Tag: نعت

  • اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری

    اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری
    (یوم اقبال پر خصوصی فیچر)

    محمد ظہیرالدین خان

    نعتیہ ادب کا تاریخی سلسلہ عربی معاشرت کے انہدام کے عہد سے جڑا ہوا ہے۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس نے انسانیت کو جو فکری ولولہ، تہذیبی استقامت اور اخلاقی نظام دیا، اس کے اظہارِ محبت کا پہلا نقطۂ آغاز خود صحابہ کرامؓ کی وہ شعری و خطابی روایات ہیں جن میں سیرتِ مصطفویؐ کی روشنی کو بطور دلیل پیش کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں یہ روایت فارسی سے اردو تک اور پھر برصغیر کے علاقائی لسانی سرمائے تک پھیل گئی۔ خاص طور پر فارسی کے بعد اردو اور پھر اردو سے آگے چل کر پشتو، پنجابی، براہوی، بلتی، شینا، گوجری، کھوار اور لداخی لہجوں تک نعتیں لکھی جارہی ہیں۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی کھوار شاعری میں اقبال کی فکری رمق، مقصدی حرارت اور علامہ اقبال کے فکری ڈھانچے کی داخلی توانائی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے کھوار اشعار میں خودی کی آگہی، فرد کی مرکزیت، عمل کی حرارت، جہد مسلسل اور مسلم ذہن کی ازسرِ نو تعمیر کا اخلاقی و فکری مطالبہ جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چترالی نے اقبالیاتی فکر کو کھوار linguistic expression دے کر وادی چترال کے فہم و ذوق کے لئے نئے امکانات کھولے۔ ان کی کھوار نظموں اور غزلوں میں “عمل، فکر، خودی، مقصد، نصب العین” جیسے موضوعات بنیاد کی صورت میں وارد ہوتے ہیں۔
    کھوار زبان کی اندرونی موسیقیت اور اقبال کے فلسفۂ خودی کا امتزاج ایک نئی regional hermeneutics پیدا کرتا ہے جو مقامی ذہن کے اندر “زبانِ مادری اور اقبالی معنویت” کے نئے جہان تخلیق کرتا ہے۔
    یہ وہ تمدنی ”دارالمعرفہ“ ہے جہاں ادب، محض اظہار ہی نہیں بلکہ تشخص، فکر اور تہذیب کی تاویل بھی ہے۔
    خصوصاً بیسویں صدی کی تحریکات، خلافت، ہجرت، تحریکِ پاکستان نے نعت کو صرف عقیدت نہیں دیا بلکہ فکری جہت بھی عطا کی۔
    یہاں علامہ اقبال کا نام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ اقبال نے نعت کو ’’حالات کی تعبیر‘‘ اور ’’تہذیبی موقف‘‘ عطا کیا۔ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات مبارکہ بطور مثالی انسان اقبال کے ہاں ’’Axis of Universe‘‘ ہے۔
    اس پوری تاریخی روایت کے اثرات کا عکس، آج جب ہم کھوار ادب سے اردو تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں مدینہ کی سرزمین، مصطفویؐ سیرت کے کڑی کڑی استعارے اور ’’کثرتِ عنوان‘‘ کے ساتھ ’’وحدتِ مرکز‘‘ بھی واضح نظر آتی ہے۔
    کھوار زبان میں ’’سیرت النبیؐ‘‘ کی منظوم تشکیل اور اسے اردو متن میں درجہ بہ درجہ منتقل کرنا صرف ادبی عمل نہیں بلکہ یہ ’’فکری پل کی تعمیر‘‘ بھی ہے۔
