ تاریخ سو فیصد سچی لکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس میں مکمل غیرجانبداری اختیار کی جا سکتی ہے۔
جنگ تو جنگ ہے اس میں ظلم یا بے دردی کا کوئی سوال نہیں ہوتا، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آج امام حسین ؑ زندہ ہیں یا یزید لعین زندہ ہے؟
حضرت امام حسینؑ نے یزید کی بیعت نہ کر کے جہاں حق اور باطل کا فرق واضح کیا وہاں بہادری اور شجاعت کی بھی لازوال مثال قائم کی۔ واقعہ کربلا تمام مسلمانوں یعنی فقہ اہلسنت اور فقہ اہل تشیع کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش مگر قابل فخر واقعہ ہے۔ اہل تشیع اس دن وسیع پیمانے پر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں اور یکم محرم الحرام سے 8 ربیع الاول تک مجالس و جلوس کا سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ اہلسنت حضرات بھی ماہ محرم میں نذر و نیاز کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ نواسہ رسول خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسین ابن علی علیہ السلام فقہ اہل تشیع کے تیسرے امام ہیں جبکہ فقہ اہل سنت خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لاڈلے نواسے اور جنت کے سردار ہونے کی وجہ سے امام حسین ؑ سے پیار اور انسیت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کے عظیم شہیدوں کی یاد آج بھی تمام مسلمانوں کے دل میں زندہ ہے اور تاریخ میں بھی ہمیشہ موجود رہے گی۔
کربلا میں جنگ کی وجہ یہ تھی کہ امام حسین ابن علی علیہ السلام نے یزید کی بیعت نہیں کی۔ حسین ابن علی علیہ السلام ، یزید کی حکمرانی کو غیر قانونی، ناجائز اور غیر شرعی سمجھتے تھے۔ جس دین کی اکملیت فخر موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کے ساتھ ہو گئی تھی۔ اسی دین کے اصول حرام و حلال میں یزید اپنے نفس کے فیصلے نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے سامنے دو نمونے تھے، اسلامی نظام حکومت کا نمونہ اور کسریٰ کے استبداد کا نمونہ۔ اس نے اسلامی نظام حکومت کا نمونہ نہیں اپنایا بلکہ اس نے کسریٰ کی آمریت کو نمونہ عمل بنایا۔ اسی کی تصدیق کیلئے اس نے نواسہ رسول حضرت حسین علیہ السلام کو مجبور کرنا چاہا، وہ چاہتا تھا کہ شراب و شباب کی اجازت دیدی جائے، زنا و سود کی اجازت دیدی جائے ، اسلامی تعزیرات میں رد و ترمیم کر دی جائے، شریعت کو طبیعت کے مطابق ڈھال لیا جائے اور ان سب کے باوجود امام حسین علیہ السلام بیعت یزید کر کے یزیدی قوانین کو تسلیم کر لیں۔ معاملہ چونکہ اسلامی قوانین کی حفاظت کا تھا، یزید شریعت اسلامی میں تحریف چاہتا تھا، حضرت حسین علیہ السلام کا بیعت کر لینا مثال بن جاتا، یزیدی فتنے پر مہر تصدیق ثبت کرنے کا ذریعہ بن جاتا، اسلام کا وہ روشن چہرہ باقی نہ رہتا جس کیلئے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے۔ حضرت حسین علیہ السلام نے مستقبل کیلئے ایک مثال قائم کر دی کہ یزید کی بیعت دراصل باطل کی توثیق ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ہمراہ واقعہ کربلا میں شہادت نوش کرتے ہوئے حق اور باطل کا فرق بتایا۔ امام حسینؑ نے ظلم کے سامنے نہ جھکنے اور ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔
دس محرم الحرام یوم عاشورا کا دن ہر سال ہمیں واقعہ کربلا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ انسانیت کا درس دیتا ہے کہ حق اور سچائی کی سربلندی قائم کرنے ہی سے اعلی انسانی معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے، برائی اور اچھائی کا فرق بتاتا ہے اور اس بات کا درس دیتا ہے کہ سچائی اور اصولوں کی اہمیت انسان کی زندگی سے بھی زیادہ ہے۔ اگر جھوٹ کے مقابلے میں سچائی کی خاطر ہمیں کوئی بھی بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنی پڑے تو ہمیں گریز نہیں کرنا چایئے کہ دنیا ہی میں بقید حیات پانے کے لیئے عالی ظرفی کا یہی ایک اصول ہے۔
