جمہور کا حق رائے دہی؟

جمہور کا حق رائے دہی؟

الیکشن جمہوریت کا جزو لاینیک ہیں جن کے بغیر عوامی نمائندے چننے کا پراسیس مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ الیکشن صدارتی طرز کے ہوں یا پارلیمانی چناو’ کے ہوں ان دونوں میں عوام کے حق رائے دہی کو ہی حتمی نتائج پیدا کرنے کی حیثیت حاصل ہے۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس اس حوالے سے کہتے ہیں کہ: ’’جمہوریت ایک ایسی حکومت ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات عوام کے حق رائے دہی کے زریعے قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہو جاتے ہیں‘‘۔ پہلی بار
جمہوریت کی اصطلاح بھی چونکہ یونانی حکماء اور اہل دانش نے متعارف کروائی تھی جو دو یونانی الفاظ “ڈیمو” اور “کراٹس” سے مل کر بنی ہے اور جس کے بلترتیب لغوی معنی ’’لوگ‘‘ اور “حکومت” کے ہیں۔ لھذا آج بھی جمہوریت انہی ممالک میں بہترین نظام حکومت ہے جہاں عام انتخابات میں عوام یعنی لوگوں کے ووٹ کو شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت میں الیکشن اور عوامی حق رائے دہی کی اس بنیادی حیثیت کو کبھی فیصلہ کن اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اول الیکشن ہمیشہ مقتدرہ کے زیراثر ہوتے ہیں جس کا عوام کی آزادی اظہار سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ دوم الیکشن کے انعقاد سے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کر لیتی ہے کہ کس پسندیدہ سیاسی جماعت کو کتنی سیٹیں دینی ہیں۔ اس پر خود سیاسی جماعتیں ایک اور ظلم یہ کرتی ہیں کہ وہ عوام کی آزادانہ اور اختیاری رائے دہی کو “سیٹ ایڈجسٹمنٹ” کر کے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اگر ملک کو جمہوریت ہی سے چمٹے رہنا ہے تو حقیقی جمہوری سوچ اور اصولوں کو ترقی دینے کے لیئے مقتدرہ اور سیاسی جماعتوں کو دو حوالوں سے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک الیکشن تسلسل سے کروائے جائیں، وہ شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں، مقتدرہ سیاست میں مداخلت بند کر دے، مختلف شعبوں کے ماہرین کو سیاسی کام میں حصہ دار بنایا جائے، انہیں سیاسی جماعتوں میں کماحقہ اہمیت دی جائے، ان سے سیکھنے کی کوشش کی جائے اور جو بھی سیاسی جماعت الیکشن جیت کر آئے اسے پانچ سال کی اپنی مقررہ آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ دوسرا انتخابات کو صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ سمجھنے کا وطیرہ ترک کیا جائے بلکہ اسے ملکی نظم حکومت کو بہتر بنانے، گڈ گورنینس دینے اور اداروں کو مخلصانہ بنیادوں پر فعال اور عوام دوست بنانے کا ذریعہ بنایا جائے۔

اس کے برعکس اگر برسراقتدار سیاسی جماعتیں باہمی تعلق کو ضد و انا کا اسیر بنا لیں گی اور وہ ایک دوسرے کو چور و نا اہل اور “ایجنٹ” قرار دینے میں بازی لے جانے کو ہی جمہوریت سمجھیں گی تو اس سے ایک سیاست دانوں اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہے گا اور دوسرا ملک میں میں سیاسی و معاشی استحکام پیدا ہو گا اور نہ ہی ملک شاہراہ ترقی پر گامزن ہو سکے گا. پاکستان میں پائی جانے والی مایوسی کی سب سے بڑی وجہ مقتدرہ اور سیاست دانوں سے نا امیدی ہے کہ وہ عوام کی جمہوری امنگوں کے مطابق ڈلیور نہیں کر پا رہے ہیں۔ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ملک وسائل سے مالا مال ہے اور ہے بھی، مگر اہل قدر اشرافیہ اقتدار میں آ کر ان وسائل کو صرف ذاتی منفعت کے لئے بروئے کار لاتے ہیں اور عام جمہور کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔ پاکستانی جمہوریت چونکہ اصولوں کی بجائے شخصیات پر استوار ہے، اس لیے افراد کے بارے میں پائی جانے والی بدگمانیاں ملک کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ ملک میں الیکشن منعقد ہونے میں محض تین دن باقی ہیں مگر کسی بھی انتخابی امیدوار کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں، ان میں خود کو “بازی گر” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک بار وہ اقتدار میں آ جائیں تو ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، غربت ختم ہو جائے گی اور دنیا میں پاکستان کا نام عزت و وقار سے لیا جانے لگے گا۔ افسوس ہے کہ اس سوال کا کوئی قابل فہم و عمل جواب البتہ کسی کے پاس نہیں ہے کہ یہ اہداف کیسے حاصل کئے جائیں گے۔