    اسی لیے رحمت عزیز خان چترالی کا کھوار شعری مجموعہ اردو تراجم کے ساتھ جو مکمل طور پر ’’مصطفویؐ مرکزیت‘‘ میں لکھا گیا داخلی طور پر وحدتِ مقصد رکھتا ہے یعنی مدینہ منورہ کا تذکرہ بطور شہر رسول کیا گیا ہے۔
    کھوار اشعار میں ختمِ نبوت کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا ہے اور سیرت النبی کو بطور ضابطۂ حیات، عدلِ مصطفویؐ کو بطور مثالی انصاف، حلم، شفقت، شفاعت کو بطور فکری اثاثہ کے طور پیش کیا گیا ہے۔
    یہ پورا متن ’’حسّی جذبے‘‘ کی دنیا سے نکل کر ’’فکری یقین‘‘ کی دنیا میں داخل ہوگیا ہے۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی یہ نعتیں ’’صِرف شاعر کے جذبات‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’کھوار زبان میں نظریہ‘‘ بھی ہے۔ یہاں شاعر کا منصب محض قاری کو رُلا دینا نہیں بلکہ فکری یادداشت میں نصّابی حوالہ بن جانا ہے۔
    یہ علمی موقع بھی قابلِ توجہ ہے کہ کھوار لسانیات میں ’’شعری ترجمہ‘‘ تقریباً زیرِ مطالعہ باب ہے۔ یہاں ترجمہ ابلاغ کے ساتھ تہذیبی امینت بھی ہے۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری کی مخصوص شناخت یہ ہے کہ وہ نعت کو ’’اندرونی سیرت‘‘ اور ’’عقلی یقین‘‘ کے امتزاج سے لکھتے ہیں۔ ان کے ہاں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ صرف محبت کی وجہ ہی نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد بھی ہیں۔ یہی اسلوب انہیں محض کھوار نعت خواں ہی نہیں بلکہ اقبالیاتی اسلوب شاعر بھی بناتی ہے۔
    کھوار زبان کے اندر استعارات مدینہ، بازارِ مدینہ، خاکِ مدینہ، نورِ مصطفیٰ ﷺ صرف اسلامی عقیدے کے عناصر ہی نہیں بلکہ ’’Ideal World‘‘ کا structure بھی ہیں۔ اسی مقام پر رحمت عزیز خان چترالی کی کھوار شاعری ’’خالص عقیدے کی شاعری‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’مقصدی فکر کی شاعری‘‘ بن جاتی ہے۔ اور یہی مقام انہیں کھوار نعت کی تاریخ میں حلقہءِ جلالِ اقبال کی فکری نسل میں شامل کرتا ہے۔


    کھوار زبان سے اقبالیاتی اسلوب کی شاعر سے اقتباس پیش خدمت ہے
    *
    کھوار ادب سے اردو تراجم
    *
    احمد مجتبیٰؐ اَسور اِسپہ نبیؐ
    محمد مصطفٰیؐ اَسور اِسپہ نبیؐ
    ترجمہ:ہمارے نبی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں، ہمارے نبی محمد مصطفیﷺ ہیں (۱)
    ہسے ختم الرسل اَسور بے شک
    خاتم الانبیاء اَسور اِسپہ نبیؐ
    ترجمہ:اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں (۲)
    ہتوعو اَچہ ادا اَرینی نمیژ نبیان
    ہسے اِمام الانبیاء اَسور اسپہ نبیؐ
    ترجمہ:میرے نبیﷺ کی اقتداء میں سارے نبیوں نے نماز ادا کی، بے شک ہمارے نبیﷺ امام الانبیا ء ہیں (۳)
    ہر اِی مسلمان طھلبگار مدینو
    یومونی اِسپہ بچے نوبہار مدینو
    ترجمہ:ہر ایک مسلمان مدینہ کی زیارت کے لیے بے چین ہے اور اللہ سے مدینہ جانے کی دعا مانگ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مدینے میں گزارے ہوئے سردی کا موسم ہمارے لیے کسی نوبہار سے کم نہیں (۴)