ایک گاؤں والوں کے پاس دودھ دینے والی ایک ہی گائے تھی جس کے دودھ پر پورے گاؤں کا گزارہ چل رہا تھا. ایک دن گائے نے ٹنکی میں اپنا سر پھنسا لیا۔ اب پورے گاؤں میں پانی والی ٹنکی بھی ایک ہی تھی اور دودھ دینے والی گائے بھی ایک تھی۔ گاؤں والے پریشان تھے اور سوچ رہے تھے کہ وہ گائے کو بچاتے ہیں تو ٹنکی توڑنی پڑے گی اور ٹنکی کو بچاتے ہیں تو گائے کا سر کاٹنا پڑے گا۔ ساتھ والے گاؤں میں ایک شخص کی دانائی کے بڑے چرچے تھے، فیصلہ ہوا کہ اس مسئلے کے حل کے لیئے اسے بلایا جائے۔ اس دانا کو لانے کیلئے سفید رنگ کا ایک خصوصی گھوڑا بھیجا گیا۔ وہ گھوڑے سے اترا اور اس نے گاؤں والوں کو مشورہ دیا کہ گائے کا سر کاٹ دیا جائے۔ اس دانا کے مشورے پر گائے کا سر کاٹ دیا گیا لیکن گائے کا سر ٹنکی کے اندر گر گیا۔ اب ایک اور مشکل آن پڑی کہ ٹنکی سے گائے کا سر کیسے نکالا جائے؟ دانا شخص سے ایک بار پھر مشورہ طلب کیا گیا۔ اب اس نے مشورہ دیا کہ ٹنکی کو توڑ دیا جائے۔ اہل گاو’ں نے ایسا ہی کیا۔ اب گائے بھی ذبح ہو چکی تھی اور ٹنکی بھی ٹوٹ چکی تھی۔ وہ دانا شخص تھوڑے سے فاصلے پر کھڑا روئے جا رہا تھا۔ لوگوں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ کوئی بات نہیں، خیر ہے آپ پشیمان نہ ہوں۔ تب گاؤں کے ایک بندے نے ہمت کر کے اس سے پوچھ لیا کہ ویسے آپ رو کیوں رہے ہیں؟ اس دانا آدمی نے جواب دیا، "میں رو اس لئے رہا ہوں کہ اگر میں نہ ہوتا تو تم لوگوں کا کیا بنتا؟”
گزشتہ 75 سالوں سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ، "زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔” کل ہی ایک خبر آئی تھی کہ آئی ایم ایف (IMF) نے نئے بیل آوٹ پیکیج کے لیئے زرعی آمدنی پر 45فیصد ٹیکس کی کڑی شرط عائد کر دی ہے۔ اب زراعت کے علاوہ ہماری معیشت میں آئی ایم ایف (IMF) کو بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور ہمارے ساتھ بھی وہی معاملہ ہو رہا ہے جو اس گاو’ں والوں کی گائے کا سر ٹنکی میں پھنسنے کی وجہ سے درپیش تھا۔ حکومت کے پاس ملکی اخراجات چلانے کے لیئے آئی ایم ایف کی شرط کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ جب سے "بی جمہوریت” آئی ہے کسی بھی حکومت نے اشرافیہ یعنی مراعات یافتہ طبقہ پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا ہے۔ اس وقت بھی بھاری قرضوں کا سود دینے کے لیئے ستانویں سو ارب روپے کی رقم پاکستانیوں کی جیب سے نکالی جائے گی جس میں 45% زرعی ٹیکس لگانے کا پلان بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ پاکستان کی تباہی کا راز 90ہزار سبز پلیٹ کی گاڑیاں، 220ارب کا مفت پٹرول اور 550ارب روپے کی مفت بجلی ہے۔
اہل یورپ کو دیکھیں کہ پورے انگلینڈ میں صرف 86 سرکاری گاڑیاں ہیں جبکہ صرف اسلام آباد میں 90 ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں۔ صدر سے لے کر ایم پی اے کے منشیوں تک ان کی بجلی، گیس، ہزاروں لٹر فیول، سینکڑوں سیکورٹی گارڈ اور پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، کچن کے نام پر کروڑوں روپے اور باہر کے ملکوں میں درجنوں افراد ساتھ لے کر سیر سپاٹے اور سرکاری خرچ پر حج کرنے والوں کے اخراجات کا بوجھ بھی عوام پر ٹیکس لگا کر پورا کیا جاتا ہے جس کا نصف النہار بوجھ اب زراعت پر ڈالنے کا منصوبہ تیار ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ وڈیروں اور جاگیرداروں میں اس نئے زرعی ٹیکس کے حوالے سے ہلچل مچ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے نئے بیل آؤٹ پیکیج کے لیئے ایک ڈھانچہ جاتی بنچ مارک قائم کیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومتوں کو اپنے قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی آمدنی پر 45% تک معیاری انفرادی انکم ٹیکس کی شرح نافذ کی جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے ٹیکس نظام کو برقرار رکھنے کے لیئے زراعت اور پراپرٹی کے شعبوں پر ٹیکس لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ موصوف وزیر خزانہ کو معلوم ہونا چایئے کہ پاکستان میں پہلے ہی محکمہ مال، انتظامیہ، اس کے افسران پٹواری، تحصیل دار، اے سی، ڈی سی اور ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن کے محکمہ جات اور اس کے افسران موجود ہیں۔ ان محکمہ جات کا کام زراعت و آب پاشی کے زمینداروں سے "معاملہ” (زرعی ٹیکس) وصول کرنا ہے اور شہروں میں موجود پراپرٹیوں اور بنگلہ جات پر ٹیکس لگانا ہے۔ یا تو پہلے یہ کام نہیں ہو رہا تھا تو پھر یہ نیا 45% زرعی ٹیکس ٹھیک ہے اور اگر ہو رہا تھا تو پھر زمینداروں سے یہ تقریبا آدھی آمدنی وصول کرنے کی تجویز کا کیا مطلب ہے؟ پاکستان میں زمینیں بڑے زمیندار خود کاشت نہیں کرتے بلکہ یہ زمینیں مزارع کاشت کرتے ہیں۔ اس ٹیکس کو مزارعوں پر کیسے تقسیم کیا جائے گا یا بڑے جاگیرداروں سے کیسے وصول کیا جائے گا ابھی اس کا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھٹو دور میں بڑے جاگیرداروں سے جاگیریں لے کر مزارعوں میں تقسیم کرنے کی باتیں بھی ہوئی تھیں مگر وہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی بلکہ سارے جاگیر دار بھٹو صاحب کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے، انہی جاگیرداروں مثلا غلام مصطفی کھر کو پنجاب اور غلام مصطفی جتوئ کو سندھ میں بڑے عہدوں سے نوازا گیا تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ اس وقت زراعت معیشت کا 24فیصد حصہ ہے مگر اس کے باوجود زرعی شعبہ پاکستان کی کل ٹیکس وصولیوں میں صرف زیرو اشاریہ ایک فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جاگیر طبقہ اس کم ٹیکس سے مستفید ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مقصد صوبوں پر زور دے کر اس تفاوت کو کم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف ہماری اتنی ہمدرد کہاں سے آ گئی جس کے کشکول کو توڑنے کے نعرے یہی نون لیگی حکومت لگاتی آئی ہے۔ آئی ایم ایف نے چاروں صوبوں کے نمائندوں سے ورچوئل مذاکرات کیئے۔ ہر صوبائی حکومت نے آئی ایم ایف کا مطالبہ مان لیا۔ چاروں صوبائی حکومتیں جولائی کے وسط تک پلان جمع کرائیں گی۔ ذرائع کے مطابق زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح سالانہ 6لاکھ سے زائد آمدن پر عائد ہو گی۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات کیئے اور آئی ایم ایف (IMF) نے خیبر پختونخوا کے 100 ارب روپے کے سرپلس بجٹ کو سراہا۔
آپکو یاد ہو گا کہ اسی صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر کے گھر میں بجلی کا بل لاکھوں روپے میں آیا تھا تو اس کے گھر کو سرکاری رہائش گاہ قرار دے دیا گیا تھا۔ مزہ تو تب ہے کہ ان جاگیرداروں سے جاگیریں واپس لی جائیں اور انہیں بیچ کر ملک کا قرضہ اتارا جائے۔ ورنہ زراعت کی آمدنی پر 45% ٹیکس لگایا گیا تو اس کا سارا بوجھ غریب مزارعوں پر پڑے گا اور ہماری ملکی معیشت کی گردن اسی طرح آئی ایم ایف (IMF) کی ٹنکی میں پھنسی رہے گی، اس کے قرضہ دلوانے والے "دانا مشیر” دور کھڑے مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہیں گے کہ وہ نہ ہوتے تو پاکستان کا کیا بنتا؟ شائد اب بھی وہی بنتا جو اتنے سالوں سے سیاسی حکومتیں معیشت کو آئی ایم ایف کی گائے کا دودھ پلا کر بناتی چلی آ رہی ہیں۔
اردو زبان دنیا کی واحد زبان ہے جس میں ہر زبان کے الفاظ بآسانی سما جاتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی زبان دان کو اردو سے تھوڑا بہت شغف بھی پیدا ہو جائے تو وہ اسے اپنی ماں بولی جان کر سمجھنے اور سیکھنے لگتا ہے۔ چونکہ اردو زبان کا جنم متحدہ ہندوستان کے ایسے ماحول میں ہوا کہ آغاز میں یہ زبان مختلف النوع زبانوں کے حامل مغلیہ فوجیوں میں رابطے کے طور پر بولی جاتی تھی اسی وجہ سے شروع میں اسے "لشکری زبان” بھی کہا جاتا تھا۔ جبکہ تیرویں صدی سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جس زبان کو آج "اردو” کے نام سے جانا جاتا ہے اسے ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دہلوی اور لاہوری زبان بھی کہا جاتا تھا۔ تب اردو زبان میں دیگر قدیم و جدید زبانوں مثلا سنسکرت، آریائی، ہندکو، عربی، فارسی اور انگریزی وغیرہ کے علاوہ درجنوں علاقائی زبانوں کے الفاظ بھی تیزی سے سماتے چلے گئے۔ آج اردو رسم الخط سے بالاتر ہو کر صرف اردو مافی ضمیر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں چینی، فرانسیسی، جاپانی اور دیگر سینکڑوں زبانوں کے الفاظ بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔
مسلم عروج کے زمانے مثلا عثمانیہ اور مغلیہ عہد اپنے زمانے کی سپر طاقتیں تھیں، اور زبانوں کے بارے مقولہ مشہور ہے کہ "زبان صرف حکمران قوم کی چلتی ہے۔” لھذا چونکہ عثمانیوں کی زبان عربی اور ترکش تھی اور مغلوں کی زبان فارسی تھی لھذا ان تینوں زبانوں کے اشتراک سے اردو زبان نے جنم لیا۔ اسلام کی روشنی عربی زبان میں پھوٹی تھی۔ جب اسلام برصغیر میں پہنچا اور یہاں مسلمان مغلیہ خاندان کو بھی عروج حاصل ہوا تو عرب ممالک کے باشندوں کو بھی اردو زبان سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی۔ عرب ممالک کے بہت سے طلباء ماضی اور حال میں ہندوستان اور خاص طور پر پاکستان میں کراچی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حصول علم کے لیئے آتے رہے ہیں۔ چونکہ بھارت، پاکستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھوٹان وغیرہ میں بھی عوام کی اکثریت اردو زبان کو سمجھتی اور بولتی ہے اور ان ممالک کی افرادی قوت بھی عرب ممالک میں موجود تو اس سے معاملہ کرنے کے لیئے حسب ضرورت عرب ممالک کی 80فیصد سے زیادہ آبادی میں بھی اردو زبان کی بول چال موجود ہے۔
ایک عام اندازے کے مطابق اردو اور ہندی کے بولنے والوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ اردو زبان دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے۔
ڈاکٹر سمیرا عزیز
اردو لسانیات سے عربوں کی اس کرم فرمائی نے خود عربوں میں اردو زبان و ادب کے مشاہیر کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل اماراتی اردو شاعر ڈاکٹر فاروق العرشی کا انہی سطور میں ذکر کیا تھا۔ ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کراچی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس (MBBS) کی ڈگری لینے گئے مگر انہیں اردو شاعری سے ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ آج تک اردو شاعری کی 103 کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی اردو شعر و ادب کی خدمات کے عوض سنہ 2013ء میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انہیں "تمغہ امتیاز” سے نوازا۔ اسی طرح سعودی عرب کی قومیت رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا عزیز میرے لیئے ایک نئی دریافت ہیں جو اردو زبان کی مصنفہ اور شاعرہ ہیں جن کے نام کو گوگل کریں تو شاعری اور دیگر موضوعات پر ان کی اردو زبان میں بے شمار ویڈیوز نظر آئیں گی۔
گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے دنیا بھر کے علماء، دانشوروں اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل گرمی کی وجہ سے حجاج کی بھی شہادتیں ہوئیں۔ اب سعودی عرب نے دنیا میں نیا اعزاز حاصل کیا کہ سعودی عوام کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا، جس میں عوام کی پسندیدگی کے اعتبار سے سعودی حکومت دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے جہاں 86فیصد شہریوں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سالانہ اعتماد انڈیکس رپورٹ ایڈلمین 2024 کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں سعودی عوام نے حکومت پر فیصلہ سازی اور قومی مفادات کے حصول کے حوالے سے اعتماد کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
اسی انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ 78 فیصد شہری کاروباری سیکٹر کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر اعتماد رکھتے ہیں، جبکہ دور جدید کے حوالے سے 80 فیصد شہری سعودی لیڈرز اور سائنسدانوں پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم 56 فیصد شہری ملک میں سرکاری اقدامات برائے ٹیکنالوجی پر حکومت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس سروے میں 28 ممالک شامل تھے، جس میں سعودی عرب نے امریکہ، فرانس، جاپان، برطانیہ، جرمنی اور کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
ان مذکورہ موضوعات پر ڈاکٹر سمیرا عزیز کی ویڈیوز عربی زبان کی بجائے اردو زبان میں گوگل پر دیکھی جا سکتی ہیں جو اردو زبان کے لئے کسی سعودی شہری کی ایک قابل فخر کارکردگی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سمیرا عزیز کا اردو لب لہجہ اتنا نیچرل ہے کہ انہیں سنتے ہوئے لگتا ہے کہ اردو ان کی "مادری زبان” ہے۔ یہ اردو زبان و ادب، شاعری اور ثقافت کی خدمات کی صرف ایک بدیسی مثال ہے۔ خود پاکستان کا حال یہ ہے کہ اردو کو قومی زبان قرار دینے کے باوجود اسے ابھی تک سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر رائج نہیں کا جا سکا ہے۔۔۔!
