Tag: نعت

  • منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    تحریر  :  سید طاہر شیرازی ، جھنگ 

    دُنیا کے ہر خطے میں اپنے اپنے انداز اور اسلوب سے شعر و ادب اور فنونِ لطیفہ پر مختلف پیرائے میں تخلیق اور تحقیق کا عمل جاری اور ساری رہا ہے اور کائنات کے وجود تک یہ مکمل  آب و تاب کے ساتھ چلتا رہے گا ۔ جہاں تک دُنیائے ادب کا تعلق ہے ادب کی کوئی زبان نہیں ہوتی یہ اندر کے جذبات واحساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ دُنیا کے ہر خطہ میں ادب ہی کی زبان کو سمجھا اور محسوس کیا گیا ہے ۔ چاہے وہ لوک ادب ہو افسانوی ، رومانوی ، داستانی  یا کہ شعری ادب ہو چاہے کسی بھی پیرائے  یا صنف میں موجود ہو ۔ اُس کی چاشنی اور مٹھاس ایک خاص لذت رکھتی ہے ۔ دُنیا کی ہر زبان میں ادب تخلیق ہوا اور وہ زبان بولنے والے لوگ اپنے اس ادبی ورثے کے امین ہیں ۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اس کی وسعت صرف اور صرف محبت ہی سے ماپی جاسکتی ہے اس کا نہ کوئی اور پیمانہ ہے اور نہ ہی پیرا میٹر جس سے ادب کی پیمائش کی جاسکے ۔ تھل صحرا کے جنوب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے آباد بھکر کا شہر بہت قدیم ہے ۔ اس کی اپنی زبان  تہذیب  ثقافت اور کلچر ہے جہاں پر زیادہ تر بولنے والوں کی زبان سرائیکی ہے ۔ ضلع کا زیادہ تر علاقہ ریت کے ٹیلوں صحرائے تھل پر مشتمل ہے اور دیکھا جائے تو تھل کے لوگوں کا ایک اپنا رہن سہن تہذیب کلچر بود و باش اور لباس ہے جو کہ ایک خاص خوبصورتی کا حامل ہے ۔ ضلع بھکر شروع سے علم و ادب کا محور و مرکز رہا ہے اور یہاں ہر دور میں اُردو ، سرائیکی اور پنجابی ادب کے لکھنے والے شاعر ادیب اور محقق موجود رہے ہیں  ۔ اِس دھرتی پر ہر دور میں ہر صنفِ سخن میں ادب تخلیق ہوتا رہا چاہے وہ حمد ، نعت ، سلام ، منقبت ، غزل اور نظم کی صورت میں لکھا جانے والا ہو یہ ادب شعر و ادب کی تاریخ کا حصّہ رہا ہے ۔ اس علاقے کو کچھی کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے نے بہت سے نام ور اور قد آور ادب تخلیق کرنے والی شخصیات کو جنم دیا ۔ جن میں غلام سکندر خان غلام ، غلام حسن تائب ، فیروز ترک ، نذر حسین ترک ، خلشِ پیر اصحابی مضطر حیدری ، سید آلِ محمد سوز ، شکیب جلالی ، کلیم بخاری ، بشیر احمد بشر ، نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، ڈاکٹر اللّٰہ نواز شہانوی ، اقبال حسین ، ڈاکٹر اشرف کمال ، علی شاہ ،  نجف علی شاہ بخاری ، الطاف اشعر بخاری ، انیل چوہان ، محمد اقبال بالم اور مقبول ذکی مقبول اس کاروان کا حصّہ نظر آۓ ۔ رثائی ادب صدیوں سے تخلیق ہوتا چلا آرہا ہے ۔ نواسہ رسول  صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم حضرت امام حسین علیہ السّلام کے ساتھ ہونے والے سانحہ کربلا کی نسبت سے ان علاقوں میں کربلائی ادب کے اثرات ہر دور میں نمایاں رہے ہیں اور بہت سی قد آور شخصیات اُردو اور سرائیکی زبان میں رثائی ادب تخلیق کرتی رہی ہیں ۔ اسی مناسبت سے بھکر کی تحصیل منکیرہ جو کہ صحرائے تھل میں واقع ہے اس دھرتی کے باسی اور شاعر و ادیب محقق مقبول ذکی مقبول کا تذکرہ نہ کرنا ادب کے ساتھ  نا انصافی ہے ۔ کربلائی ادب کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے ٫٫ سجدہ ،، اور ٫٫ منتہائے فکر ،، منظرِ عام پر آ چکے ہیں جو کہ ادبی حلقوں سے  داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔

    منتہائے فکر اور رثائی ادب

    کربلائی ادب لکھنے کیلئے ہر انسان اس کے اثر پزیری اور ابلاغ کا کس طرح تقاضا کرتا ہے کہ نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اس کی کتنی عقیدت اور معرفت ہے پھر بصیرت کے حوالے ہی سے یہ کرم اللّٰہ پاک کا اُس کی اپنی خاص عنایت کا ادراک عطا کرتا ہے  ۔ مقبول ذکی مقبول اللّٰہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا کا کرم ہے ۔ اگر اُن  کے مجموعہ ء کلام ٫٫ منتہائے فکر ،، کو حقیقی حوالے سے دیکھا اور سمجھا جائے تو انسان تصوراتی طور پر معراجِ عشق پر پہنچ جاتا ہے ۔ ٫٫ منتہائے فکر ،، کو لغوی معنی کے پیرائے میں دیکھیں تو سوچ کی آخری بلندی بنتی ہے اور وہاں سے کہیں کریمِ کربلا کا اور خانوادہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقام شروع ہوتا ہے تو پھر عام آدمی اُن کی فضیلیت و عظمت کو اس محدود سے دائرہ دماغ میں کیسے سمو سکتا ہے ۔؟  یہ تو  اللہ تعالیٰ کی کریمی ہے جس نے کچھ نہ کچھ حصّہ عطا کیا  ہے ۔ یہ انسان کو اُس کی اپنی حیثیت کے مطابق عطا کرتا ہے  ۔ جب خالق کائنات کی توحید اور رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت کو خطرہ لاحق ہوا تو رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کریم کے خانوادہ ہی سے سرکار امام حسین علیہ السّلام نے ہی دین کی بقا و سرفرازی کیلئے قیام کیا اور علم حق بلند کر کے کربلا میں دینِ مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور توحید کبریا کیلئے اپنے بہتر (ع) رفقا کے ساتھ کار زارِ کربلا میں سیسہ پلائی دیوار بَن کر کھڑے ہوئے اور  اِس وقعہ کو مقبول ذکی مقبول نے یوں بیان فرمایا ہے ۔

    آپ (ع)کی  جو  تھی امامت دین پر آئے نہ آنچ 

    کربلا میں کی قیادت دین پر آئے نہ آنچ 

    آپ (ع)کے اصحاب (ع) پر راضی ہوا ہے پاک ربّ 

    یاد ہے سب کو شجاعت دین پر آئے نہ آنچ 

    ناز کرتے ہم رہیں گے تھے بہتر (ع) باوفا 

    پی گئے جامِ شہادت دین پر آئے نہ آنچ 

    ارجمندِ مصطفٰی (صہ) تھے کربلا میں سوگوار 

    آپ (ع) کی تو ہے بسالت دین پر آئے نہ آنچ 

    یہی تو تھا فلسفہ دینِ حق جس کیلئے حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا کے لال علیہ السّلام نے اپنا سب کچھ قربان کیا 

    اِک دیا روشن کیا عاشور کی شب کربلا 

    پورے عالم میں ہے اُس کا ہر طرف قصہ الگ 

    کربلا کی داستان اپنی جگہ پر ایک الگ داستانِ غم ہے اگر میدان میں حضرت عباس علیہ السّلام کے بازو کٹتے ہیں تو حجاب کی صدا بلند ہوتی ہے اگر حرمل کا تیر حضرت علی اصغر علیہ السّلام کا گلہ چیرتا ہے تو اُس کی ماں رباب سلام اللّٰہ علیہا ٹوٹ جاتی ہے اس دل سوز لمحے کو مقبول ذکی مقبول نے یوں قلم بند کیا ہے ۔ پہلا شعر حضرت عباس علیہ السّلام کے حوالے سے اور دوسرا حضرت علی اصغر علیہ السّلام کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں ۔