    نبیءاکرمؐ تشریف اَنگیکو سُم تان
    ڑاپھئیکا پرائے نوروسورا دربار مدینو
    ترجمہ:جب نبیءاکرم حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعات ہوئی تو اس وقت نور کی روشنی سے مدینہ کے دربار روشن ہوگئے۔(۵)
    ڑوسپہ مہ اَرمان مدینا کی تاروم رے
    خوشپہ دی کی بیسیر دیدار مدینو
    ترجمہ:حقیقت میں میرے دل میں تمنا ہے کہ کب مدینہ پہنچ جاؤں اور اگر خواب میں بھی مدینہ کا دیدار نصیب ہو تو بھی ٹھیک ہے ۔(۶)
    قیصرو کسرو تخت دی ڑیݩگیتانی
    دنیا تشریف آلائے سرکار مدینو
    ترجمہ:جب سرکارِ مدینہﷺ دنیا میں تشریف لائے تو قیصر اور کسریٰ کے تخت بھی لرز گئے۔(۷)
    سور ورازنیا لاکھیکو سُم خوشپ پاشیمان
    مہ غیچھی گونیان ہتے بازار مدینو
    ترجمہ:جب میں سونے کے لیے اپنے بستر پر جاتا ہوں اور جب میری آنکھ لگتی ہے تو اس وقت میں خواب میں مدینےکے حسین و خوبصورت بازاروں کو دیکھتا ہوں۔(۸)
    بو پاک، حسین اوچے صفا شیر
    ہتے گہت اوچے غبار مدینو
    ترجمہ: مدینہ پاک کی وہی گردو غبار بھی صاف، شفاف ، بہت ہی پاک، حسین، صاف ستھرے اور پاکیزہ ہیں ۔(۹)
    اے عزیزؔ تان غیچھان مژی لوڑے
    گمبوریان ساری خار مدینو
    ترجمہ:اے رحمت عزیز اپنی گردو غبار والی آنکھیں ٹشو یا رومال سے صاف کرکے مدینے کا نظارہ کرو تو تمہیں پھولوں سےزیادہ کانٹے ، زیادہ خوبصورت نظر آئیں گے ۔(۱۰)
    نبیوؐ صورتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ہتوعو ہر سنّتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:نبی ٔمحترم حضرت محمد ﷺ کی صورت مبارکہ سے ہمیں دلی پیار ہے اور آپ ﷺ کے ہر قول و فعل اور سنت سے بھی ہمیں دل سے پیار ہے۔(۱۱)
    ہتوعو صورتو کیہ تعریف کوروم
    ہتوعو سیرتو سم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:نبیٔ اکرم حضرت محمد ﷺ کی صورت مبارکہ کی کیا تعریف کروں ، آپ ﷺ صورت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں، ہمیں آپ ﷺ کی صورت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی سیرت سے بھی بہت پیار ہے۔(۱۲)
    ہسے ختم الرسلؐ ہسے شفیعِ اُممؐ
    ہتوعو شفاعتو سم اِسپہ پیار شیر
    ترجمہ:ختم الرسل بھی آپ ﷺ ہیں اور شافعِ اُمم بھی آپ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی شفاعتِ اُمت پر ہمیں ناز اور پیار ہے۔(۱۳)
    ہتوعو ہرلو شیرقابلِ اطاعت
    ہتوعو ہر نصیحتو سُم اِسپہ پیار شیر
    ترجمہ:بحیثیت مسلمان ہمیں آپ ﷺ کی ہر نصیحت پر صدق دل سے عمل کرنا چاہئیےآپ ﷺ کی ہر نصیحت (سنت) سے ہمیں پیار ہے۔(۱۴)
    مہ نبیوؐ غون کا دی نیکی رویان
    ہتوعو نسبتو سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:اے دنیا کے لوگو ! سنو، میرے نبی ﷺ جیسی شخصیت پوری دنیا میں نہ کوئی ہے اور نہ ہوگی، میں آپ ﷺ کا اُمتی ہوں اور اس نسبت سے مجھے آپ ﷺ سے پیار ہے۔ (۱۵)