تبصرہ نگار : نیاز خان اعوان بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملک کے طول و عرض سے نعتیہ مجموعے شائع ہو رہے ہیں اور منظرِ عام پر آرہے ہیں ، نعت خوانوں اور صاحبِ ذوق حضرات کی تشنگی بجھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اللّٰہَ تعالٰی ان سب کی کاوشیں اپنے در میں منظور و قبول فرمائے اور انھیں جزائے خیر دے ۔
مظہر علی کھٹڑ بھی ان میں سے ایک نعت گو شاعر ہیں ۔ جن کا تعلق مہورہ تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک سے ہے ۔ ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ ثنائے نعت 2023 ء میں شائع ہوا ، جو سید حبدار قائم صاحب کی وساطت سے مجھے ملا ، دیکھنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ ان کا یہ نعتیہ مجموعہ انفرادیت کا پہلو لیے ہوے ہے ، ان کا یہ نعتیہ مجموعہ 178 صفحات پر مشتمل ہے اور اس نعتیہ مجموعے میں ان کی دو حمدیہ نظمیں ، دو دعائیہ نظمیں ، انہتر نعتیں اور چودہ منقبتی نظمیں شامل ہیں ۔ ان کی سب نعتیں اور نظمیں غزل نما ہیں ، جس کی وجہ سے ان کی نعتوں اور نظموں میں غنائیت پیدا ہو گئی ہے ۔ انھوں نے اپنی نعت گوئی کے لیے طویل و قلیل اور سالم و مزاحف بحور سے استفادہ کیا ہے ۔ انھوں نے صنعتِ تلمیع کا استعمال بہت خوب صورتی سے کیا ہے ۔ انھوں نے اپنے کلام کے اظہار کے لیے آسان اور عام فہم زبان کا استعمال کیا ہے ، جو کہ ان کی شاعری کا خاص وصف ہے ۔ ان کی نعت گوئی سے ان کی رسولِ پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار ملتا ہے ۔ ان کی نعت گوئی سے نعتیہ اشعار کے کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیں :
سفر ہے نرالا مزا پا رہے ہیں دیارِ نبی کی طرف جا رہے ہیں
بڑی ہی دلنشیں پائی فضا ان کے مدینے میں سدا رہتی ہے رحمت کی گھٹا ان کے مدینے میں
گزارے جا ہستی تو سنت پہ چل کر تو درسِ بھلائی سبھی کو دیے جا
محبت کرے جو حبیبِ خدا سے اے مظہر ! اسی سے محبت کیے جا
ہمیں جاں سے پیارے وہ لگتے ہیں سارے جو نعتیں نبی کی سناتے ہیں عاشق
ہر طرف دنیا میں جس کی ہے مہک پھیلی ہوئی گل یہ بی بی آمنہ کے گھر کھلا ہی خوب ہے
محمد ص کا ثانی جہاں میں نہیں ہے وہ صورت خدا نے بنائی ہے ایسی
ایسا حسیں نہیں ہے سارے جہاں میں دیکھو محبوب ہے خدا کا یہ رسول آخری ہے
نبی سے محبت کرے گا جو مظہر قیامت میں اس کو ندامت نہ ہوگی
جہاں بھر میں ایسے کہیں بھی نہ دیکھے جو دیکھے نظارے مدینہ میں جا کر
صداقت کے چرچے زمانہ میں جن کے وہ صادق امیں ہیں ہمارے محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
غریبوں یتیموں کو دے دو سہارا سبق یہ بشر کو سکھایا نبی نے
کتاب کو تعلیم اور حصول علم کی بنیاد کہا جاتا ہے جس کے بغیر دنیا کے کسی بھی تہزیب یافتہ ملک کا ترقی کرنا تقریبا ناممکن ہے۔
آپ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں چلے جائیں وہاں ہر دوسرا آدمی کوئی سفر میں ہے یا حضر میں ہے آپکو کتاب کے مطالعہ میں مگن نظر آئے گا۔ ان ممالک میں بہت زیادہ کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ یورپ کے صرف ایک شہر بارسلونا میں ہر سال شائع ہونے والی کتابوں کی تعداد 57 مسلم ممالک میں چھپنے والی تمام کتابوں سے بھی کئی گنا زیادہ ہے جو کہ 2024ء کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2022ء سپین کے شہر میں شائع ہونے والی کتابون کی تعداد 206.23 ملین ہے۔ اسی طرح وہاں لائبریریوں کی بھی بہتات ہے بلکہ وہاں دنیا کی سب سے بڑی لائبریریاں واقع ہیں۔ امریکہ کی واشنگٹن کانگریس لائبریری دنیا کی سب سے بڑی لائبریری ہے جس میں 171 ملین کتب یا آئٹمز موجود ہیں اور جس کا رقبہ 1349 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں لائبریریوں کی عمارتوں کا ایریا 1.5 ملین سکوئر فٹ یے۔
فرانسز بیکن کا قول ہے کہ "علم ایک طاقت ہے” (Knowledge is a power) کہ اسی اعتبار سے امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے اور علمی اعتبار سے بھی "سپر پاور” ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈیز (PHDs) اور سائنس دان امریکہ میں پائے جاتے ہیں. امریکہ میں 25 یا اس سے زیادہ عمر والے طلباء کے پاس ماسٹر ڈگری رکھنے والوں کی تعداد 21 ملین ہے جبکہ ڈاکٹورل ڈگری رکھنے والوں کی تعداد 4.5 ملین ہے۔ جبکہ امریکہ میں سائنس دانوں کی تعداد 3051 ہے اور امریکہ کے بیورو آف لیبر کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں سائنس و ٹیکنالوجی اور لیبارٹریوں وغیرہ سے وابستہ افراد کی تعداد 6.3 ملین تھی۔
برٹش لائبریری امریکی کانگریس لائبریری سے بھی زیادہ مشہور ہے جس کے ساتھ برٹش میوزم بھی واقع ہے اور اسے بھی کتب اور علمی نسخہ جات کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی لائبریری مانا جاتا یے جس میں 170 سے لے کر 200 ملین کی تعداد میں کتب اور تعلیمی و علمی نسخہ جات موجود ہیں۔