    بازو کٹے جو نہر پر حیدر (ع)کے لال کے (ع)

    خیموں سے اِک صدا اُٹھی ہائے مرا حجاب 

    حرمل کے تیر نے ہی تو امبر ہلا دیا 

    تڑپی صغیر ( ع ) سے بھی جو بڑھ کر وہاں رُباب (ع)

    جب طاغوتی طاقتوں اور ظلم و بریریت سے نظامِ حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ ماہ کے بچے کی قربانی بھی دینی پڑے تو ضروری ہے نظامِ حق کی بقا کیلئے یہ بھی لازم ہے اگر ہم آئے  دن عالمی تناظر میں دیکھیں تو فلسطین اور آزاد جموں کشمیر میں نظام حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ چھ ماہ بچوں کی قربانیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ اِس کا آغاز بھی یومِ عاشورہ کربلا سے ہوا تھا ۔ اِسی تناظر میں اُن کا ایک یہ شعر بطور نمونہ پیش ہے ۔

    راہِ حق پر دیا بیٹا وہ تھا معصوم (ع) چھ ماہ کا 

    کہا تھا فوجِ ظالم سے بچائیں گے نظامِ حق 

    مقبول ذکی مقبول جتنا خوبصورت شاعر ہے اُتنا خوبصورت انسان بھی ہے اِن کے علاوہ اُن کے مزید شعری مجموعے 

     ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ( فردیات) فروری 2024ء میں شائع ہوا 

    ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، ( اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری) 14 اگست 2024ء میں شائع ہوا 

    مقبول ذکی مقبول شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف تحقیقی مضامین پر مبنی کتابیں لکھ چکے ہیں  جو کہ ٫٫ شذراتِ مقبول ،، مضامین و تبصرے کی کتاب جنوری 2024ء میں شائع ہو چکی ہے ۔ تحقیق کے حوالے سے بھی منکیرہ میں اور دور دراز تک کے علاقوں میں ان کے ادبی طور پر روابط موجود ہیں جو کہ مقبول ذکی مقبول کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ وہ کئی دفعہ میرے ہاں جھوک شیرازی ، جھنگ میں تشریف لائے اور جھنگ کے مختلف ادبی پروگراموں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور میرے ساتھ تو اُن کا ایک خاص عشق کا رشتہ ہے جو ہم کو جوڑے رکھتا ہے تحقیق کے حوالے سے جو اُن کی مختلف ادبی شخصیات سے ملاقاتیں  رہی ہیں اُن کو ترتیب دے کر انٹرویوز کی شکل بنا کر اُن کو کتابی صورت میں شائع کر کے عظیم ادبی سرمائے کو محفوظ کیا اور ایک ادبی تاریخ مرتب کی ٫٫ سُنہرے لوگ ،، جون 2023ء اور ٫٫ روشن چہرے ،، جولائی 2023ء 

    اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ٫٫ اعترافِ فن ،، عاصم بخاری تحقیق و تنقید پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو یکم جنوری 2024ء  میں چھپ چکی ہے اُس کے ساتھ ساتھ ٫٫ عاصم بخاری : شخصیت اور شاعر ،، کے نام سے کتاب فروری 2025ء  میں چھپ چکی ہے ۔ یہ بھی مقبول ذکی مقبول کی تحقیق کا سر چشمہ ہے ۔ ٫٫ سید حُب دار قائم  : جگمگاتا ستارہ ،، کے عنوان سے ایک کتاب فروری 2025گء  میں شائع کر کے مؤلف و محقق کے طور پر بھی سامنے آ چکے ہیں ۔ ادب کے میدان میں جب ہم مقبول ذکی مقبول بطور شاعر و ادیب اور محقق دیکھتے ہیں تو اُن کی شخصیت واضح طور پر سامنے آتی ہے ۔ 

    صحرائے تھل کی پیاس کو مقبول ذکی مقبول علم و ادب سے  بجھانے کیلئے سر گرداں ہیں ۔ ذہنی سکون اور ادبی مسرت کیلئے شعر و ادب تخلیق کر کے اپنی دھرتی کے ساتھ محبت کا قرض اُتارنے کی کوشش کر رہیں ہیں ۔ ہر انسان پر اُس کے علاقہ کی مٹی کا حق ہوتا ہے ۔ جس نے اُس کو جنم دیا ہوتا ہے ۔ اُس کا قرض اُتارنا بھی واجب ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی سعی و کوشش اسی قرض کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔

  • تعبیر نور: مجموعہ حمد و نعت 

    تعبیر نور: مجموعہ حمد و نعت 

    تعبیر نور: مجموعہ حمد و نعت 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی  

    سیدہ پروین زینب سروری کی حمد و نعت پر مبنی اردو شعری مجموعہ "تعبیر نور” کے نام سے نعتیہ ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ 332 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نعت آشنا لاہور کی پیشکش ہے اور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ اقدس میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کی سیدہ پروین زینب سروری کی ایک خوبصورت نذرانہ عقیدت ہے۔ کتاب کی ابتدا حمد شریف سے ہوتی ہے، جس کے بعد نعتیہ کلام شامل ہے۔ اس شعری مجموعے کی اہمیت کو مزید بڑھانے کے لیے ممتاز ناقدین اور اہلِ قلم نے اس پر تفصیلی تبصرے اور تحقیقی مضامین تحریر کیے ہیں، جن میں ڈاکٹر جاوید احمد سروری قادری (ورجینیا، امریکہ)، صبیح رحمانی اور سید مقصود علی شاہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، افنان کریم کنڈی نے اس کا ابتدائیہ تحریر کیا ہے، جس میں شاعرہ کے فکری و فنی اسلوب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    سیدہ پروین زینب سروری کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو ان کا خالص عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر نعت لکھنا ہے، جو ان کے کلام کے ہر شعر میں جھلکتا ہے۔ وہ محض روایتی نعت گو ہی نہیں، بلکہ ان کے اشعار میں ایک گہری فکری وابستگی اور ایمانی جذبہ بھی نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں نعت محض الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی ایک روحانی کیفیات کا اظہار بھی ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں درج ذیل خصوصیات نمایاں ہیں

    تعبیر نور: مجموعہ حمد و نعت

    ان کی نعتیہ شاعری میں عشقِ رسول ﷺ کی ایک ایسی کیفیت نظر آتی ہے جو کسی بھی قاری کے دل میں جذب و کیف کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔

    چونکہ شاعرہ کا تعلق ایک دینی و روحانی ماحول سے ہے، اس لیے ان کے کلام میں تصوف کا اثر نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔

    ان کی نعتیں نہ صرف روایتی نعتیہ اسلوب کی حامل ہیں، بلکہ انہوں نے کئی طویل نعتیہ نظمیں بھی تحریر کی ہیں جو نعت گوئی کے میدان میں ایک تازہ اضافہ ہیں۔

    ان کے کلام میں لفظوں کی سادگی اور معنویت کی گہرائی قابلِ تحسین ہے۔

    رفاہ یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز ریاض مجید کے مطابق سیدہ پروین زینب سروری کی شاعری نہ صرف اردو نعت کا معاصر منظرنامہ روشن کر رہی ہے، بلکہ خواتین نعت گو شاعرات میں بھی ایک نمایاں اضافہ ہے۔ ان کے مطابق، شاعرہ کی تخلیقی کارکردگی کو باقاعدہ تحقیقی سطح پر سراہا جا چکا ہے اور ان کی نعتیہ شاعری کے ادبی، فکری اور فنی پہلوؤں پر ایک تفصیلی مقالہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

    محفلِ نعت پاکستان کے سیکریٹری عرش ہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ شاعرہ ایک سچے جذبات کی حامل نعت گو ہیں۔ وہ نعت محض لکھتی نہیں بلکہ ان پر وجدانی کیفیت غالب رہتی ہے۔ ان کی شاعری میں عشقِ رسول ﷺ کی جو گہرائی اور تاثیر ہے، وہ انہیں معاصر نعت گو خواتین میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

    یہ کتاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں نعتیہ ادب کی نئی جہتیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ قاری جب ان کے اشعار پڑھتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ یہ نعتیں صرف تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہی نہیں بلکہ ایک روحانی واردات کا نتیجہ بھی ہیں۔ شاعرہ نے نعت میں مقبول و مستند اسالیب کے ساتھ ساتھ نئے طرزِ احساس کو بھی جگہ دی ہے، جس سے اردو نعت کا دامن مزید وسیع اور ثروت مند ہوا ہے۔

    یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پہلے بھی شاعرہ کے تین نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں ان کی گزشتہ کتاب "قندیل نور” کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ "تعبیر نور” اس سلسلے کی ایک اور اہم کڑی ہے، جو ان کی نعتیہ شاعری کے ارتقائی سفر کو نمایاں کرتی ہے۔

    سیدہ پروین زینب سروری کی نعتیہ شاعری نہ صرف محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے، بلکہ اردو نعت میں ایک نیا فکری اور فنی زاویہ بھی متعارف کراتی ہے۔ ان کا کلام عقیدت، سادگی، روانی، جذبات کی شدت اور فنی پختگی کا حسین امتزاج ہے۔ امید ہے کہ "تعبیر نور” آئندہ بھی نعتیہ ادب میں تحقیق و تنقید کے نئے دروازے کھولے گی اور اردو نعت کی روایت کو مزید تقویت بخشے گی۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ شاعرہ کو مزید کامیابیوں سے نوازے اور ہمیں عشقِ رسول ﷺ کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ آمین! میں شاعرہ کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں

  • مرشدِ دشت کا طالب

    مرشدِ دشت کا طالب

    مرشدِ دشت کا طالب


    تبصرہ نگار : سید حبدار قائم

    ہے یاد مجھے نکتہ سلمانِ خوش آہنگ
    دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ
    چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسس
    جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ

    الہام پر الفاظ کی برسات اور اس کی صوتی ترنگ اشعار کو جب مہمیز کرتی ہے تو قاری کے وجدان اور فکر و نظر پر گہرا اثر پڑتا ہے شعر چند الفاظ کا باوزن ہونا ہی نہیں ہے بل کہ یہ ایک قلبی واردات کا نام ہے جو قلب و روح کی امتزاجی کیفیت سے جنم لیتا ہے جو بامقصد آفاقی پیغام ہوتا ہے شاعر انسانی بیگاڑ کو درست کرنے کے لیے شعر کہتا ہے ایک اچھا شعر دل پر اثر کرتا ہے
    مطلوب حسین طالب نے الہام اور جہد مسلسل سے اشعار کشید کیے ہیں جو الہام پر برسنے والی خدا کی عطا ہے
    انہوں نے حیات کی تلخی سے لطف اٹھا کر درد کو شکست دی ہے جو ساری زندگی درد کے سامنے چٹان بن کر کھڑے رہے ہیں کبھی یہ درد والدین کی موت بن کر سامنے آیا تو کبھی یہ درد فالج کی صورت میں آ کر لڑا کبھی یہ درد معاشی مسائل کی گھٹن کی صورت میں آیا اور کبھی یہ درد اپنوں کی بے وفائ کی صورت میں سامنے آیا لیکن درد ہمیشہ شکست کھاتا رہا اور مطلوب حسین طالب جیت کر اس سے لطف و رعنائ کشید کرتے رہے یہی لطف وہ قرطاس پر اشعار کی صورت میں منتقل کرتے رہے جو ان کی پہچان بن گیا اور ان کا نام شعر کی صورت میں ہمیشہ زندہ ہو گیا یہی آب حیات کا جام ہے جو انہوں نے پی لیا ہے

    مطلوب حسین طالب سے میری ملاقات سوشل میڈیا پر ہوئی سوشل میڈیا پر مطلوب حسین طالب نے میری کئی انعات پر کومنٹ کیا تو میں نے ان کا شکریہ ادا دیا انہوں نے مجھ سے میرا فون نمبر مانگا تو انہیں میں نے فون نمبر دیا جب وہ مجھے کال کرتے تھے مجھے ان سے بات کرنے سے تھوڑی سی دقت محسوس ہوتی تھی کیونکہ جب وہ بات کرتے تھے تو اس وقت ان کی زبان ہکلاہٹ کا شکار ہو جاتی تھی جس سے مجھے ان کے الفاظ سمجھ نہیں آتے تھے چونکہ ان کو فالج کا عارضہ تھا اور وہ بات صحیح طرح نہیں کر سکتے تھے اس چیز کا مجھ پر بہت گہرا اثر پڑتا تھا اور میں دکھی ہو جاتا تھا کیونکہ وہ فون کر کے بات نہیں کر سکتے تھے پھر بھی میں ان سے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ زبان گرفتہ تھے اور بات زیادہ دیر نہیں کر پاتے تھے شاعری کی وجہ سے ہی انہوں نے مجھ سے روابط قائم کیے
    میں نے سوشل میڈیا کے بعد کتاب ھذا میں ان کی شاعری پڑھی ہے جو ان کے کلام کو جمع کر کے ندیم صاحب کتابی صورت دے رہے ہیں اس مجموعہ ء غزل میں ان کے بہت ہی اچھے اشعار پڑھنے کو ملے ہیں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ مطلوب حسین طالب کی شاعری میں بلاغت بھی ہے سلاست بھی ہے وارفتگی سے وہ جتنے شعر لکھتے ہیں وہ سہل ممتنع کا بہت عمدہ شاہکار ہوتے ہیں ان کی شاعری پڑھتے وقت مجھے محسوس ہوا کہ وہ شعر بہت سلیقے سے کہتے ہیں
    کئی بار میں نے دیکھا ہے کہ وہ جب شعر کہتے ہیں تو شعر میں ان کا اپنا درد جھلکتا ہے اسی درد سے ایک نئ لذت کشید کر کے شعر میں ایک نیا رنگ بھر دیتے ییں انہوں نے نہ صرف اپنے بل کہ معاشرے کے درد بھی شاعری میں منتقل کر دیے ہیں اور اس درد کی کیفیت کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے ان کی شاعری میں معاشرے کا کرب ہے غریب لوگوں کا درد ہے مظلوم لوگوں کی سسکیاں اور آہیں ہیں ایسے لوگ جو اللہ تعالی کے دیے گۓ کسی امتحان کی زد میں ہوتے ہیں انہیں مطلوب حسین طالب حوصلہ دیتے ہیں اس وجہ سے وہ جب شعر کہتے ہیں تو ان کے شعر میں معاشرے کی جھلک نظر آتی ہے مطلوب حسین طالب کی شاعری میں درد کی کیفیت پائ جاتی ہے وہ جو لکھتے ہیں وہ درد نہ صرف معاشرے کا بل کہ ان کی اپنی ذات کا درد ہے معاشرے کی سسکیاں سمیٹ کر وہ شعر لکھتے ہیں ان کی شاعری میں ہجر بھی ہے اور وصال بھی ہے ان کی شاعری میں باغ بلبل پھول اور کائنات کے حسن و جمال کی جگہ حیات کی تلخی ہے ان کی شاعری ایسی شاعری ہے کہ جسے پڑھ کر انسان بور نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کو ایک عجیب سی طمانیت محسوس ہوتی ہے کیوں کہ ان کا جمالیاتی حسن اشعار میں ٹپکتا ہے ایسے شاعر کے لیے تقریظ لکھنا میرے لیے فخر کی بات ہے کیونکہ مطلوب حسین طالب ہمارے اٹک کا فخر تھے اور فخر رہیں گے کیونکہ انہوں نے کسی کی محتاجی کو برداشت نہیں کیا بلکہ وہ ہمیشہ ڈٹ کر کھڑے رہے اور انہوں نے اپنی تکالیف کو اپنے سخن کے بیچ میں آڑے نہیں آنے دیا اور انہوں نے زندگی کا سرکٹ چلانے کے لیے ملازمت کی ہے وہ جی پی او اٹک میں کام کرتے رہے ہیں روزانہ سفر کر کے آنا اور جانا ان کا معمول تھا وہ درد سے لڑتے رہے اپنی تکالیف سے لڑتے رہے لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلائے بلکہ حلال رزق اپنے بچوں کے لیے کمایا ہے اپنے خاندان کے لیے کمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سخن وری کا خوب صورت سفر طے کرتے رہے ہیں جس میں ان کے اساتذہ نے ان کی بھرپور مدد کی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت اچھا شعر کہنے لگے اور کئی مشاعروں میں انہوں نے شرکت کی ہے