    ہسے آخیری نبیؐ وا کا نبیؐ نیکی
    ہیغین دیتی ختم نبوتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی آخری نبی یعنی خاتم النبینﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے کوئی بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے بحیثیت مسلمان ہمیں ختم نبوت سے پیار ہے۔(۱۶)
    ہتوعو فیصلہ شینی بے مثال عزیزؔ
    ہتوعو عدالتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:اے رحمت میرے نبی ﷺکے کیے گئے فیصلے بے مثال ہیں۔ ان فیصلوں کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔آپ ﷺکے عدل و انصاف اور عدالت سے ہمیں پیار ہے۔(۱۷)
    فیضانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    فرمانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:مجھے نہ صرف محمدالرسول اللہ سے پیار ہے بلکہ آپ ﷺ کے فرمانِ مبارک سے بھی دلی پیار ہے۔(۱۸)
    مہ نبیوؐ کیہ شان شیر رویان
    شانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:اے لوگو! میرے نبی ﷺ کی کیا اعلیٰ شان ہے، اسی شانِ محمدیؐ سے میں محبت کرتا ہوں۔(۱۹)
    بے مثال شیر احسان ہتوعو
    احسانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:میرے نبی ﷺ کے احسانات کی کوئی مثال نہیں دے سکتا بلکہ آپ ﷺ کے احسانات بے مثال ہیں، اس لیے محمد ﷺ کے احسانات سے میں پیار کرتا ہوں(۲۰)۔
    سف آسمانی کتابَن مانیمَن
    قرآنِ محمدؐو سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:میں بحیثیت مسلمان تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کو مانتا ہوں اور ان پر ایمان بھی رکھتا ہوں،لیکن محمد ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید سےزیادہ پیار کرتا ہوں کیونکہ یہ کتاب میرے نبیﷺ پر نازل ہوئی ہے(۲۱)
    نعت ہے بچین نیویشیمان عزیزؔ
    ہر عنوانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ: رحمت عزیز نعت نبی اس لیے لکھ رہا ہے کہ اسے محمد ﷺ کے نام سے منسوب ہر عنوان سے دلی پیار ہے(۲۲)
    جو دنیو سردارؐوتے سلام
    اِسپہ پیغُمباروتے سلام
    ترجمہ: اے حاجیا جب تم روضہ ٔرسولﷺ پر حاضری کے لیے جانا تو دونوں جہاں کے سردار ﷺ کو میرا سلام کہنا، ہمارے پیغمبر حضرت ﷺ کو میرا سلام کہنا(۲۳)۔
    احمدِ مُجتبیٰ، محمدؐ مصطفیؐ
    غریبانن غمخواروتے سلام
    ترجمہ: احمد مجتبیٰؐ کو محمد مصطفی ﷺ کو اور غریبوں کے غم خوار کو میرا سلام کہنا۔(۲۴)
    محمدؐ مصطفیٰ دی اَسوس تو
    امام الانبیاء دی اَسوس تو
    ترجمہ:محمد مصطفی ﷺ بھی آپ ہی ہیں اور امام الانبیاء بھی آپ ﷺ ہی ہیں۔(۲۵)
    تو اَسوس احمد مرسلؐ، نبیء اکرمؐ
    نورِمجسم، نورالہدیٰ دی اَسوس تو
    ترجمہ:آپ ہی احمد مرسل اور نبیءِ اکرم ﷺ ہیں، آپ ﷺ ہی نور مجسم ہیں اور نور الہدیٰ بھی آپ ﷺ ہی ہیں۔(۲۶)
    دنیوتے ہنون خیرالانامؐ ہائے
    سف نبیانن سے امام ہائے
    ترجمہ:دنیا میں خیرالانام ﷺتشریف لائے ہیں اور سارے نیبوں کے امام تشریف لائے ہیں۔(۲۷)
    تان اُمتو بچے سے گنی
    خدایو لوٹ کلام ہائے
    ترجمہ:اپنی اُمت کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کلام (قرآن مجید)اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔(۲۸)
    اُمتو سورا شیر احسانِ مصطفٰیؐ
    مہ ہردیا شیر اَرمان مصطفٰیؐ
    ترجمہ:امت محمدیہ پر حضرت محمد ﷺ کا بہت بڑا احسان ہے ، میرے دل میں دیدار مصطفیٰﷺ کی دلی تمنا ہے۔(۲۹)
    ہائے ہائے خدائے کیاوت بوم
    مدینا بی اَوا مہمانِ مصطفٰیؐ
    ترجمہ:اے میرے ربّ میری یہ دعا قبول کیجیے گا کہ میں مدینہ شریف جاکر محمد مصطفیﷺ کا مہمان بننے کا شرف حاصل کرسکوں۔(۳۰)
    نبیانن موژی بو خوش نصیب تو
    خداوندِ کریمو بو حبیب تو
    ترجمہ:سارے انبیاء میں سب سے زیادہ خوش نصیب آپ ﷺ ہی ہیں اور خداوند کریم کے بھی سب سے زیادہ حبیب آپ ﷺ ہی ہیں۔(۳۱)
    حاضری نو دیتی اَسوس تو رضہء اطہرا
    اے رحمت عزیزؔ کِچہ غریب تو
    ترجمہ:ابھی تک تم نے روضہء اطہر پر حاضری نہیں دی ہے ۔اے رحمت عزیز تم کتنے غریب ہو۔(۳۲)
    اُمتی اَسوم ہتے عالی جنابوؐ
    بخششو اُمیدوار رسالت مآبوؐ
    ترجمہ:میں اس عالی جناب(حضرت محمد ﷺ)کا اُمتی ہوں اور پراُمید ہوں کہ روز قیامت آپ ﷺ میری شفاعت کریں گے تاکہ میں بخش دیا جاؤں۔(۳۳)
    کوثر مہ پئیر روزِ محشرا
    ساقی، نو پیم دنیا اَوا شرابو
    ترجمہ: روز قیامت حضرت محمد ﷺ اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھے کوثر پلائیں گے(انشاء اللہ)اس لیے میں دنیا میں شراب کو ہاتھ نہیں لگاتا۔(۳۴)
    خیر البشرؐ مہ نبی ؐ
    شافعِ محشر مہ نبیؐ
    ترجمہ:خیرالبشر ﷺ میرے نبی ہی ہیں۔ انسانوں میں ان سے اچھا کوئی نہیں اور شافعِ محشر ﷺبھی میرے نبی ہیں۔(۳۵)
    حوضِ کوثرار ٹیپ مہ پئیر
    صاحب ِ کوثر مہ نبیؐ
    ترجمہ:حوض کوثر سے گلاس بھر بھر کر مجھے پلائیں گے (انشاء اللہ)، میرے نبی ﷺ کو صاحب کوثر ہونے کا اعزازبھی حاصل ہے۔(۳۶)
    سید المرسلینوؐ اعزاز تہ نامہ
    خاتم النبینوؐ اعزاز تہ نامہ
    ترجمہ:رسولوں کے سردار کا اعزاز بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے اور نبیوں میں سے سب سے آخری نبیﷺ ہونے کا اعزاز بھی آ پ ﷺ کے نام ہے(۳۷)
    بیان کوم کی کی اعزازو
    رحمت اللعالمینوؐ اعزاز تہ نامہ
    ترجمہ:میں اپنے نبیﷺ کے کس کس اعزاز کو بیان کروں، رحمت اللعالمین کا اعزاز بھی آپ ﷺ کے نام ہے۔(۳۸)
    شہرِ مصطفوؐ مہ پوشارو گویَن
    مدینو کوچاہی مہ کوسارو گویَن
    ترجمہ:حضرت محمد مصطفی ﷺکے شہر کو دیکھنے کی خواہش دل میں لیے گھوم رہا ہوں اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومنے کی خواہش شدت سے محسوس ہورہی ہے۔(۳۹)
    طوافِ خانہء کعباری اَچی عزیزؔ
    مبارک تہ روضا گیارو گویَن
    ترجمہ:اے رحمت عزیز خانہ کعبہ میں طواف کرنے کے بعد آپﷺ کے روضہء مبارک پر حاضر ہونے کی دلی آرزو ہے۔(۴۰)
    نویدمسیحا بیتی مہ نبیؐ ہائے
    خیرالوریٰ بیتی مہ نبی ہائے
    ترجمہ:میرے نبی ﷺاس دنیا میں نوید مسیحا بن کر آئے ہیں اور خیرالوریٰ ﷺ بن کر آئے ہیں۔(۴۱)
    ہتوعو صفتان کھیو کوروم بیان
    محبوبِ کبریا بیتی مہ نبیؐ ہائے
    ترجمہ:آپ ﷺ کی صفات کی کیا تعریف کروں،آپ محبوبِ کبریا بن کر آئے ہیں۔(۴۲)
    تہ ؐ نبوت عالمگیر اوشوئے
    تہ دعوت ہمہ گیر اوشوئے
    ترجمہ:آپ ﷺ کی نبوت عالمگیر نبوت ہے اور آپ ﷺ کے دینِ اسلام کی دعوت، ہمہ گیر دعوت کے نام سے مشہور ہے۔(۴۳)
    ابو جہل نو مانیتائے تہؐ نبوتو
    اے محمدؐ سے کِچہ چِکر گیر اوشوئے
    ترجمہ:اے محمد ﷺ ابوجہل(جاہلوں کے باپ) نے آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا، وہ کتنا سخت کافر تھا۔(۴۴)
    نبیانن موژی شیر لوٹ مقام تہؐ
    ہر کوس ہردیا شیر لوٹ احترام تہؐ
    ترجمہ:سارے انبیاء میں سب سے بڑا مقام و رتبہ آپ ﷺ کا ہے اور ہرمسلمان کے دل میں آپ ﷺ کا بڑا احترام پایا جاتا ہے۔(۴۵)
    شرمندہ مو بائے روزِ قیامت
    ہیہ گناہگار اُمتی، یہ غلام تہؐ
    ترجمہ:قیامت کے روز آپ ﷺ کا یہ گناہگار اُمتی، یہ غلام (رحمت عزیز چترالی)شرمندہ ہو کر آپ ﷺ کی شفاعت سے محروم نہ ہو۔(۴۶)
    تہؐ نظرِ کرمو اُمیدوار اَسوم
    تہؐ پوشیکو بچے بے قرار اَسوم
    ترجمہ:آپ ﷺ کی ایک نظرکرم کا منتظر ہوں اور آپ ﷺ کے دیدار مبارک کے لیے یہ آنکھیں بے قرار ہیں۔(۴۷)
    گناہگار، گناہگار تھے صحیح
    مگم تہ ؐ شفاعتو اُمیدوار اَسوم
    ترجمہ:میں بہت گناہگار ہوں یہ بات بالکل درست ہے لیکن اتنے گناہوں کے باوجود آپ ﷺ کی شفاعت کا طلب گار ہوں۔(۴۸)
    اے حاجی مہ سلامو تو تاراوے
    روضا بی مہ پیغامو تو تاراوے
    ترجمہ:اے حاجیا! نبی ء اکرم ﷺ کو میرا سلام پہنچا دینا اور روضے میں جاکر میرا پیغام پہنچا دینا۔(۴۹)
    عزیزؔ کیاوت تہ روضا حاضیری دوئے
    مہ ہردیو یہ اَرمانو تو تاراوے
    ترجمہ:رحمت عزیز کب آپﷺ کے روضہء مبارک پر حاضری دے گا، میرےدل کی یہ تمناہے،اے حاجیا تو پہنچادے۔(۵۰)
    کی بیسیر مہ دیدارِ محمدؐ
    بہہ کوریسام رُخسارِ محمدؐ
    ترجمہ:اگر محمد ﷺ کا دیدار نصیب ہوجائے تو میں حضور ﷺ پرنور کے چہرہ مبارک کو بوسہ دینے کی سعادت حاصل کرلیتا۔(۵۱)
    تہ کوسیرو گنځول، کوچاہ
    کِچہ بونی بازار ِ محمدؐ
    ترجمہ:آپ ﷺ جن گلی اور کوچوں میں پھرتے رہے بہت خوبصورت ہیں اور آپ ﷺ کےبازار بھی کتنے حسین ہوں گے۔(۵۲)
    بو سخت گناہگار اَسوم اَوا
    گناہ کوری سزاوار اَسوم اَوا
    ترجمہ:میں بہت زیادہ گناہ گار بندہ ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا کا مستحق ہوں۔(۵۳)
    ھیسوم جُستہ دی تہ اُمتی رے
    شفاعتو طلب گار اَسوم اَوا
    ترجمہ:گو کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود میں آپ ﷺ کااُمتی ہونے کے ناطے روز قیامت شفاعت کا طلب گار ہوں۔(۵۴)
    اِسپہ شفاعتو بچے خیر الوریٰؐ ہائے
