خالد جاوید کے نعتیہ مجموعے’’خوشبوئے مدینہ ‘ ‘ پر تبصرہ ’’ تو غنی از ھر دو عالم من فقیر ‘ ‘ تبصرہ : محمد یوسف وحید (مدیر: شعوروادراک خان پور)
دل ِ حزیں کا سکوں ہے ہَوا مدینے کی فضائے خُلد کی ہمسر فضا مدینے کی ملے اب ا ذن ِ حضوری رسولؐ کے دَر سے خدا دکھائے مجھے بھی فضا مدینے کی ’خوشبوئے مدینہ‘ محترم ادیب دوست خالد جاوید کا پہلا اُردو نعتیہ مجموعہ ہے ۔ جس میں ایک حمد ، 45 نعتیں،2منقبت اور 3سلام شامل ہیں ۔’ ’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ 112صفحات پر مشتمل مجلد خوب صورت اشاعت جسے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے نام منسوب کیا ہے ۔ نام ور اہل ِ قلم اور نکتہ داں کے سامنے بندۂ ناچیز کی بات کچھ معنی نہیں رکھتی ۔ مگر جو حکم ِیار ہوا تو چند خلوص کے الفاظ پیش کرتا ہوں ۔ گر قبول اُفتد زہے عزو شرف ’نعت‘ اصطلاحاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظوم توصیف بیان کرنا ہے۔ اگر نعت کو اپنے لغوی معنوں ’’تذکرہ ٔصفات‘‘ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اللہ ربّ العزت نے نعت کا اہتمام اپنے محبوب کے لیے نام پسند کرتے ہوئے ہی کرلیا تھا۔’’محمد‘‘۔ اس چار حرفی غیر منقوط پرُ تاثیر لفظ کے معنی ہی’’بہت تعریف کیا گیا‘‘ کے ہیں۔ لفظ ’’محمد‘‘ کا مادہ’’حمد‘‘ سے ہے اور یہ خود میں ایک مکمل نعت ہے۔ یعنی وہ ہستی جس کی بہت تعریف کی گئی ہو۔’’وَ رَفعنا لَک ذِکرک‘‘ کی آب یاری سے اس ذکر کومزید پھیلا دیا گیا۔ صنف ِنعت کی دو شاخیں ہیں۔ ایک نعت گوئی اور دوسرا نعت خوانی۔ ’’نعت‘‘ کی دونوں شاخوں میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل و فضائل، سیرت و پیغام اور تذکار کے ذریعے قارئین و سامعین کی پیاسی روحوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔نعت گوئی ایک مذہبی فریضہ بھی ہے اور اس حیثیت سے اس کے تقاضے کمالِ احتیاط پر مشتمل ہیں۔’’بعض نعت گو حضرات غلو، اغراق اور مبالغے سے اس قدر کام لیتے ہیں کہ مدحت ِرسول ؐ میں اللہ جل جلالہٗ کے اَوصاف بھی شامل کر دیتے ہیں‘‘۔ خالد جاوید بیک وقت شاعر،ادیب اور محقق ہیں،خالد جاوید کا پہلا پنجابی غزلوں کا شعری مجموعہ’’ عشق دے پندھ اَڑانگے ‘‘ 2005ء میں شائع ہوا جس نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی شہرت پائی۔اس کے علاوہ 2016ء میں پنجابی زبان میں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ’ ’تتلیاں‘ ‘ کے نام سے جو’ ’ پنجابی بال ادبی بورڈ لاہور ‘‘ نے شائع کیا اور حال ہی میں پہلا اُردو نعتیہ مجموعہ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔ ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘کے ابتدائی صفحات میں نعتیہ شاعری اور نعتیہ مجموعہ پرتین مضامین شامل ہیں جن میں پاکستان اور مصر کے ممتاز اہلِ علم و قلم میںمحمد اَحمد الازہری (فارغ التحصیل کلیۃ اللغتہ العربیہ الازہر یونی ورسٹی ، قاہرہ (مصر ) ،خواجہ غلام قطب الدین فریدی ( سجادہ نشین آستانہ عالیہ خواجہ محمد یار فریدی، گڑھی اختیار خان ، تحصیل خان پور ) اور محمد منشا ء تابش قصوری ( جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ) جیسے نام ہیں۔ محمد اَحمد الازہری نے نعتیہ مجموعہ پر اپنی گفت گو میں کہا ہے:’ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ محترم جناب خالد جاوید صاحب کی نبی پاک ؐ کی مد ح سرائی میں منظم کر دہ نعتیہ بھرے مہکتے پھول اور قصائد جن کو آپ نے اپنی کتاب ’ ’خو شبوئے مدینہ ‘ ‘میں سمویا ہے ، بے نظیر و بے مثال ہے اور عاشقا ن ِ مصطفی ؐ کیلئے لاجواب ا ور لازوال گراں قدر عظیم خزانہ اور سرمایہ ہے ۔چونکہ ارباب ِ اہل فن کے نزدیک کلام وہی سب سے اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے جس میں جذبات ، احساسات سچے ہوں ، سو محترم خالد جاوید صاحب کے کلام کی یہی امتیازی شان ہے جس کی مثال گویا اس بہار اور شبنم کی سی ہے جو پھولوں اور اُن کی کلیوں کی نگہت و تر و تازگی اور حسن و جمال میں اور اضافہ کر دیتی ہے‘ ‘۔ اسی طرح معروف علمی و اَدبی شخصیت اور نعت گو شاعر جناب خواجہ غلام قطب الدین فریدی نے کتاب پر بات کر تے ہوئے کہا :’’ میں سمجھتا ہو ں کہ یہ حضور داتا گنج بخش ؒ کی چوکھٹ کا فیض ہی ہے کہ ان کے دل کو عمدہ جذبات ملے ، جذبات کو اظہار کی لفظی قوت ملی اور الفاظ کو صحیح بندی کی دولت میسر آئی ۔ محترم خالد جاوید صاحب کی بارگاہ ِ نبوی ؐ سے والہانہ عقیدت ، وارفتگی جذبات اور تخیل کی بلندی ہر ہر شعر سے عیاں ہے ‘ ۔ اور ممتاز ادیب و عالم محمد منشاء تابش قصوری نے کچھ یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’ میر ے پیشِ نظر محترم خالد جاوید صاحب کا نعتیہ مجموعہ خوشبوئے مدینہ کتابی صورت میں موجود ہے ۔ جس میں لکھتے ہیں ہدیہ نعت کے ساتھ ساتھ رویا( دو اَشعار ) جس میں محبوب ِ اکرم ؐ کی ذات ِ اَقدس کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کو نعت کی صورت دی ہے ۔ راقم ہر ایک نعت پر از خود تبصرہ کرنے کی بجائے قارئین کی صوابدید پر چھوڑتا ہے کہ موصوف نے کتنی محبت ، کتنے پیار ، عقیدت اور کیسے نرالے عشق سے نعت کے موتی پروئے ہیں اور ان نعتوں سے کیسی بھینی بھینی خوشبو آرہی ہے ‘ ‘۔
