سخن با آبرو ہو جائے


سخن با آبرو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
تخیل سرخرو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
کہیں نُدرت کی خوشبو سے کہیں نصرت کے ملنے سے
سُخن جب مشکبو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
خیالوں میں نہ بسنے دیں اگر دنیا کی رونق کو
نبی کی جستجو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے

حرا کے غار کی حسرت بھلے ہو خاکِ بطحا کی
نمازِ آرزو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
"لک ذکرک ” کے زمرے سے مٙحاسن شاعری میں ہوں
یا ویسے گفتگو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
امانت میں دیانت کی شرافت میں صداقت کی
رفاقت آرزو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
انہی کا نور دل دیکھے جدھر سوچے ادھر پائے
رسائی چارسو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے

سخن پرور قلم کی نوک لکھ دے جب فقط آقا
مہک پھر کوبکو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے

سلامِ دل نظر کو بند کر کے بھیج دوں ان پر
تو خضریٰ روبرو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
فراقِ چشم کی دولت شبِ غم کے اضافے سے
جب اشکوں کا سٙبُو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے
نظر ڈالوں میں جب خضریٰ کے اندر نور پہ قائم
شکستہ دل رفو ہو جائے انکی نعت ہوتی ہے


سید حبدار قائم آف اٹک

در بارہ حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١٩٨٩ میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: