Tag: نعت

  • سید حبدار قائم اور صبحِ نعت

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت


    تحریر : نیاز خان اعوان

    سید حبدار قائم کا تعلق غریب وال پنڈی گھیب ضلع اٹک سے ہے ۔ اب تک ان کی تین نثری کتابیں نمازِ شب ، اکھیاں وچ زمانے ، چھانگلہ ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخآری سیرت و کردار اور دو عدد نعتیہ مجموعے مدحِ شاہ زمن اور صبح نعت شائع ہوکر عوام میں سندِ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ، اور ان کی پزیرائی ، مقبولیت اور شہرت کا باعث بنے ہیں ۔ ان کے پہلے شعری مجموعے مدحِ شاہ زمن پہ انھیں گولڈ میڈل ملا ، ان کا دوسرا نعتیہ مجموعہ 160 صفحات پہ مشتمل ہے ۔ اس نعتیہ مجموعے میں ان کے ایک مضمون اظہارِ خیال ، گہر رحمان گہر مردانوی کی تقریظ کے ساتھ ایک عدد حمدِ باری تعالٰی ، اڑسٹھ نعتیں اور چھ عدد سلام و مناقب شامل ہیں ۔ اسلوب کے لحاظ سے انھوں نے اپنی نعتوں کے اظہار کے لیے آسان اور عام فہم زبان کا انتخاب کیا ہے ، جو کہ ان کی شاعری کا خاص وصف ہے ۔

    سید حبدار قائم اور صبحِ نعت


    ہیئت کے لحاظ سے ان کی حمدِ باری تعالٰی ، تمام نعتیں اور سلام و مناقب غزل نما ہیں ۔ جس سے ان کی شاعری میں غنائیت پیدا ہوگئی ہے ۔ کوئی بھی نعت خوان ان کی نعتیں آسانی سے ترنم سے پڑھ سکتا ہے ۔انھوں نے اپنی نعتوں میں خوب صورت ردیف اور قافیے استعمال کیے ہیں ، جس سے ان کی نعتوں میں خوب صورتی اور حسن پیدا ہوگیا ہے ۔ انھوں نے اپنے کلام کے اظہار کے لیے سالم و مزاحف اور طویل و قلیل بحور سے زبردست استفادہ کیا ہے ۔ انھیں بحور پر مکمل عبور حاصل ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان کی کاوشیں اپنے در میں منظور و قبول فرمائے اور انھیں مزید ترقیاں نصیب فرمائے ۔
    ان کی نعتوں سے نعتیہ اشعار کے نمونے ملاحظہ فرمائیں :
    جب نام ان کا آئے تو صلِ علٰی کہو
    آئے گی پھر مٹھاس تمھاری زبان میں

    ناموسِ مصطفٰی کے لیے جان بھی فدا
    کچھ تیر پاس رکھتا ہوں اپنی کمان میں

    اشک سے تر ہوگیا دامن مرا
    جب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نام آئے نعت میں

    اشک لے کر مدینے جاؤں گا
    اپنے رخسار پر سمائے ہوے

    درودِ نبی سے منایا ہے رب کو
    مجھے زندگی میں یہ کام آگیا

    چلنا ہے گر حضور کی سیرت پہ مستقل
    حبدار نفس و قلب کو پہلے سدھار رکھ

    نبی پر جو قائم رقم کی ہے مدحت
    منور معنبر یہی شاعری ہے

    مسلماں نے چھوڑا جو طرزِ نبی کو
    تو دنیا میں درگت بنی ہے ہماری

  • تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا

    تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا

    تبصرہ :۔ وہ در ختمِ نبوت کا


    تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قائم

    قَالَ رَسُولَ اللہ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِین لَا نَبِیَّ بَعدی
    ( ترجمہ )
    رسول اللہ نے فرمایا
    میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم آخری نبی ہیں جن کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور قیامت تک آپ کی نبوت قائم رہے گی ہماری اذاں سے لے کر نماز تک میں اس بات کی شہادت ہے کہ آپ صلى الله عليه واله وسلم ہی آخری نبی ہیں ہم اذان میں جب حضور کی شہادت دیتے ہیں تو یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ


    میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم اللہ پاک کے رسول ہیں اگر بات یوں ہوتی کہ رسول تھے تو لوگ ہرزہ سرائی کرنے کی گنجائش نکال لیتے لیکن اس پر بھی قرآن اور حدیث نے مہر لگا دی ہے کیونکہ قرآن بھی آپ کو خاتم الانبیاء لکھتا ہے اور حدیث میں آپ خود فرماتے ہیں کہ
    میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
    جب بھی بات دفاعِ ختمِ نبوت کی کی جائے تو لوگ یوں محسوس کرتے ہیں کہ جیسے کوئی دہشت گرد تنظیم ہے جس کا مقصد جلاو گھیراو ہے اور حکومتی اداروں کو نقصان پہنچانا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں دفاعِ ختمِ نبوت ایک امن کا درست راستہ اور سچا عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان کاربند ہے مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر بزمِ کھٹڑ میں دفاع ختم نبوت پر ایک طرح مصرع
    ”مسلماں جس پہ حاضر ہے وہ در ختمِ نبوت کا“
    دیا گیا جس پر پاکستان کے ساتھ کشمیر اور انڈیا کے شعرا نے بھی ختمِ نبوت پر اشعار کہے کہیں کسی شعر میں یہ نہیں لگا کہ ہم کسی روڈ کو بند کروانے جا رہے ہیں یا آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں کیونکہ ہمارا کام تو سیرتِ رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم سے روشنی کشید کر کے محبتوں کو فروغ دینا ہے نہ کہ دہشت گردی اور حکومتی کاروائیوں میں دخل اندازی کرنا
    سوشل میڈیا کے اس مشاعرے میں مہمان کے طور پر سید صابر حسین شاہ بخاری شریک تھے جن کی ختمِ نبوت کے لیے گرانقدر خدمات ہیں
    قادیانی پوری دنیا میں اور خصوصاً ہمارے ملک میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کر رہے ہیں آنے والے وقت میں ان کی جڑیں مزید پھیل جائیں گی کیوں کہ یہود و نصارٰی ان کی بھرپور پشت پناہی کر رہے ہیں
    مسلمان ہوتے ہوئے ہمیں ختمِ نبوت کا دفاع کرنا چاہیے اور آنحضور صلى الله عليه واله وسلم کی کوئی شخص گستاخی کرے ہمیں برداشت نہیں کرنی چاہیے ہمیں اپنے بچوں کو ختمِ نبوت کے لیے ہر وقت تیار رکھنا چاہیے تا کہ وہ قادیانیوں کے پراپیگنڈے میں نہ آ جائیں کیوں کہ یہ ہمارے صبر کی آخری حد ہے سرکار کی عزت پر ہم ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہو جائیں تو بھی سرکار کی ختمِ نبوت کا حق ادا نہیں ہو سکتے

    بزم کھٹڑ کے اس طرحی مصرع مشاعرے کے اختتام پر شعرا کو برقی اسناد سے بھی نوازا گیا ان کے کلام تزئین کیے گئے اور ان کو برقی شیڈ بھی عطا کی گئی
    جن شعرا نے اس مشاعرے میں کلام لکھے ان میں سے ایک ایک شعر قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے:۔

    تُو جا دہلیز پر اُس کی ، کرے گا تُجھ کو
    پاکیزہ
    کہ خود طیب ہے طاہر ہے وہ در ختمِ نبوّت
    کا
    حافظ محمد عبدالجلیل جنڈ

    مجھے قرآن کی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے
    جہاں کوثر کا ساغر ہے وہ در ختمِ نبوت کا

    سید حبدار قاٸم آف غریب وال

    جہاں آ کر گداگر بھی بنے دنیا کے ہیں سلطاں
    زمانے بھر میں نادر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    انعام الحق معصوم صابری ملتان

    نہیں دنیا میں کوئی بھی جسے میں حال کہہ دیتا
    جو حاضر اور ناظر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    صدا کشمیری سرینگر انڈیا

    کبھی تو غور یہ کر لیں کبھی تو راز یہ جانیں
    یہ دنیا جس کی خاطر ہے وہ در ختم نبوت کا
    یاسمین کنول پسرور

    نہیں روئے زمیں پر در کوئی بھی ان کے در جیسا
    جو ظاہر ہے جو برتر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    الحاج نذیر شؔاکر

    ہویدہ ہے مدینے کی فضا خوشبو سے احمدٌ کی
    جہاں کوچہ بھی عاطر ، ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    ساحرہ نقوی

    جہاں بھر میں ضیاء پھیلی ہدایت کی اسی در سے
    کہ ہر شے میں جو ظاہر ہے وہ در ختم نبوت کا
    سید مختارگیلانی قادری
    ایراڑہ شریف، باغ آذاد کشمیر

    خدا نے سب خزانے بھی رکھے دہلیزِ آقا پر
    سخاوت پر جو قادر ہے وہ در ختم نبوت کا
    مظہر علی کھٹڑ مہورہ فتح جنگ

    بھلا کیا خوف ہو دل میں مصائب کے تلاطم کا
    مرا جب حامی ، ناصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا

    ممتاز قادری نانپوری (انڈیا)

    محمد ﷺکا پسینہ مشک و عنبر سے بھی ہے بڑھ کر
    تبھی در جس کا عاطر،ہے وہ در ختم نبوت کا
    آ نسہ مظہر ۔پنڈی گھیب

    کہاں ممکن ہے ان کی شان لفظوں میں بیاں کرنا
    قلم لکھنے سے قاصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    عباس انشال سرگودھا

    خدا جو حکم دیتا ہے ، ہمیں اس کی خبر ہی کیا ؟
    جہاں سے ہوتا صادر ہے ، وہ در ختمِ نبوت کا
    خورشید عالم خورشید

    ملے خیرات کلیوں کو، گلابوں اور پھولوں کو
    پسینہ جن کا عاطِر ہے، وہ در ختمِ نبوت کا ﷺ
    محمد شبیر شاؔہد مہروی رحمت آباد راجن پور پنجاب