بلا شبہ میں سمجھتا ہوں خالد جاوید کو قدرتِ سخن اور اُردونعت پر ان کی دستر س لائقِ ستائش ہے۔’’خوشبوئے مدینہ ‘ ‘کے ہر گوشے سے ایسی خوشبوئیں پھوٹ رہی ہیں۔’’خوشبوئے مدینہ ‘‘ مدحت ِ رَسول ؐ اور عشق ِ رسول ؐ کی مختلف کیفیات اور جذبات کا نام ہے ، اس لیے خالد جاوید کی نعت محض روایات نہیںیہ ایک کیفیت اور ایک تاثر ہے، نعت خالد جاوید کا اظہارِ عشق ہے جو بعد میں سوزِ عشق بنا ، اس عشق کی لو رَوشن بھی ہے اور گرم بھی۔ یہ جلتی بھی ہے اور جلاتی بھی ہے۔ مجھے بار بار یہ خیال آتا ہے، لیکن آزمائش شرط ہے۔ اگر کوئی شخص اَشکوں سے وضو کر کے رات کی تنہائی میں’’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ کو پڑھے تو اس پر بھی اُن کیفیات کا کچھ حصہ وارد ہو سکتا ہے،جن کیفیات سے گزر کر خالد جاوید نے یہ اَشعار کہے ۔ خالد جاویداپنے اشعار میںبارہا اپنے خدا کا شکر ادا کر تے ہوئے نظر آتے ہیں جس نے خالد جاویدکو نعت کہنے کی صلاحیت دی۔ ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘کہنے کو تو شاعری ہے، لیکن حقیقت میں عشق ِ رسولؐ سے فیض یاب ہونے کا عمل ہے۔یہ قدسیوں کے اُسی ذکر کی ایک شکل ہے جسے نامِ محمدؐ لب پر آتے وقت اہلِ اسلام کے لئے لازم ٹھہرایا گیا۔ ان کا نعتیہ مجموعہ ’ ’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ ادارہ پنجابی بال ادبی بورڈ لاہور سے شائع ہوا، جس میں عبد اور معبود کے درمیان ایک حدِ فاصل شعوری طور پر موجود ہے، اور یہی امتیاز انھیں عہدِ حاضر کے نعت گو شعراء پر فوقیت دلاتا ہے۔کتاب کے آخر میں منقبت حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سلام بھی شامل ہیں جو کمال اظہار ِ محبت و خلوص کا بین ثبوت ہیں ۔ پاکستان میں اُردونعت کے حوالے سے بیش بہا کام ہورہا ہے لیکن یہ سارا کام پاکستان میں اُردو پڑھنے والے قارئین کو میسر نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں اُردو زبان کی ترقی اور رفتار سے آگاہ نہیں ہوپارہے،دنیا بھر میں اشاعتی ادارے اُردو زبان کی کتابیں چھاپتے ہیں اورپوری دنیا میں یہ کتابیں تقسیم ہورہی ہیں لیکن پاکستانی روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے پاکستانی بک سیلرز اب غیر ملکی کتابیں اس وجہ سے بھی نہیں لا رہے ہیں کہ ان کی قیمت پاکستانی روپوں میں کافی زیادہ ہوجاتی ہے۔پھر بھی کچھ اچھی کتابیں یہاں دستیاب ہوجاتی ہیں۔اس سلسلے میں حکومتی پالیسی اگر نرم کی جائے تو یہ کتابیں باآسانی یہاں دستیاب ہوسکتی ہیں جس سے اہل علم کو فائدہ ہوگا۔آخر میں خدائے رب ِ ذو الجلال کے حضور دُعائے پُر خلوص ہے کہ اللہ کریم خالد جاوید کے علم ، عمل اور کار ِ خیر میں ڈھیروں برکتیں عطا فرمائے ۔ آمین ’خوشبوئے مدینہ ‘ سے چند منتخب نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎ معتبر لفظ ہی سے ابتدا لکھوں نبی ؐ کو سلک ِ نبوت کی انتہا لکھوں ٭٭٭ زمانہ کتنا بُرا تھا حضور ؐ سے پہلے ہر اِک کا اپنا خدا تھا حضور ؐ سے پہلے اب اپنی سوچ کو خالدؔ سمیٹو نہ کہہ کر جہاں میں کچھ بھی نہیں تھا حضور ؐ سے پہلے ٭٭٭ جس نام کی خوشبو میری رَگ رَگ سے عیاں ہے اس نام سے روشن ہی میرا سارا جہاں ہے خالد ؔ کی یہ بخشش کا بنے کاش وسیلہ اَشکوں کا جو دریا میری آنکھو ں سے رَواں ہے ٭٭٭ یہی تو ایک میں اپنی زباں سے کام لیتا ہوں سرور ِ قلب پانے کو نبی ؐکا نام لیتا ہو ں طلوع ِ صبح کا منظر غروبِ شام ہو خالد ؔ نبی ؐ کے نور سے ہی روشنی ہر گا م لیتا ہوں ٭٭٭ ضیاء ہے شب میں ذکر اُن کی ذات کا ہونا بڑے نصیب سے ہوتا ہے نعت کا ہونا اُدھر ہو روضہ ٔ اَقدس کا دلنشیں منظر اِدھر مچلتے ہوئے دل پہ ھات کا ہونا ٭٭٭ بے کراں دونوں جہانوں سے ہے عظمت تیری کون سا دل ہے نہیں جس میں محبت تیری ہم کو جو کچھ بھی میسر ہے کرم ہے تیرا کام آئے گی محشر میں شفاعت تیری ٭٭٭ ٹوٹ سکتے نہیں بحمد اللہ عشق احمد کے پکے دھاگے ہیں نعت خالد کہے گا کیا اُن کی اس کے ادراک سے وہ آگے ہیں ٭٭٭ جہاں تلک ہمیں جو کچھ دکھائی دیتا ہے فقط حضور ؐ کا عکسِ جمال ہے لوگو میں نعت لکھتا رہوں گا حضور ؐ کی خالد ؔ سفر یہ سانس کا جب تک بحال ہے لوگو ٭٭٭ سلام کے چند اَشعار غم کا پہاڑ جھیلنے والے حسین ؓہیں سب صابریں میں سب سے نرالے حسین ؓہیں اعزاز ہے یہ سیدہ زہرا ؑ کے لعل کا دوش ِ نبی ؐ پہ کھیلنے والے حسین ؓہیں خون ِ شہیداں کر گیا سر سبز دین کو اسلام کی بقا کے حوالے حسین ؓ ہیں خالد ؔ نبی ؐ کی آل پر اَن گنت ہوں سلام مجھ اَیسوں کو اُجالنے والے حسین ؓ ہیں ٭٭٭
ایک بندۂ مومن کے لیے آخری سہارا حضور ختمی مرتبت ،رحمة للعالمین اور شافعِ محشرﷺ کی یومِ حشر شفاعت ہے جس کے لیے وہ اپنے اعمال کو درودشریف اور اظہارِ محبّت کے مختلف ذرائع سے آراستہ کرتا ہے اس تناظر میں ہر ایک کا طریقہ اور عمل مختلف ہے لیکن ایک شاعر اپنی عاقبت میں اس سفر کے لیے حضور ﷺ کی نعت کو بطورِ زادِ شفاعت منتخب کرتا ہے کیونکہ اس کا یہ پختہ ایمان اور عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اعلیٰ و ارفع ہو کر اپنے حبیب کی مدحت کرتا ہے تو یہ امر ایک امتی کے لیے تو یقیناً سعادت افروز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے آخری سفر میں شفاعت کا بہترین سامان ہے اسی لیے شعراء کے کلام میں جا بجا شفاعت کی امید پر مبنی اشعار ملتے ہیں
اس سوچ اور فکر کے پیشِ نظر "زادِ شفاعت” کے خالق استاذ الشعراء ،ماہرِ عروض اور شیریں لب و لہجے کے معیاری اور عمدہ شاعر جناب حافظ محبوب احمد صاحب بہت زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں جو انہوں نے اپنی عاقبت کو نعتِ نبی کے چراغ سے روشن کرنے کا سامان حضور ﷺ کی نعت کو بنایا ہے
حافظ صاحب کے اس مجموعۂ نعت کا عمیق نظری سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر عیاں اور واضح ہوتی ہے کہ آپ ایک معیاری شاعر ہیں اور کلام میں رنگ بھرنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں اور مکمّل کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ڈھیلا پن اور جھول نہ رہے ،آپ نے زرخیز زمینوں میں کاشتکاری سے اشعار کو استعارات ،تلمیحات اور بلاغت کے حسن سے مرصّع کیا ہے کہ قاری پر لطف و سرشاری کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ ہر صفحے پر بہترین اشعار سے انتخاب کرنا اتنا آسان نہیں بہرحال کوشش کی ہے کہ آپ کے عمدہ اشعار کو قارئین کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کا اشتیاق بڑھے اور مجھے مکمّل یقین ہے کہ جو اس کو ایک بار پڑھنا شروع کرے گا وہ پڑھ کر ہی دم لے گا
آئیے اب آپ کے درمیان زیادہ دیر حائل ہوئے بغیر ان کے کیف آور اشعار سے لطف اٹھاتے ہیں
ان کے در کا گدا سائل بے نوا کیوں رہے بے عطا
دھیرے دھیرے سے خیرات ہوتی رہی نعت ہوتی رہی
کہہ رہے تھے کہنے والے دیکھ کر ان کا جمال
سارے منظر مسترد سارے نظارے مسترد
صرف ہم ہی نہیں مصروفِ ثنا اے یارو
کرے جبریلِ امیں بھی یہ ریاضت ! آہا
مجھے مے کشی سے کیا غرض ،نہیں مبتلا دریں مرض
ترے کیف سے ہے بھرا ہوا مرا میکدہ ہے کہ جام ہے
۔
ترے روبرو مری ہر خطا، ترے ہاتھ ہے مرا فیصلہ
ترے پیش ہے مرا ہر سقم ،تری نعت میرا درود ہے
بحرِ حیرت میں گئے ڈوب سبھی انس و جاں
ہم کہاں اور یہ الطاف کہاں بسم اللہ
قبر کی رات سے ظلمات سے ڈر لگتا ہے
آپ ناراض ہوں اس بات سے ڈر لگتا ہے
محمد کا ہی کلمہ پڑھتی ہیں موجیں سمندر کی
صدف شاہد گہر شاہد ہے بحرِ بیکراں شاہد
میرے شہ نے مجھے انگلی سے پکڑ رکھا ہو
روز محشر جو مجھے پل سے گزارا جائے
رخسار قمر ،مازاغ نظر ،تابندہ جبیں مانندِ سحر
یوسف بھی ہے جن کا مدح سرا سبحان اللہ ماشاءاللہ
۔
سراپا رحمت ہے جن کی بعثت ،کلیدِ جنت ہے جن کی طاعت
وہ سب سے اعلیٰ ،وہ سب سے برتر درود ان پر سلام ان پر
موسمِ گل ہو یا طاری فصلِ خزاں ،کوئی صحرا ہو یا رونقِ گلستاں
روز اول سے اپنا ہے مسلک یہی ،ان کی باتیں کریں ان کی نعتیں کہیں
نفاق کے لیے اس میں جگہ نہیں کوئی
زمانے سے ہے نرالی ادا مدینے کی
گل لالہ ہو کہ گلاب ہو کوئی رنگ و بو کا نصاب ہو
انہی کے جمال کے رنگ ہیں جو دمک رہے ہیں دھنک دھنک
میں زمینِ مردہ ہوں یا نبی ،مجھے زندگی سے نواز دے
تو حیاتِ سرمدی کا نشاں مری کھیتیوں پہ برس برس
یہ میرا "زادِ شفاعت ” یہ میرا حاصلِ زیست
حضور میرا یہ ہدیہ قبول کر لیجیے
مجھے تو یہ مجموعہ بہت اچھا لگا ہے آپ کی آراء کا انتظار رہے گا کہ ان کے شعری انتخاب کو دیکھتے ہوئے آپ اس کو کہاں دیکھتے ہیں
آخر میں اتنے اچھے مجموعے کی اشاعت پر حافظ صاحب کو بہت بہت مبارکباد ،اللہ تعالی اس کو ان کے لیے توشہ آخرت بنائے آمین
الحمدللہ یہ صدی سید الاصناف "نعت” کی صدی ہے جس کے لیے بہت سے لوگوں نے خود کو اس کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوا ہے جن میں سرفہرست محترم سید صبیح رحمانی صاحب نعت ریسرچ سنٹر کراچی کے ذریعے ایک عرصے سے نعت کی مختلف جہات سے کام کر رہے ہیں جو بہت عرصے تک اس میدان میں نعت کے حوالے سے کام اور تحقیق کرنے والوں کے لیے بہترین مددگار اور ممدو معاون ثابت ہو گا ،لاہور کے علاقے شاہدرہ باغ میں بابائے نعت یوسف ورک مرحوم کی نعت لائبریری کے کردار کو بھی کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ، غوث میاں صاحب کا نعت بینک بھی بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ ماشاءاللہ یہ دونوں ادارے بہترین انداز میں خدمتِ نعت کے سلسلے کو بخوبی سرانجام اور نبھا رہے ہیں ،بہت حد تک ممکن ہے کہ کچھ اور لوگ بھی اس طرح کی خدمتِ نعت سے اپنے دامن میں رضائے مصطفٰی ﷺ سمیت رہے ہونگے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر اسی نہج کے ریسرچ سنٹرز اور لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا جائے کیونکہ آجکل کالج اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات میں نعت کی مختلف جہات پر کام کرنے کے حوالے سے مقالات لکھنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بچے تو کسی نہ کسی رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن صنفِ نازک بچیوں کے لیے تحقیقی کام میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہر ضلع میں ریسرچ کے لیے اس حوالے سے ضرور کام ہونا چاہیے اور اس کے حکومت کے ساتھ ساتھ معروف نعت گو شعراء کو مل کر یہ سعادت افروز کام کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ آسانیاں پیدا ہوں میرے شہر سانگلہ ہل کے قریب شہر ِ نعت فیصل آباد میں ماشاءاللہ نعت کے حوالے سے مشاعروں کی شکل میں نعتیہ سرگرمیاں سارا مہینہ اور سال بھر جاری رہتی ہیں جن میں محترم ریاض قادری اور دیگر افراد اور اداروں کے کردار کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ضروری ہونے کے باوجود اتنے اہم نہیں ہیں کیونکہ ان کا کردار لائبریری اور ریسرچ سنٹرز کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے لہٰذا میری ان سے خصوصی اور دیگر نعت سے جڑے ہر فرد سے دردمندانہ گذارش اور اپیل ہے کہ اس سلسلے میں اپنا کردار اور توانائیاں صرف کریں اور یہاں میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فیس بک پر نعت ورثہ ،نعت آشنا اور فروغِ نعت، بزمِ نور پاکستان جیسے گروپس اور فورم چل رہے ہیں جن کے ممبرز ہزاروں کی تعداد میں ہیں اگر ان کے ایڈمنز یہ تحریک چلائیں تو بہت اچھے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے مجھے امید ہے کہ میری ٹوٹی پھوٹی گذارشات سمجھ آگئی ہونگیں اور مجھے اس وقت بہت زیادہ خوشی ہو گی جب ان پر عمل ہوتا نظر آیا ،مجھے اپنے رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امید واثق اور مکمّل یقین ہے کہ ان شاءاللہ ضرور اس نہج پر کام ہو گا
نعت حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے گہری وابستگی اور محبت کے اظہار کا زریعہ بھی ہے اور بخشش کا وسیلہ بھی۔نعت مدحتِ سرکار صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے لفظی اظہار بھی ہے اور دِلی جذبات کی ترجمان بھی ہے۔ نعت کا شمار دیگر اصنافِ سُخن کی نسبت معتبر تصور کیا جاتا ہے ۔
نعت حضور علیہ الصلوة والسلام صلى اللّٰه عليه وآلہ وسلم کے اوصاف حمیدہ،فضائل و مناقب،شمائل وخصائل،تعریف و توصیف ،محبت و مودت ،عقیدتو جذبات کو موثر انداز میں اظہار کرنے کا ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ موضوعاتی اعتبار سے نعت کو دیگر اصناف کی بدولت زیادہ تقویت و پذیرائی مل رہی ہے۔
زمانے کے تغیر و تبدل کے ساتھ حمد و نعت میں بھی شعریت و موزونیت کے اعتبار سے نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات و میلانات کا اثر حمدیہ و نعتیہ کلام پر بھی نظر آتا ہے ۔ حمد و نعت کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ زمانے میں جدید طرز پر ہر صنفِ سخن اور ہیئت میں حمد و نعت کو صفحہ قرطاس کی زینت بنایا جا رہا ہے۔نئی، نئی زمینوں کے ساتھ نئے قافیے اور منفرد ردیفوں کے استعمال سے حمد و نعت کے ُحسن میں جو گراں قدر اضافہ ہوا ہے وہ باعثِ مسرت وانبساط ہے۔نیا طرزِ ادا ، نیا اسلوب ،تازہ کاری ،خوش سلیقگی اور شگفتگی کے باعث نعت ُدنیائے ادب میں مقبولیت کے بلند گراف کو ُچھو رہی ہے۔
بظاہر نعت کا موضوع سہل معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت مجموعی اعتبار سے نعت گوئی کا فن بہت دقیق ہے ۔اس میں قلم کی ہلکی سی جنبش پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے بعض اوقات شاعر کی ہلکی سی کوتاہی بھی اس کے سلبِ ایمان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے نعت لکھتے ہوئے خاصی احتیاط برتنی پڑتی ہے ۔بہ حیثیت مسلمان عقیدے کی رو سے نعت عقیدتِ رسولؐ کا اظہار بھی ہے اور عشقِ مصطفٰی کی معراج تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہے ۔جب انسان کو سرکار صلى الله عليه وآلہ وسلم سے محبت ہوجائے تو وہ اس کے اعمال و افکار اور الفاظ سے جھلکتی ہے حبِ سرکارصلى الله عليه وآلہ وسلم سے یہی حد درجہ عقیدت مندی سے لبریز جذبات کبھی آنسو بن کر تو کبھی الفاظ بن کر بعد ازاں نعت کی صورت میں ادا ہونے لگتے ہیں۔
نعت گوئی کے لیے اللّٰہ عزوجل نے جن بیدار بختوں کو توفیق ارزاں بخشی اُن میں سید مسعود چشتی کا نام بھی شامل ہے۔
موصوف عہِد حاضر میں فیصل آباد کے نعت گو شعراء کی فہرست میں نمایاں تشخص اور شناخت رکھتے ہیں۔اُن کی نعتِ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ُنہوں نے دوسری شعری اصناف سے اجتناب برتا اور اپنے شعری اظہار کے لیے نعت کی ہی صنف کو منتخب کیا۔
بقول شاعر
مری حیات کا حاصل ہے نعت کی ُخوشبو
عطا ہوئی ہے جو منزل ہے نعت کی ُخوشبو
اُنہوں نے فنِ نعت کی مروجہ رسمیات سے خود کو ُدور رکھا اور اپنے کلام کو جدید لفظیات سے مزین کیا ہے ۔ان کے ہاں عقیدت وجذبات کی ورافتگی،تخلیقی جواہر، وسعت مطالعہ ، لفظوں کا چناو، محبت کا گہرا احساس، حسیاتی نظام سے واقفیت، معاصر منظر نامے پر عمیق نظر ، ادب و حضوری کی ملی ُجلی کیفیات ملتی ہیں ۔
