Tag: نعت

  •  جب دور سے گنبد کے مینار نظر آۓ

    مرزا شکور بیگ مرزآ

    مرزا شکور بیگ مرزآ

     جب دور سے گنبد کے مینار نظر آۓ

     مجرم  کو   رہائی  کے آثار نظر  آۓ

    پورا نام : مرزا شکور بیگ 

    تخلص   : مرزا

    تاریخ ولادت : 15/ سپٹمبر 1907ء حیدرآباد دکن 

    تاریخ وفات : 22/ اگسٹ 2009ء حیدرآباد انڈیا

    مرزا شکور بیگ مرزآ

     مرزا شکور بیگ 15/سپٹمبر 1907ء کو حیدرآباد کے قدیم محلہ فتح دروازہ میں پیدا ہوۓ 1932ء جامعہ عثمانیہ سے بی اے پاس کیا اور اور 1935ء میں اسی جامعہ سے وکالت کی ڈگری لی اور وکیل بن کر ضلع ورنگل منتقل ہو گئے اور وہیں وکالت شروع کردی تقریباً 25 سال انہوں نے وکالت کی اور بحیثیت وکیل پورے ریاست بھر میں مشہور ہو گئے وکالت کے ساتھ ساتھ انہوں نے عوامی زندگی میں بھی حصہ لیا اور 1952ء اور 1957ء میں دو بار ریاستی اسمبلی کے لئے الیکشن میں حصہ لیا اور عوامی اکثریت سے MLA کے لئے کامیاب ہوۓ اس طرح 10/ سال وہ ریاستی اسمبلی میں رکن اسمبلی رہے ، وہ نہ صرف صاحب طرز شاعر تھے بلکہ اپنے زمانے کے مشہور نثر نگار بھی تھے انکے مزاحیہ مضامین مزاحیہ شاعری تقاریر اور نعتیہ شاعری کا مجموعہ "خوشبوے درد” کے عنوان سے ان کی زندگی میں ہی چھپ کر مقبولیت حاصل کرچکا تھا ، ابتداء میں مرزا صاحب نے مزاحیہ مضامین اور مزاحیہ شاعری شروع کی انہوں نے ظریفانہ مزاج پایا تھا طنزو مزاح کے پیراۓ میں معاشرے کی اصلاح ان کا اصل مقصد تھا 

    ” نہ اعلان حکمت نہ اظہارفن ہیے

    ظرافت کے پردے میں دل کی جلن ہیے

    مری شاعری دعوت فکر بھی ہیے 

    کہیں اس میں فن ہیے کہیں اس میں پن ہیے”

    طنز ومزاح کی شاعری کے بعد ان کی شاعری نے کروٹ بدلی وہ 1960ء میں حج پر تشریف لے گئے اور واپس آنے کے بعد ان کی شاعری کا رخ مکمل طور سے نعت گوئی کی طرف ہوگیا اور 1967ء س 2009ء انکے انتقال تک وہ ہر سال حج پر جاتے اور اور زیارت آقاۓ دو جہاں صلم کے لئے ہر وقت بے چین و بے تاب رہتے مرزا صاحب کو محدث دکن حضرت عبداللّه شاہ صاحب قبلہ علیہ و رحمہ سے خلافت و بعیت بھی حاصل تھی اور آپ اپنے وصال سے قبل حضرت عبداللہ شاہ صاحب علیہ رحمہ کے وہ اکلوتے خلیفہ رہ گئے تھے حضرت مرزا شکور بیگ صاحب اپنے حج کے بارے میں خود فرماتے ہیں ;- 

    میں جھوٹ نہ بولوں گا ملا کے ڈرانے سے

    جاتا ہوں مدینے کو میں حج کے بہانے سے 

    ان کے کلام میں نہ پر شکوہ الفاظ ملتے ہیں اور نہ انشاء پروازی پھر بھی ان کے کلام میں کمال نظر آتا ہیے ان کا کلام پر اثر ہیے سامع ہو کہ قاری انکے کلام سے اس پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہیے  

    اشعار میں تاثیر کا یہ راز ہیے 

    ورزش یہ دماغی نہیں یہ دل کی لگی ہیے 

    آتش عشق رسول صلعم میں جلنے والے اور دوسروں کے قلوب میں آتش عشق رسول صلعم کو بھڑکانے والے یہ عظیم عاشق رسول صلم محترم مرزا شکور بیگ صاحب 22/ اگسٹ 2009ء کو دنیا سے پردہ فرمالیا مگر دنیاۓ اسلام و دنیا کے تمام عاشقان رسول صلم کے دلوں میں وہ ہمیشہ تاابد ذندہ رہیں گے

     عاشق رسولﷺ و ممتاز نعت گو شاعر مرزا شکور بیگ صاحب مرزآ علیہ رحمتہ کے 116ویں یوم ولادت پر بطور خراج عقیدت انکا کچھ نمونہ کلام قارآئین کی نظر کر رہا ہوں 

    ترتیب و پیشکش : #سید_نوید_جعفری 

    حیدرآباد دکن انڈیا 

    سب سے پہلے انکا شروعاتی مزاحیہ کلام کا نمونہ پھر نعتیہ کلام کا نسخہ پیش کروں گا 

    عشق میں سختیاں بھی جھیلی ہیں 

    کچھ نہ کچھ ہم نے نیکیاں کی ہیں 

    گالیاں کھاکے اس لئے خوش ہیں 

    اس نے اردو میں گالیاں دی ہیں 

    نہ اعلان حکمت نہ اظہار فن ہیے

    ظرافت کے پردے میں دل کی جلن ہیے 

    مری شاعری دعوت فکر بھی ہیے

    کہیں اس میں فن ہیے کہیں اس میں پن ہیے

    رنگ مصنوئ چال مصنوئ 

    دانت مصنوی زبان مصنوی 

    دودھ جب دودھ ہی نہیں یارو 

    دودھ کا ابال ہیے مصنوی

    صحت نے ساتھ چھوڑا پینا مگر نہ چھوٹا 

    بستر پر لیٹے لیٹے چمچے سے پی رہے ہیں 

    یہ ہی زندہ دلی کا راز ہیے مرزا کہ اپنوں کی 

    بھلائی یاد رکھتا ہوں برائی بھول جاتا ہوں 

    اب ہجر کا ملال نہ فکر وصال ہیے

    عاشق کے زیر غور غذائی سوال ہیے

    خبر نہیں ہیے کہ لیڈر یہ سن کےکیوں بگڑے 

    عوام لڑتے نہیں ہیں لڑاۓ جاتے ہیں

     پوچھا نا کسی نے جیتے جی درد کے ماروں کو مرزا 

    جب جان گئی بے چاروں کی مرحوم بنے مغفور ہوۓ

    💗  نمونہ نعتیہ کلام 💗

    جب دور سے گنبد کے مینار نظر آے

    مجرم کو رہائی کے آثار نظر آۓ 

    خوشی نہیں ہیے مگر آرزو ہیے جینے کی 

    زہے نصیب زیارت ہو پھر مدینہ کی 

    چھوٹا در حبیب تو محسوس یوں ہوا 

    جنت ہمارے ہاتھ میں آکر چلی گئی 

    ضیفی ہر جگہ محسوس ہوتی ہیے مگر مرزا 

    مدینہ میں طبعیت کچھ جواں معلوم ہوتی ہیے

    میں جھوٹ نہ بولوں گا ملا کے ڈرانے سے

    جاتا ہوں مدینے کو میں حج کے بہانے سے

     یوں مدینے میں آۓ مستانے

    شمع روشن پہ جیسے پروانے

    اشعار میں تاثیر کا یہ راز ہیے 

    ورزش یہ دماغی نہیں یہ دل کی لگی ہیے

     جب دور سے گنبد کے مینار نظر آے

     مجرم کو رہائی کے آثار نظر آۓ

  • سعادت حسن آس کی آبگینہ نور

    سعادت حسن آس کی آبگینہ نور

    سعادت حسن آس کی آبگینہ نور

    سعادت حسن آس کا ساتواں نعتیہ مجموعہ ” آبگینہ نور” نور کی سیکڑوں شعاعوں سے قلب و روح کو منور کرتا ہے. اس کتاب میں آپ کو رسول ﷺ کے ساتھ والہانہ عشق اور مدد کی اپیل نظر آئے گی. آس صاحب اس بارگاہِ عظیم کو اپنی مصیبتوں کا واحد حل سمجھتے ہیں. وہ مستغیث بن کر رسول اللہ کے سامنے فریاد کناں نظر آتے ہیں اور یقین اتنا ہے کہ کہیں بھی پریشانیوں پر افسردہ یا مایوس دکھائی نہیں دیتے. ان کے مضامین نعت یکسانیت کے باوجود متنوع اسالیب میں رچے بسے ہیں.