چین دنیا کی دوسری بڑی ابھرتی ہوئی عظیم طاقت بننے جا رہا ہے اور وہاں بھی کتابوں کے شیلف کے لیئے 33700 سکوئیر میٹر پر مبنی رقبہ ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی "دی تائین جن بن ہائے” The Tianjin Binhai Library ہے۔ یہ 5 منزلہ لائبریری ہے جس میں صرف کتابیں رکھنے کے لیئے بنائے گئے شیلف کا اتنا زیادہ ایریا ہے کہ جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چین کی ساری ترقی کا راز مشہور فلسفی اور دانشور کنفیوشئس کے اقوال اور نظریات پر کھڑا ہے جن کی ایک کہاوت ہے کہ، "ہر انسان کے اندر ایک کتاب ہوتی ہے مگر ہر انسان اسے پڑھ نہیں سکتا ہے”، اسی طرح ایک اور چینی کہاوت ہے کہ "جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تو وہ 10 ہزار میل کا سفر طے کر لیتا ہے۔”
اس کے مقابلے میں جن معاشروں اور ملکوں میں خواندگی کی شرح یا کتاب پڑھنے کا تناسب کم ہو گا وہاں لامحالہ طور پر جہالت اور غربت زیادہ ہو گی جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ کم خواندہ ممالک جن میں پاکستان سرفہرست ہے وہاں زیادہ تر ان پڑھ مزدور پائے جاتے ہیں اور اگر کچھ پڑھے لکھے ہیں بھی تو وہ کم تعلیم یافتہ یا اصولی طور پر ان پڑھ ہیں جن میں سیاست دان بھی شامل ہیں جو ان کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر کے دانشوروں اور فلسفیوں کے نظریات و اقوال کا جائزہ لیں تو کتاب بینی ہی کی بنیاد پر انسانی تہذیب و کلچر نے ترقی کی ہے جس کے بارے مختلف الخیال اقوال زریں نمایاں ہیں:
گورچ فوک کہتے ہیں: "اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کر دیں بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک بڑھائیں جو کہ زندگی کو جاننے کی بھوک ہے۔” ائولس گیلیوس کہتے ہیں: "کتابیں خاموش استاد ہیں۔” فرانس کافکا کا خیال ہے: "ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے ہو۔” گوئٹے کا کہنا ہے: "بہت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ مطالعہ سیکھنا کتنا مشکل اور وقت طلب کام ہے، میں نے اپنی زندگی کے 80 سال لگا دیئے لیکن پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں صحیح سمت کی جانب چلتا رہا ہوں۔”
تھومس فون کیمپن کی رائے ہے: "جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں، لیکن جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔” جین پاؤل کا قول ہے: "کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو ایک دوست کے نام لکھا گیا ہو۔” گٹھولڈ لیسنگ کے مطابق: "دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہونگی۔” نووالیس کے مطابق: "کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم ماضی اور حال کے دیوتاؤں سے آزادی کے ساتھ گفتگو کر سکتے ہیں۔” ایک جرمن قول ہے: "کتابیں پیالے کی مانند ہیں جن سے پانی پینا تمہیں خود سیکھنا ہو گا۔”
جرمن زبان میں گدھے کو ایزل کہتے ہیں جب اس لفظ کو الٹا پڑھا جائے تو یہ لیزے بنتا ہے اس لئے یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ کچھ معلومات حاصل کرنے کے لئے تمھیں گدھے کی طرح محنت کرنا ہو گی۔ لیکن اس حوالے سے ایک سروے کی رپورٹ ہے کہ پاکستان میں کتابیں پڑھنے کے شوق کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کتاب کے لئے سالانہ فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے خرچ کئے جاتے ہیں. یہ سچ ہی تو کہا جاتا ہے کہ، "ہم ذہنی غلامی ہیں” جس کی بنیادی وجہ ہماری یہی "کتاب دشمنی” ہے۔
یہ شرمناک حد تک سوشل میڈیا پر وقفے وقفے سے ٹریڈ چلایا جاتا ہے کہ پاکستان میں لاہور جیسے بڑے شہر جہاں مشہور زمانہ گورنمنٹ کالج، ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی بھی ہیں، "جوتے شوکیسوں میں دیکھے جاتے ہیں اور کتابیں زمین پر پڑی نظر آتی ہیں۔ جس معاشرے میں کتابیں پڑھنے کا شوق نہ ہو وہ کبھی شعور حاصل نہیں کر سکتا یے۔
کتاب سے ہماری عدم دلچسپی کی ایک دوسری بڑی وجہ ہماری فوک سوچ بھی ہو سکتی ہے جس کے زیر اثر ہم نے علم کو عمل میں ڈھالنے کی بجائے اسے بے عملی کی لذت میں پرونے کی کوشش کی ہے جس کی ایک مثال بابا بلھے شاہ کا زبان زد عام یہ مقولہ نما پنجابی مصرعہ ہے کہ: "علموں بس کریں او یار” اصل میں تو اس کا مطلب زیادہ علم کی جگہ زیادہ عمل پر زور دینا مقصود ہے مگر ہمارا تجاہل عارفانہ ردعمل دیکھیں کہ عملی طور پر ہم نے اس کا الٹا مطلب نکالا ہے کہ "علموں بس کریں” کا ہم نے یہ عملی مفہوم نکالا ہے جس کا اردو ترجمہ ہے کہ، کتاب پڑھ کر علم حاصل نہ کریں یعنی علم حاصل کرنے سے توبہ کر لیں!