    وہ طاہر ہے مطاہر ہے قراں میں بھی گواہی ہے
    زبانِ وصف قاصر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    حیدر عباس رضا سعودی عرب

    مری کیا بات ہے لوگو میں اک ادنی گدا ہوں بس
    جہاں جھکتا سکندر ہے وہ در ختمِِ نبوت کا
    منظور نونہ مئ کولگام کشمیر

    رکھے گا لاج وہ سب کی ، چلو سارے خطا کارو
    بھرم رکھنے کا ماہر ہے ، وہ در ختمِ نَبُوَّت کا
    علامہ اَلِماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    دیارِ شاہِ والا ﷺ کی حقیقت بس خدا جانے
    بتاؤں کیا میں آخر ہے وہ در ختمِ نبوت کا
    محمد حسان اعظمی
    شہر۔ اعظم گڑھ یو پی انڈیا عارضی رہائش ۔ لکھنؤ

    سوشل میڈیا پر منعقد ہونے والے اس مشاعرہ میں تمام شعرا کی محبتِ رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم دیدنی تھی کئی اشعار توارد کا شکار ہوئے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہر کسی نے اپنی سوچ فکر اور بلاغت نظری سے کام کر کے اللہ و رسول کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے الفاظ کو قبول فرمائے اور ہماری توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔آمین

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ :۔ میرے لفظ

    تبصرہ نگار:۔ نیاز خان اعوان


    کتابی سلسلہ (1)
    خصوصی اشاعت نعت نمبر
    فتح جنگ (اٹک)
    سید حبدار قائم صاحب کی وساطت سے ادبی مجلہ میرے لفظ ( جنوری تا جون 2024 ء ) دیکھنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
    نہایت ہی خوشی کی بات ہے ، کہ اٹک کے مختلف مقامات سے روز بروز شعری مجموعے ، ادبی مجلے اور دوسری تصنیفات منظرِ عام پر آرہی ہیں اور شعرا و ادبا اپنا ، اٹک اور اپنے وطن کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میرے لفظ کی پوری ٹیم بھی داد ، حوصلہ افزائی اور مبارک باد کی مستحق ہے ۔
    ادبی مجلے میں ارشاد علی ، داؤد تابش ، پروفیسر ریاض احمد قادری ، سید حبدار قائم ، نسیم سحر ، پروفیسر عاصم بخآری ، شمائلہ منیب شمائل ، آنسہ مظہر ، ریاض احمد قادری ، ڈاکٹر خاور چودھری ، سمیعہ ناز ، مقصود علی شاہ اور ڈاکٹر سید عطاءالمصظفٰٰی کے مضامین پڑھے ، جن سے کافی معلومات حاصل ہوئیں ۔ میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان کے مضامین میں مزید نکھار لائے ، تاکہ قارئین کے علم میں اضافے کا باعث بنے اور ان سب لکھاریوں کو دنیاوی اور اخروی کامرانیاں نصیب فرمائے ۔
    نعتیہ مشاعروں اور نعتیہ مجموعوں سے شعرا کو نعت کہنے کی تحریک ملتی ہے اور نعت گوئی کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔

    تبصرہ :۔ میرے لفظ


    مضامین کے علاؤہ چھیالیس نعت گو شعرا کی نعتیں پڑھنے کا موقع ملا ، جن سے ان نعت گوؤں کی رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت ، عقیدت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔
    اللّٰہ تعالٰی ان نعت گو شعرا کی کاوشوں اور رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کو منظور و قبول فرمائے اور انھیں جزائے خیر دے ۔
    ان نعت گو شعرا کی نعتوں میں سے نعتیہ اشعار کے نمونے ملاحظہ فرمائیں :
    ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد
    تیری توصیف رہے میرے لبوں پر ضّو ریز
    اک اجالا سا مرے شام و سحر میں آجاتے
    اکرم کنجاہی
    ایسا کرم ہوا ہے یہ مجھ پر تمام رات
    لب پر رہی ہے نعتِ پیمبر تمام رات
    داؤد تابش
    حشر میں پھر تیرے عصیاں کا ازالہ ہوگا
    آج نسبت جو اگر ذاتِ پیمبر سے ہوئی
    شمشیر حیدر
    وہ جن کے نام پہ مرنے کے دعوٰی دار ہیں ہم
    جب ان کی مرضی کا جینا نہیں تو کچھ بھی نہیں
    جنید نسیم سیٹھی
    تیری امت پہ عجب وقت ہے اے میرِ امم !
    بےحسی فکر سے کردار تک آپہنچی ہے
    نصرت یاب
    ہے اعلٰی وارفع معظم تصور
    حبیبِ خدا کا مکرم تصور
    یاسر رشید یاسر
    آپ کی نعت ہوئی جب سے لبوں کی زینت
    ہوگیا میں بھی ہم آوازِ وجودِ ہستی
    صدام فدا
    گلاب عشقِ نبی کا کھلا ہے جو دل میں
    فدا اسی سے تو مہکا ہے عطر دانِ حیات
    محمد آصف قادری
    وجہِ وجودِ شمس و قمر آپ ص ہی تو ہیں
    حسنِ جہانِ باغ و ثمر آپ ص ہی تو ہیں
    غلام صمدانی عافی قادری
    ہمیں تو پیارے ہیں فضل خدا سے یہ دونوں
    اے منکروں جہاں مکہ ہے یا مدینہ ہے
    حافظ عبد الغفار واجد
    معافی دس گناہوں کی فقط اک بار پڑھنے سے
    ملیں پھر نیکیاں بھی دس درود ان پر سلام ان پر
    رفیق لودھی
    مری زبان نہیں تیرے ذکر کے قابل
    کہاں حضور کی باتیں کہاں ہے میرا شمار
    سید عطاءالمصظفٰٰی
    بجز نعت کیسے میں سب کو عطا
    سناتا دکھاتا کلیجے کی ٹھنڈ
    عرش ہاشمی
    مدحت حضورص آپ کی لب کھولیں تو کیسے
    کیا اپنا تخیل ہےتو کیا اپنے تصور
    سید تنویر احمد شاہ
    مجھ سے عاصی کے لیے یہ عزت و اعزاز ہے
    جب دعاؤں کی مدینے میں پزیرائی ہوئی
    ڈاکٹر نزرِِ عابد
    صحابہ رض نے تری تعلیم اور حسنِ عمل سے
    بہ ہر صورت سجائے ہیں ترے محراب و منبر
    ڈاکٹر جمیل حیات
    جس طرف جائیے جہاں جائے پزیرائی ہو
    جس کی احمد کے گھرانے سے شناسائی ہو
    سمیعہ ناز
    ان کے پیکر کی جو توصیف بیاں کی میں نے
    ہر کسی کو مرے افکار سے خوشبو آئی
    گوہر رحمٰن گہر مردانوی
    تعریفِ مصطفٰی میں بھی الفاظ کم پڑیں
    اس کم سخن کو کلمہء مہمل پہ دسترس
    عابد علی عابد
    خیال یہ بھی نہ آیا یزیدی لشکر کو
    کہ کاروان میں ننھی سکینہ ع شامل ہے
    عنایت علی عنایت
    جس نے سمجھا طریقِ احمد کو
    پاگیا زندگی کے مقصد کو
    سعادت حسن آس
    مانتے ہیں آپ سا آیا نہ آئے گا نبی
    برملا مہرِ نبوت ہے نشانی آپ کی
    انعام الحق معصوم صابری
    جس کی سنت کی آگہی ہوگی
    اس کی روشن یہ زندگی ہوگی
    الحاج منیر احمد
    نبی سے ملنا اگر ہوگا تم کو کوثر ہے
    خدا سے وعدوں کی بس پیروی ضروری ہے
    سید خورشید نواز لائق بخآری
    جو ضامن ہیں ہماری بخشش و رشد و ہدایت کے
    ہم ان کی پاک سیرت پر درودِ پاک پڑھتے ہیں
    علامہ الماس عباسی
    ہو غیر یا عزیز کرو بات تم لزیز
    ایسے تھے پارسا ص کے خیالات بے مثال
    لیاقت بھٹہ جتوئی
    زمانے بھر کا وہ محور مدینہ یاد آتا ہے
    نہیں جس کا کوئی ہمسر مدینہ یاد آتا ہے
    حافظ محبوب احمد


    محشر کی بھی گرمی مجھے جھلسا نہ سکے گی
    گر رحمتِ سرکار کا سایہ ہو میسر
    شبیر حسین شبیر
    بات سج آج بھی جن کی دیکھی گئی
    ایسا ہے وہ مدبر ہمارا نبی
    زاہد حسین
    نعتِ۔ رسولِ پاک ہے تسکینِ قلب و جاں
    لطف و سرور خاص اسی شاعری میں ہے
    سید مختار گیلانی قادری
    مدینے میں جاکر میں مر جاؤں واللہ
    میں واپس نہ آؤں یہ دل کہہ رہا ہے
    امجد حمید محسن
    لب پہ ہو ان کی نعت اے محسن
    اور برسائیں پھر گہر آنکھیں
    پروفیسر سید رضا گیلانی
    معراج کا تو واقعہ سب جانتے ہی ہیں ٹ
    جنت کی سیر رب نے کرائی ہے کس طرح
    ذوالفقار ہمدم اعوان
    بلایا ہے معراج پر دیکھنے کو
    خدا کے ہیں پیارے صنم کملی والے ص
    پروفیسر عاصم بخآری میانوالی
    سولی پہ چڑھنا پڑتا ہے ہر لمحہ دم بہ دم
    مرنے کے مرحلے سے بھی دشوار نعت ہے
    عبد الغنی مبارکپوری
    فرمانِ مصطفٰی کا جو منکر ہے دھر میں
    وہ ہی یہاں بھی خار وہاں بھی ذلیل ہے
    شفیق رائے پوری انڈیا
    لکھ رہا ہے اور لکھتا ہی رہے گا عمر بھر
    آپ کی تعریف میں خامہ امام الانبیاء
    حمزہ ارشد
    التجا ہے کہ محشر کے دن ساتھ ہوں
    جن کے صدقے یہ ارض و سما نور ہے
    استاد انور بھٹی
    نبی کا ذکر ہی بعد از خدا ہر دم کریں تازہ
    دعا ہے کہ کرے اللّٰہ پھر ایسی زباں پیدا
    محمد احمد زاہد
    جس گھڑی ذکر کرلیا ان کا
    ختم سب اضطراب دیکھا ہے
    حافظ محمد سعادت علی سعادت قادری
    ہو جاتی ہے ناموس ِ رسالت پہ جو قرباں
    ممکن ہی نہیں جان وہ آزار میں آوے
    مظہر علی کھثٹڑ مہورہ
    رحمت ہے برستی جو دن رات مدینے میں
    دیکھی ہے وہ خوشبو کی برسات مدینے میں
    جنید آصف


    ہر لمحہ بسا رکھتا ہوں میں قلب و نظر میں
    ہر کیف ترے در کی فضا شاہِ مدینہ ص
    عزیر حاشر
    شکر صد شکر مجھے نعت عطا ہوتی ہے
    عشقِ احمد میں ہنر اور نکھر جاتا ہے

  • تبصرہ : ثناۓ محمد

    تبصرہ : ثناۓ محمد

    تبصرہ : ثناۓ محمد


    تبصرہ نگار: راویء کربلا ارشاد ڈیروی ڈیرہ غازی خان


    اردو ادب دیں صِنفیںں وچوں حمد ہک اِینجھی صنف ھے جئیندے وچ صرف اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی تعریف و توصیف بیان کیتی ویندی ھے اے ہک مکمل کامل موضوعاتی صنفِ سُخن ھے ،
    اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی تعریف دے علاوہ بیا کہیں موضوع دی ایندے وچ گنجائش کائنی ، ایں نازک تے ملوک صنف وچ
    تعریف دا تعلق خالص خالقِ کائنات دی ذات پاک نال ھے،
    حمد لِکھنڑ کیتے شاعر دے قلم تے ہیئت دی کوئی قید کائنی ہوندی حمد کہیں وی ہیئت وچ لکھی ونج سگدی ھے اِیں مقدس صنف کوں اکثر شعراء کرام تمہیدی طور تے استمعال کریندے آئین ، اِیں قدیم روایت کوں قائم رکھیندیں ہُوئیں
    جناب عزتِ مآب سئیں مظہر علی کھٹڑمہورہ صاحب نے
    اینٹی تخلیق کردہ کتاب ،، ثنائے محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلِہ وسلم ،، دی ابتدا اِیں حمدِ باری تعالٰی دے نال فرمائی ھے

    تبصرہ : ثناۓ محمد

    خدا نے بنائے جہاں ہیں یہ سارے
    اسی کی ہیں قدرت کے سارے نظارے

    زمیں آسماں بھی اسی نے بنائے
    اسی نے بنائے ہیں یہ چاند تارے

    شجر بھی حجر بھی بنائے خدا نے
    اسی نے یہ سارے چمن بھی نکھارے

    خدا کی ہے تخلیق حوا و آدم
    زمیں پر اسی نے یہ دونوں اتارے

    اسی کا ہے دانہ اسی کا ہے پانی
    خدا کے دیے پر ہیں سب کے گزارے

    دعا ہے کہ مظہّر یہ کل زندگانی
    خدایا تری بندگی میں گزارے

    انسانیت دی تاریخ گواہ ھےکہ اے دعائیں دا رشتہ جناب آدم علیہ السلام تے اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دے درمیان سب توں پہلے قائم تھئے تے اِیں دھرتی دے آخری انسان تئیں راہسی ، جیڑھے انسان دے اندر تھوڑی جھئیں وی حیا دی رمق باقی ھے تاں او اپنڑیں خدا دے حضور سجدہ ریز تھی کے اپنڑیے غلطیوں دی معافی منگدیں ہُوئیں آہدے ،

    نگاہِ کرم سے سبب تو بنا دے
    خدایا مُحّمّد، ص ، کی بستی دِکھا دے

    بڑھی تشنگی ہے کہ دیکھوں مدینہ
    بُلا کر مری تشنگی یہ مٹا دے

    جودل پرپڑے ہیں یہ غفلت کے پر دے
    نبی ،ص، کے وسیلے سے ان کو ہٹا دے

    گناہوں سے لِتھڑا ہوا میرا تن ہے
    کرم سے تو اس کی سیاہی مٹا دے

    برائی سے قسمت بگڑ جو گئی ہے
    محمد ،ص، کے صدقے تو بگڑی بنا دے

    جو سوئی ہےمظہر کی قسمت یہ مولا
    کرم سے تو اپنے اسے بھی جگا دے

    اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دی اِیں بنڑی ہوئی کائنات وچ بلکہ تمام عالمین وچ خدائے لم یزل دے بعد اگر کّئی تعریف دے لائیق ھے تاں او صرف اور صرف سردارِ انبیاء حضرت مُحمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلِ وسلم دی ذات مبارک ھے کیونکہ آپ دے

    اسم مبارک دا معنیٰ ہی تعریف کیتا گیا بنڑدے،
    ،ع،
    مدینے میں اگر میرا بھی گھر ہوتا تو کیا ہوتا
    الگ ہی زندگی ہوتی الگ ہی پھر مزا ہوتا

    رہائش بھی ملی ہوتی مجھے شہرِ مدینہ میں
    مرے مولا اگر میں بھی وہاں پیدا ہوا ہوتا

    نبی،ص، کے جانثاروں میں مرابھی نام آجاتا
    رسالت کی میں حرمت پر ہوا کب کا فدا ہوتا

    اگر غارِ حرا کے پاس مرا ایک گھر ہوتا
    تو پھر دیدارحاصل روز وشب مجھ کو ہوا ہوتا

    عجب ہی پھر مزا آتا مجھے آقا کی محفل میں
    پیالہ دُودھ کا ان کے جو ہاتھوں سے پیا ہوتا

    اجل آتی وہاں سرکارکےقدموں میں قسمت سے
    یہ مظہر بھی مدینہ دفن ایسے ہو گیا ہوتا
    ،ع،
    دلوں کو مدینہ بنا کر تو دیکھو
    محمد،ص، سےدل تم لگاکر تو دیکھو

    دلوں کی صفائی بھی ہوتی وہاں ہے
    محمد،ص،کےروضےپہ جاکرتودیکھو

    خدا بھی نہ رد پھر دعائیں کرے گا
    وسیلہ اِنہیں تم بنا کر تو دیکھو

    کمی پھرنہ کوئی رہے گی اے مظہر
    مدینے میں دامن پھیلا کرتو دیکھو

    دنیادا کوئی وی فقیر اُوتئیں غوث ، قطب ، ابدال ،قلندر نئی بنڑ سگدا جے تئیں او وِلایتِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام دی خوشبو نال اپنڑیں روح کوں معطر نہ کر گِھنے جیڑھے شاعر اپنڑی عقیدت دے قلم کوں مودتِ علی دے سانچےوچ ڈھالیا ہُویا ہو وے اُوندے قلم دی نوک توں اِینجھے قصیدے کیوں نہ لّہِین ،

    ہمارا سہارا علی ہے علی ہے
    زباں پر یہ نعرہ علی ہے علی ہے

    عبادت جسے دیکھنے سے ہوجائے
    وہ ایسا ستارا علی ہے علی ہے

    گھرانہ نبی،ص، کا ملا ہےعلی کو
    نبی ،ص، کا دلارا علی ہے علی ہے

    ہر اک معر کے میں ملی کامیابی
    کہیں جو نہ ہارا علی ہے علی ہے

    گرایا تجھے کس نے اے خیبر بتا دے
    تو خیبر پکارا علی ہے علی ہے

    مری کشتی مظہر نہیں ڈوبنے کو
    کہ اس کا کنارا علی ہے علی ہے

    سئیں مظہر علی صاحب نے جِتھاں حمد، مناجات ، نعت ، منقبت ، جّھئیں صنفیں کوں نویِں روحانیت عطا فرمائی ھے اُتھاں اُنھیں اسلامِ امامِ عالی مقام دے بغیر اپنڑی کتاب کوں ادھورا سمجھندیں ہوئیں سلامِ عقیدت دا نذرانہ وی پیش کیتے،
    ،ع،
    حُسین ابن حیدر نے باطل سے لڑ کے
    سکھایا نہ رہنا زمانے سے ڈر کے

    کبھی نہ باطل کا تم ساتھ دینا
    بتایا زمانے کو بیعت نہ کر کے

    کتابِ خدا کی تلاوت کا رتبہ
    بتایا اُنھوں نے ہے نیزے پہ چڑھ کے

    جہنم خریدی سپاہِ عدو نے
    جو منکر تھے زہرا کے لختِ جگر کے

    قدم ان کے چومےگی جنت یہ سن لو
    جوساتھی بنےہیں نبی،ص، کےپسرکے

    انھیں تو خدا بھی محبت سےدیکھے
    گداگر ہیں مظہر جو مولا کے در کے

    اساں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ دا لکھ شُکر ادا کریندے ہئیں جو اساڈے ملک پاکستان کوں خالقِ کائنات نے اِینجھے عظیم شاعر عطافر مائین زندگی رہی تاں وت کہیں کتاب وچ مِلسُوں ، والسلام

     ارشاد ڈیروی

     ڈیرہ غازی خان

  • حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم

    حکیم ناز جلالوی ایک ممتاز صوفی شاعر ہیں جو اپنی پنجابی زبان میں "کافیوں” کے لیے مشہور ہیں آپ نے پنجابی حمد، نعت، نظم، غزل اور کافی شاعری کی شہرت حاصل کی ہے، انہوں نے پنجابی کافی شاعری میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ "کافی” پنجابی زبان میں عقیدتی شاعری کی ایک شکل ہے جو روحانی اور صوفیانہ عناصر سے مالا مال ہے۔ گہری فلسفیانہ موسیقی اور شدید جذباتی گہرائی سے نشان زد حکیم ناز جلالوی کی کافی شاعری، صوفیانہ افکار و خیالات پر مبنی بہترین شاعری ہے، آپ اپنی کافی شاعری کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ یہ کافیاں قاری کے دل کی گہرائیوں میں نقش ہوجاتی ہیں۔ آج کے اس کالم کا مقصد حکیم ناز جلالوی کی معروف پنجابی کافیوں میں سے ایک کافی کا تنقیدی تجزیہ پیش کرنا ہے اور ان کی پنجابی کافیوں کی موضوعاتی گہرائی، اسلوبیاتی عناصر اور فکری بنیادوں کا جائزہ لینا ہے، ساتھ ہی اس "،کافی” کے پنجابی زبان سے کھوار زبان میں کیے گئے تراجم کا بھی فنی و فکری جائزہ لینا ہے۔

    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے کھوار تراجم
    حکیم ناز جلالوی


    سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب اور دانشور ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم رقمطراز ہیں کہ "حکیم ناز جلالوی دورِحاضر کے ایک معروف صوفی شاعر ہیں انہیں کافیوں کے میدان میں خوب شہرت حاصل ہے، ان کی ایک کافی پیش نظر ہے جس میں انہوں نے اپنے فن کاخوب جلوہ دکھایا ہے، پنجابی زبان میں لکھی گئی یہ کافی اپنے آنگن میں فکری حوالے سے بے پناہ وسعت رکھتی ہے”۔
    جہاں حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں میں موضوعاتی گہرائی ہے وہاں فنی و فکری دونوں لحاظ سے یہ کافیاں بہترین صوفیانہ شاعری کی اعلیٰ مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہیں۔
    حکیم ناز جلالوی کی کافی کا مرکزی موضوع الله تعالیٰ کی قادر مطلقیت اور ہمہ گیریت کے گرد گھومتا ہے، جو خالق کے ساتھ ملاپ کے لیے انسانی روح کی آرزو کو واضح کرتا ہے۔ اس آرزو کا اظہار واضح تصویری اور استعاراتی زبان کے ذریعے ہوتا ہے جو صوفی فلسفے کے دل سے بات کرتی ہے۔
    جلالوی تخلیق اور تباہ کرنے کی الٰہی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے "کافی” کہنا شروع کرتا ہے اور خدا کی مرضی کے سامنے انسانی حیثیت کی بے کاری پر زور دیتا ہے:
    "سبھ کُجھ توڑن پھوڑن والا جوڑن والا توں ایں.
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئی وی سائیاں چوں ایں”
    یہاں شاعر کائنات پر خالق کائنات کے مکمل اختیار کی بات کرتا ہے، جو صوفی ادب میں ایک بار بار چلنے والا موضوع ہے جو خدائی اجازت کے بغیر انسانی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    شاعر نے انسانی کمزوری اور الٰہی کی بے پایاں رحمت کا بڑے پُرجوش انداز میں اظہار کیا ہے:
    "اپنی مرضی والیا سائیاں جو چاہیں توں کردائیں۔
    جس دی چاہویں نال خوشی دے اُس دی جھولی بھردائیں”
    یہ اشعار تسلیم کرنے کے جوہر کو سمیٹتے ہیں، جو کہ تصوف کا ایک کلیدی اصول ہے، جہاں عقیدت مند اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تمام خوشی اور غم خدا کی مرضی سے پیدا ہوتے ہیں۔
    شدید تڑپ اور روحانی نشہ کے موضوع کو مہارت سے پیش کیا گیا ہے:
    "مینوں تیرے ملن دا چڑھیا عشق نشے دا جنوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئی وی سائیاں چوں ایں”
    جلالوی نشہ کے استعارے کا استعمال کرتے ہوئے روح کی الٰہی ملاپ کے لیے پرجوش خواہش کو بیان کرتے ہیں، یہ حالت اکثر صوفی شاعری میں پائی جاتی ہے۔
    شاعر خدائی فضل سے محروم لوگوں کی حالت زار بیان کرتا ہے:
    "ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں”
    یہ الٰہی احسان پر انسانی وجود کے انحصار کو نمایاں کرتا ہے، مزید عاجزی اور عقیدت کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کے اسلوبی عناصر کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کافیاں پنجابی زبان کی بہترین اور مقبول کافیوں میں سے ایک ہیں
    آپ کی کافی میں پرہیز بھی نظر آرہا ہے مثلاً "تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں” الہٰی بالادستی کے غالب موضوع کی ایک طاقتور یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے، اس پیغام کو اس کی تکراری ساخت کے ذریعے تقویت دیتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کا بہترین تصوّر اور استعارہ کا استعمال، جیسے کہ الہٰی طاقت کا اس طاقت سے موازنہ کرنا جو پتھروں کو پنکھوں کی طرح اڑانے کی صلاحیت رکھتا ہے، کافی کے جذباتی اور روحانی معیار کو بڑھاتا ہے مثلاً:
    "ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں
    جے چاہویں تے پتھر اُڈاویں وا وچ وانگوں روں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں”
    شاعر کی مقدس ہستیوں کی دعوت اور خدائی فضل کی التجا پنجابی کافی کو ذاتی اور فلسفیانہ لہجے سے متاثر کرتی ہے، جو قاری کو شاعر کے روحانی سفر کی طرف کھینچتی ہے:
    "صدقہ پنج تن پاک دا سائیاں بخشیں آپ حضوری
    صدقہ کربل منگیاۓ سائیاں آپ کریں نہ دوری”
    آپ کی پنجابی کافیاں محض ایک عقیدت کا ٹکڑا ہی نہیں ہیں بلکہ یہ انسان اور الٰہی رشتے کی ایک فکری کھوج پر مبنی بہترین صوفیانہ شاعری بھی ہیں۔ آپ کی شاعری قارئین کو ان کی اپنی روحانی حالت اور دنیاوی زندگی کی عارضی نوعیت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ الہٰی مرضی، انسانی کمزوری، اور الہٰی محبت کی جستجو جیسے موضوعات کا شاعر کا فصاحت و بلاغت کا اظہار صوفی فلسفہ کے فکری اور جذباتی مرکز کی ترجمانی کرتا ہے۔
    حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں کا کھوار ترجمہ لسانی اور ثقافتی تقسیم کو ختم کرنے میں مدد گار ہوگا۔
    راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا جلالوی کی کافی کا کھوار میں ترجمہ اس گہری روحانی شاعری کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے کی پہلی کوشش ہے۔ میں نے اصل پنجابی کافیوں کی جذباتی شدت اور موضوعاتی گہرائی کو کھوار زبان کی باریکیوں کے مطابق ڈھالنے کی پہلی بار کوشش کی ہے امید ہے کہ یہ پنجابی اور کھوار دونوں زبانوں کے قارئین کو پسند آئیں گے۔ پنجابی زبان سے کھوار کا یہ ترجمہ ادبی اور ثقافتی تحفظ دونوں کے لیے ایک اہم شراکت ہے، میں نے تراجم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافیوں میں شامل روحانی ورثہ متنوع لسانی برادریوں تک پہنچے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ حکیم ناز جلالوی کی پنجابی کافی صوفی شاعری کا ایک شاہکار ہے، جو موضوعاتی گہرائی، اسلوبی خوبصورتی اور فکری سختی سے مالا مال ہے۔ اپنی پُر اثر اشعار کے ذریعے جلالوی قارئین کو روحانی سفر کی دعوت دیتے ہیں، اور ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ خدا کی قادر مطلقیت اور عاجزی اور عقیدت کی اہمیت کو پہچانیں۔ راقم الحروف کا کھوار میں ترجمہ مزید اس روحانی پیغام کی رسائی کو زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی اور ثقافتی تقسیم کو بھی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جلالوی کا کام صوفی فکر کی لازوال طاقت اور اس کی حدود کو عبور کرنے اور انسانی روح کو چھونے کی صلاحیت کا لازوال ثبوت ہے۔ میں حکیم نازؔ جلالوی کو ان کی شاندار پنجابی کافیوں کی تخلیق پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے حکیم نازؔ جلالوی کی پنجابی کافی اور کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔


    *
    تصوف رنگ (کافی)
    *
    سبھ کُجھ توڑن پھوڑن والا جوڑن والا توں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    اپنی مرضی والیا سائیاں جو چاہویں توں کردائیں
    جس دی چاہویں نال خوشی دے اُس دی جھولی بھردائیں
    مینوں تیرے ملن دا چڑھیا عشق نشے دا جنوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    ککھ پلّے نہیں راہندا اُس دے جِس نوں توں پھڑکاویں
    در در بھیک منگاویں اُس توں گلیاں وچ رُلاویں
    جے چاہویں تے پتھر اُڈاویں وا وچ وانگوں روں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    باہجھ تیرے نہیں طاقت کوئ نہ کوئ ہور بیگاناں
    میں کہڑے ہاں باغ دی مولی تئیں نوں ہے خسماناں
    وچ ساہواں دی گڈّی بہہ کے کر کر چلدائیں گھوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں

    صدقہ پنج تن پاک دا سائیاں بخشیں آپ حضوری
    صدقہ کربل منگیاۓ سائیاں آپ کریں نہ دوری
    عشق عطا کر وانگ اویسؒ اہہ نازؔ کرے لوں لوں ایں
    تیرے اگّے کر نہیں سکدی کوئ وی سائیاں چوں ایں۔
    *
    کھوار تراجم
    *
    اے مه خالق اوچے مالک خدائے کیہ قسمہ کی ہیہ دنیا ہر اشناریو چھینکو اوچے ساوزئیکو طھاقت تتے حاصل شینی ہش تانچقہ ہر اشناریو امچھئیکو قوات دی تتے تان حاصل شیر۔ وا ته قندرتو پروشٹہ کوس میجیل نیکی کی کا سانس گانیکو بوئے۔