    سعادت حسن آس کی آبگینہ نور

    ایک بات کو کئی انداز میں دہرا کر بھی اس میں الگ ذائقہ رکھنے کا ہنر جانتے ہیں اور قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا. نعت جیسی نازک صنف کے ساتویں پڑاؤ پر بھی ان کے لہجے میں تھکاوٹ اور قلم میں لغزش کا شائبہ تک نہیں ہوا بلکہ اس میں مزید توانائی کا غلبہ نظر آتا ہے. اس کتاب میں انھوں نے لمبی ردایف کو وافر مقدار میں برتا ہے اور یہ ردایف خالصتا ان کی اپنی ایجاد ہیں. شعر کے ناقد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ لمبی ردیفیں اساتذہ کی قادر الکلامی پر دلالت کرتی تھیں اور ہمارے بعض متقدمین شعرا تو ان کا حق بھی ادا نہیں کر سکے لیکن آس صاحب اس میدان کے بھی شاہ سوار ہیں لہذا ہمیں کہیں بھی شعر کے مضامین میں طویل ردیف کی وجہ سے عدم ابلاغ کا گمان نہیں ہوتا.

  • نعتیہ مجموعہ زادِ شفاعت

    نعتیہ مجموعہ زادِ شفاعت

    نعتیہ مجموعہ زادِ شفاعت

    پروفیسر حافظ محبوب احمد سرگودھا کا وہ درخشاں سورج ہیں جن کی کرنیں عالم نعت میں جگمگا رہی ہیں۔ فروغِ نعت کا ٹاٸیٹل تو ہر کسی نے لگا رکھا ہے لیکن حقیقی معنوں میں جتنا کام حافظ محبوب احمد نے کیا ہے شاٸد ہی کوٸ دوسرا ان کے مد مقابل ہو۔ حافظ صاحب نے فیس بک پر لوگوں کے کلام کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا تو مجھ جیسے سینکڑوں تشنگانِ نعت بھاگتے ہوۓ آۓ اور اپنا سینہ سیراب کر کے دعاٸیں دیتے ہوۓ چلے گۓ میں نے فیس بک پر اور عملی زندگی میں بھی یہ دیکھا ہے کہ فروغِ نعت کے بڑے نام یہ کام نہیں کرتے اور نعتیہ گروپوں میں یہ کہتے ہوۓ نظر آتے ہیں ” اِسّاں چھوڑو اِسّاں کجھ نٸیں نیں آنا وینا” یعنی اس کو رہنے دیں اس کو شعر کے متعلق کچھ پتہ نہیں ہے ۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ فروغ نعت کے ٹاٸیٹل والے شعرا غلط کلام لکھنے والے کے انباکس میں جا کر اس کی اصلاح کر دیں۔ کیونکہ فقط رسالہ نکال دینے یا نعت کا ادبی گروپ بنانے سے فروغِ نعت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ دعویدار کمزور شعرا کی نعت کو سوشل میڈیا پر لاٸک کرتے ہیں اور اپنے ” قیمتی کومنٹ” سے بھی کسی کو نہیں نوازتے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا بڑا پن کہیں چھوٹا نظر نہ آ جاۓ۔ لیکن حافظ محبوب احمد وہ سمندر ہیں جس سے ہر کوٸ سیراب ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا شعر کی اصلاح کرتے وقت آپ شاعر کا حقیقی خیال نہیں بدلتے صرف کلام کے اوزان، قافیہ کے عیوب اور ربطِ خیال کی اصلاح کرتے ہیں
    جہاں تک حافظ صاحب کی شاعری کا تعلق ہے سلاست و فصاحت آپ کا خاصہ ہے سہل ممتنع ہر شعر میں واضح نظر آتا ہے حافظ صاحب کے کلام کی اسلوبیاتی صباحت آپ کے کلام سے صاف ظاہر ہوتی ہے اور کلام میں فکری عفت آپ کے کردار کی واضح تصویر ہے جو کہ ہر شعر میں نمایاں نظر آتی ہے آپ کے کلام میں صنعتِ تلمیح کا جا بجا استعمال ہے۔ علم عروض کے استاد ہیں۔ یو ٹیوب پر بھی علم عروض سکھاتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے کلام میں مضامین کی کمی کہیں نظر نہیں آتی ندرت بیانی مضامین کے معیار کو اوجِ کلام تک پہنچاتی ہیں۔ ان کا کلام فکر و نظر کے پھول بانٹتا ہے اور یہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سے ہی ممکن ہے سوشل میڈیا پر جہاں سیاست دانوں کی سوشل میڈیا ٹیمیں نفرت کے بیج بو رہی ہوتی ہیں وہاں مدحتِ رسول ﷺ کے چراغ روشن کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے حافظ صاحب بلاشبہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو فروغِ نعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں کٸ بڑے ناموں کے ساتھ سیکھنے کے لیے جب میں نے رابطہ کیا تھا تو "وقت نہیں ہے ” کا جملہ سننا پڑا لیکن حافظ صاحب نے بلا تفریق پوسٹیں لگاٸیں کہ سوشل میڈیا پر کومنٹ میں کلام بھیجیں تو آپ اصلاح کر دیں گے اور ایسے آپ ہر کسی کا کلام اصلاح کر کے واپس کومنٹ میں ہی بھیج دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی

    نعتیہ مجموعہ زادِ شفاعت


    شعر میں وارفتگی اس میں جان پیدا کر دیتی ہے اور اس سے قاری کی ادراکٸ پرواز کو جِلا ملتی ہے حافظ صاحب کے ہر شعر میں وارفتہ پن ملتا ہے وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں اور یہ خوبی اُن کو قافیہ پیماٸ سے دور رکھتی ہے ان کے شعر میں والہانہ پن اس بات کا مظہر ہے کہ وہ الہامی شاعر ہیں میں نے جب بھی ان کی نعت پڑھی ہے ایک عجیب جذبِ دروں اور مستی اوجِ خیال کو چھوتی ہوٸ محسوس ہوٸ ہے حافظ صاحب کی کتاب ” زادِ شفاعت” کے نگار خانہ ٕ شعر میں ڈھلے فن پاروں کا عکسِ جمیل ملاحظہ کیجیے :۔

    ترا عشق میری نماز ہے ترا عشق مرا سجود ہے
    ترا عشق میرا قعود ہے، ترا عشق میرا قیام ہے

    نت نئی نعت عطا ہوتی ہے اللہ اللہ
    چن لیا ہے مرے مالک نے مرا من، آہا

    جو بارگاہِ شہہِ دوجہاں کے ہو لائق
    وہ ایک آنسو بہانا نصیب ہو جائے

    رب کا دیدار کیا عرشِ معلٰی دیکھا
    چہل قدمی بھی ہوئی، سیرِ مقامات ہوئی

    اپنے محبوب کو خود اپنی دکھائیں آیات
    مہرباں ایسے محمد ﷺ پہ ہے وہ ذات ہوئی

    کرم ہے اُن کا کہ ہوں اُن کا اُمتی یارو!
    وگرنہ میں بھری محفل میں کس شمار میں ہوں

    نکل کے روح بدن کے قفس سے کب پہنچے
    حضورِ شاہِ شہاں میں، اس انتظار میں ہوں

    نعت لِکھنی ہے خیالات لرز اُٹھے ہیں
    روبرو طیبہ ہے جزبات لرز اُٹھے ہیں

    شاہ کی ہم سے نہ ہو جائےکوئی بےادبی
    شبِ اَسراء ہے سماوات لرز اُٹھے ہیں

    جب بھی کرتا ہوں میں رُخ اپنا مدینے کی طرف
    ایک ٹھنڈک سی چلی آتی ہے سینے کی طرف

    طواف کرتے ہیں پروانے جیسے گردِ شمع
    قلوب اِک رخِ زیبا کے گِرد گھومتے ہیں

    کسے کہا ہے پیمبر نے اپنا لختِ جگر
    تبھی تو سب درِ زہرا کےگرد گھومتے ہیں

    اے خدا پوری بھی کر اَب یہ تمنا دلکی
    کب سے ہم حسرتِ دیدار لیے پِھرتے ہیں

    شہِ خورشیدِ عرب سے ہے عنایت کا سوال
    ایک مدت سے شبِ تار لیے پھرتے ہیں

    صرف ہم ہی نہیں مصروفِ ثناء اے یارو!
    کرے جبریلِ امیں بھی یہ ریاضت، آہا

    ہوئے مبعوث شہِ کون و مکاں بِسم اللہ
    عرش تا فرش ہے خوشیوں کا سماں بِسم اللہ

    بحرِ حیرت میں سبھی ڈُوب گئے اِنس و جاں
    ہم کہاں اور یہ الطاف کہاں بِسم اللہ

    چڑھ جائے تو اُترے نہ پس اَز مرگ بھی ہرگِز
    اِے بادہ کشو ہے وہ نشہ عشقِ محمد ﷺ

    لذت جو حقیقی میں مجازی میں کہاں ہے
    اِے کاش ہو ہر دِل کو عطا عشقِ محمد ﷺ

    پھیر لِیں مجھ سے اگر شاہ نے نظریں اُس روز
    سوچتا ہوں مرا کیا حال خدایا ہوگا

    ہے انجُمنِ دل میں قیامت کا چراغاں
    میں دل میں بسائے پِھروں نعلینِ محمد ﷺ

    مَس اُن سے ہوئے ہیں شہِ کونین کے تلوے
    تاج اپنا بنائے پِھروں نعلینِ محمد ﷺ

    آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت حافظ محبوب احمد کو حیاتِ خضر علیہ السلام سے نوازے تاکہ وہ عشق رسول ﷺ کے چراغ جلاتے رہیں۔آمین

  • عاصم بخاری کی شاعری میں حمد و نعت

    عاصم بخاری کی شاعری میں حمد و نعت

    عاصم بخاری کی شاعری میں حمد و نعت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک جائزہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (مقبول ذکی مقبول بھکر)
    اگر اردو شاعری کے آغاز و ارتقا پر غور کیا جاۓ تو تقریباً ہر شاعر کے ہاں حمد و نعت مل جاتی ہے ۔ اس کے لئے شاعر کا مسلمان ہونا بھی شرط نہیں ۔ حمد و نعت مسلم کے ساتھ ساتھ غیر مسلم شعرا کے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ ہندو شعرا بہ طور ِ خاص اس سلسلہ میں قابل ِ ذکر ہیں ۔ اردو شاعری کا چاہے دبستان ِ دلی ہو یا دبستان ِ لکھنؤ ، متقدمین ہو یا متوسطین یا متاخرین ، کے کلام کا اگر جائزہ لیا جائے تو اساتذہ نے حمد و نعت سے ہی آغاز کا بتایا ہے ۔ بقول ِ ناصر کاظمی

    میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
    پہلے تیرا نام لکھا تھا

    اگر عاصم بخاری کے شعری سفر کا جائزہ لیا جاۓ تو صاحب ِ استاد ہیں ، صاحب ِ کتاب ہیں اور صاحب ِ آداب ہیں ۔ قدیم و جدید کا حسین امتزاج ہیں ۔ روایت پرستی بھی ان کے ہاں ملتی ہے ۔ ان کا یقین ہے کہ
    ؏
    ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
    یہ الگ کہ
    ” ہر گلے را رنگ و بو دیگر است”
    عاصم بخاری کی حمد و نعت کا اگر تنقیدی نظر سے جائزہ لیا جاۓ تو روایتی نہیں ۔ اگر ان کی حمد کو لے لیا جا ئے تو اس میں مطالعہ و مشاہدہ ء فطرت عروج پر نظر آتا ہے ۔ان کی حمد اپنے اندر فکری و فلسفی پہلو لیے ہے ۔ ان کے چند حمدیہ اشعار مثال کے طور پر

    رب ، ہستی وہ ، کہلاتی ہے جو سوتے ہوئے بھی
    گِرنے نہیں دیتی ہے پرندوں کو شجر سے

    ۔۔۔۔۔۔
    ایک اور حمدیہ شعر

    محمد کا خالق ، تو احمد کا رب
    یہی ہے مری حمد بھی نعت بھی

    عاصم بخاری کا ایک اور حمدیہ انداز دیکھیۓ ہر صنف ِ شعر میں ان کی حمد و نعت ان کی فن ِ شعر پر دسترس کا پتا دیتی ہے ۔

    نعت ہر اک ہے ، حمدیہ میری
    حمد میں اور نعت کہتا ہوں
    ایک اور منفرد حمدیہ انداز دیکھیۓ ۔
    رتبہ احمد کا جان ، تو پہلے
    بس یہی ایک بات کہتا ہوں
    حمد میں اللّٰہ تعالیٰ کی تعریف کا ایک نیا اور اچھوتا رنگ ملاحظہ فرمائیے ۔

    نام تیرے حبیب ، کا لے کر
    اک نئی بات ، لکھ رہا ہوں میں
    گر چہ شاعر علیحدہ کہتے ہیں
    حمد میں نعت لکھ رہا ہوں میں

    ” لولاک لما خلقت الافلاک "کے مفہوم کو کس خوب صورتی سے باندھتے دکھائی دیتے ہیں

    تجھے نا بناتا تو کچھ نہ بناتا
    بنائی ہے دنیا فقط تیری خاطر

    اسی طرح اگر نعت گوئی کا فکری و فنی اور تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ان کی نعتیہ شاعری بھی حمدیہ شاعری کی طرح ایک اپنا سا اور منفرد انداز رکھتی ہے ۔اس میں بھی ان کا ایک اپنا رنگ اور منفرد لب و لہجہ ہے ۔ اگر ان کے اسلوب ِ نعت کی بات کی جاۓ تو سیکڑوں اشعار میں بھی ان کا نعتیہ شعر اپنی الگ شناخت رکھے گا ۔ عاصم بخاری کی نعت میں بھی دیگر شعرا کی طرح محامد ِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ملتے ہیں یعنی روایتی انداز اور نعت گوئی میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے خصائل و شمائل اور صورت کا تذکرہ ہے ۔ نعت میں جو چیز عاصم بخاری کو ممتاز و منفرد کرتی ہے وہ ان کا صورت کے ساتھ ساتھ سیرت کا بیان ہے ۔ پاک پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی عظمت انہوں نے مختلف مواقع پر ان کے کردار سے مختلف مثالیں پیش کرکے بڑے ہی موثر انداز میں بر محل بلکہ نہ صرف آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی عظمت بیان کرکے ساتھ ہی پیروان ِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو آئینہ دکھانے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے ۔
    شعر ۔

    وعدہ تو کرتے ہو عاصم پورا کرنا بھی سیکھو
    کچھ بھی ہوتا قول نبھاتے ، پاک نبی تو ایسے تھے

    ان کا ہر نعتیہ شعر فکر کی جھیل میں احساس کا کنکر پھینکتا نظر آتا ہے ۔ اور صاحبان ِ ایمان و یقین کو دعوت ِ فکر کے ساتھ ساتھ عمل کا درس بھی دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیے ۔

    کم ہی تمہیں تو ان کی سیرت پر چلتے ہی دیکھا ہے
    گرتے ہوؤں کو تھامنے والے ، پاک نبی تو ایسے تھے

    ایک شعر مزید
    صادق اور امین کہا کرتے تھے ان کو دشمن بھی
    کیسے ہو تم ماننے والے ، پاک نبی تو ایسے تھے
    ایسے متعدد اشعار عاصم بخاری کی نعت گوئی میں ملتے ہیں مگر طوالت ِ مضمون کے خوف سے حکایت طویل بود ولے مختصر کردم ۔

    maqbool
عاصم بخاری کی شاعری میں حمد و نعت

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • راحتِ نعت

    راحتِ نعت

    لاہور ادب کا گڑھ ہے راحت افشاں کا تعلق بھی اسی سر زمین سے ہے ۔ ان کی پیدائش 20 جون 1970ء کو ہوئی ہے والد کا نام حاجی تاج دین ہے- راحت افشاں نے 17 سال کی عمر میں لکھنے کا آغاز کیا – اس وقت کالج میگزین میں کالم لکھا جو "آج کی عورت کل کی ماں”کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر ان کی تحریریں اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں- شروع میں یہ سلسلہ کم از کم تقریباً چھ سال تک جاری رہا۔ایک مرتبہ ان کو سسر نے ایک سچی کہانی سنائی جس نے اتنا متاثر کیا کہ اس پر ایک ناول لکھنے کا ارادہ کیا۔ یہ ناول "جنبش” کے نام سے شائع ہوا۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد انہوں نے "اضطراب ِزندگی” کے نام سے ایک اور کہانی لکھی۔ اس ناول کے دو سال بعد ایک اور ناول "عشق وفا سے فنا تک” ناول کے نام سے لکھا۔ اس کی کہانی بھی اصلی تھی-

    راحتِ نعت

    اس کے بعد راحت افشاں کی ادب کی دوسری اصناف میں شاعری میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی غزلیں الطاف اشعر بخاری صاحب (بھکر)کو اصلاح کے لیےدکھائیں۔ جنہوں نے حوصلہ افزائی کی۔ لیکن جوں جوں شاعری میں داخل ہوتی گئی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے نعت اور حمد میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ اس عقیدت اور محبت میں دنیا و آخرت دونوں کو سنوارنے میں کامیاب نظر آتی ہے ۔ اب بات کرتا ہوں ۔ راحت افشاں صاحبہ کے "نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت ” پر اس کے چار حصے ہیں ۔ پہلا حصہ حمدیہ کلام دوسرا حصہ نعتیہ کلام تیسرا حصہ نعتیہ نظمیں چوتھاحصہ سلام حضرت امام حسین علیہ السلام ہے ۔ انہوں نے اس کتاب کا انتساب اپنے مرحوم والد حاجی تاج دین صاحب کے نام ! کیا ہے۔ راحتِ نعت کے صحفات 128 ہیں اور اس کا سن اشاعت 2022ء قیمت 580 روپے ہے ۔ اللّٰہ پاک بے مثل و بے مثال ہے ۔ اس کی مثال کائنات میں نہیں ملتی وہ واحد ھو لاشریک ہے ۔ اللّٰہ پاک کی تعریف اشعار کی صورت میں کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نشانیوں کے ذریعے نظر آتا ہے اور وہاں تک پہنچنا اور اُس کو محسوس کرنا پھر سوچ و فکر کرنا صرف اور صرف باشعور و عظیم لوگوں کا کام ہے ۔ راحت افشاں صاحبہ نے جب خالقِ کائنات کو دیکھنے کی کوشش کی ہے تو بے ساختہ کہا

    سب رنگ ہیں تجھ سے کہ ترا رنگ نرالا
    تو سب سے جدا سب سے جدا شاہد و مشہود

    نعت گو شاعر ہر ایک کی یہ حسرت ہوتی ہے کہ مدینہ شریف ضرور جائے بلکہ ہر ایک مسلمان و مومن کی زندگی بھر کی خواہش ہوتی ہے ۔ اُس کو نعت کے رنگ میں اکثر شعراء و شاعرات بیان کرتے رہتے ہیں ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا اسلوب ہوتا ہے ۔ راحت افشاں صاحبہ کے” نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت” میں مختلف اور بڑے حسین و جمیل اور منفرد خیالات و عقیدت سے مزین اشعار موجود ہیں ۔ مگر مدینہ شریف جانے پر اظہارِ عقیدت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کا کلام عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ اور قارئین کو ان کے اندر کی آواز لگتا ہے ۔ ایسے اشعار کچھ دیر تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بات خلوص کے ساتھ دل سے نکلے وہ روح کو معطر بھی کرتی ہے اور اثر بھی رکھتی ہے ۔ سوچ ، فکر ، عمل ، انقلاب اور عشقِ رسول ﷺ میں جذبہ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ جس سے معاشرہ اپنے اندر کے انسان کو بیدار رکھتا ہے ۔ ایسے شان دار کلام کی وجہ سے صرف ان کا کلام ہی نہیں بلکہ تخلیق کار خود بھی امر ہو جاتے ہیں ۔ یہ تمام تر خوابوں میں رچا بسا راحت افشاں صاحبہ کا ” نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت”اعلیٰ سوچ و فکر کا حامل ہے ۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں

    کھل جائیں گے وہاں پر دروازے رحمتوں کے
    درِ مصطفیٰ ؐ سے لیں گے بخششِ کے ہم نگینے

    اپنی آنکھوں کو نئی روشنی دینے کے لئے
    خاک اُن گلیوں کی آنکھوں میں بھر لاؤں

    جہاں اللّٰہ پاک کا ذکر ہوتا ہے ۔ وہاں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہوتا ہے اور نبی اعظم شافعِ روزِ محشر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آلِ اظہار علیہ السلام کا ذکر بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ ذکر ایمان کی تازگی کا سبب ہی نہیں بلکہ جزوِ ایمان ہے ۔ سلامِ عقیدت کے حوالے سے دو شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

    جو نبیوں ؑ میں اونچا لقب پانے والے
    ہیں راہِ خدا سب کو دکھلا نے والے

    جتنے خیام تھے جل بجھ کے ہوئے راکھ وہاں
    ہائے مشکیزے سے دو بوند نہ ٹپکا پانی

    آخر میں ان کی بیٹی آرزو طارق صاحبہ کی کہی ہوئی تین عدد نعتیں بھی شامل ہیں ۔ کتاب پر اظہارِ رائے کرنے والوں میں اردو کے بڑے نام جن میں عباس خان ، ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، ڈاکٹر سعید عاصم ، پروفیسر افضل راشد ، شرجیل بخاری شامل ہیں۔ اس کا بیک ٹائٹل اقبال حسین کا لکھا ہوا ہے ۔

    maqbool

راحتِ نعت

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر پنجاب پاکستان

  • مدنی ؐدا پاک روضہ منبع صفات ہے

    مدنی ؐدا پاک روضہ منبع صفات ہے

    مدنی ؐدا پاک روضہ منبع صفات ہے
    ہر وقت رحمتاں دی راہندی بارات ہے

    دنیا تہاڈے کیتے تخلیق کیتی خالق
    سارے زمانے تیڈے کل کائنات ہے

    ڈینہہ رات چوی گھنٹے در تے ملائک اترن
    صلواۃ دی ہمیشہ راہندی سوغات ہے

    روز جزا دا مالک کائنات وچ نظردائیں
    دنیا تے آخرت تے ول تیڈی بات ہے

    مولا ؐ تہاڈے صدقے رحمت جہان تے ہے
    افضل تے سب توں اعلیٰ ہک تیڈی ذات ہے

    مدحت تیڈی کراں میں خواہش ہے دل میڈے وچ
    در پاک توں تہاڈے ملدی خیرات ہے

    مقبول ونج کے ڈیواں بوسے مزار کوں میں
    سکدی نہ ہنجھ اکھیں چوں جاری فرات ہے

    mqbool

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر پنجاب پاکستان

  • کیا ارفع واعلیٰ ہے مقامِ شاہِ والا

    کیا ارفع واعلیٰ ہے مقامِ شاہِ والا

    صورت بھی حسیں ہے تیری سیرت بھی حسیں ہے
    ثانی تیرا آفاق میں واللہ نہیں ہے

    گیسو ہیں کہ خوشبوسے معطر ہیں گھٹائیں
    چہرہ ہے کہ تابندہ کوئی ماہِ مبیں ہے

    کیا ارفع واعلیٰ ہے مقامِ شاہِ والا
    جھکتی درِ اقدس پہ فرشتوں کی جبیں ہے

    کرتے ہیں ملائک بھی شب وروز سلامی
    کہتے ہیں کہ یہ بارگہِ خسروِ دیں ہے

    سایہ تیری رحمت کا ہر اک عاصی کے سر پہ
    ہوگا سرِ محشر تیری امت کو یقیں ہے

    اس پر بھی ہو اک نظرِ کرم اے میرے آقا!
    بسملؔ تیرے دروازے کا ادنیٰ سا مکیں ہے

    کیا ارفع واعلیٰ ہے مقامِ شاہِ والا

sultan mehmood bismil

    سردار سلطان محمود بسملؔ

  • سید حُبدار قائم ؔ سے اِنٹرویو

    سید حُبدار قائم ؔ سے اِنٹرویو

    نمازِ شب، اکھیاں وچ زمانے، چھانگلا ولی موج دریا اور نعتیہ مجموعہ مدح شاہ زمن کے شاعر سے اِنٹرویو

    سید حُبدار قائم ؔ     انٹرویو  / ڈاکٹر عبدالرشید آزادؔ

                   سوشل میڈیا پر ایک دوست کے کلام کوپڑھا بہت پسند آیا ہمارے کمنٹ پر اُن کا شکریہ ادا کرنا اور پھر ان باکس نمبرز کالین دین کے بعد اُن کی شخصیت کے پرتو کھلے تو اُن کی چار کتب کے بارے میں پتہ چلا جن میں (1) ٭ نمازِ شب،(2)٭ اکھیاں وچ زمانے،(3)٭ چھانگلا ولی موج دریا ’’ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی سیرت وکردار‘‘ (4)٭ نعتیہ کلام مدحِ شاہ زمن ، اس کے علاوہ ان کے نثری مضامین روزنامہ نوائے وقت، اساس، ڈیلی کشمیر ، ڈیلی گریٹ پاکستان ، پاکستان ، جمالیات ،ذوق، دھنک رنگ، فروغِ نعت،اُرود ڈائجسٹ ،الہام ،لہراں اور ونگاں وغیرہ میں کثرت سے شائع ہوتا رہتا ہے ہم نے ان سے انٹرو یو روزنامہ حرب بقاء کوئٹہ اور ماہنامہ جہاں نما کوئٹہ کے لئے ریکارڈ کیاہے جو نذر قارئین ہے ۔                            (ادارہ )۔

     حُبدار قائم

    س٭ آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟۔

    ج/ میں ضلع اٹک تحصیل پنڈی گھیب کے نواحی گاؤں غریبوال میں 10جنوری 1968؁ء کو پیدا ہوا ہوں ۔

    س٭ آپ نے کہاں کہاں سے اور کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے ؟۔

    ج/ میں نے پرائمری تک اپنے گاؤں غریبوال میں پڑھا ہے وہاں پرائمری پاس کر کے اپنے گاؤں سے چھ کلو میٹر دور گورنمنٹ ہائی سکول پنڈی گھیب میں داخلہ لیا میٹرک وہاں سے کیا اُس کے بعد ایف اے بھی گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی گھیب سے کیا اور بی اے کی کلاسز دوسال تک وہاں ہی اٹینڈ کیں لیکن کلیئر نہیں کر سکا کیونکہ اس دوران میں فوج میں بھرتی ہو گیا تھا۔

    س٭ آپ نے ادبی دُنیا میں قدم کب رکھا اور شاعری میں اصلاح کن سے لی ؟۔

    ج/ میں نے1987؁ء میں ادبی سرگرمیوں کا آغاز کیا اُس دور میں ہمارے گاؤں میں میرا دوست علی احمد تبسم ؔ تھا جو ادبی رسائل میں لکھتا تھا سچی کہانیاں ، آداب ِعرض، سلام عرض، جواب عرض میں اُسے دیکھ کر مجھے بھی شوق پیدا ہو گیا اور میں نے بھی 1987؁ء میں لکھنا شروع کردیا تھا۔سلام عرض میں میری بھی ایک دو کہانیاں چھپیں ،جواب عرض میں چھپیں پہلے میں شعر بے وزن لکھتا تھا اُسکے بعد پنڈی گھیب میں ایک شاعر تھے شعیب ہمیشؔ وہ اب واہ کینٹ میں ہوتے ہیں اُنہوں نے پنڈی گھیب میں حلقہ ارباب شاد نامی ایک ادبی تنظیم بنائی اُس تنظیم میں اُنہوں نے مجھے بھی ممبر بنایا وہاں مشاعرے ہوتے تھے تو میں وہاں پر اپنا کلام توکل ساٸلؔ صاحب کو دکھاتا تھا وہ پنڈی گھیب کے بزرگ شاعر تھے اُن سے اصلاح لیکر وہاں مشاعروں میں اپنا کلام سناتا تھا ۔

    س٭ شاعر کو بنیادی طور پر کیسا ہونا چاہئے ؟۔

    ج/ شاعر کو بنیادی طور پر نرم دِل ،حساس ہونا چاہیے اور اُس کی نگاہ معاشرے کی ہر چیز پر ہونی چاہئے اسے حکومت کے اقدامات کی تائید اور تنقید دونوں پر قلم اُٹھانا چاہئے ۔غریبوں کے حق میں آواز بلند کرنا اور حق گوئی کا ہمنوا ہونا شاعر کا شیوہ ہوناچاہئے۔

    س٭ پاکستان کی قومی زبان اُردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب کو آپ کیسا دیکھتے ہیں ؟۔

    ج/ پاکستان میں ہر 25 کلومیٹر کے بعد زبان تبدیل ہوجاتی ہے پنجابی ہو، بلوچی ہو، پشتو ہو، سندھی ہو یا اور کوئی زبان ہو پاکستان میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں یہ تمام زبانیں ہماری ہیں ہمارا اصل اثاثہ ہیں یہ ماں بولی زبانیں ہیں ان زبانوں میں پرائمری سطح سے لیکر میٹرک تک مضامین ہونے چاہئے ، جو کہ پڑھاۓ جانے چاہئیں، تاکہ لوگ اپنی ماں بولی زبان کو بھول نہ جائیں کیونکہ جو ہماری زبان کی خوشبو ہے اس میں ہماری ماؤں کی باتیں ہیں بہن بھائیوں کا پیار انہی ماں بولی زبانوں میں موجود ہے اُردو چونکہ ہمارے صوبوں کے درمیان رابطے کی زبان ہے اس لیے قومی زبان کہلاتی ہے اور اُس کا احترام بھی بہت ضروری ہے اُس میں بھی کام کرنا چاہئے لیکن ماں بولی زبان کو ہر سکول میں پڑھایا جانا چاہئے اور سکولوں میں اساتذہ کرام سے اس زبان میں بھی گفتگو کی اجازت ہونی چاہئے۔ جو اُس علاقے کی زبان ہے۔

    کیونکہ ہمارے بچے اپنی مادری زبان کے بہت سے بنیادی الفاظ بھولتے جا رہے ہیں وہ الفاظ ہماری نئی نسل کو پتہ نہیں ہیں ہماری زبان آھستہ آھستہ ختم ہو رہی ہے لہذا اپنی زبانوں کو زندہ رکھنے کے لئے گھروں میں اور سکولوں میں خاص طور پر اپنی ماں بولی زبان بولنی چاہئیے ۔

    س٭ آپ ادب میں تنقید کوکیسا دیکھتے ہیں اور ادب میں کیا تنقید ہونی چاہئے؟۔

    ج/ جی بالکل ادب میں تنقید بالکل ہونی چاہئے آپ جس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں سب سے پہلے اُس کتاب کے اوصاف دیکھیں اُس کی برائی کو نہ دیکھیں صاحب کتاب کی غلطیوں کو نظر انداز کریں صرف کتاب کے فن اور اوصاف کومدنظر رکھ کر وہی بیان کریں اس کے علاوہ جو تنقیدی محافل ہوتی ہیں اُن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے اُن پر اس انداز میں تنقید ہو، کہ، بندہ کچھ سیکھ سکے اُس کی اصلاح ہو، فن کی اصلاح کے لیے تنقید ہو ، ذاتی عناد نہ نکالا جائے تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ تنقید برائے اصلاح ہو۔

    س٭ عام آدمی کو ادب کی طرف راغب کرنے کے لئے کیا کیا جانا چاہئے؟۔

    ج/ ایک عام آدمی کو ادب کی طرف راغب کرنے کے لئے جتنے بھی لکھاری ہیں اُن کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان کو اپنی کتابیں نوجوانوں میں بلامعاوضہ تقسیم کرنی چاہییں اور میں نے اپنی تمام کتابیں اسی نظریے کے تحت نوجوانوں میں بالکل مفت تقسیم کی ہیں اسی طرح دوسرے شعراء کرام کو بھی تقسیم کرنی چاہئییں تاکہ نوجوانوں میں مطالعے کا رحجان پیدا ہو آج کل کے دور میں کتاب شائع کرانا بہت مشکل کام ہے لیکن میری یہ خواہش ہے کہ ہر شہر میں اور ہر محلے میں لائبریریاں ہونی چاہئیں وہاں کتب بالکل مفت دی جائیں تاکہ لوگوں کا رحجان کتب کی طرف بڑھے اس سلسلے میں مختلف سیمینارز ہونے چاہئے ،کتب میلے ہونے چاہئے، شہروں میں ، گاؤں کی سطح پر ہوں ،شاعر ،ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار، کالم نگار،ڈرامہ نگار،ان کی کاوشیں عوام اور قارئین کے سامنے آنی چاہئیں صرف کتاب چھاپ کر گودام میں اسٹاک کر دینے سے کچھ نہیں ہوتا سکولوں میں، کالجوں میں ، یونیورسٹیز کی سطح پر کتب بینی کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔

    س٭ آپ نے جب ادبی دُنیا میں قدم رکھا تو اُس وقت آپ کے ارد گرد کا ادبی ماحول کیسا تھا؟۔

    ج/ 1987؁ء کے دور میں پنڈی گھیب کی ادبی صورتحال کوئی بہت خوش افزاء نہیں تھی بہت ہی تھوڑے سے لوگ تھے جو لکھتے تھے توکل ساٸل، عبداللہ صحرائی، اور چند گنتی کے گنے چنے لوگ تھے وہاں اُس دور میں کوئی خاص ادبی تنظیم نہیں تھی ،حلقہ ارباب شاد اُس وقت نئی نئی تنظیم بنی تھی وہ مہینے میں ایک آدھ مشاعرہ کراتی تھی جس میں ہم سب اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔

    midh e shah e zamn

    س٭ آپ کی کتب کی اشاعت میں کسی ادبی تنظیم ،ادارے، حکومت کی طرف سے کوئی مالی تعاؤن یا امداد کی گئی ہو ؟۔

    ج/ جی نہیں بالکل بھی نہیں سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے خود اپنی جیب سے یہ رقم خرچ کر کے اپنی کتب شائع کرائیں ہیں چونکہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور میرا گذر بسر میری پینشن پر ہے اور بڑی مشکل سے گذارا کرتا ہوں اور اپنی چار کتابیں میں نے بڑی مشکل سے شائع کرائی ہیں اس میں کسی بھی ادبی تنظیم، گورنمنٹ یا کسی شخصیت کی سرپرستی بالکل نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اتنا مشہور آدمی نہیں ہوں میں نے فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ قلم اُٹھایا ہے اب میں لکھتاہوں اور لکھتا ہی چلا جا رہا ہوں میری دو کتب مزید آنے کو تیار ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ میرے مالی وسائل اس کی اجازت نہیں دے رہے ۔

    س٭ موجودہ شاعری کے بارے میں آپ کی ذاتی رائے کیا ہے؟۔

    ج/ میرے خیال میں موجودہ دور میں بہت اچھی شاعری ہورہی ہے خصوصاً سوشل میڈیا پر جو لوگ علم عروض سکھاتے ہیں اُن کی وجہ سے خاصی آسانی پیدا ہو گئی ہے اب تو سوشل میڈیا نے بہت زیادہ آگہی پھیلا دی ہے شاعری کے بارے میں ۔

    س٭ ادب میں گروہ بندی کے عمل کے بارے میں آپ کی ذاتی رائے کیا ہے؟۔

    ج/ میری ذاتی رائے میں یہ کوئی احسن کام نہیں ہے ہم جہاں بھی چلے جائیں کسی بھی شہر چلے جائیں شاعروں کے جتھے بنے ہوئے ہیں اس گروہ بندی کا منفی اثر بہت زیادہ بڑھ رہا ہے بلکہ اب تو اس حد تک دیکھنے میں آ رہا ہے کہ جو بندہ کسی گروپ میں یا گروہ میں شامل نہیں ہوتا اُسے اچھے شعر پر بھی داد نہیں دی جاتی ،داد بھی آج کل اسٹیٹس پرستی کی وجہ سے دی جاتی ہے اسٹیٹس کو دی جاتی ہے ،کلام کو داد بہت کم دی جاتی ہے ۔گروہ بندی نے ہمیشہ ادبی ماحول کونقصان ہی پہنچایا ہے کیونکہ جب ایک بندہ اسٹیج پر اپنا کلام یا اپنا مافی الضمیر سمجھا رہا ہوتا ہے تو اُسے پتہ نہیں ہوتا کہ اُس کے مخالفین یا دوسرے گروہ کے لوگ کیا ری ایکٹ کریں گے ،ادیبوں اور شعراء کو گروہوں میں بٹنے سے گریز کرنا چاہئے اور ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    س٭ ہمیں کیسا ادب تخلیق کرنا چاہئے؟۔

    ج/ ہمیں اس دور میں ایسا ادب تخلیق کرنا چاہئے کہ جس میں محبتوں کی خوشبو آئے اگر ہم اسی طرح نفرتوں کو لیکر چلیں گے تو ادب کہاں سے فروغ پائے گا ابھی آپ سوشل میڈیا پر ہی دیکھ لیں کہ ادب کو فرقہ بندیوں میں بانٹا جارہا ہے تفرقہ بازی ادب میں نہیں ہونی چاہئے۔

    آپ کا نظریہ ادب کیا ہے؟۔

    ج/ میرے خیال میں نظریہ ادب ( وقولو اللناس حسنا ) کی عملی تفسیر ہے کہ گفتگو جو بھی کی جائے اُس میں جمالیاتی حسن ہو اور دین و مذہب کا رحجان بھی ہو یعنی اس انداز سے ہو کہ اُس میں صرف محبتیں ہوں نفرتیں نہ ہوں ،اچھی بات کہیں سے بھی ملے وہ شعر کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں ہو اس پر داد دیں آپ شعر یا نثر ایسی لکھیں تاکہ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر اُس کا مثبت اثر پڑے۔

    سید حُبدار قائم ؔ سے اِنٹرویو

    س٭ آپ کو کسی ادبی تنظیم کی جانب سے یاحکومت کی طرف سے کوئی ایوارڈ وغیرہ ملا ہو تو بتائیں ؟۔

    ج/ مجھے ادبی تنظیم "انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان” کے شہزاد اُفق نے میری پنجابی کتاب ( اکھیاں وچ زمانے ) پر شیلڈ دی ہے پچھلے سال نومبر دسمبر میں جب اُنہوں نے اپنی تنظیم کے تحت پروگرام منعقد کرایا تھا ۔

    س٭ ادب کے فروغ میں سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے کردار کو آپ کیسا دیکھتے ہیں ؟ ۔

    ج/ میں اپنی ذات تک بات کروں گا میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا بہت موثر ذریعہ ہے ادب کے فروغ کے لئے اس میں ادبی تنظیموں کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرامز کی رپورٹ بھی منظر عام پر آتی ہیں ،انفرادی کلام، و انفرادی کارکردگی بھی منظر عام پر آتی ہے پھر آج کل آن لائن ادبی طرحی مشاعروں میں لوگوں کی شرکت ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک بہت پاور فل میڈیا بن چکا ہے ادب کے فروغ کے لئے۔ میں نے 2015؁ء میں فوج سے ریٹائرمنٹ لی اور پھر میں نے جو کچھ ادب میں سیکھا ہے وہ کتاب اور سوشل میڈیا ہی سے سیکھا ہے ،سوشل میڈیا بڑا فعال ہے ادب کے فروغ میں ۔

    حبدار قائم ؔ کے کلام کا نمونہ آپ قارئین کی نذر۔

    نعت رسول کریم ﷺ

    یہ جذبوں میں عزت اُنہی ؐ کی بدولت

    دھنک رنگ مدحت اُنہی ؐکی بدولت

    یہ پھول اور کلیاں اُنہی کی بدولت

    صبا اور نکہت اُنہی ؐکی بندولت

    مدینہ سے ہم کو ملی ہے یہ طاقت

    یہ عزم اور ہمت انہیؐ کی بدولت

    یہ کھانا یہ پینا اُنہی ؐ کے ہے دم سے

    یہ پانی یہ شربت اُنہی ؐ کی بدولت

    یہ چاند اور تارے اُنہیؐ کی بدولت

    یہ انوار و نزہت اُنہی ؐ کی بدولت

    یہ حسنِ سخن اور الہام کی ضو

    خیالوں میں رنگت انہیؐ کی بدولت

    یہ قرآں کی آیت عبادت سعادت

    فصاحت بلاغت اُنہیؐ کی بدولت

    جہان ِ تگ و دو میں دیکھا ہے ہم نے

    سخاوت صداقت اُنہیؐ کی بدولت

    جہاں میں کہاں پر تھی بیٹی کی عزت

    ملی اس کو عظمت اُنہیؐ کی بدولت

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اشعار سید حبدار قائم ؔ

    سسکتے ہوئے اُس کو رخصت کیاجب

    ٹپکتی ہوئی آنکھ غم سے مری تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے غم نے توڑا مرے ہمسفر سن

    فقط تیرے آنے سے میں جڑ سکوں گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نعت رسول مقبول ﷺ

    نبی کے ٹھکانے سر ِ آسماں ہیں

    زمیں پر بھی ان کے نشاں ہی نشاں ہیں

    یہ فرمان ِ ذیشاں حدیثوں میں دیکھا

    ’’وہ تخلیق ِ اول وہ روحِ جہاں ہیں ‘‘

    وضاحت زمانے کی میں کردوں یارو

    زمانے اُنہی کے انہی سے زماں ہیں

    اُنہی کا ہے نور اس جہاں میں ہویدا

    اُنہی کے لئے روشنی کے سماں ہیں

    وہی میرے مولا وہی میرے آقاؐ

    وہی میری سانسوں میں ہر پل رواں ہیں

    اُنہی کے تصور سے ایسے ہوں روشن

    درودوں میں لگتا ہے آقا یہاں ہیں

    مجھے نعت لکھتے ہوئے یہ لگا ہے

    کہ مولا کے تلووں پہ بوسے رواں ہیں

    کہا آپ ؐنے بیٹیاں ہیں یہ رحمت

    مرے گھر میں رحمت کے دو آسماں ہیں

    نبیؐ آخری ہیں محمدؐ ہی قائم ؔ

    اسی بس عقیدے پہ من گل فشاں ہیں

  • میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے

    میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے

    میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے
    اٹھیں بیٹھیں فقط ہک خزینہ ڈِسے

    ماہ رمضان ، شعبان ، ذیشاں رجب
    ودھ ربیع الاوّل دا مہینہ ڈِسے

    چاوے مُندری جو تخت سلیمان کوں
    وچ نبی مصطفیٰؐ دا نگینہ ڈِسے

    سیرتِ مصطفیٰؐ میکوں بھلدی نئیں
    نال راہب دے خالص قرینہ ڈِسے

    بولے پتھر نبی دی صداقت دے وچ
    منہ تے باطل دے یکدم پسینہ ڈِسے

    خاص ابوذرؓ بلالؓ و سلیمانؓ دا
    سئیں دی الفت دے وچ پکا سینہ ڈِسے

    ؐکشی نوحؑ دی ڈتی ہے مثال اے نبی
    آل احمدؐ دا سچا سفینہ ڈِسے

    کِھنڈی خوشبو پئی ساری کوچہ نگر
    نعت مقبولؔ دی مہ جبینہ ڈِسے

    Maqbool
میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے

    مقبول ذکی مقبولؔ

    بھکر،پنجاب،پاکستان

  • کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

    کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

    کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

    تحریر : دلبر حسین مولائی ، ڈیرہ غازی خان

    مقبول ذکی مقبول منکیرہ ضلع بھکر کے نامور شاعر ہیں ۔ محکمہ صحت میں ملازم ہیں ۔ محمد و آل محمد علیہ السلام سے گہری عقیدت رکھتے ہیں ۔ مومن بندے ہیں ۔ پچھلے دنوں ان کی کتاب”سجدہ”شائع ہوئی ۔ 21 مئی 2017ء کو اس کتاب کی اشاعت اول ہے ۔ اس کے 172 صفحے ہیں ۔ ساری کتاب دینی شاعری پر مشتمل ہے ۔ جس میں حمدیہ کلام ، نعتیہ کلام ، میلاد مبارک ، سلام یا حسین علیہ السلام ، منقبت اور حسینی بند شامل ہیں ۔ مختلف اصناف اور بحور استعمال کی گئی ہیں ۔ یعنی منقبت ؛سلام (غزل طرز پر) قطعہ ، مسدس اور آزاد ہئیت میں شاعری موجود ہے ۔ غیر منقوط نظمیں بھی شامل ہیں ۔ شاعری کی مذہبی روایت ساری کی ساری موجود ہے ۔ قصائد اور فضائل زیادہ لکھے گئے ہیں ۔ مصائب سے بھرے حسینی بند بھی موجود ہیں ۔ جگہ جگہ پر اسلامی تعلیمات کے حوالے موجود ہیں ۔ اسلامی شخصیات میں سے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت عمران/ابوطالب علیہ السلام ، امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام ، بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا ، بی بی زینب سلام اللہ علیہا ، حضرت امام حسن علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت امام سجاد علیہ السلام ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام ، حضرت امام مہدی آخر الزمان علیہ السلام اور حضرت سلیمان فارسی رضی الله عنہ جیسی ہستیوں پر نظمیں یا اشعار موجود ہیں ۔ جگہ جگہ پر اہل بیت علیہ السّلام سے عقیدت و نسبت بیان کی گئی ہے ۔ آل محمد ﷺ سے مودت ہی دین و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے ۔ پوری کتاب میں جملہ عظیم ہستیوں کے پیغام کا خلاصہ "سجدہ”بنتا ہے ۔ جو اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کی علامت ہے۔ان پاک شخصیات کی تعلیمات یہی ہے کہ اے انسان اللّٰہ کے سامنے جھک جا ، پھر کامیابی ہی کامیابی ہے لہٰذا جابجا نماز کی اہمیت اور اطاعت محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اشعار ، امرباالمعروف و نہی عن المنکر کا درس دے رہے ہیں ۔ یہ کتاب "سجدہ” مقبول ذکی مقبول کے لئے آخرت کا تحفہ و ارمغان ہے ۔ جس نے ثبوت کے طور پر تحریری لکھا ہے کہ ایک زمانہ ان کے ایمان کا گواہ رہے کہ یہ شخص حضرت عمران علیہ السلام کو مومن ، محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ، امیر المومنین مولا علی علیہ السلام کو پہلا امام ، چودہ معصومین علیہ السلام کو اپنا رہبر مانتا ہے ۔ اس نے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر کے ان مقدس ہستیوں سے محبت کا بھر پور اظہار کیا ہے ۔ یہ کتاب ان کے پاکیزہ باطن کی گواہی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو ان ہستیوں سے علیحدہ فکر و خیال کے تصور کو سوچ ہی نہیں سکتا۔ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی ان کی حمدوں ، میں موجود ہے ۔ نعتوں میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی کئی جھلکیاں نظر آرہی ہیں ۔ منقبتیں ، قصائد ، کربلائی پیغامات ، کوفہ و شام کے مصائب کا ذکر ، اس بات کی علامت ہے کہ یہ پیغام ٫٫ کربلائی و علوی ٫٫ پیغام کا تسلسل ہے ۔ وہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جو قرآن ، حدیث اور نہج البلاغہ کی تعلیم سے دور ہو ۔۔۔ یہ کتاب”سجدہ” قاری کو متوجہ کرتی ہے کہ اے پریشانیوں میں گھرا انسان پھر قرآن و حدیث اور نہج البلاغہ کی طرف لوٹ آ ۔۔۔۔ تاکہ فرشتے تجھ پہ سائبان کریں ، لواالحمد کا سایہ تجھے نصیب ہو ، جام کوثر ، والا جنتی شربت پینے کو ملے ۔ میں مقبول ذکی مقبول کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کے ان کے دل و دماغ کے پاکیزہ خیالوں کو قلم جیسا گواہ مل گیا ہے ۔ جس نے ” سجدہ ” جیسی عظیم صفت کی گواہی زمانے کے سامنے پیش کی ہے ۔۔۔ ۔
    مختلف عنوانوں کے حوالے سے منتخب اشعار نقل کیئے جاتے ہیں ۔
    حمد مسلمان شعراء ہمیشہ لکھتے آئے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے لو لگانے کا یہ شاندار قلمی رابطہ ہے ۔۔۔ جہاں دیکھو جب دیکھو ، ہر مقام پر ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ کی کاری گری اور قدرت کاملہ سامنے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔ ذکی نے منظر کھینچا ہے ۔

    نظارہ ہر نظر کوں ذات تیڈی دا نظر دا ہے
    تہوں سورج وی مدحت آپ دی کرکے ابھر دا ہے

    رکھی لذت ہیوی اینجھیں انہاں پھلاں دے پانی وچ
    جو مجنوں بن کے پھلاں تے ودا بھنورا اتر دا ہے

    پتھر ریت سمندر صحرا کیڈے سوہنے ڈسدے ہن
    اچے اچے روہاں کوں وی برف دے نال لکایا ہے

    سن دا ہر ہک گالھ ہے مولا
    شہ رگ دے جو نال ہے مولا

    تیڈی رحمت دے وچ جکڑا
    ذکی دا ہر وال ہے مولا

    خدا کے ذکر کے بعد ذکر حبیب خدا ﷺ نہ ہو تو ایسی زبان اور قلم پر حیف ہے ۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و نعت سے ایمان تازہ ہوتا ہے ۔ دل سے توحید کی کرنیں پھوٹتی ہیں ۔ محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے مودت پختہ ہوتی ہے ۔ روز اول سے روز آخر بلکہ ہمیشہ ہمیشہ یا نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم یا نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا ورد رہنا ہے ۔ آپ پر درود و سلام پڑھا جاتا رہے گا ۔ جو بندہ مدینے سے بیگانہ ہے ۔ اس کی زندگی ویرانوں اور بیگانوں کی زندگی ہوگی ۔

    بن مدینے دے میڈی اے زندگی ویران ہے
    رب دی سونہہ دنیا تے میکوں بس مدینہ بھاندا ہے

    روز اول توں لا روز محشر تائیں
    یا نبی یا نبی ذکر کر دا رہواں

    علیؑ رکوع ہے والا طاہرہ کسا ہے والی
    گوہر دہر دے اصلی احمد دی آل اعلیٰ

    کشتی نوح دی ڈتی ہے مثال اے نبی
    آل احمد دا سچا سفینہ ڈسے

    کونین دا مالک ہے سردار مدینے دا
    انسان دا وارث ہے سرکار مدینے دا

    مقبول دعا خالق منظور کریسی چا
    چم شہر گھناں سارا ہک وار مدینے دا

    ڈوجہاناں دا شاہ آیا مکے دے وچ
    ہر بشر کوں سحر اوہا وکھری لگی

    مقبول ذکی مقبول ایک عرصے سے مصروف ذکر محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم میں ہے ۔ بھکر اور کچھی شروع سے ہی ایسے شاعر اور ذاکر پیدا کرتی رہی ہے۔ جنہوں نے کربلائی پیغام پورے برصغیر میں پہنچایا ہے ۔ یہ سلسلہ تھما نہیں ہے ۔ جہاں اور قلم کار محو مدحت ہیں ۔ وہیں مقبول ذکی مقبول بھی اپنا حصہ شامل کررہا ہے ۔ ان کے قلم میں روانی بھی ہے ، عشق بھی اور عقیدت بھی ، حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت کے موقعے کا بند دیکھئے۔

    پاک حسینؑ دا بچڑا جانی
    نانے پاک دی پاک نشانی
    اکبر اکبر یوسف ثانی
    یثرب چمکا گھڑی سہانی
    بخت حسینؑ دا عرش توں آیا
    در ، دارین دا عرش توں آیا

    مقبول ذکی مقبول ، دل کا تونگر ہے ۔ اس کے عقیدے کے لنگر سے زمانہ سیر ہوتا رہے گا ۔ ان کی سوچوں کی زکات ہمیشہ ہمیشہ بٹتی رہے گا مجھے نہیں معلوم ظاہری دنیا میں مقبول ذکی مقبول کتنا دولت مند ہے۔ مگر”حسینت” کی دولت سے مالامال ہے ۔ ان کی فکر کے کئی ٹرالے شاہراہِ مستقیم پر رواں دواں ہیں ۔ جن پہ واضح لکھا ہے کہ یہ کاروان امام العصر ہے۔ جن کے ممبر کی پہلی نشانی”سجدہ” ہے”سجدہ” ایک استعارہ ہے کہ یہ شخص تین اطاعتوں کا قائل ہے یعنی یعنی اللّٰہ کی اطاعت ، رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت ، یہ کتاب سجدہ ان اطاعتوں کی پیام بر ہے ۔ اس کے صفحات ملکوتی ” ذاکرین ” کے ذکر سے مزین ہیں ۔ اسی طرح ایک ذاکر حقیقی امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر بھر پور اظہار عقیدت کرتے ہیں کہ یہ رسول زادہ شریعت محمدی کو ” صادق ” بن کر بیان کرے گا ۔

    جہان سارے ڈتی مبارک ہے آیا جگ تے رسول زادہ
    تے جنس اٹھاراں ہزار آ کھا ایندا تے اللّٰہ دا ہک ارادہ
    ہے جانشین امام باقر تے رتبہ مولا دا بہوں زیادہ
    ہے نور چوڈاں طبق تے ایندا بدن تے بشری تاں ہے لبادہ
    رسول اپنی حیات اندر لقب وی صادق ڈسا ٹرا ہے
    اول توں لا کے اخیر تونڑیں خلیفے بارہ بنا ٹرا ہے

    ایک مومن شاعر کی روایت رہی ہے کہ مدحت و فضائل کے بعد ذکر کربلا ضرور کرتا ہے ” ذکر کربلا ” در اصل ذکر اسلام ہے ۔ عاشور کے دن نے "سجدے” کی لاج رکھی ۔ ریت کے ٹیلوں کا مرکز کربلا ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے "کربلا معلیٰ” بن گیا ، مکہ و مدینہ و نجف کے بعد کربلا ہی تو ہے ۔ جس نے ان مراکز کی لاج رکھی ہے ۔

    عاشور دا ڈیہاڑا پیشیں نماز ویلا
    ساری خدائی اتے چھاون لگا ہے سجدہ

    اے ریت جنگل دی خلد بن گئی جو خون تیڈا آ وچ رلا ہے

    اے خاک افضل ہے سجدہ گاہ ہے او پاک صحرا سلام ڈیندائے

    درجہ حسین تیڈا کہیں کوں نصیب کوئی نئیں
    بخشی وڈی ہے عزت تیکوں خدا نے کربل

    مقبول ذکی مقبول کا نہ صرف اعتراف ہے کہ بلکہ حقیقت بیانی ہے کہ آدم سے آخری حجت تک ، سجدہ یعنی اطاعت رب کا مشترکہ پیغام یہ انبیاء علیہ السلام کرتے آئے ہیں مگر مولا حسین علیہ السلام کے "کربلائی سجدے” نے سب سجدوں کو عزت اور حفاظت بخشی ہے ۔

    ہادی منسی تیکوں عالم
    تیڈی ذات دا نعرہ لیسی

    اہل بیتؑ دے سارے ڈکھڑے
    بارہواں ہادی آن سنڑیسی

    جے تائیں بت اچ ساہ ہن مولا
    اے مقبول سلام بھجیسی

    اوکھا سجدہ کربل تیڈا سجداں دی او شان بنا گئے
    جگ دے سجدے بچ گئے باقی مولا پاک حسین ہیں توں

    کفر دا بہوں اندھارا ہا
    چا شمع حق دی بالی تئیں

    مقبول ذکی مقبول ایک ایسا ملنگ شاعر ہے جو سیرتِ سلیمان فارسی ( رض) پر چلتے ہوئے اہل بیت علیہ السّلام کی ثنا خوانی کر رہا ہے ۔ یہ ثنا خوانی یوم حشر ان کے کام آئےگی۔

    پڑھا رب دا ہے میں قرآں ثنا آل محمدؐ دی
    آکھے سورہ آل عمران ثنا آل محمدؐ دی

    گھرانہ ہے ایہو ذیشاں ثنا آل محمدؐ دی
    سمجھداں میں جند تے جاں ثنا آل محمدؐ دی

    اے واجب ہے مودت ہے صلہ ایند خدا ڈیسی
    جہاں دنیا دی کوئی شئے وی حشر کوں نہ وفا ڈیسی

    مقبول ذکی مقبول نے وقت کے ضیاع کے لئے اشعار نہیں لکھے بلکہ اپنی عقیدت کی روشنی سے قلم کو تر کرکے لکھے ہیں ۔ رات دن اسی ذکر میں مستغرق رہتا ہے ، سوچتا ہے ، سمجھتا ہے اور پھر مدحت اہل بیت علیہ السّلام میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ ان کی کتاب "سجدہ ” چاہت و مودت سے لکھی گئی ہے ، ان کا ایمان ہے کہ چودہ معصوم ہی حاکم کی طرف سے حکیم حاذق ہیں ۔ ان کا نسخہ شفا ہی شفا ہے ۔

    میڈی کتاب سجدہ ذکر حسینؑ مولا
    چاہت دے نال لکھیم بی بی کرو قبول

    میں تاں راتیں ڈیہناں کرداں تیڈی ثناء
    پڑھداں ہاں نت قرآں وچ ہے تیڈی ولا

    چوڈاں دا بس نپ گھن دامن
    توں مقبول جو تھی ونج حاذق

    علماء کہتے ہیں کہ ماضی میں لوگوں نے ” غدیر ” کو بھلایا ۔جس سے حقیقت کا سفر کچھ عرصہ کے لئے بھول بھلیوں میں گم ہو گیا "غدیر” کی تازگی کے لئے جنگ صفین اور جنگ کربلا لڑنا پڑیں ۔ قربانی دینا پڑی ۔ اگر غدیر کا پیغام آخر ، لوگ نہ بھلاتے تو قیامت تک ” شیطانیت” اوندھے منہ کراہتی رہتی ۔ لہٰذا دور حاضر میں”غدیر” کی بازیابی ضروری ہے لہٰذا علماء ذاکرین اور شعراء اس یوم کو نہ صرف خوشی کے طور پر لیتے ہیں بلکہ پیغام حق کا دن ہے ۔

    حق کوں تاں بس حق ڈتا رب سئیں غدیر تے
    جم گئی نظر فقط چہرہء امیر تے
    فلک سلام آ کیتا جناب دی توقیر تے
    جان وچ آجان گئی قرآن دی تفسیر تے
    راہبر تے رہنما جن و بشر جہان دا
    ڈکھا کے ہتھ علیؑ دا تے حکم ڈسا قرآن دا

    مقبول ذکی مقبول نے شاعری کے فن کی طرف بھی توجہ دی ہے ۔ ان کے سلام ، مسدس اور نظمیں اپنی اپنی جگہ پر اہم ہیں مگر ان حسینی بندوں پر پکڑ بڑی مضبوط اور مربوط ہے ۔ گو کہ انہوں نے بہت کم بند لکھے ہیں مگر جو بھی ہیں۔ وہ مجھے ان کے کلام کا حاصل کلام محسوس ہوتے ہیں ۔

    نماز عبادت فرض جو ہے شبیرؑ نہ فرض بھلایا
    جنک روک ڈتی وچ کربل دے جڈاں وقت نماز دا آیا
    نماز معراج ہے مومن دی تتی ریت کوں ڈیکھ ڈسایا
    مقبول نماز دے سجدے وچ سر پاک حسینؑ کٹایا

    سرائیکی بندوں یعنی ڈوہڑوں نے کربلائی پیغام کی تشہیر میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ پوری تاریخ حسنیت ان بندوں سے بھری پڑی ہے ۔ مومنوں کو چند بند سننے سے پورے سانحات یاد آجاتے ہیں ۔ وہ روتے ہیں ، پرسہ دیتے ہیں ، دشمنانِ آل محمّد پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول نے اس کتاب میں اپنے نوحے شامل نہیں کیئے ۔ زیادہ تر عقیدت و فضائل بیان کیئے ہیں مگر مصائب کے جو بند لکھے ہیں ۔ ان سے کوفہ و شام کے چوک اور بازار ہر زوار کے سامنے آجاتے ہیں ۔۔۔۔

    تطہیر دے پردہ دار آئے جڈاں شام بھرے بازار دے وچ
    کونین دی ملکہ سر ننگے ہر چوک دے وچ نروار دے وچ
    بیمار سجاد مہاری وی ہے درداں دی بھر مار دے وچ
    ہے پاک رسول دی آل ایہا تھی قیدی آئی دربار دے وچ

    سب ویر کوہا کے آگئی ہے کونین دی پاک شہزادی
    جتھ نس آونا اتھ آگئی ہے لاچاری عون دی ماء دی
    ہئی باجھ کفن دے دھوپ اتے پئی لاش حسین بھرا دی
    ہر موڑ اتے ہس فکر رہی بس اپنی پاک ردا دی

    منہ چم اصغرؑ دا شاہ آکھے منگ پانی پتر صغیر اے
    متاں مل پووی اج کربل وچ کر چا اے حجت اخیر اے
    لب کھل گئے سوہنے اصغر دے منگا پانی پتر شبیرؑ اے
    اے سن کے حرمل تیر مارا گیا گل اصغرؑ دا چیر اے

    مقبول ذکی مقبول کی یہ کتاب "سجدہ ” ہمیشہ ہمیشہ ان کی عقیدت و مودت کا حوالہ رہے گی ۔ وہ ظاہری ایک چھوٹا ملازم ہے۔ مگر ان کی شاعری دائمی شہرت ، عزت اور سدا بہار نیکی مانی جاتی رہے گی ۔ راقم ( دلبر حسین مولائی) اس کتاب کو پڑھ کر اس کے عقیدے کا گواہ ہے کہ ذکی توحید پرست ہے ۔ نبی آخر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ گو ہے اور مولا علی علیہ السلام کی ولادت پر ایمان رکھتا ہے ۔ چودہ معصوموں اور بارہ اماموں سے قلبی عقیدت ہے ۔ اے اللّٰہ میری دعا ہے کہ مقبول ذکی مقبول کی یہ کتاب اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور اسے دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتیں ، رحمتیں اور بخششِ عطا فرما ۔ آمین

    دلبر حسین مولائی
کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

     دلبر حسین مولائی

    ڈیرہ غازی خان