ہمارے ہاں روایت ہے کہ ہم سیاست دانوں کو ہمیشہ معتوب کرتے آئے ہیں۔ اس لئے یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ صرف سیاست دانوں پر نکتہ چینی سے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس رائے کو درست مانتے ہوئے بھی سیاست دانوں سے یہ توقع تو بہرحال کی جانی چاہئے کہ انتخابات کے موقع پر عوام کو سبز باغ دکھانے کے ساتھ ساتھ وہ کچھ حقائق اور مسائل کا ذکر بھی کیا کریں۔ دوسرے جس جمہوریت و الیکشن کے زریعے جو لیڈران خود اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے خود بھی کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت کسی ایک مقبول یا برسراقتدار سیاسی جماعت کی اجارہ داری کا نام نہیں ہے بلکہ مل جل کر مسائل کا تجزیہ کرنے، پرکھنے اور ان کا مناسب حل تلاش کرنے کا بتدریج عمل ہے۔ یہ عمل اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب اقتدار سے قطع نظر مقتدرہ، سیاسی پارٹیاں اور لیڈران ملکی نظام کی بہتری اور عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنے کا قصد کریں اور اسی کے مطابق قابل عمل پالیسیاں بنائیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ ہماری عوام کو ایک تسلسل سے یہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں کہ ایک پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو ناکام ہونے والی پارٹیاں سڑکوں پر حکومت گرانے کی مہم چلا رہی ہوتی ہیں۔ جس نظام میں بھی اس رویہ کے ساتھ سیاست کی جائے گی، وہاں حکمرانی کا فعال اور عوام دوست نظام استوار نہیں ہو سکے گا۔ یہ نظام بنانا صرف برسر اقتدار پارٹی ہی کا کام نہیں بلکہ جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں بھی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے اصلاح احوال کے لئے بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ البتہ ملک میں ایک دوسرے کے لئے احترام و قبولیت کو اس قدر نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ اب اعتدال و مفاہمت کا کوئی راستہ تلاش کرنے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے جس کے تاحال امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ الیکشن سے پہلے ہی اگر انتخابی نتائج نوشتہ دیوار کر دیئے جائیں یا یہ تاثر پھیلا دیا جائے کہ فلاں پارٹی کامیاب ہو گی جیسا کہ اس الیکشن (2024) میں نون لیگ کی کامیابی کا تاثر شدت سے پھیلایا گیا ہے تو انتخابی عمل کی ایسی کاوش جمہوریت کے استحکام کے لیئے کوئی نیک شگون نہیں ہو سکتا یے۔ اگر کسی ایک گروہ کو اقتدار میں لانے اور کسی دوسرے کو محروم رکھنے کے لئے الیکشن کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے گا تو جمہوریت بہترین نظام حکومت نہیں کہلا سکے گی۔ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لئے ماضی قریب میں بھی کماحقہ زور زبردستی کی گئی لیکن اس بار اس میں اس عنصر کا کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں انتخابات میں جو کچھ تحریک انصاف کو اقتدار تک لانے کے لیئے کیا گیا تھا اب وہی کچھ تحریک انصاف کو دبا کر نون لیگ کو لانے کے لیئے کیا گیا ہے۔ کیا گارنٹی ہے کہ کل پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار و طاقت ملی تو وہ نون لیگ کے ساتھ یہی انتقامی کاروائی روا نہیں رکھے گی۔

موجودہ الیکشن کے نتائج سے حکومت میں آنے والی واحد سیاسی جماعت یا متحدہ حکومت حسب سابق اعلی جمہوری روایات کا پاس نہیں کرے گی تو یہ الیکشن ہمارے موجودہ حالات کو اور بھی بدتر کر دے گا۔ عوام اپنے حق رائے دہی کا اختیار اپنے نمائندوں کو اس امید پر تفویض کریں گے کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں۔ اگر منتخب نمائندے اس معیار پر پورا نہیں اتریں گے تو یہ الیکشن بھی ملک میں بہتری لانے کی بجائے جمہوریت کو مزید بدتر نظام میں بدلنے کا کردار ادا کرے گا۔ بہرکیف مثبت سوچ کا تقاضا ہے کہ خیر کی توقع رکھی جائے۔ مخلص قیادت کسی بھی الیکشن کے نتیجے میں سامنے آ سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ نون لیگ ہی کو اقتدار ملے گا اور نواز شریف ہی چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے۔ اقتدار اعلی “مقتدرہ” کے پاس نہیں بلکہ صرف قبضہ قدرت میں ہے وہ جسے چاہے تفویض کر دے۔

Title Image by No-longer-here from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

جوسف علی

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت" میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف" میں سب ایڈیٹر تھا۔ روزنامہ "جنگ"، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔

Next Post

رئیس احمد کمار کا افسانہ "عمرہ"

منگل فروری 6 , 2024
کشمیری ادیب رئیس احمد کمار کا افسانہ “عمرہ” ایک مختصر افسانہ ہے جس میں غلام خان کے پُرجوش سفر کی عکاسی کی گئی ہے
رئیس احمد کمار کا افسانہ “عمرہ”

مزید دلچسپ تحریریں