سکھائے نعت نگاری کا بھی ادب مجھ کو
ملےحضورؐ کے صدقے وہ جامعہ ُخوشبو
نعتِ رسول صلى الله عليه وآلہ وسلم سے گہری وابستگی اور رسول صلى الله عليه و آلہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے والہانہ محبت انہیں اپنے آباو اجداد سے ورثے میں ملی
ہے جس نے ان کے دِل کو روشنی سے منور کر دیا ہے ۔
کرے جو روشن و پُرنُور ِدل کو بھی ہر دم
مجھے نصیب رہے ایسی قُمٙقمہ ُخو شبُو
موصوف کا رسول صلى اللّٰه عليه و آلہ وسلم سے عشق کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے خیالات تک کو پاکیزہ رکھتے ہیں کہ کیا معلوم کب سرکار صلى اللّٰه عليه وآلہ وسلم پھر کرم فرمائیں اور نعت کے اشعار عطیہ ُخداوندی سے عطا ہونے لگیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نعت گوئی ان کی زندگی کا اولین مقصد ہے
نزولِ نعت میں بنتی ہے جو وسیلہ بھی
ملے خیال کو بھی ایسی ملا ئکہ ُخوشبو
انہوں نے نعت کو جس خوش اسلوبی اور سلیقے سے لکھا ہے وہ قابلِ تعریف ہے ۔
ورق ہوا ہے خوشبو خوشبو” اُن کا گیارہواں نعتیہ مجموعہ ہے
۔جس میں انہوں نے دو حمدِ باری تعالٰی بھی رقم کی ہیں ۔
حمدیہ کلام میں انہوں نے نئے اور ادق ترین قوافی استعمال کئے ہیں جو دیگر شعراء کے ہاں بہت کم ملتے ہیں ۔
کروں جو بند میں آنکھیں مدینہ سامنے ہو
ہو میری حامی و ناصر وہ باصرہ خوشبو
کرے جو طیب و طاہر خیالوں کو میرے
سدا نصیب ہو ایسی معظمہ خوشبو
مزید ملاحظہ فرمائیے
کرے جو مجھ سے مدینے کی باتیں ہر لمحہ
بنے رفیق مری وہ مکالمہ خوشبو
عطا جو کرتی ہے اسرارِ کائنات کا علم
دِر حضور سے آئے مکاشفہ ُخوشبو
اسی حمد کا مقطع ملاحظہ فرمائیے
کرے جو رہبری جادہ خیر پر ہر دم
سدا نصیب ہو مسعود محسنہ ُخوشبو
حمد میں خوبصورت پیراِئے سے قوافی کے استعمال سے مجموعے کی رونق کئی ُگنا بڑھ گئی ہے۔
شاعر کا یہ مجموعہ فنِ نعت کی ُدنیا میں ایک منفرد مقام کا حامل ہے ۔ان کا یہ کلام روایت اور جدت کا ایک حسین امتراج ہے ۔ جس میں پہلی بار حسیاتی موضوع کو قدرے تفصیل کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔اس مجموعہ کے حرف حرف میں حبِ مصطفٰی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کی ُخوشبو رچی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔
اُنؐ کے تنِ نازک کا پسینہ
حد سے سوا ہےخوشبو خوشبو
اس کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں صاحب کالم نےاہل بیت اطہارؑ کی محبت اور نسبت کو مِد نظر رکھتے ہوئے بہتر (72) نعتوں کو ایک ہی ردیف "خوشبو ” پر مرتب کیا ہے،جو بذاتِ خود ایک مشکل امر ہے۔
میرے آقا ہو عطا آلِ عبا کی خوشبو
دے میرے ِدل کو ضیاء آلِ عبا کی خوشبو
ان کے ہاں شعریت اور شعوریت کے تمام تقاضے بدرجہ اتم موجود ہیں۔اُن کا اسلوب اتنا سادہ ،دلنشین اور عشقِ مصطفّٰی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کی محبت اور چاشنی سے لبریز ہے کہ زبان و دل سے بے ساختہ داد و توصیف کے کلمات ادا ہونے لگتے ہیں ۔
اس کلام کی پہلی صفت تو یہ ہے کہ یہ نہایت قلیل مدت یعنی سترہ روز میں مکمل ہوا ہے اور اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس مجموعے کی اشاعت کے دوران میں ہی صاحب کلام کا ایک اور مجموعہ "لفظِ ُکن سے بھی پہلے” مکمل ہوا ہےنیز صاحبِ کلام کے اس مجموعے کا ہر شعر مکمل نعت ہے۔
پڑھتے ہی رہو صلےعلی آپ پر درود
مل جائے گی پھر کوثر و تسنیم کی ُخوشبو
نعت لکھنا،نعت پڑھنا، نعت ُسننا یہ سب رب العزت کی بخشش ہیں
اُمید ہے مسعود چشتی صاحب کا کلام خوشبو بن کر عاشقانِ رسول صلى اللّٰه عليه و آلہ وسلم اور محبانِ اہل بیت اطہارؑ کے ایمان کو نئی تازگی بخشے گا ۔ ُدُعا ہے رب العزت سے کہ ان کے قلم کو مزید رفعتوں سے نوازے اور رب العزت ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔آمین
اٹک : مورخہ 12 رییع الاول 1443 ھ بمطابق 19 اکتوبر2021 ء اٹک شہر میں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر محلہ امین آباد اٹک شہر کی نعت خوان پارٹی انجمن خدام حبیبؐ، جس کے صدر سیّد بلال حیدر بخاری اور اراکین میں محمد وحید، ملک زین، ملک حذیفہ ،سیّد عبداللہ شاہ بخاری ،سیٗد سعلال ، ملک دانش ،محمد محسن ،محمد مشتاق، ملک گل رحمان ، ریحان نبیل اور محمد نعمان شامل ہیں کو ایک سو پچیس پارٹیوں میں سے تیسری پوزیشن کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ نوجوانوں کی اسی نعت خوان پارٹی نے ایک اور انعام اور اعزاز اپنے نام کیا۔