    مرشدِ دشت کا طالب


    فتح جنگ کی دھرتی علم و ادب کی وجہ سے بہت زرخیز ہے اور اس میں کئی ایسے شاعر اور ادیب پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ملکی سطح پر اپنی پہچان کرائی اور اپنی دھرتی کا نام روشن کیا اسی دھرتی کے اوپر مطلوب حسین طالب بھی آۓ اور انہوں نے اپنا لوہا منوایا ان کی شاعری اور ان کی ادب کے ساتھ وابستگی ان کے شعور کو بلند تر مقام پر لے گئ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ مطلوب حسین طالب نے اپنے شعر کی وجہ سے اپنی پہچان بنائی ہے اور ان کا حلقہ احباب نہ صرف فتح جنگ تک محدود تھا بل کہ راولپنڈی اور اٹک میں دور دور تک ان کا شہرہ تھا اٹک کے کئی مشاعروں میں ان کو مدعو کیا گیا ہے بعد میں جب ان کی زبان اور جسم پر فالج کا اٹیک ہوا تو اس وقت ان کی زبان میں ہکلاہٹ پیدا ہو گئی اور وہ شعر کہنے سے معذور ہو گئے اس پریشانی کے ساتھ بھی مطلوب حسین طالب سوشل میڈیا پر متحرک رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر انہوں نے کافی لوگوں کے ساتھ تعلقات بھی بنائے سوشل میڈیا پر لوگ جتنی نگارشات لگاتے تھے ان پر آپ داد دیتے تھے اور کسی معاملے میں کنجوسی نہیں کرتے تھے مجھے مطلوب حسین طالب صاحب نے نعتوں پر کئی دفعہ بہت داد دی ہے اور مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی ہے لیکن بیچ میں ان کی مجبوری آڑے آگئی میں ان سے ذاتی طور پر ایک بار ہی ملاقات کر سکا مجھے ایسے افراد پر خوشی ہوتی ہے اور فخر محسوس ہوتا ہے کہ جو اپنی پریشانیوں اور اپنی تکالیف کو شکست دیتے ہیں مطلوب حسین طالب نے بہت جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی تمام تکالیف کو شکست دے کر انہوں نے اپنا نام پیدا کیا ہے یہ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو کہ شائع ہونے کے لیے بے تاب ہے اور شائع ہونے جا رہا ہے مطلوب صاحب کا جتنا حلقہء احباب ہے ان کو یہ شعری مجموعہ پسند آئے گا مجھے اس وقت بہت خوشی ہوئی ہے جب مجھے حاجی داؤد تابش صاحب نے اس پر تقریظ لکھنے کے لیے کہا میں نے کہا کہ میں اس قابل تو نہیں ہوں کہ مطلوب حسین طالب جیسے عظیم شخص کے لیے لکھ سکوں لیکن پھر بھی میرا یہ حق بنتا ہے کہ اپنے چند الفاظ ان کی شاعری پر لکھ دوں تاکہ میرے الفاظ بھی گواہی دیں کہ مطلوب حسین طالب کی خدمات کیا ہیں؟
    عقیل ملک صاحب اور داؤد تابش صاحب دونوں ایسے افراد ہیں کہ جنہوں نے ان کی شاعری کو دیکھا پرکھا اور اس کی کمپوزنگ میں جو غلطیاں سرزد ہوئیں وہ درست کی ہیں اور ان کے کلام کو کتاب کی صورت میں یکجا کیا ہے اب ان شاءاللہ العزیز جلد ہی یہ کتاب منصہ ء شہود پر آ جائے گی اور اس میں جتنے اشعار یا غزلیں لکھی گئی ہیں ان کو اگر پڑھیں تو مطلوب حسین طالب کی بالیدگی ء افکار سامنے آ جاتی ہے ماشاءاللہ انہوں نے بہت اچھی کتاب لکھی ہے ان کے شعر میں ندرت بھی ہے اور چاشنی بھی ہے ان کے اشعار بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ جہان علم و قلم میں جلوہ افروز ہو رہے ہیں جو ادب شناس لوگوں کو لطف دیں گے ان کی شاعری میں میں نے خصوصا یہ دیکھا ہے کہ جب آپ شعر کہتے ہیں تو اس میں نئے نئے ردیف استعمال کرتے ہیں ایسے نئے نئے ردیف دیکھ کر میرا بھی من چاہتا ہے کہ میں بھی یہی ردیف لے کر اپنی شاعری میں خوب صورتی لاؤں اور چاشنی پیدا کروں مطلوب حسین طالب کے طرح مصرع پر کلام لکھ کر میں فخر محسوس کروں گا ان شاءاللہ العزیز میں ماضی قریب میں ان کے طرح مصرع استعمال کروں گا اور اپنے شعری مجموعوں میں شامل کروں گا تاکہ مطلوب حسین طالب کا فن میری کتابوں میں بھی زندہ رہے اور بہت سارے لوگوں تک پہنچتا رہے بہرحال مجھے ان کی شاعری مہک افروز نظر آئی ہے اور اس مہک کو میں ختم نہیں ہونے دوں گا اور ان کے طرح مصرع اپنی شاعری میں استعمال کروں گا اور مجھے بہت خوشی ہوگی مطلوب حسین طالب کا طرح مصرع استعمال کر کے میں پوری دنیا کو بتاؤں گا کہ ہمارے اٹک میں ایسے قابل فخر شعرا پیدا ہوئے ہیں مطلوب حسین طالب کے بھائی ندیم صاحب میرے پاس آئے ہیں انہوں نے مجھ سے کتب بھی اپنی لائبریری کے لیے لی ہیں میں نے ان کو کتب پیش کی ہیں انہوں نے مطلوب حسین طالب کا وہ درد اور پیغام تمام دنیا تک پہنچایا ہے اور ان کا شعر و سخن دنیا تک پہنچانے کے لیے ان کی کتابیں شائع کی ہیں اور ان کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے ویسے تو مطلوب صاحب نے اپنے دور میں ہی اپنا نام زندہ کر لیا تھا کئی رسائل اور اخبارات میں کلام شائع ہونے کی وجہ سے بھی ان کا نام زندہ رہتا لیکن جو کوشش ندیم صاحب نے کی ہے اور ان کے ساتھ حاجی داؤد تابش اور عقیل ملک نےکی ہے یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کیونکہ وہ ایسے افراد ہیں کہ جن کا علم و ادب کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور ساری دنیا ان کی ادب پروری کو جانتی ہے فتح جنگ میں حاجی داؤد تابش صاحب نعت کا بہت بڑا اور معتبر نام ہے ان کی بہت ساری کتابیں آ چکی ہیں اور ان شاءاللہ العزیز مستقبل میں بھی آتی رہیں گی ان کا نام پڑھتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے وہ ادبی مجلے "میرے لفظ” کے مدیر اعلی بھی ہیں جس کی گونج بہت دور دور تک ہے اور اس مجلے میں بہت بڑی بڑی شخصیات کا کلام ہوتا ہے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور اساتذہ اس ادبی جریدے میں لکھتے ہیں تو مجھے یہ کہتے ہوئے بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے اٹک کی سرزمین پر ایسے پھول اگے ہیں جن کی خوشبو پوری دنیا میں پھیل رہی ہے مطلوب حسین طالب انہی چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کی خوشبو رہتی دنیا تک قائم رہے گی

    کتاب ھذا میں مطلوب حسین طالب نے جو خوبصورت ردیف استعمال کی ہیں ان میں:

    نعت ہوتی ہے، منگتوں میں، تھے، سے، نہیں ہے، کے روپ میں، کی طرح ہوں، شیشے کا ہے، سے فائدہ، تو ہوئی، جاۓ، ہوگۓ تھے، نہیں گرتا، ہوں، دیکھا نہ جاۓ، کے لیے، کی طرح، بنتی گئی، آتا ہے، والا، رہے ہیں، سے مجھے، ہے خدا جانے، کے کیا کریں، لگے مجھے، بیٹھے ہیں، کیا پوچھتے ہو دوستو، کر دیکھتے ہو دور سے، دو ہم کو، ملے، ہوتی ہے، نہیں میں، ایسا کبھی سوچا نہ تھا، کی، ملتا نہیں، ہے موت کی دہلیز پر، ایسا تھا، میرے، نہیں ہوتا، ہونا چاہیے، بٹھا دیا، ہوں گے، ہے، رہے ہیں، کی، سے، رہا ہوں میں، ہو گئے، تھامے ہوئے، موجود ہے۔ شامل ہیں
    ردیف کو نبھانا مشکل کام ہے لیکن مطلوب حسین طالب نے انہیں جس طرح نبھایا ہے اس نے خیال سخن پر ایک خوشکن تاثر چھوڑا ہے جس کے لیے وہ داد کے مستحق ہیں
    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و وارفتگی بھی ان کا خاصہ ہے وہ جب نعت رقم کرتے ہیں تو ان کے جذبات و احساسات یہی محسوس کرتے ہیں کہ:۔

    اگرچہ کہہ چکا ہوں نعت آقا اس سے پہلے بھی
    مگر ہر مرتبہ لگتا ہے پہلی نعت ہوتی ہے

    جب سلام کی بات آتی ہے تو ان کا کلام قاری کو رونے پر مجبور کر دیتا ہے اس شعر میں صنعت تلمیح استعمال کر کے کربلا کی جنگ کو ایک مصرع میں بند کر دیا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    کس طرح نو میل چل کر کوفے تک عابد گئے ایک تو بیمار تھے اور پاؤں میں زنجیر تھے

    اپنی محرومیوں کا ذکر کرتے ہوۓ کچھ اس طرح کہتے ہیں:۔

    کچھ اس لیے احباب میں معیار نہیں ہے حاصل مجھے شیرینی ء گفتار نہیں ہے

    معاشرے کے رویے انسان کو کرچی کرچی کر دیتے ہیں کیونکہ دنیا والے خود عمل کرتے نہیں ہیں لیکن دوسروں کو سمجھاتے نظر آتے ہیں لیکن مطلوب حسین طالب معاشرے کا یہ گھناونا روپ پہچان لیتے ہیں اور اس کو شعر کے دھنک رنگ میں یوں ڈھالتے ہیں:۔

    جو اپاہج گھومتے تھے شہر کی گلیوں میں روز
    پاس میرے آگئے ہیں اک عصا کے روپ میں

    ہمارا معاشرہ حسد اور کینے سے بھرا پڑا ہے کسی کا گھر جلنے پر ہنستے ہیں اور جب اجڑا ہوا وہی شخص سامنے آتا ہے تو ساتھ رونا شروع کر دیتے ہیں ایسے کرداروں کی پہچان اور فعل شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:۔

    میری بربادی پہ جن کے قہقہے تھمتے نہ تھے دیکھے تو آگئے ہیں آشنا کے روپ میں

    اپنی سسکیوں اور آہوں کو شعر کے سینا پر یوں پیوست کرتے ہیں:۔
    وہ جس کا جواں سال پسر ہو گیا رخصت اس روتی سسکتی ہوئی مادر کی طرح ہوں

    مطلوب حسین طالب کا حسن تخیل انہیں دوسرے شعرا سے ممتاز کرتا ہے ان کا رعنائ ء خیال دل کو چھوتا ہوا ذہن کی زنبیل میں میں اتر جاتا ہے قاری پڑھتا جاتا ہے اور حسن تخیل میں ڈوبتا جاتا ہے ان کے نگار خانہ ء شعر میں سلاست سے لبریز دھنگ رنگ مندرجہ ذیل اشعار میں ملاحظہ کیجیے:۔

    تنکے بکھریں گے مگر جلنے نہ پائے گا کبھی برق آئے گی تو میرا آشیاں شیشے کا ہے

    جب زیست ظلمتوں کی بسر ہو گئی تو اب مرکز پہ آ کے دیپ جلانے سے فائدہ

    اب جو طالب ہے گرد رہ ان کی
    یعنی اب خاک کیمیا تو ہوئی

    جس کے آنے سے غلامی کا ہے سورج ڈوبا کیسے اس ذات کا احسان بھلایا جائے

    لکھ گئے حسن پر جو قصیدے
    لوگ وہ بھی ادیب ہو گئے تھے

    جی کر نہیں گرتا کبھی مر کر نہیں گرتا
    سر سے میرے افلاس کا خنجر نہیں گرتا

    یا رب سر مسلم کو یہ اعزاز مبارک
    کٹ جائے تو کٹ جائے یہ جھک کر نہیں گرتا

    باطل ہے عدو میرا تو میں سینہ سپر ہوں میں ظلم کی اس رات میں امید سحر ہوں

    حق کو حق باطل کو باطل آج میں نے کہہ دیا
    جھوٹ کیوں آئے لبوں پر سر بچانے کے لیے

    مطلوب حسین طالب ہمیشہ راہنما کی صورت میں راہزن، درد بٹانے والے کی صورت میں درد دینے والا، خلوص کے پیکر لگنے والے کو بے اعتنا دیکھ کر دکھی ہو جاتے ہیں بھرتے ہوۓ زخم پھر ہرے دیکھ کر اپنا خون جگر اشعار کی کونپلوں پر چھڑک کر ایسے مہک افروز پھول کھلا دیتے ہیں:۔

    جو خود بھٹکتا رہا دن میں پاگلوں کی طرح
    وہ اجنبی مجھے ملتا ہے راہبروں کی طرح

    چھوڑ جاتا ہے ساتھ سایہ بھی
    جب کسی پر زوال آتا ہے

    لے گیا لوٹ کے وہ زیست کی ہر ایک خوشی یعنی دن رات میرے درد بٹانے والا

    بس وہ ایک شخص ہی طالب تھا بھری دنیا میں
    مجھ کو ہر گام پہ گرنے سے بچانے والا

    چھڑا لے آ کے کوئی ایسے رہبروں سے مجھے جو آشنا نہیں کرتے ہیں راستوں سے مجھے

    پگھل جاتے ہیں پتھر داستان سن کر
    ترا دل کیسا پتھر ہے خدا جانے

    چہرے جو خلوص کے پیکر لگے مجھے
    رہزن تھے راہ رو تھے جو راہبر لگے مجھے

    میرا تبصرہ طوالت کی راہوں پر گامزن ہے مطلوب حسین طالب کے ایسے بہت سارے اشعار ہیں جن پر بحث کی جا سکتی ہے کئ اشعار میں مختلف صنعتیں استعمال ہوئ ہیں جیسے صنعت تکرار صنعت تلمیںح وغیرہ جن کا ذکر مزید طوالت کا باعث بنے گا ہم یہاں کچھ اشعار قارئین کی سماعتوں کی نذر کرتے ہیں جن پر قارئین کی راۓ کا انتظار کریں گے کیوں کہ مطلوب حسین طالب کے فکر و نظر کی گلرنگ برساتیں جب قلم کی نوک پر برستی ہیں تو ایسے ایسے فرخندہ بخت اشعار موتیوں کی طرح کاغذ کی زرخیز زمین پر بکھرتے چلے جاتے ہیں کہ جن کا نور دل و روح کی کائنات کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے مطلوب حسین طالب کے نگار خانہ ٕ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل کو ان اشعار میں ملاحظہ فرمائیں:۔

    ایک دفعہ طالب کے پاس آ کر سنو رو داد غم پردہ چہرے سے ہٹا کر دیکھتے ہو دور سے

    یہ نہ ہو تم بھی غریبی کی سزا دو ہم کو یعنی ایک روز نگاہوں سے گرا دو ہم کو

    جو درویش ملے ہیں مجھ کو سارے ذی عرفان ملے
    ہاتھ میں جن کے کاسا تھا کچھ ایسے بھی سلطان ملے

    میری پیشانی جو سجدے میں پڑی ہوتی ہے صد شکر وہ شاہوں سے بڑی ہوتی ہے

    ٹھنڈی چھاؤں تو مقدر ہے بڑے لوگوں کی
    بے کسوں کے لیے بس دھوپ کڑی ہوتی ہے

    جب دھماکوں سے بکھر جاتی ہیں ہر سو لاشیں
    وہ حقیقت میں قیامت کی گھڑی ہوتی ہے

    زندگی بےچارگی اور بے بسی کے حال میں بانہیں پھیلائے پڑی ہے موت کی دہلیز پر

    تمہارے وصل کا موسم گزارا اس کے تلے
    ہرا بھرا ترے غم کا درخت ایسا تھا

    ان میں شامل تھی بناوٹ بھی دکھاوٹ بھی کہیں
    وہ جو گاتے تھے صبح و شام ترانے میرے

    نہ جانے کیا خطا سرزد ہوئی ہے مجھ سے اے ہمدم
    کہ میرے دکھ میں بھی وہ شخص اب شامل نہیں ہوتا

    یوں تجھ کو اپنے دل میں اے دل دلبر بٹھا دیا
    شیشے کے گھر میں جیسے یہ پتھر بٹھا دیا

    میرے احساس پہ اک برق سی آ گرتی ہے جب بھی سنتا ہوں صدا میں کسی شہنائی کی

    اتنے برے نہیں تھے کبھی ہم خدا گواہ
    جتنے تمہارے عشق میں مشہور ہو گئے

    آخر میں دعا کے طالب سید حبدار قائم کو اجازت دیجیے میرا اللہ پاک ہمیشہ مطلوب حسین طالب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں سکون عطا فرماۓ۔ آمین

  • کوئی شقُّ القمر کا معجزہ دکھلائے گا کیسے؟

    کوئی شقُّ القمر کا معجزہ دکھلائے گا کیسے؟

    کوئی شقُّ القمر کا معجزہ دکھلائے گا کیسے؟

    کوئی شقُّ القمر کا معجزہ دکھلائے گا کیسے؟
    مرے سرکار ﷺ کا ثانی زمانہ لائے گا کیسے؟

    مدینے کا تصوّر جاگُزیں رہتا ہو جس دل میں
    خیالِ گردشِ دوراں اُسے اُلجھائے گا کیسے؟

    نبی ﷺ کی سنّتیں یہ درس دیں گی ہر مسلماں کو
    پیے گا کس طرح پانی، وہ کھانا کھائے گا کیسے؟

    ہمیں اُس سبز گنبد سے محبّت ہی کچھ ایسی ہے
    نگاہوں کو ہماری رنگِ دیگر بھائے گا کیسے؟

    رسولِ پاک ﷺ خود صدّیقؓ سے کہتے ہیں "لاتحزن”
    خدا اب دیکھنا اُن کی مدد فرمائے گا کیسے؟

    مدینے کی مسافت میں ہوں سب سے پوچھتا جاتا
    مدینہ آئے گا کب تک، مدینہ آئے گا کیسے؟

    قیامت تک چمکنا اور دمکنا اِس کی منزل ہے
    مہِ ختمِ رسالت ﷺ ہے تو پھر گہنائے گا کیسے؟

    درود اُن کی مبارک ذات پر پڑھ کر کبھی دیکھو
    یہ بادل نور کی برسات میں نہلائے گا کیسے؟

    اگر یہ دل نہ اُن کے عشق میں سرشار ہو یاورؔ!
    تو مجھ کو نعت کہنے کا سلیقہ آئے گا کیسے؟

  • دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے

    دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے

    دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے

    دکھایا خواب میں جلوہ مجھے ہر بار آقا ﷺ نے
    عطا کر دی ہے مجھ کو دولتِ بیدار آقا ﷺ نے

    یہ شہرِ آرزو پہلے بہت ویران لگتا تھا
    مرصّع کر دیے اِس کے در و دیوار آقا ﷺ نے

    یہ میری خوش نصیبی ہے، یہی میری سعادت ہے
    مرا دل رکھ لیا آ کر مرے دلدار آقا ﷺ نے

    میں چشمے ڈھونڈتا پھرتا تھا دشتِ زندگانی میں
    مرے من کو تسلّی دی مرے منٹھار آقا ﷺ نے

    صحابہؓ اور بھی موجود تھے ہجرت کی شب لیکن
    لقب صدیقؓ کا چاہا تھا یارِ غار آقا ﷺ نے

    یہ جو عورت کے حق کی بات کرتے ہیں ذرا پڑھ لیں
    کیا ہے کس قدر بیٹی سے اپنی پیار آقا ﷺ نے

    یہی معراجِ انساں تھی، یہی تھی شانِ پیغمبر ﷺ
    وہ جس دن روک دی تھی وقت کی رفتار آقا ﷺ نے

    میں ظالم حکمراں کے سامنے کہتا ہوں حرفِ حق
    عطا کی ہے مجھے یہ جُرْأَتِ گفتار آقا ﷺ نے

    یہ مجھ ناچیز پر اُن کی کرم فرمائی ہے یاور!
    حروفِ نعت کو بخشی ہے جو مہکار آقا ﷺ نے

    Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • یا نبی ﷺ میری طلب سے مجھے بڑھ کر دے دیں

    یا نبی ﷺ میری طلب سے مجھے بڑھ کر دے دیں

    یا نبی ﷺ میری طلب سے مجھے بڑھ کر دے دیں

    یا نبی ﷺ میری طلب سے مجھے بڑھ کر دے دیں
    میں کہ قطرہ ہوں مجھے ایک سمندر دے دیں

    دل شکستہ ہوں بہت پستیء حالات سے میں
    میرے شہبازِ مقدّر کو نئے پر دے دیں

    شربتِ دید جو اک بار پلایا تھا مجھے
    دل یہ کہتا ہے وہی جام مکرّر دے دیں

    میرے اندر جو کثافت ہے نکل جائے سب
    فصدِ جاں کھولنے والا کوئی نشتر دے دیں

    بخدا میرے پیمبر ﷺ تھے امین و صادق
    تُو کہے تو یہ گواہی تجھے کافر دے دیں

    جن سے آتی ہو مجھے خاکِ مدینہ کی مہک
    میری سوچوں کو وہ گل ہائے معطّر دے دیں

    وہ کبوتر جو مدینے کی طرف بھیجے ہیں
    واپس آئیں تو مجھے نامہء دل بر ﷺ دے دیں

    اپنے آقا ﷺ سے مدد مانگ رہے ہیں ہر وقت
    کاش ہم مغربی تہذیب کو ٹکّر دے دیں

    وہ ترنّم سے ابھی نعت نہیں پڑھ سکتا
    اپنے یاورؔ کو لبِ زمزمہ پرور دے دیں

  • نعتیہ مشاعرے کی روداد

    نعتیہ مشاعرے کی روداد

    نعتیہ مشاعرے کی روداد

    راقم: سید  حبدار قائم

    معروف صحافی اور کالم نگار ملک ممریزخان نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد 13 رجب 2025  کو  اپنے گھر میں نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام کیا  اٹک کی پچیس سال سے کوشاں ادبی تنظیم کاروانِ قلم ایک بار پھر متحرک نظر آئ  اور اس نے اس روحانی محفل میں مکمل تعاون اور بے لوث عقیدت سے رنگ بھر دیے

     مشاعرے کی نظامت کے فرائض کاروانِ قلم کے روح رواں شاعر و ادیب نزاکت علی نازک نے ادا کیے

    تلاوت اور نعت کا اعزاز نعلین حیدر سلطان کو حاصل ہوا اس نعتیہ مشاعرہ کی صدارت عالمی نعت گو شاعر و ادیب سید شاکر القادری چشتی نظامی  نے کی اور اس مشاعرے میں مہمانِ خصوصی عالمی نعت گو  شاعر و ادیب  سعادت حسن آس تھے معروف شاعر  نادر وحید کالم نگار و شاعر اقبال زرقاش اور نعت گو شاعر و ادیب سید حبدار قائم کے علاوہ راجہ مختار بھی مشاعرہ میں شریک ہوۓ

    نعتیہ مشاعرے کی روداد

    ملک ممریز خان نے مشاعرے کو معروف نعت گو شاعر حضرت نذر صابریؒ کے نام کر دیا اور ان کی خدمات کا ذکر کیا 

    شعرا کے سخن پاروں کی بات کی جاۓ تو ہر شاعر نے اپنے بے مثال کلام پر بہت داد سمیٹی جن میں سے چند شعرا کا کلام قارئین کی نذر کرتا ہوں

    کاروان قلم کے روحِ رواں نزاکت علی نازک نے

    منقبت کے یہ اشعار پیش کیے

    کعبے کے مقدر  میں علی آۓ ، علی بس

    یہ  تاج  ولایت کا  علی  پاۓ ، علی   بس

    سرکار کے ہاتھوں پہ جو مسکاۓ علی بس

    سرکار کے کاندھوں پہ جو لہراۓ علی بس

    بس  تاج  ولایت  کا  علی  پاۓ  ہوۓ  ہیں

    کعبے  کی  زیارت  کو  علی  آۓ  ہوۓ ہیں

    دوسرے شاعر اقبال زرقاش تھے جن کے خوبصورت کلام نے سماں باندھ دیا جو کہ نذرِ قارئین کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے

    ظلمات کو مٹانے سرکار آپؐ آۓ

    حق راستہ دکھانے سرکار آپؐ آۓ

    ظلم و ستم کے ہاتھوں غرقاب آدمی تھا

    انسان اسے بنانے سرکار آپؐ آۓ

    وحشت کے راستوں میں جو قتل ہو رہے تھے

    غم سے انہیں چھڑانے سرکار آپؐ آۓ

    زرقاش جس کسی نے سرکار کو پکارا

    اس کے غریب خانے سرکار آپؐ آۓ

    اقبال زرقاش کے بعد سید حبدار قائم نے سب سے پہلے منقبت کے اشعار پیش کیے اور اس کے بعد نعت رسول مقبول صلى الله عليه واله وسلم پیش کی ملاحظہ کیجیے

    زمین سے نظر ہٹی، گئی فلک سے پار جب

    جہاں گئی جدھر گئی نظر کہے علیؑ علیؑ

    علی مری تو سانس میں اتر گئے کچھ اس طرح

    یہ تن کہے، یہ من کہے، جگر کہے علیؑ علیؑ

    ضیائے شمس میں گیا، نگاہِ شمس نے کہا

    چلو گے جس طرف بھی رہگزر کہے علیؑ علیؑ

    سید حبدار قائم کی نعت کے چند اشعار بھی ملاحظہ کیجیے

    چل پڑے کاروان کرنوں کے

    سوئے طیبہ مکان کرنوں کے

    خواب میں اُنؐ سے ہوں ملاقاتیں

    دل میں ہیں سب گمان کرنوں کے

    جن میں سرورؐ کے پاک جلوے ہیں

    وہ ہیں رب کے جہان کرنوں کے

    جس جگہ آپؐ نے قدم رکھے

    اب وہاں ہیں نشان کرنوں کے

    معروف شاعر نادر وحید نے بھی ایک خوبصورت کلام پڑھا جو قارئین کی نذر کرتا ہوں 

    پتہ چلے گا ذرا سا کرے جو غور کوئی 

    علی علی ہے علی سا نہیں ہے اور کوئی 

    علی کا ذکر کیا کر کہ یہ عبادت ہے 

    علی کی دھن میں جیا کر کہ یہ عبادت ہے 

    علی کا نقش کف پا بھی احترام کے ساتھ 

    ملے تو چوم لیا کر کہ یہ عبادت ہے

    مشاعرے کے مہمانِ خصوصی اٹک شہر کے معمر نعت گو شاعر سعادت حسن آس نے منقبت اور نعت پیش کی انہوں نے منقبت پر بہت داد سمیٹی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا کلام سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے

    دنیائے مودت کی ہے پرواز علی سے

     پایا ہے دو عالم کا ہر اک راز علی سے 

     ہجرت میں نبوت کی تھی ہم راز ولایت 

    افشا یہ ہوا صبح و مسا راز علی سے

     مرحب کیا تلوار سے دولخت برابر

     سیکھو تو مساوات کا انداز علی سے

    مہمانِ خصوصی سعادت حسن آس کی نعت سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے

    آپ نے جس کی کہی ہے رحمت اللعالمین

    کیا! گھڑی وہ آ گئ ہے  رحمت اللعالمین

    آپ کے ارشاد ظاہر ہو رہے ہیں چار سو

    جھوث پر مبنی ہوئ ہر آدمی کی گفتگو

    ساری ںرکت اٹھ رہی ہے  رحمت اللعالمین

    کیا! گھڑی وہ آ گئ ہے  رحمت اللعالمین

    صدرِ محفل سید شاکر القادری چشتی نظامی کا اسلوب سب سے جدا تھا وہ پہلے حدیث پڑھتے پھر اس کا ترجمہ کرتے پھر اسے منظوم کر کے پیش کرتے سامعین نے ان کے کلام سے بہت لطف اٹھایا ان کے کلام سے چند سطور قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے

    فرماتے ہیں خدریؓ کہ ہم انصار مدینہ 

    رکھتے تھے منافق کی پرکھ کا یہ قرینہ 

    بد باطن و عیار سمجھ لیتے تھے اس کو 

    جس کو علی سے حسد و نفرت و کینہ

     تھے یارِ وفادار فدائی بھائی 

    انصار و مہاجر سبھی بھائی بھائی

     پیغمبر اکرم نے یہ فرمایا علی سے 

    دارین میں تم ہو میرے بھائی بھائی

     پیغمبرِ ذیشان کا فرمانِ جلی ہے

    بے شبہ علی سے ہوں میں اور مجھ سے علی ہے 

    کوئی مری جانب سے ادا کر نہیں سکتا 

    الا کہ میں خود یا میری جانب سے علی ہے

    نعتیہ مشاعرے کے آخر میں سید شاکر القادری نے ملک و قوم کے لیے دعا مانگی اور مشاعرے کی کاروائ کا اختتام کیا حاضرین مجلس کے لیے ملک ممریز خان نے ایک پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا ہوا تھا جسے سب نے تناول کیا اس طرح ایک روحانی محفل کا اختتام ہوا

  • ثاقب علوی کی نعت گوئی 

    ثاقب علوی کی نعت گوئی 

    ثاقب علوی کی نعت گوئی 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    ثاقب علوی کا شمار اردو کے ممتاز نعت گو شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں 

    "قلبِ مُضطَر احتیاط، اے چشمِ گِریاں احتیاط!

    بارگاہِ مُصطفیٰﷺ‌ ہے فکرِ ناداں! احتیاط!”

    ان کی یہ نعت دیگر شعرا کے کے لیے ایک عمدہ مثال ہے کہ کس طرح عشقِ رسول مقبول ﷺ کے جذبات کو نہایت ادب، احترام، مبالغہ آرائی سے پاک اور انتہائی احتیاط کے ساتھ بیان کیا جا گیا ہے۔ اس نعت میں بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب اور اُس کی عظمت کو دلکش اور تعظیمی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    ان کی نعت میں ادب و احترام کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ ہر نعتیہ شعر میں احتیاط اور ادب کا تذکرہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے جو نعتیہ شاعری کی بنیادی خصوصیت ہے۔ شاعر نے بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ کے آداب کو نہایت تعظیمی انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جیسے:

    "با وُضُو ہر لفظ ان کی عقیدت میں گُندھا

    ذکرِ سرکارِ دو عالم ﷺ ہے، سخن داں! احتیاط!”

    ثاقب علوی کی نعت میں قرآنی تعلیمات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ نعت میں قرآنی آیت "لَا تَرْفَعُوا اَصْوَاتَکُمْ” کا ذکر بارگاہِ رسالت ﷺ کے احترام کو مزید گہرائی بخشتا ہے۔

    نعتیہ اشعار میں تشبیہات اور استعارات کا خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے، جیسے "چشمِ گِریاں” اور "نگہِ حیراں” وغیرہ وغیرہ۔ نعت کے یہ الفاظ بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں شاعر کی عاجزی اور احترام کے جذبات کو واضح کرتے ہیں۔

    ثاقب علوی کے نعت کا وزن اور بحر دونوں نہایت موزوں ہیں جو پڑھنے والے کو روحانی سکون فراہم کرتے ہیں۔

    ثاقب علوی نے نعت میں عشقِ رسول مقبول ﷺ کے جذبات کو نہایت احتیاط اور ادب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہر شعر میں یہ پیغام موجود ہے کہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہر عمل، ہر لفظ اور ہر سوچ کو نہایت احتیاط سے ادا کرنا چاہیے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیئے:

    "جس درِ دولت پہ ہیں محتاط جبرائیل بھی 

    دیکھ اے ثاقب! ہے تُو اُس در کا مہماں، احتیاط!”

    یہ شعر شاعر کی گہری عقیدت اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے مقام کو سمجھنے کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔

    یہ نعت دل کو چھو لینے والی بہترین نعت ہے اور شاعر نے بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب و احترام کے جذبے کو ایک منفرد انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ثاقب علوی کی زبان کی سادگی، ادب، احترام اور گہرائی قاری کو روحانی سکون اور بارگاہِ رسالت ﷺ سے محبت کا درس دیتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ثاقب علوی کی نعت پیش خدمت ہے۔ 

    *

    نعت رسول مقبول ﷺ 

    *

    قلبِ مُضطَر احتیاط، اے چشمِ گِریاں احتیاط!

    بارگاہِ مُصطفیٰﷺ‌ ہے فکرِ ناداں! احتیاط!

    ان کے قدموں میں نکلنے کے بھی کچھ آداب ہیں

    ہو کے سر تا پا مُؤدَّب اے مِری جاں! احتیاط!

    با وُضُو ہر لفظ ان کی عقیدت میں گُندھا

    ذکرِ سرکارِ دو عالمﷺ‌ ہے، سخن داں! احتیاط!

    بے خبر ماحول سے ہو کر جھکی رہنا یہاں

    رُو بہ روئے شاہِ دیںﷺ‌ اے نگہِ حیراں! احتیاط!

    دیکھ! اس در پر نہیں ہے اتنی بے تابی روا

    اے مچلتی روح کے بے چین ارماں! احتیاط!

    سوچنا بھی احتیاطاً، احتیاطاً بولنا!

    در پہ آقاﷺ‌ کے ہے لازم تا بہ امکاں احتیاط

    اس مقدس خاک میں ملنا تجھے جچتا نہیں

    آنکھ سے گرتے مرے اشکِ پشیماں! احتیاط!

    ہر گھڑی ہو سامنے "لَا تَرْفَعُوا اَصْوَاتَکُمْ”

    اس درِ اقدس پہ ہے تعلیمِ قرآں، احتیاط!

    جس درِ دولت پہ ہیں محتاط جبرائیل بھی

    دیکھ اے ثاقب! ہے تُو اُس در کا مہماں، احتیاط!

  • اب آپ ﷺ کے کوچے سے قدَم اٹھ نہیں سکتا

    اب آپ ﷺ کے کوچے سے قدَم اٹھ نہیں سکتا

    اب آپ ﷺ کے کوچے سے قدَم اٹھ نہیں سکتا

    اب آپ ﷺ کے کوچے سے قدَم اٹھ نہیں سکتا
    چوکھٹ سے میں چوکھٹ کی قَسَم اٹھ نہیں سکتا

    مژگانِ محمد ﷺ یہ عنایت نہ کریں تو
    سینے سے مرے خارِ الَم اٹھ نہیں سکتا

    کیا سہل تھا اُن ﷺ کو غمِ امّت کا اُٹھانا؟
    مجھ سے تو مری آنکھ کا نَم اٹھ نہیں سکتا

    یہ سوچ کے جاتا ہوں مدینے کی طرف میں
    آقا ﷺ کی جدائی کا یہ غَم اٹھ نہیں سکتا

    یہ بات ہے من جملہء آدابِ رسالت ﷺ
    بِن اُن ﷺ کی اجازت کے قلَم اٹھ نہیں سکتا

    بس آپ ﷺ کی رویت کی دعا مانگ رہا ہوں
    بیٹھا ہوں سرِ صحنِ حَرَم، اٹھ نہیں سکتا

    ہر شام نکھرتی ہے تصور میں نبی ﷺ کے
    جب تک نہ کروں نعت رَقَم، اٹھ نہیں سکتا

    جو ہو ترے روضے کی زیارت سے مشرّف
    اُس آنکھ سے احسانِ اِرَم اٹھ نہیں سکتا

    وہ شخص مسلماں ہی نہیں جس سے کہ یاور!
    ناموسِ رسالت ﷺ کا عَلَم اٹھ نہیں سکتا

    Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • نعتیہ مشاعرہ

    نعتیہ مشاعرہ

    نعتیہ مشاعرہ

    رپورٹ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام نعتیہ نشست کا اہتمام مقبول ذکی مقبول کی رہائش گاہ بستی شمالی وارڈ نمبر 8 محلہ چھینہ والا منکیرہ ( بھکر) میں کیا گیا ۔ نعتیہ نشست کا اہتمام بزمِ اوجِ ادب نے کیا زیرِ صدارت سرائیکی کے نام ور شاعر بزرگ سردار خادم حسین مخفی تھے مہمانِ خصوصی نادر لاشاری ( صدارتی ایوارڈ یافتہ) تھے نعتیہ نشست کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت وارث چھینہ نے حاصل کی اور نظامت کے فرائض بھی بخوبی سر انجام دیئے ۔ صدارتی خطاب کے دوران سردار خادم حسین مخفی نے کہا ایسی روحانی و نورانی محفل میں شرکت کر کے بہت خوشی ہوئی ہے اور بزمِ اوجِ ادب ، منکیرہ (بھکر) چیئرمین مقبول ذکی مقبول کی محبت ہی تو ہے جو بہاولپور سے یہاں منکیرہ (بھکر) میں مجھے کھینچ لائی ہے مہمانِ خصوصی روہی سے تشریف لائے ہوئے صدارتی ( ایوارڈ یافتہ) سرائیکی کے معروف بزرگ شاعر نادر لاشاری نے کہا یہ نعتیہ مختصر اور منظور و مقبول نشست ہے جس میں ذکرِ پاک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا جہان و دنیا کی محفلوں سے افضل ہے اور اس پر بزمِ اوجِ ادب کے عہدے داران مبارک باد کے مستحق ہیں سردار خادم حسین مخفی نے اپنے نعتیہ کلام سے نعتیہ نشست کو چار چاند لگا دیئے ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں

    نعتیہ مشاعرہ

    جے تلک ہووے نہ مخفی دل دے وچ حبِ رسول ﷺ
    او تلک تھیندی نئیں کئیں دی عبادت کوئی قبول
    ہِن اے ہے پنجتن ( ع) فقط مقصود کائنات دا
    مصطفیٰ ﷺ شیرِ خدا ( ع) حسنین ( ع) تے بی بی بتول ( ع)
    (سردار خادم حسین مخفی)

    روہی سے آئے ہوئے بزرگ شاعر چہرے پر نورانیت جھلک رہی تھی نعتیہ کلام بڑے جوش و جذبے کے ساتھ سنا رہے تھے محفل میں سب نے خوب داد دے رہے تھے ان کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں ۔

    میں کتھاں میڈی قسمت دی جرات کتھاں
    اے کہیئں دی دعا دا ہے نادر اثر
    ساری دنیا کینوں عیب میڈے گنڑے
    حاضری میڈی سہوہنڑے دے در تھی گئی

    (نادر لاشاری)

    مقبول ذکی مقبول نے جہاں نعتیہ کلام پیش کیا وہاں نماز کے حوالے سے ایک ڈوہرہ سنایا جس سے محفل میں حاضرین نے خوب سراہا اور حوصلہ افزائی کی وہی ڈوہڑہ ملاحظہ فرمائیں ۔

    ہر وقت کھلائے رحمٰن دا ، در کوئی جہڑے وقت وی آوے
    تکبیر آواز بلند کر کے وت حمد خدا سنواوے
    سب کیتیاں کوں کر معاف ڈیندائے جو سر دل نال جھکا وے
    مقبول رکوع تے سجدے وچ بیھٹا خالق نال الا وے

    (مقبول ذکی مقبول)

    وارث چھینہ نے نظامت کے دوران شاعر کو دعوتِ کلام دینے سے پہلے مختلف شعراء کا نعتیہ اشعار سناتے رہے ہیں وہاں اپنے قلم سے لکھا ہوا قطعہ جو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ہم شکل حضرت شہزادہ علی اکبر علیہ السّلام کی شانِ اطہر میں سنا کر اچھی خاصی داد وصول کی قطعہ ملاحظہ فرمائیں ۔

    بہت پیارا تھا میرے حسین ( ع) کا اکبر (ع)
    راج دلارا تھا میرے حسین (ع) کا اکبر (ع)
    معصوم جوانی تھی ہم شکلِ پیغمبر ﷺ
    آنکھ کا تارا تھا میرے حسین (ع) کا اکبر (ع)

    (وارث چھینہ)

    شہزاد ناصر نے اپنا کلام پیش کیا بزمِ اوجِ ادب کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول نے مہمان شعراء اور مقامی شعرا کا شکریہ ادا کیا اور یقین دھانی کرائی کہ اِن شاء اللّٰہ آئندہ بھی ایسی روحانی محفلیں کا اہتمام بزمِ اوجِ ادب سجاتی رہے گی آخر میں بزرگ سرائیکی شاعر سردار خادم حسین مخفی نے دعا کرائی تمام مسلمانوں کی لے پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور بزمِ اوجِ ادب کے لیے اس کے بعد سوہن حلوہ اور گرم گرم چائے پیش کی گئی ۔