اہل مغرب کے ہاں علم کی عملیت کا تعین ہوا اور بڑے فلسفی پیدا ہوئے جیسا کہ فلسفہ کے میدان میں رسل نے علمیات (Epistemology) پر بھی بہت کام کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ علم کی حقیقت کو سمجھنا اور اس کی حدود کو جانچنا فلسفے کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ رسل نے یہ نظریہ پیش کیا کہ علم کی بنیاد تجربات اور منطقی تجزیے پر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "علم کا سب سے بڑا دشمن یقین ہے”۔ ان کے اس نظریے نے فلسفیانہ سوچ میں ایک نئی راہ ہموار کی جس کے پس منظر میں مغرب میں علمی اور سائنسی انقلاب برپا ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں گزشتہ 500 سالوں میں بھی اقبال کے سوا کوئی ایسا بڑا فلسفی پیدا نہیں ہوا جو ہماری سوچ کے سوتوں میں عمل کی تحریک بھرتا کہ: ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
اٹک (پ ر ) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ضلع اٹک کا ایک تعزیتی اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر اپیکا احمد خان کی صدارت میں منعقد ھواء جس میں چوھدری سرفراز مرکزی صدر آگیگا وصدر پنجاب ٹیچر یونین کی ناگہانی وفات پر لواحقین سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ھوئے مرحوم کے لیئے دعائے مغفرت کی گئی اجلاس میں اپیکا کے ضلعی راہنماؤں ملک رفعت حیات ڈاکٹر شجاع اختر اعوان ۔عبد الستار ۔طفیل خان اسد عباس۔ فیاض احمد ۔نعمان عارف محمد اشفاق ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپیکا ہیلتھ یونٹ کے محمد اقبال خالد محمود زاھد خان و دیگر نے شرکت کی
اپیکا کے صدر احمد خان و ملک رفعت حیات نے کہا کہ چوھدری سرفراز کی پوری ذندگی ملازمین کے حقوق کے لیئے عملی جہدو جہد کرتے گزری درد دل رکھنے والے مخلص اور ملنسار انسان تھے جہنوں نے ملازمین کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کا ہر عہدادار و کارکن ان کی وفات پر انتہائی رنجیدہ اور بخشش کے لیئے دعا گو ھے
اٹک(ڈاکٹر شجاع اختر اعوان) پیراڈائز شادی ھال اٹک حاجی بخشیش الہی کے پوتے کی دعوت ولیمہ اختتام پذیر ہو گئی۔ ممتاز عالم دین استاذ العلماء علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی بانی و پرنسپل جامعہ حقانیہ اٹک کینٹ نے مختصر اور جامع الفاظ میں دعا کرتے ہوئے نئے جوڑے سمیت تمام جوڑوں کی اتحاد و اتفاق کی دولت اور کھانا کھانے والے کھلانے والوں کے لیے دعا کی جس پر ملک شوکت خان ہمزہ ٹریڈ نے کہا کہ علامہ حقانی کی منفرد انداز میں دعا میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
تقریب میں ہر دلعزیز شخصیت غریب پرور حاجی افضل خان بنگش۔کرنل آصف خان بنگش۔منیجر بنک سید ملک ۔ملک ممتاز خان ایڈووکیٹ۔ محمد افضل عطاری۔سمیت دیگر ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے امجد پرویز۔ارشد پرویز۔جملہ فیملی کو دلی مبارک باد پیش کی
مرید عارف نے زمانہء طالبِ علمی سے شعر گوئی کا آغاز کیا بعد ازاں نثر کی جانب راغب ہوئے ۔ جس سے دو کتابیں مارکیٹ میں آئیں ایک ٫٫ سرائیکی مرثیے وچ نثر ،، اور دوسری ٫٫ کھرے کھر ،، یہ دونوں کتابیں تحقیقی و تنقیدی ہیں ۔ اللّٰہ پاک نے مرید عارف کو جہاں خوبصورت خدو خال سے نوازا ہے وہاں ایک ہمدرد دل رکھنے والا انسان اور پُر خلوص و سچے جذبے رکھنے والا ایک ایسا انسان بنایا جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتا ہے ایسے انسان کا وجود اللّٰہ پاک کی طرف سے ایک خاص نعمت ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ استفادہ کرتے رہتے ہیں دوسرے لوگوں کو اُن کا مقام دینا صرف زبانی کلامی ہی نہیں عملی طور پر پورا اترتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔
سرائیکی ڈوہڑہ سرائیکی ادب میں ایک خوبصورت صنفِ سخن ہے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نئے لکھنے والے سرائیکی شعراء کرام نے اپنی تخلیق کا آغاز ڈوہڑے سے ہی کیا ہے ڈوہڑہ کُل چار سطروں پر مشتمل ہوتا ہے پہلی سطر سے ڈوہڑہ گو اپنے خیال کا آغاز تعارفی صورت میں کرتا ہے کہ وہ کیا کہنہ چاہتا ہے اُس کے بعد دوسری سطر میں اپنے اُسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے تمہید کی شکل اختیار کر جاتا ہے تیسری سطر میں بات پُر لطف مقام تک پہنچ جاتی ہے چوتھی اور آخری سطر اتنی زور دار ہوتی ہے کہ سننے والا داد دیئے بغیر رہ نہیں سکتا اس کو چھوٹی سی نظم بھی کہا جاسکتا ہے ڈوہڑہ غزل کی طرح تمام تر خیالات اپنے اندر سموع سکتا ہے اور سمو بھی رہا ہے مثال کے طور پر راقم الحروف (مقبول ذکی مقبول) کا ایک ڈوہڑہ ملاحظہ فرمائیں ۔
ہر وقت کھلائے رحمٰن دا ، در کوئی جہڑے وقت وی آوے تکبیر آواز بلند کر کے وت حمد خدا سنواوے سب کیتیاں کوں کر معاف ڈیندائے جو سر دل نال جھکاوے مقبول رکوع تے سجدے وچ بیٹھا خالق نال الاوے
زیرِ نظر کتاب سرائیکی حسینی ڈوہڑہ ( ٹور تے پندھ) مرید عارف کا ایم فل کا مقالہ ہے جو اس وقت کتاب کی شکل میں مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔ جس کا پہلا باب سرائیکی مرثیے وچ حسینی ڈوہڑے کی روایت اور سرائیکی ڈوہڑے کی روایت دوسرا باب سرائیکی حسینی ڈوہڑے کا پہلا دور (اول سے لے کر 1880ء تک) تیسرا باب سرائیکی حسینی ڈوہڑے کا دوسرا دور (1880ء تا 1930ء تک) چوتھا باب سرائیکی ڈوہڑے کا تیسرا دور (1930ء تا 2015ء) ان تمام تر باب میں مرید عارف کی محنت و لگن اور محبت جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے سرائیکی حسینی ڈوہڑہ کی صورت تحقیق و تنقید ایک کتاب کی صورت میں وجود میں آجانا یہ بھی بڑے اعزاز کی بات ہے مرید عارف ایک باصلاحیت نوجوان ہے اس کی تحریر میں بہت ساری خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ سرائیکی زبان میں جو مہارت رکھتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر مرید حسین المعروف مرید عارف ( اسٹنٹ پروفیسرگریجویٹ کالج فاصل پور ضلع راجن پور) میں تعینات ہیں سرائیکی زبان پر ملکہ رکھتے ہیں تحریر میں روانی کے ساتھ ساتھ الفاظ قاری کے ذہن میں خود بخود آ جاتے ہیں ۔ جو علمی و ادبی تحقیق سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ قاری کے لیے یہ لطف بھی پُر مسرت بنتا جاتا ہے اور ایسے معروف ڈوہڑے و کلام جب سامنے آتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ کلام کِس شاعر کا ہے علم میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور مسرت بھی ہوتی ہے ۔
ڈوہڑہ گو شعرا کی تاریخ پیدائش ولدیت فن و شخصیت پر مختصر مگر جامع انداز میں تحقیق و تنقیدی جائزہ حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔ سید زمان شاہ شیرازی سے لے کر جاوید آصف تک دوسو کے قریب ڈوہڑہ گو شعراءکرام کو شامل کیا گیا ہے 311 صفحات پر مشتمل کتاب میں پیشِ لفظ مرید عارف نے خود لکھا ہے اور بیک ٹائٹل ڈاکٹر محمد ممتاز خان بلوچ ( شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) نے لکھا ہے ایسی کتاب کو ہر لائبریری میں موجود ہونا چاہیے