    تو تان مرضیو مالک اسوس، تو کیاغکہ کوم ریتاو کوریکو بوس ہیہ تہ شان شیر کہ تو کوس سورا کی مہربان ہوؤ ہتو اوانو تان لطف اوچے کھرمار ٹیپیئسان۔
    اے مہ شیرین ژانو مالک مہ ہردیا تہ سوم ملاقاتو عشق انتہائی عروجہ شیر۔ ہیہ ای نشہ شیر کی ہیارا جنونو غون کیفیت پیدا بیتی شیر وا ہیہ لو دی متے معلوم شیر کی ته دربارا چوں و چراں کوریکو پھوک دی گنجائش نیکی۔

    اے مہ مالک تو کوسار کی ناراض بوسان ہتو اوان ته رحمتاری خالی بویان وا ہسے ای تھیش مشکاکو غون در پھدار بیتی راہ راہی کاسیران۔ وا ہتوتے سکون نصیب نو بویان۔
    اگر تو کی کوم ریتاؤ تھے بوھرتان دی پورمان غون ہوا اڑاؤ کوریکو بوس۔ تو سف طھاقتان مالک اسوس۔ تہ پروشٹہ لو دیکو کا دی جرات کوریکو نو بوئے۔
    اے مہ مالک تہ سار غیر کوستے دی کیہ طھاقت حاصل نیکی ہر ژاغا تہ نام چلوران۔
    اوا کیہ باغو مولیئی اسوم ته قندرتان سورا باث (بحث) کوروم
    اوا تان سانسان موٹیرا نیشی ته قندرتان نظارہ کوراؤ گومان۔
    متے پتہ شیر کی ته پروشٹہ روپھیکو کوس موژا ہمت نیکی کی ہسے ته پروشٹہ لو دیکو بوئے۔
    تتے پنجتن پاکو واسطہ سوال کومان کہ ہتے پاک نفسان صدقا متے تان دروازا حاضیری دیکو سعادتو نصیب کورے۔
    ہروش تانچقہ تتے کھربلو شہیدانن واسطہ کہ ہے پاک نفسان صدقا متے تان عظیم دروازاری کیاوت دی دودیری مو کورے۔


    مہ آرمان شیر کی مہ غون ناچاروتے حضرت اویس قرنیو قسمہ عشقو دولتاری مالا مال کورے۔ تو مہ درخواسو قبول کورے۔ اوا تہ بندہ اسوم متے معلوم شیر کہ تہ دربارا شونان کیژیبئیکوتے کوستے دی طھاقت حاصل نیکی۔

  • وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر

    وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر

    وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر

    وحید منظر اردو زبان کے شاعر، ادیب اور صحافی ہیں، روزنامہ قومی حمایت کراچی کے مدیر ہیں، آپ کی نعتیہ شاعری اسلامی روحانیت کے پس منظر میں ایمان، عقیدت اور انسانی حالت کی گہرائی سے تحقیق پر مبنی شاعری ہے۔ آپ کی نعت میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت و محبت کا جا بجا اظہار ملتا ہے۔ اور جب آپ حمد شریف لکھتے ہیں تو آپ کی حمدیہ شاعری الٰہی مداخلت اور رہنمائی کی لازوال خواہش کو ظاہر کرتی ہے، آپ کی شاعری میں ایسے موضوعات بار بار آتے ہیں جو مسلم دنیا کے ثقافتی اور مذہبی تانے بانے میں گہرائی سے پسند کیے جاتے ہیں۔ آج کا یہ کالم وحید منظر کی نعتیہ شاعری کی میں شامل دعائیہ اسلوب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی موضوعاتی گہرائی، لسانی فنکاری اور روحانی جوش کے تجزیے پر مبنی ہے۔

    وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر
    وحید منظر


    آپ کی نعتیہ شاعری میں موضوعاتی گہرائی کے ساتھ ساتھ چھٹکارے کی درخواست اور دعائیہ عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ وحید منظر کی نعتیہ شاعری نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت کے حصول کے بنیادی موضوع کے گرد گھومتی ہے۔ اس تھیم کو واضح طور پر ان اشعار میں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے جیسے:
    غلامی سے مسلمان کو چھڑادو یا رسول الله
    جہان کفر کے ٹکڑے کرادو یا رسول اللہ
    یہاں وحید منظر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے مسلمانوں کو غلامی کے طوق سے آزاد کرنے اور کفر کے تسلط کو ختم کرنے کی التجا کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کی یہ التجا محض جسمانی آزادی کے لیے نہیں ہے بلکہ روحانی بیداری اور اخلاقی قوت کے لیے بھی ہے۔ شاعر کا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نجات دہندہ کے طور پر پکارنا ایمان کی تبدیلی کی طاقت میں گہرے یقین کی عکاسی کرتا ہے۔
    وحید منظر کا زبان کا استعمال فکر انگیز، دعائیہ اور التجائیہ ہے، شاعر کا یہ منفرد اسلوب اردو نعت کو ایک دعائیہ لہجے کے ساتھ ملاتا ہے جو براہ راست قاری کی روح میں اتر کر اس سے باتیں کرتا ہے۔ پوری نعت شریف میں دعائیہ اسلوب "یا رسول الله” کی تکرار شاعر کی مایوسی اور اٹل ایمان پر زور دیتے ہوئے ایک نئے اسلوب کو سامنے لاتا ہے۔ مثال کے طور پر:
    مجھے دنیا کے صدموں سے چھڑادو یا رسول الله
    مری بگڑی ہوئی قسمت بنا دو یا رسول الله
    نعت رسول مقبول ﷺ میں شاعر کا یہ تکرار نہ صرف شاعر کی پر خلوص التجا کو تقویت دیتی ہے بلکہ ایک خوبصورت تال میل بھی پیدا کرتی ہے جو دعا میں دل کی تیز دھڑکن کی عکاسی کرتی ہے۔ وحید منظر کے الفاظ کا انتخاب، جیسے کہ "صدموں” (دکھ) اور "بگڑی ہوئی قسمت” (تباہ شدہ قسمت)، ہنگاموں میں گھری روح کی ایک واضح تصویر کشی پیش کرتی ہے، جو سکون اور نجات کی تلاش میں ہے۔
    آپ کی شاعری میں روحانی جوش کے ساتھ ساتھ الٰہی رحمت کی تلاش کا زکر بھی جابجا ملتا ہے۔ وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں رحمت الٰہی اور رہنمائی کی ایک نہ ختم ہونے والی جستجو بھی ہے۔ یہ روحانی جوش ان اشعار میں واضح ہے جیسے:
    چلادو نیک رستے پر مجھے اے محسن عالم
    گناہوں سے میرا پیچھا چھڑوادو یا رسول الله
    یہاں شاعر نے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے صراط مستقیم پر چلنے کے لیے اس کی راہنمائی کرنے اور اس کے گناہوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ استدعا شاعر کی اپنی کمزوری کی پہچان اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت پر انحصار کو اجاگر کرتی ہے۔ وحید منظر کا اپنے گناہوں کا اعتراف اور نجات کے لیے ان کی مودبانہ درخواست، خدا اور انسانیت کے درمیان ثالث کے طور پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کردار میں اسلامی عقیدے کی نشاندہی کرتی ہے۔
    وحید منظر کی نعتیہ شاعری مسلم کمیونٹی کے ثقافتی اور مذہبی ماحول میں گہرائی سے پیوست ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر مسلمانوں کو درپیش آزمائشوں اور مصائب کے بارے میں ان کے حوالہ جات جدوجہد اور امید کے مشترکہ احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھئیے جیسے:
    بہت مجبوریاں ہیں درمیاں حائل نظر کردو
    مٹادو فاصلوں کو اب بلالو یا رسول الله
    شاعر کا لفظ مجبوریاں کا استعمال اور "مٹادو فاصلوں کو” کی اس کی التجا مصیبت کے اجتماعی تجربے اور خدائی مدد کی آرزو کو ظاہر کرتی ہے۔
    وحید منظر کی نعتیہ شاعری ایمان کی لازوال قوت اور رحمت الٰہی کی لازوال انسانی جستجو کا ثبوت ہے۔ اس کی فکر انگیز زبان، گہرے موضوعات، اور گہرے روحانی جذبے کے ساتھ مل کر ان کی شاعری کا ایک ایسا مجموعہ پیدا ہوتا ہے جو نہ صرف ذاتی عقیدت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مسلم کمیونٹی کی اجتماعی روحانی امنگوں کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ چیلنجوں سے بھری اس دنیا میں وحید منظر کی شاعری سکون، امید اور ایمان کی تبدیلی کی طاقت کا اعادہ کرتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے وحید منظر کی نعت بطور نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔

    *
    نعت رسول مقبول ﷺ
    *
    غلامی سے مسلمان کو چھڑادو یا رسول الله
    جہان کفر کے ٹکڑے کرادو یا رسول الله
    مجھے دنیا کے صدموں سے چھڑادو یا رسول الله
    مری بگڑی ہوئی قسمت بنا دو یا رسول الله
    چلادو نیک رستے پر مجھے اے محسن عالم
    گنا ہوں سے میرا پیچھا چھڑوادو یا رسول الله
    میری کمزوریاں کہیں مجھ کو رسوا نہ کر ڈالیں
    مجھے پستی میں گرنے سے بچالو یا رسول الله
    بہت مجبوریاں ہیں درمیاں حائل نظر کردو
    مٹادو فاصلوں کو اب بلالو یا رسول الله
    تری توصیف کے قابل کہاں ہے یہ زباں میری
    مرا طرز سخن بہتر بنادو یا رسول الله
    میں ڈوبا جا رہا ہوں بحر طوفان حوادث میں
    سنبھالو یا رسول الله سنبھالو یا رسول الله
    گناہوں کے عذابوں میں گھرا ہے آج بھی منظر
    مجھے اپنی شفاعت سے بچالو یا رسول الله

    Title Image by Manfred Richter from Pixabay

  • معجزات رسولﷺ ۔بزم کھٹڑ

    معجزات رسولﷺ ۔بزم کھٹڑ

    معجزات رسولﷺ ۔بزم کھٹڑ


    کالم نگار:۔ سیدہ محسنہ فضہ

    خاتم الانبیا، رحمت اللعالمین، سرور کائنات حضرت محمد ﷺ رب کے محبوب نبی کی رضا در حقیقت رب کی رضا ہے بلکہ یوں کہا جاۓ تو بجا ہے کہ رب کی رضا حضورﷺ کی رضا میں پوشیدہ ہے۔ حضور ﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں بہت سے معجزات کیے ۔معجزات اللہ کے حکم سے انبیا دکھاتے ہیں حقیقت میں یہ ہر کسی کے بس میں نہیں ہیں یہ خاصیت اللہ پاک اسی کو عطا کرتا ہے جو اس کا محبوب ترین بندہ ہوتا ہے ۔ معجزہ اور کرامت دونوں الفاظ میں فرق کرنے میں اکثر لوگ غلطی کر بیٹھتے ہیں درحقیقت اگر کوئی نبی کوئی انہونا کام کر دیکھاۓ تو وہ معجزہ کہا جاۓ گا اور اگر کوئی ولی کوئی انہونا کام کر دیکھاۓ تو وہ کرامت کہلاۓ گی اللہ پاک نے حضورﷺ کو بہت سے معجزات عطا کیے اور سب سے بڑا معجزہ حضورﷺ کی آمد کا ہے جب حضرت بی بی آمنہ کے گھر میں آپ کی ولادت ہوئی قرآن کے علاوہ دوسری الہامی کتب میں بھی آپ کا ذکر موجود ہے ۔ جب نبی کریم کی آمد اس دنیا میں ہوئی تو یہودیوں اور عیسائیوں پر خوف کا غلبہ طاری ہوگیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جس احمد نامی بچہ کی آمد کا ذکر ان کی کتاب میں مذکور ہے اس بچے کی آمد سے باقی سب شریعتیں منسوخ ہو جائیں گی اور جس شریعت کا تا قیامت پر چار رہے گا وہ شریعت محمدیﷺ ہے جب حضور اس دنیا میں تشریف لاۓ تو تمام عرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا عرب کے لوگ بیٹیوں کی پیدائش کو معیوب خیال کرتے اور ان کو زندہ درگور کر دیتے تھے تو تب حضورﷺ نے بہن، بیٹی، ماں اور بیوی کی اہمیت کا لوگوں کو بتایا۔ جب کفار آپ ﷺ کا انکار کرتے تو آپ اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کے پرچار کے لیے معجزہ برپا کرتے حضور ﷺ کے معجزوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اس سے بڑا کیا معجزہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی تبلیغ اور کردار سے شتر بان جہاں بان بن گئے دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بیباکی کے علمبردار بن گۓ اگر سارے معجزات کا ذکر کیا جائے تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن یہاں ممکن نہیں


    معجزاتِ رسول ﷺ کےنام سے سوشل میڈیا پر بزمِ کھٹڑ نے نثری اور شاعری کی کاوش کی شعرا نے اشعار میں صنعت تلمیح کا استعمال کیا اور معجزات رسول اپنی بساط کے مطابق لکھے ہم نے شعرا کا خلوص دل اور معجزاتِ رسول ﷺ سے عشق دیکھا ہے کلام کی صحت کا تعلق شاعر کی اپنی کاوش سے ہے اس بار مندرجہ ذیل افراد نے شرکت کی

    پاک انگلی سے قمر کو ، توڑ کے پھر جوڑنا
    مصطفٰی ﷺ کے معجزہ کو ، دل کبھی نہ بھولنا

    جس شجر کو بھی اشارہ ، آپ ﷺ کرتے ناگہاں
    دوڑ کر آتا وہاں پر ، جس جگہ ہوتے نبیﷺ

    علامہ اَلِماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    کنکر نے کلمہ پڑھ لیا ، آیا شجر قریب
    احکام شاہ دیں سے ہیں لیتے شجر حجر
    چوبی ستون آپ سے بچھڑا تو رو پڑا
    بے شک فراق شہ میں ہیں روئے شجر حجر
    ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم )
    تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ

    ازل سے اب تک جو کُن کا مرکز بنا ہٶا ہے وہی نبی ہے
    خداۓ برتر کے نور سے جو بدن ڈھلا ہے وہی نبی ہے

    نبی کا کہنا خدا کا کہنا خدا کا کہنا نبی کا کہنا
    خدا نے جس کے لۓ یہ جملا ادا کیا ہے وہی نبی ہے

    وہ چاند کا ہو کہ شمس کا ہو وہ کنکری کا یا پیڑ کا ہو
    خدا کی مرضی سے معجزے جو دکھا رہا ہے وہی نبی ہے

    دعا نہ اُن کی قبول کی توجنابِ آدم کو دھیان آیا
    جو جام عرشِ عُلا پہ کب سے لکھا ہوأ ہے وہی نبی ہے

    جنابِ موسیٰ بھی تھے پیمبر وہ نورِ حق کی نہ تاب لاۓ
    خدا سے مل کر کلام کر کے جو آ رہا ہے وہی نبی ہے

    چاند دو ٹکڑے ہوا سورج بھی واپس کر دیا
    معجزے تو سارے اعلیٰ ہیں امام الانبیاء ﷺ

    چاند ٹکڑے ہوا آب دیں انگلیاں
    معجزہ ہیں سراپا ہمارے نبی ﷺ

    انعام الحق معصوم صابری

    شجر کو بلایا ہے قدموں میں اپنے
    قمر کو بھی دو لخت کر کے دکھایا
    مظہر کھٹڑ مہورہ

    پیڑ آیا تھا خدمت میں چلتا ہوا
    مہر پلٹا اسے جب اشارہ ہوا

    الحاج نذیر شؔاکر

    اصحابِ مصطفٰی کی بجھانے کو تشنگی
    انگشت سے نبی ﷺ کے تھا چشمہ رواں دواں

    ممتاز قادری نانپوری

    حکم آقاﷺ پر کہیں دو نیم ہوتا ہے قمر
    اور کہیں کلمہ سناتا بے زباں ہے محترم
    منظور نونہ مئ کولگام کشمیر

    اشارہ پا کے انگلی کا وہ سر پٹ دوڑتا آیا
    کھڑے تھے جس جگہ خوش رو وہاں آ کر شجر ٹھہرا
    میرے بھی خواب میں ہو سرکار ﷺ کی کہانی
    دیتی ہوئی گواہی اک سوسمار آئے

    جب دہن سے آپ ﷺ کے پانی ملا
    کھارا پانی میٹھا سارا ہو گیا
    سید حبدار قائم


    نبی پاک ﷺ کے معجزات بہت سارے ہیں شعرا نے تین تین بھی لکھے لیکن ہم نے ایک ہی کومنٹ پر اکتفا کیا
    آخر میں دعا ہے کہ جن افراد نے پروگرام میں شرکت کی ہے اللہ پاک ان کی حاضری قبول فرماۓ اور جن شعرا نے شرکت نہیں کی اللہ پاک ان کو آٸندہ ہونے والے پروگرامز میں شرکت کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
    بزم کھٹڑ کی سیرت سے دلچسپی کے لیے پروگرام ترتیب دینا اور آخر میں شرکت کرنے والوں میں برقی اسناد سے نوازنا بھی صدیوں یاد رکھا جاٸے گا۔

    Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • تبصرہ : ثناۓ محمد

    ثنائے محمد کا تعارف اور تاثرات

    ثنائے محمد کا تعارف اور تاثرات


    تبصرہ نگار:۔ صدام فدا۔۔۔ واہ کینٹ

    اللہ کریم کی کروڑ ہا عنایتوں میں سے ایک نعمت شعر شناسی ہے۔اس ذات کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ جس نے شعر جیسی دولت سے آشنا کیا۔بقول جناب حسیب اسیر ‛‛شعر خوشی کے موقع پر ہماری خوشیوں کو دوبالا کرتا ہے اور غم کے موقع پر ہماری ڈھارس بندھاتا ہے‛‛۔


    میں ان دوستوں کا بہت شکرگزار ہوں جو مجھے اس قابل سمجھتے ہیں کہ اپنے مجموعہ ہائے کلام بھیج دیتے ہیں جنہیں پڑھ کر مجھے فکری و فنی جلا ملتی رہتی ہے۔دوستوں کی ان محبتوں کا شکریہ ادا کرنے کی ادنٰی سی کاوش اپنے تاثرات کی صورت میں ادا کرتا ہوں اگرچہ میری نہ اتنی زیادہ علمی استطاعت ہے اور نہ اتنی فکری استطاعت ہے بہر حال آج زیر_مطالعہ کتاب کا نام ‛‛ثنائے محمد‛‛ ہے اور اس کے خالق مظہر علی کھٹڑ مہورہ ہیں۔یہ شاعر کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جو حضور نبی کریم کی محبت سے لبریز شاعری پر مشتمل ہے۔ہر نعت گو اپنی استطاعت کے مطابق نعت کہتا ہے اور اپنی عقیدت کو شعروں کی صورت میں بیان کرتا ہے۔اس نعتیہ مجموعہ کی سب سے خاص بات جذبات کی فراوانی ‛عشق رسول اور سلاست پر مبنی شاعری ہے۔شاعر انتہائی سادگی اور عاجزی کے ساتھ لیکن انتہائی وفور کے ساتھ حضور نبی کریم کی شان بیان کرتا ہے مثلاً