مورخہ 22 رییع الاول 1443 ھ بمطابق 29 اکتوبر2021 ء کو کامل پور سیدان اٹک کینٹ میں ایک عظیم الشان جلوس بسلسلہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برآمد ہوا۔ جس میں ضلع بھر سے نعت خوان پارٹیوں نے شرکت کی اور سرکار دو عالم جدّ الحسنؑ والحسینؑ خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گل ہائے عقیدت نچھاور کئے۔ جلوس اپنے روایتی رستوں سے گزرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ پر اختتام پزیر ہوا۔ جلوس کے راستوں میں اہلیان کامل پور سیدان نے نیاز اور سبیل کے سٹال لگائے جہاں نعت خوانوں اور جلوس کے دیگر شرکاء کو لنگر و نیاز پیش کی گئی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر عزت مآب سیّد یاور عباس بخاری اپنی رہائش گاہ کے باہر بنائے گئے اسٹیج پر موجود رہے اور تمام نعت خوانوں سے ملاقات کی اور تحائف پیش کئے۔ جب کہ نومنتخب رکن کینٹ بورڈ سیّد مہدی نقوی جلوس میں شریک رہے اور مختلف اسٹیجوں پر جا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
مونس رضا بلال حیدر اور دوستوں کو ٹرافی دیتے ہوئے
جلوس کے اختتام پر مرکزی امام بارگاہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں اول ، دوم ، سوم اور حوصلہ افزائی کے انعامات تقسیم کئے گئے۔ سیّد بلال حیدر اور ہمنوا دوسرے انعام کے حقدار ٹھہرے۔ معروف عالم دین، استاد، دانشور اورکامل پور سیدان کے سادات کے بارے میں لکھی جانے والی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ” ہجرتوں کے مسافر” کے مصنف جناب سیّد مونس رضا صاحب نے سیّد بلال حیدر اور ہمنواؤں کو اپنے دست مبارک سے دوسری پوزیشن کی ٹرافی عنایت فرمائی۔
اس پر وقار تقریب میں سیّد مہدی نقوی، معرف نعت گو شاعر سعادت حسن آسؔ، جناب سیّد خادم حسین کربلائی کے صاحب زادگان سٰیّد مجاہد نقوی، سیّد حسنین نقوی، سیّد جواد حیدر، سیّد وقار نقوی ، سیاسی و سماجی رہنما تیمور اسلم صاحب اور عوام الناس کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اسٹیج کی نظامت کے فرائض سیّد نزاکت نقوی صاحب نبھا رہے تھے جبکہ اس مقابلے کے منصفین میں معرف شاعر جناب عقیل ملک صاحب،نعت خوان محمدعلی کونین صاحب اور ذوالفقار خان صاحب شامل تھے۔
حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی "اول ما خلق اللہ نوری” کی صدائے نوری جب عرب کی فضاوں میں گونجی تو صحابہؓ کے لبوں پر سبحان اللہ سبحان اللہ کی تسبیح نے طواف کیا انسان کو روح کی تخلیق کے متعلق بتا دیا گیا اللہ رب العزت نے تمام روحوں کو اکھٹا کیا اور فرمایا ” الست بربکم” تو جواب میں تمام ارواح نے اقرار کیا اور کہا "قالو بلیٰ” یہ سارا عہد و پیمان دنیا میں آنے سے پہلے لیا جا رہا تھا انبیاء کرام سے لے کر تمام بنی نوع انسان تک کی روحیں وہاں موجود تھیں پھر نہ جانے کیا ہوا کہ تخلیقِ آدمؑ پر حکمِ رب نہ مان کر ابلیس نے آدم علیہ السلام کے سجدے سے انکار کر دیا اور تکبر کی وجہ سے راندہ ء بارگاہ ہوا اور اس کو انسان بہکانے کی طاقت بھی دے دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ میرے بندے تیری راہ پر ہرگز نہ چلیں گے ۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور اور آج تک بہت سارے انسان آئے جنہوں نے شیطان کی ایک نہ مانی اور مقبولِ نظر ہو گئے جب ہدایت مکمل ہو گئی تو دین اسلام ” الیوم اکملت دینکم ” کی سند مبین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آپؐ آخری نبی ہیں جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے راہبر ہیں آپ کی سیرت کو بہترین سیرت قرار دیا گیا اور آپ کے اسوہ حسنہ کو انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا بات چلی تھی قالو بلیٰ کی تو سب سے پہلے "الست بربکم ” کی صدائے رب پر آپؐ کی صدا گونجی تو تمام ارواح نے آپ کی سیرت پر عمل کیا اور آپ کے پیچھے سب نے ” قالو بلیٰ” کہا ۔ اور یہ نوری صدا قیامت تک قرآن میں گونجتی رہے گی
شاعر نے بھی ان شعروں میں صنعت تلمیح کا استعمال کیا ہے ملاحظہ کیجیے :۔
سوال سن کے الست بربکم رب سے
کہا ہے پہلے بلٰی جس نے یا نبیؐ ہیں آپ
کروں تو کیسے کروں التجائے نظّارہ
جوخیرہ کردے نظر کو وہ روشنی ہیں آپ
فکر و نظر کے پھول جب قلم کی نوک چومتے ہیں تو ایسے ایسے فرخندہ بخت اشعار موتیوں کی طرح کاغذ کے سینے پر بکھرتے چلے جاتے ہیں کہ جو عام بندے کی سوچ سے ماورا ہوتے ہیں اور شاعر کی پہچان بن جاتے ہیں ۔گنبدِ خضریٰ کی گھنی سبز چھاوں پوری کائنات پر سائباں کی طرح تنی ہوئی ہے اور اس کی ضو کے سامنے چاند تاروں کی کیا مجال کہ روبرو خضریٰ اظہار برتری کر سکیں ۔ آج بھی خضریٰ سے چاندنی بھیک مانگتی پھرتی ہے۔ خضریٰ قسیمِ ضو ہے اور اپنے اندر مدح و ثنا کے آفاق سمیٹے ہوئے ہے طرحدار اندازِ سخن شفیق رائے پوری کے اسلوبِ بیاں میں بہارِ تخیل کی رعنائیاں مستور ہیں جو ان کے کلام کے صوری و معنوی محاسن میں اضافہ کرتی جاتی ہیں اس وجہ سے بھی فرخندہ بخت ہیں کہ نعتیہ ادب کی رخشاں و معنبر دنیائے بسیط کے شستہ مناظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے بھی عام فہم الفاظ استعمال کرتے ہیں جو قاری کی فکرِ رسا پر بوجھ نہیں بنتے۔ شفیق رائے پوری نے ردیف "عبث” کے ساتھ خیالات کی گل فشانی کیسی ارفع برتی ہے ملاحظہ فرمائیے :۔
اس جلوہ بار گنبد خضری کے سامنے
اے چودھویں کے چاند تری چاندنی عبث
لگتا ہے دور رہ کے در مصطفیٰؐ سے یوں
جیسے گزر رہی ہو مری زندگی عبث
مدحت سرائی میں ندرت آفرینی کا سعادت نشاں سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے بشر کو قوتِ نطق اور قوتِ بیاں سے سرفراز کر کے اشرف المخلوقات خلق کیا ہے نعتیہ شاعری میں فکرِ رسا کے حسیاتی موسموں میں نسیمِ حجاز کے نشیلے جھونکے محو پرواز رہتے ہیں اور یہ ادراکیء پرواز ناعت خود محسوس کرتا ہے اور اشعار کی معنبر معنویت قارئین کے لیے بالیدگی ء فکر اور بیداریء روح کا سماں پیدا کرتی ہے حضور اکرمؐ کا نوری تن مشک و عنبر سے کئی گنا خوشبو دار تھا جہاں سے گزرتے راہیں خوشبو سے مسحور ہو جاتیں آنے والے جان لیتے کہ یہاں سے آنحضورؐ کی سواری گزری ہے آپ کی گزر گاہیں اور ان پر موجود اشجار، پتھر اور خاک کے ذرے تک آپ پر سلام اور درود کے نزرانے نچھاور کرتے دھوپ میں بادل کا ٹکڑا شرفِ غلامی پاتا اور آپؐ پر سایہ کر دیتا شفیق رائے پوری نے تلمیح کا خوب صورت استعمال کیا اور قافیے اور ردیف کو درود سے منطبق کر کے کیا خوب صورت ،صورت اختیار کی ہے اُن کے اظہاریہ سے نظریں منور کیجیے :۔
کس طرف سے آئے تھے اور کس طرف وہ چل دئیے
لوگ کر لیتے تھے خوشبو سے پتہ سرکارؐ کا
باوضو ہوکر درودِ پاک پڑھتی ہے ردیف
نعت میں لاتا ہوں میں جب قافیہ سرکارؐ کا
فرخُندہ مآل جذبوں کے احتداد کی دل گدازیاں مدحت سرائی میں نور آفرینی اور ضیا پاشی کا باعث بنتی ہیں جو کہ روحانی و وجدانی تصورات کو ایک خاص کیفیت اور جذب و شوق سے سخن کی رعنائی میں اضافے کا سبب بناتی ہیں شفیق رائے پوری محض لفاظی و مشاقی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مودت کے سمندر میں مقامِ بقا پا کر اپنے اشکوں کے موتی الفاظ کے نگینوں میں پرو دیتے ہیں شقِ قمر اور سورج کے پلٹنے کا واقعہ ایک شعر میں بیاں کر دیتے ہیں یہ تلمیح وقارِ سخن میں اضافے کا موجب ہوتی ہے آقا پاکؐ کے در پر سانسوں کا تھم جانا شاعر اس لیے مانگتا ہے تا کہ زیارت امر ہو جائے۔ سلاست اور روانی شعر کے وجدان کو ارفع تر بنا دیتی ہے۔ شاعر کی معصوم تمنا کس طرح مچلتی ہے ان اشعار میں اس کی یہی کشادگی ء قلب و نظر وسعتِ بیکراں کی ترجمان نظر آتی ہے :۔
درِ آقا پہ پہنچوں تو سفر سانسوں کا تھم جائے
خداوندا ! مجھے کیا ایسا لمحہ مِل نہیں سکتا
قمر شق ہو جسے پاکر پلٹ آئے یہ سورج بھی
نبیؐ کے اُس اشارے سا اشارہ مِل نہیں سکتا
شفیق رائے پوری خیالات کی جولانی کو برجستگی سے کہہ جاتے ہیں وہ مشکل بات کو اتنی آسانی سے کہتے ہیں کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے کہ دو لائنوں کے شعر میں بہت بڑا موضوع کتنی آسانی سے سمو دیا ہے میرے خیال میں تو اسی کو فصاحت اور بلاغت کہتے ہیں اب دیکھیے کہ قرآن ناطق اور قرآن صامت کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں بظاہر قاری الگ اور قرآن الگ نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے روبرو حضورؐ تشریف فرما ہوں یعنی ہر دور میں جس نے آپؐ کی زیارت کرنی ہو وہ تلاوت قرآن کر لے تو حضور کی سیرت کے تمام کمالات اس کی نظر میں سما جائیں گے کیونکہ بسم اللہ سے والناس تک جو انسان بیاں ہوا ہے وہ آپ ہیں ۔شفیق رائے پوری کے نگار خانہ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل ان اشعار میں ملاحظہ فرمائیں :۔
ب سے بسم اللہ کی والناس کی ہے سین تک
جابجا قرآن میں مدحت رسول اللہؐ کی
و الضحی واللیل کی سورت تلاوت کیجئے
سامنے آجائے گی صورت رسول اللہؐ کی
عروسِ ادب کی مشاطگی تب ہی ممکن ہے جب اسلوبِ نظر اسلوبِ سخن میں ڈھل جائے شاعر کا وجدان اس کے اسلوب سخن سے عیاں ہوتا ہے ایک اچھے شعر کی تخلیق کے لیے اسے مشق کے گلشن کی آبیاری کرنی پڑتی ہے مشق کے بعد سینئرز کے سخن کا مطالعہ اس کو کندن بناتا ہے اور تب کہیں جا کے تحریر گلشن میں گلاب و چنبیلی و موتیا کے گل دیکھنے کو ملتے ہیں یاد رہے کہ "خبر” اور "شعر” میں فرق جس شاعر کو پتہ چل جائے اور وہ صاحب مطالعہ بھی ہو تو اچھے شعر اس کا قلم اگلتا ہے۔ شفیق رائے پوری میں یہ سارے وصف موجود ہیں وہ بات سے بات نکال کر ایک عمدہ تخیل باندھ کر اچھا شعر خلق کر دیتے ہیں زیرِ نظر شعر کی جولانی اور وسعت اس کے مضمون کی غمازی ہے ملاحظہ فرمائیے :۔
جھلکیاں نورِ خدا کی تھیں نظر کے سامنے
جس نے دیکھا آپؐ کا جلوہ وہ حیراں ہوگیا
گِھر کے طوفاں میں پکارا جب اغثنی یا نبیؐ
میری کشتی کا نگہباں خود ہی طوفاں ہوگیا
تاجِ ” ورفعنا لک ذکرک ” اپنے مبارک سر پر سجانے کے بعد آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے واللہ یعصمک من الناس کہہ کر قیامت تک آنے والے لوگوں کے شر سے بچا لیا اور آپؐ کے ذکر کو اپنے فرمان ذیشان سے ایسے مداومت
بخشی :۔
ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی۔
اب قیامت تک درود و سلام نمازوں میں مجالس میں میلاد پاک کے جلوسوں میں غرض ہر جگہ پڑھا جائے گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ درود و سلام کے بعد نعت گوئی اور نعت خوانی "ورفعنا لک ذکرک "کے زمرے میں آتی ہے جسے عرش و فرش پر پسندیدہ عمل مانا جاتا ہے ۔ ہر ناعت جب انجمن لیل و نہار، شافع یوم قرار، آفتاب نو بہار، سرور عالم، مونس آدم، قبلہء عالم، کعبہءاعظم، جان مجسم، نور مجسم، فخرِ دو عالم، مرسلِ خاتم، خیرِ مجسم، صدرِ مکرم، نورِ مقدم، نیرِ اعظم، مرکزِ عالم، وارثِ زمزم، مبداء کائنات، مخزنِ کائنات، منشائے کائنات، سیّدِ کائنات، مقصودِ کائنات، مقصدِ حیات، منبعِ فیوضات، افضل الصلوٰت، خلاصہء موجودات، صاحبِ آیات، صاحبِ معجزات، باعث تخلیقِ کائنات، ارفع الدرجات، اکمل الرکات، واصلِ ذات، فخرِ موجودات، صاحب التاج اور صاحبِ معراج کی بات کرتا ہے تو ثنائے جلوہء حق نما کی خاطر جس قدر ممکن ہوتا ہے نئے نئے اسلوب کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے کیونکہ اللہ کے حبیبؐ جو چشمِ امواجِ بقا ہیں جو چشمہء علم و حکمت نازش ہیں کو راضی کرنا ہے یہ ندرت کے سارے دھنک رنگ سرکارؐ کی خوشی کے لیے برتے جاتے ہیں
شفیق رائے پوری بھی خیر الوریٰ کی خوشنودی کے لیے نئے نئے رنگ شعور میں سجا کر عاشقانِ مصطفیٰؐ کے دل کی دھڑکوں کو روشن کرتے ہیں آپ نے "الف” سے لے کر "ی” تک ردیف استعمال کر کے ایک خوب صورت روایت کا اضافہ کیا ہے جو قارئین کو سکون کی دولت سے سرفراز کرے گا آئیے شفیق رائے پوری کی "الف” تا "ی” تک ردیف کے نقوشِ دل رُبا کی چند خوشبو رنگ جھلکیاں دیکھ کر روحانی تلذذ حاصل کرتے ہیں جو کہ ان کی جدا گانہ کندہ کاری کی درخشاں علامت ہے
ردیف الف
سرکار کے گھرانے کا کھا کر نمک شفیقؔ
بے رنگ و نور تجھ سا سخنور چمک اٹھا
ردیف ” ب "
بوصیری کو حضور سے تحفے کی شکل میں
چادر ملی ہے نعتیہ اشعار کے سبب
ردیف "ت”
یادِ سرکارِ دو عالم سے ہے نسبت ان کو
چند قطرے ہیں جو پلکوں پہ گہر کی صورت
ردیف "پ”
حضور آپ کے دم سے ہے کائنات میں دم
ہر ایک قلب کی دھڑکن ہیں زندگی ہیں آپ
ردیف ” ٹ”
فرشتے اکتسابِ نور کرتے ہیں جہاں آکر
تجلی زار ہے وہ در مِرے سرکار کی چوکھٹ
ردیف "ج”
سارے عالم میں مصطفے جیسا
تونے دیکھا تو بول دے سورج
ردیف "ث”
سورج ، ستارے، چاند، شفق، روشنی عبث
پائے رسول پاک کے آگے سبھی عبث
ردیف "ح”
حضرتِ حسّان کے صدقے میں یا شاہِ اُمم
کاش مدحت کا مجھے ملتا ہنر پوری طرح
ردیف "خ”
نبیؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے جیسے
سبھی مہینوں کی راحت ہے بارہویں تاریخ
ردیف ” چ "
والضحی واللیل کی آیاتِ پُر انوار سوچ
سوچنا ہے تو شبیہِ احمدِ مختار سوچ
ردیف ” ڈ”
آ گیا میرے لبوں پر المدد یا مصطفے’ ﷺ
اے مصیبت چل یہاں سے دوسرا گھر بار ڈھونڈ
ردیف ” د”
رونق پہ جس کی مصر کا بازار بھی فدا
مجھ کو نبی کے شہر کی ہے وہ گلی پسند
ردیف ” ذ”
جس پہ لکھا ہو حضوری کا اجازت نامہ
کاش لے آئے وہ طیبہ سے کبوتر کاغذ
ردیف "ر "
خیالِ آیتِ ” لا ترفعوا ” رکھا ہم نے
زباں پہ قفل لگا کر نبی کے روضے پر
ردیف ” ز "
طیبہ بلا کے مجھ کو کریں گے عطا قرار
سرکار کو پتہ ہے مری بے کلی کا راز
ردیف ” ڑ "
دربدر بھٹکے گا کب تک عصرِ حاضر آ اِدھر
تارِ ہستی ہادیِ دینِ مبیں آقا سے جوڑ
ردیف "س”
بے شک نواز سکتے ہیں مجھ کو بھی خلد سے
ہے یہ بھی اختیار مِرے مصطفیٰؐ کے پاس
ردیف ” ش”
ہر دن کو رخِ سرورِ عالم کی تمنا
ہر رات کو زلفِ شہِ ابرار کی خواہش
ردیف ” ص "
بنا دیا مرے آقاؐ نے چوم کر مخصوص
جونصب خانہ ءِ کعبہ میں ہے حجر مخصوص
ردیف "ض”
شمس و قمر ، نجوم کی تنویر کچھ نہ تھی
یہ ہے حضورؐ آپ کی خاکِ قدم کا فیض
ردیف "ط”
ہم صبح و شام کرتے ہیں مدحت رسول کی
رکھتے نہیں کسی بھی تونگر سے ربط ضبط
ردیف ” ظ”
نبیؐ کا عشق سلامت ، رہے وفا محفوظ
پھراس کے بعد ہے جنت کاراستہ محفوظ
ردیف ” ع "
میرے آقا کے پسینے کا بدل ممکن نہیں
شوق سےکرلیں ہزاروں نکہتوں کا اجتماع
ردیف "غ "
ظلمتیں پھیلا رہا تھا جب جہالت کا چراغ
آئے لے کر مصطفے رشد و ہدایت کا چراغ
ردیف "ف”
چمک پہ اپنی نہ اے چاند اس قدر اِترا
نبیؐ کےحسن کاصدقہ ہےچاندنی کا شرف
ردیف ” ق”
مچلتا رہتا ہے دل کے غریب خانے میں
نبیؐ کے شہر میں چھوٹی سی جھوپڑی کا شوق
ردیف ” ک”
اے قمر سبز گنبد کو دیکھا ہی کیوں
پڑ گئی نا تِرے رخ کی پھیکی چمک
ردیف ” گ”
بے رنگ ہو چکا ہے غزل سے وفا کا رنگ
اپنی بہار پر ہے نبی کی ثنا کا رنگ
ردیف ” ل "
سرکار ہیں لا ثانی نہیں ہے کوئی ثانی
انساں نہیں اُن سا کوئی انسان مکمل
ردیف ” ن "
گلاب جل کی پلا کے اس کو میں روشنائی
قلم کی گیلی زبان کرلوں تو نعت لکھوں
ردیف ” م "
وابستہ ہو گئے ہیں تِرے آستاں سے ہم
آنکھیں ملا سکیں گے اب اُس آسماں سے ہم
ردیف "و”
یا خدا کردے یوں طیبہ کے حوالے مجھ کو
پھر وہاں سے نہ کبھی کوئی نکالے مجھ کو
ردیف ” ہ "
سب کے لیے اماں ہے مدینہ منورہ
بے شک سکونِ جاں ہے مدینہ منورہ
ردیف "ے "
حمدِ خدا کی راہ تو آسان ہے بہت
چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے
ردیف "ی”
شغل ہے اپنا یہی اب ہے یہی اپنا شعار
بس تِری زلفوں کی ہے مشاطگی نعتِ نبی
خدا وند متعال سے دعا گو ہوں کہ شفیق رائے پوری کا خامہ اسی طرح رواں دواں رہے اور منتہائے جمال، منبعء خوبی و کمال حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت لکھتا رہے۔ اور انہیں حیاتِ خضر علیہ السلام سے نوازے۔ ۔آمین