    سفر ہے نرالا مزا پا رہے ہیں
    دیارِ نبی کی طرف جا رہے ہیں

    جہاں روشنی بٹ رہی ہے وہاں سے
    یہ شمس و قمر بھی ضیا پا رہے ہیں

    خزاؤں کا موسم بہاروں میں بدلا
    زمیں پر مرے مصطفٰی آ گئے ہیں

    زمیں سے فلک تک معنبر فضائیں
    کہ مظہر وہ نورِ خدا آ گئے ہیں

    اک عمل بھی نہیں دامن میں دکھانے کے لیے
    ہم فقط نعت کے اشعار لیے پھرتے ہیں

    اسی کے مزے ہیں مدینے میں یارو
    مدینے میں جس کا ٹھکانہ ہوا ہے

    بنا ان کے آنے سے یثرب مدینہ
    مدینے کے جیسے زمیں بھی کہاں ہے

    محمد کا روضہ عرب کی زمیں پر
    ہے کعبے کا کعبہ عرب کی زمیں پر

    عرب کی زمیں معتبر کیوں نہ ہوتی
    ہے زہرا کا بابا عرب کی زمیں پر

    چاند تارے درود پڑھتے ہیں
    سب نظارے درود پڑھتے ہیں

    ہم زمیں زاد ہی نہیں ان پر
    چاند تارے درود پڑھتے ہیں

    جو ترے شہر سے آتا ہوگا
    اشک پر اشک بہاتا ہوگا

    محمد مصطفٰی آئے
    اجالے ہر طرف چھائے

    بلائیں گر مرے آقا
    زیارت کو شجر آئے

    مظہر علی کھٹڑ کی نعتیہ شاعری پہ جو رنگ غالب ہے وہ حضور پاک کی ولادت باسعادت کا ہے۔وہ جگہ جگہ حضور کی دنیا میں آمد کا ذکر کرتے اور خوشی مناتے دکھائی دیتے ہیں اس کے علاوہ ان کی نعتیہ شاعری میں آلِ محمد اور اصحاب سے گہری عقیدت اور وابستگی نظر آتی ہے جس سے ان کی شاعری میں لطف مزید بڑھ جاتا ہے۔میری دعا ہے اللہ کریم مظہر بھائی کو مزید عشق رسول و آل رسول عطا کرے اور وہ اسی لگن میں شاعری کرتے رہیں۔

  • سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ


    کالم نگار :۔ سید حبدار قائم

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے آپ ﷺ کی سیرت کا فروغ بہت ضروری ہے سیرت سے آگاہی اور اس پر عمل کرنے سے ہی ایک متوازن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے
    سوشل میڈیا پر بہت ساری ادبی تنظیمیں اور گروپ متحرک ہیں جن میں نئے لکھاریوں کے لیے سیکھنے کے بہت مواقع میسر ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر فروغ نعت پر بہت سارے مشاعرے طرح مصرع پر منعقد کرائے جا چکے ہیں اور ہنوز سلسلہ جاری ہے بزم کھٹڑ نے 20 اپریل سے 25 اپریل 2024 تک سیرت آگاہی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں نثری کاوشیں شامل ہیں مشاعرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے گی ہمارے آقا حضور ﷺ پر نور جب تبسم فرماتے تھے تو رات کے اندھیرے میں دانت مبارک سے نکلنے والی روشنی سے اماں حضرت عائشہؓ سوئی تک ڈھونڈ لیتی تھیں
    جو شخص آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھ لیتا اسلام قبول کر لیتا تھا آپ کا اسوہ حسنہ نمونہ قرار دیا گیا آپ ﷺ کے فضائل و شمائل اتنے زیادہ ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے ادبی تنظیم بزم کھٹڑ ان فضائل پر آئندہ بھی پروگرام منعقد کراتی رہے گی
    سیرت آگاہی کے لیے بزم کھٹڑ کا سوشل میڈیا پر پروگرام منعقد کرنا میرے خیال میں اچھوتا ہے اس بار بہت کم افراد نے اس میں حصہ لیا ہے جن افراد نے سیرت کے چند پہلووں کو اجاگر کیا وہ مندرجہ ذیل ہیں

    حضور ﷺ کا اسوہ ٕ حسنہ سارے جہاں کے لیے نمونہ قرار دیا جانا دنیا کا سب سے بڑا میڈل ہے جو رب نے آپ ﷺ کو عطا فرمایا. آپ ﷺ کا رحم کرنا نہ صرف انسانوں بل کہ کائنات کی ہر مخلوق سے افضل ہےاسی لیے رحمت اللعالمین قرار دیے گئے. آپ ﷺ خوشبو پسند فرماتے اور خوشبو لگانے کا حکم دیتے تھے اور خود جہاں سے گزرتے گلیوں میں آپ کی خوشبو آپ کے گزرنے کی خبر دیتی تھی
    سید حبدار قائم

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے اور امت کو بھی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے اور شفقت کرنے کا حکم صادر فرماتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادہ رہتے تھے اور سادگی کو پسند فرماتے تھے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نگاہیں جھکا کر چلتے تھے اور دوسروں کو بھی نگاہیں جھکا کر چلنے کا حکم صارر فرماتے تھے
    مظہر علی خان کھٹڑ

    آپ ﷺ ایمانداری کا حکم دیتے تھے کیوں کہ آپ ﷺخود ایماندار تھے آپ ﷺ اتنے شفیق تھے کے آپ کی بارگاہِ اَقدس میں پرندے بھی اپنی شکایات بیان کرتے تھے آپ سن کر ان کا حل نکال لیا کرتے تھے.آپ ﷺاتنے رحم دل تھے کہ جنگل کی ہرنی نے جب شکایت کی تو اسی وقت اس کا ازالہ فرما دیا آپ جانوروں پر رحم کا حکم صادر فرماتے تھے
    علامہ اَلماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    جب جنات و شیاطین کا آسمان پر جانا بند کردیا گیا تو وہ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آخر ماجرہ کیا ہے کہ ہم لوگ اب آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں. دراصل جنات و شیاطین آسمان پر جاتے اور چپکے سے فرشتوں کی باتیں سن کر نجومی اور جادوگروں کو آ کر بتا دیتے تھے اور نجومی حضرات عام لوگوں کو کچھ ایسے انداز میں آسمان والوں کا حال بتاتے کہ عام لوگوں کو لگتا کہ یہ اپنے جادو کے کمال سے بتا رہے ہیں اسی وجہ سے آسمان پر جانا بند کردیا. اس وجہ سے جنات مشورہ کرکے دنیا میں چاروں طرف تلاش کرنے لگے کہ آخر دنیا میں اب کونسی چیز آ گئی کہ جس کی وجہ ہم آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں تو کچھ جنات ایک ایسی جگہ پہنچے جس کانام مقام نخلہ ہے تو وہاں ان جنات نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام مغرب یا عشا کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات نے کہاں اچھا یہی وہ ماجرہ ہے جس کی وجہ ہمارا آسمان پر جانا بند ہوگیا پھر ان جنات نے تلاوت کو غور سے سنا ان جنات کو تلاوت اتنی پسند آئی کہ وہ سب ایمان لے آئے اور بھی ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں. حضور علیہ السلام جب بچپن کے زمانے میں چلتے پھرتے تو حضور کو سارے درخت جھک کر سلام عرض کرتے تھے. جب آپ کی پیدائش ہوئی اس وقت عرب میں قحط سالی کا زمانہ تھا جونہی آپ پیدا ہوۓ قحط سالی کا ازالہ ہوگیا بتکدے خود بخود گڑ پڑے ۔
    تقی یونس

    آپ محمد رسول اللہ ہیں
    آپ خاتم الانبیاء ہیں
    آپ رحمۃ للعالمین ہیں
    انعام الحق معصوم صابری

    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد

    سیرت رحمت العالمین کے چند گوشے
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کے لئے مجسم محبت و شفقت تھے آپ سے محبت کرنے والے کے لئے تکمیل ایمان کی بشارت آپ نے ارشاد فرمائی ہے۔ہر کسی سے محبت و شفقت کا رویہ ہمارے لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنے والا بندہ اللہ تعالٰی کا محبوب بن جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی اتباع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کامل محبت کے بغیر نہیں کی جا سکتی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کی عظمت پر فائز اور نرم خو اور نرم دل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر حال میں آپ پر جان و دل سے فدا رہتے تھے.آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاقِ عظیم ہمارے لئے اسوہ ٕ کامل ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلم یعنی استاد بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلیم و تربیت پانے والے آپ کی شفقت کے اسیر تھے۔بحیثت معلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے معلمین کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس اور خوراک سادہ اور معمولی ہوا کرتی تھی اپنے ساتھیوں کے درمیان تشریف فرما ہوتے تو کسی اجنبی کے لئے آپ کے لباس اور بیٹھنے کے انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے قائدین اور مراجع کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم وعلى آل سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد
    عارف علوی ریور گارڈن اسلام آباد

    رسول اللہ ﷺصداقت و امانت کے ایسے گرویدہ تھے کہ بچپن سے آپ ﷺ صادق و امین کے لقب سے یاد کیے جانے لگے اور دوست تو دوست دشمن بھی آپ ﷺکے اس وصف کا اقرار کرتے تھے چنانچہ قبائلِ قریش نے ایک موقع پر بیک زبان ہوکرکہا کہ ہم نے بارہا تجربہ کیا مگر آپ ﷺ کو ہمیشہ سچا پایا۔ یہ سب قدرت کی جانب سے ایک غیبی تربیت تھی کیونکہ آپ ﷺ کو آگے چل کر نبوت و رسالت کے عظیم مقام پر فائز کرنا تھا اور تمام عالم کے لیے مقتدیٰ بنانا تھا اور امت کے لیے آپ ﷺکی زندگی کو بطورِ اْسوۂ حسنہ پیش کرنا تھا۔
    پیرسید مختارگیلانی قادری
    ایراڑہ شریف،باغ آزادکشمیر

    وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ
    جس نے غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
    نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
    وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں وہی طٰہٰ
    قطرہ سمندر کی بات کرے تشنگی کوثر کی بات کرے مجھ جیسا ناچیز انسان اس رحمت العالمینﷺ کی بات کرے کہ جس کے بارے میں بڑے بڑے مورخین واعظین حافظین ذاکرین محدیثین اور علماء نے غواصی کی اس سمندر میں غوطہ زن ہوۓ مگر یہ موضوع ایسا ہے کہ بڑھا تو بڑھتا چلا گیا اور پھیلا تو پھیلتا چلا گیا آخر کہنے والوں کو مجبوراً کہنا پڑا بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
    نماز اچھی حج اچھا روزے اور زکوۃ اچھی
    سواۓ اس کے میں مسلماں ہو نہیں سکتا
    نہ کٹ مروں میں جب تک خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد کہ کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
    سردار نثار عباس غازی کھٹڑ تھٹہ جنڈ

    اللهم صل على سيدنا محمدِِ نبی امی و علٰی آلِ وسلم تسلیما۔
    حضور ﷺ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہؐ جیسا آگے دیکھتے تھے ویسا ہی پیچھے بھی دیکھتے تھے۔
    حضور ﷺ جہاں بھی جاتے تھے بادل کا ٹکڑا ان کے اوپر چھتر چھایا کرتی تھی۔ جس سے انؐ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔ یہ اللہ کا معجزہ ہے کہ حضورﷺ کی تصویر بننا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔
    حضور ﷺجس طرح انسانوں کا درد محسوس کرتے تھے اسی طرح جانوروں کا درد بھی محسوس کرتے تھے۔
    انسانوں اور حیوانوں پر صلہ رحمی کرنا آپﷺ کی اولین ترجیحات میں شامل تھا
    جنگِ اُحد کے دوران جب حضورﷺ کا دندانِ مبارک شہید ہوا تو خون زمیں پر پڑنے سے پہلے حضرت جبریل امین نے اللہ کے حکم سے ہوا میں اڑایا۔
    سبحان اللہ ۔
    صدا کشمیری سرینگر انڈیا

    سیرت آگاہی کے اس پہلے پروگرام میں بہت کم افراد نے شرکت کی اور اپنی بساط کے مطابق اظہارِ خیال کیا مجھے بہت خوشی ہے کہ بزمِ کھٹڑ نے اندھیروں میں ایک چراغ روشن کیا ہے جس کی روشنی چار سو پھیلے گی اور یہ تنظیم آئندہ بھی ایسے پروگرام جاری رکھے گی اس بار پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تحریریں تزئین کی گئی اور ان افراد کو منتظمین کی طرف سے دستخط شدہ برقی سند سے بھی نوازا کیا
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری توفیقات میں مزید اضافہ فرماۓ۔ آمین

    Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • سلطان محمود چشتی کی کتاب “ادبی کہکشائیں”

    سلطان محمود چشتی کی کتاب "ادبی کہکشائیں”

    سلطان محمود چشتی کی کتاب "ادبی کہکشائیں”

    سلطان محمود چشتی کی کتاب "سبیل بخشش”پر اہل فکر و فن جن میں علماء، مشائخ کرام، شعراء، ادیب، وکلاء، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باذوق شخصیات کے تبصرے اور مبصرین کے تعارف کو "ادبی کہکشائیں” کے نام سے کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے یہ کتاب "ادبی کہکشائیں” تعریفی اور تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ہے جس کا فلیپ پیر مہر حماد الدین سعدی جیلانی گولڑہ شریف اور نعت کا معتبر نام ممتاز شاعر و ادیب سید صبیح رحمانی صاحب کراچی والوں نے لکھا ہے کتاب پر انڈیا سے ڈاکٹر منصور فریدی صاحب کا مضمون اور مقدمہ ڈاکٹر مشرف حسین انجم بانی و چئیرمین نعت کونسل پاکستان نے تحریر کیا تھا جب کہ دیباچہ پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد صاحب ننکانہ صاحب کا تحریر کردہ ہے یہ کتاب کل 176صفحات پر مشتمل ہے جس میں تبصروں کے ساتھ ساتھ ادیبوں کا بھی مختصر تعارف بھی شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں دئیے گئے تعارف کے متعلق مؤلف کچھ یوں رقم طراز ہیں "ادبی کہکشائیں درحقیقت سبیلِ بخشش کی ادبی کہکشائیں ہیں جس میں ملکی و غیر ملکی صاحبان فکروفن کے نعت کے متعلق مدلل مضامین شامل ہیں جن سے اہل فکر وفن ضرور مستفیض ہوں گے۔ زیر۔نظر کتاب میں تبصرہ نگاروں کے مضامین کے ساتھ ان کے مختصر تعارف کو پیش کرنے کا خیال اس وقت پیش آیا جب راقم کو چند ماہ قبل علاقہ کی چند مذہبی اور صاحب۔دیوان شخصیات کے حالات۔زندگی تلاش کرنا پڑے،کافی دوڑ دھوپ کے بعد ان میں سے اکثر کے حالات اور تصانیف کا کوئی سراغ نہ مل سکا ،لہذا اسی بات کو مد۔نظر رکھتے ہوئے زیر نظر کتاب پر دئیے گئے تبصرہ نگاروں کے مضامین کے بعد ان کے مختصر کوائف کتاب میں شامل کرنا ضروری سمجھا کہ آنے والے قاری کو کم ازکم ان اہل قلم شخصیات کے متعلق باآسانی آگہی مل سکے جو مسائل ہمیں درپیش ہیں آنے والوں کے لیے آسان ہوں،لہذا اس کتاب کی شکل میں ان کی زندگیوں کے اہم ترین گوشوں کو زندہ رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی ہے (ص،15)

    سلطان محمود چشتی کی کتاب “ادبی کہکشائیں”


    "ادبی کہکشائیں” اردو تبصروں پر مشتمل ایک بہترین کتاب ہے جو دانشوروں، نقادوں، شاعروں، ادیبوں، وکلاء، صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی متنوع صفوں سے تبصروں اور ان کے تعارفی مضامین کو اکٹھا کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان "ادبی کہکشائیں” ایک بہترین عنوان ہے جس پر پیر مہر حمادالدین سعدی گیلانی، معروف شاعر اور ادیب سید صبیح رحمانی اور ہندوستان سے ڈاکٹر منصور فریدی جیسی نمایاں شخصیات کے تعاون کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر مشرف حسین انجم بانی کے تعارفی نوٹ بھی شامل ہیں۔ اور پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد، ادبی مناظر کی ایک جامع تحقیق پیش کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انڈیا کے صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے علامہ ڈاکٹر منصور فریدی سلطان محمود چشتی کی نعتیہ شاعری کے متعلق لکھتے ہیں "محترم سلطان محمود چشتی کی فکر ،فنی لوازمات کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ سے مزین تراکیب کی پیچیدگی سے مبرّا ہے۔ان کی گفتگو براہ راست عاشق سے ہے خرد مندوں سے کم،عاشق اپنے رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی بارگاہ ناز میں عقیدت کے نذرانے پیش کرنے کے لیے شوکتِ الفاظ اور ندرت خیال کی فکر نہیں بلکہ دلی کیفیات سے لبریز نم آنکھوں کی حرارت سے بات کرتا ہے اور وہ ساری کیفیات”سبیلِ بخشش "میں موجود ہیں۔
    176 صفحات پر محیط یہ کتاب تناظر اور تجربات کی ایک بھرپور سیریز کو سمیٹتی ہے، جس سے قارئین کو ادبی تبصروں کی باریک بینی سے آگاہی ملتی ہے۔ ڈاکٹر منصور فریدی کا مضمون، ڈاکٹر مشرف حسین انجم بانی کے دیباچے کے ساتھ مل کر کتاب کے بارے میں تبصروں پر مشتمل ایک بہترین کتاب ہے، جو ادب اور ادیبوں کے بارے میں علمی بصیرت پیش کرتا ہے۔ دریں اثنا، پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد کا تعارف ایک سیاق و سباق فراہم کرتا ہے، جو ادبی ماحول میں کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔زیرِ نظر کتاب میں دیگر ادیبوں کے ساتھ ساتھ راقم الحروف کا مضمون اور تعارف بھی شامل ہے۔ کتاب پرنٹ اور پی ڈی ایف دونوں ورژن میں منگوائی جاسکتی ہے۔
    باریک بینی اور بصیرت افروز تبصروں کے ذریعے سلطان محمود چشتی کی "ادبی کہکشائیں” روایتی حدود سے آگے کی بہترین کتاب ہے، جو ادبی تبصروں کی تشکیل میں ادب کی پائیدار مطابقت کے ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے۔ڈاکٹر منصور فریدی مزید ان کی تقدیسی شاعری کے متعلق لکھتے ہیں
    "وارفتگی فکر، شوق نمو، ذوق جنوں، لہجے کی کھنک، اسلوب نگارش میں انوکھا پن، قوت بیان، قادر الکلامی، بندش الفاظ، موسیقیت سے لبریز ، غنائیت سے متمول خاندانی شگفتگی اور شعری شیفتگی کا عنصر نمایاں ہیں۔ آپ کی شاعری کا جو حسن ہے وہ سلاست و فصاحت کے ساتھ حسن بیان ہے،مصرعوں کی برجستگی سے ان کی مشاقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے "۔(ص،24)


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "ادبی کہکشائیں” ادبی کھوج کی کثیر جہتی نوعیت کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے ہے، جو قارئین کو تخلیقی صلاحیتوں اور وجدان کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک فکر انگیز سفر پر مدعو کرتا ہے۔ اس طرح یہ ادبی کہکشاوں میں ایک قابل قدر اضافہ ہے، یہ کتاب ادبی گفتگو اور تعمیری تنقید کو تقویت بخشتا ہے اور ادبی تجربے کو روشن کرنے کے لیے الفاظ کی طاقت کے لیے گہری تعریف کو فروغ دیتا ہے۔ میں مصنف کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