    محمد مصطفٰؐی ہائے احمد مجتبیٰؐ ہائے
    ترجمہ:ہماری شفاعت کے لیے خیرالوریٰ آگئے، محمد مصطفی ﷺ آگئے ، احمد مجتبیٰ ﷺ آگئے۔(۵۵)
    اے رویان شکر کورور، شکر
    اِسپہ بچے حبیبِ خدا ہائے
    ترجمہ:اے لوگو!جتنا بھی شکر کروگے کم ہے اس لیے شکر کرو کہ ہمارے لیے حبیبِ خدا آگئے ہیں۔(۵۶)
    نبیء آخر زمان تو
    اُمتو شیرین ژان تو
    ترجمہ:اس زمانے کے آخری نبی آپ ﷺ ہی ہیں اور اپنی امت کو ان کی جان سے بھی بڑ ھ کر پیارے ہیں۔(۵۷)
    اے جو دنیو سردارؐ
    رہبر عظیم الشان تو
    ترجمہ:اے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ، آپ ﷺ دنیا کے عظیم الشان رہبر ہیں۔(۵۸)
    تہ ؐ انگیرو دِینہ کیہ کمی نیکی
    تہ سار اَچی کآ نبی نیکی
    ترجمہ:تیرے لائے ہوئے دین میں کوئی کمی نہیں اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔(۵۹)
    تہ سورا درود ریک بو ثواب
    ہیغار توری لوٹ ثوابی نیکی
    ترجمہ:تیرے اوپر درود شریف بھیجنا بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے ، درود کے وردسےبڑھ کر اور کوئی نیکی نہیں ہے۔(۶۰)
    صادق و اَمین دی تو
    رحمت اللعالمین دی تو
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی صدیق اور امین ہیں اور آپ ﷺ ہی سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔(۶۱)
    تہ سورا رینیان سف درود
    محبوبِ ربّ اللعالمین دی تو
    ترجمہ:سب آپ ﷺ پر درود پاک بھیجتے ہیں، آپ ﷺ ہی محبوب رب اللعالمین ہیں۔(۶۲)
    تو اَسوس پیغمبرِ اعظم
    عہدِحاضرو تو رہبر اعظم
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی پیغمبر اعظم ہیں اور آپ ﷺ ہی عہد حاضر کے رہبر اعظم ہیں۔(۶۳)
    تہؐ منبرو کیہ مثال نیکی
    ہے منبر، منبرِ اعظم
    ترجمہ:آپ ﷺ کے منبر کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی، آپ ﷺ کا جو منبر ہے وہ منبر اعظم ہے ۔(۶۴)
    تو گیکو تان موژی عداوت ختم ہوئے
    نسلہ گیرو بغاوت ختم ہوئے
    ترجمہ:جب آپ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں کی آپس کی عداوتیں ختم ہوگئیں اور نسل در نسل چلنے والی بغاوتوں کا نام و نشان آپ ﷺ کے آنے سے مٹ گیا۔(۶۵)
    تو ریتاؤ کی ” لا نبیَّ بعدی”
    تہ سار اَچی نبوت ختم ہوئے
    ترجمہ:آپ ﷺ نے فرمایا کہ "لا نبیَّ بعدی” یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،بے شک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔(۶۶)
    قرآنو شکلہ اِسپتے ای دستور اَلاؤ
    ای ضابطہء حیات ای منشور اَلاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ ہمارے لیےقرآن جیسا، ایک دستور لے کر آئے، ایک منشور اور ضابطہء حیات لےکر آئے۔(۶۷)
    ژور اَژیکو سُم ژونو کھاڑئیاوا
    تو ہیتان موژا شعور اَلاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے عرب کے لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے ، آپ ﷺ نے آتے ہی ان میں شعور بیدار کیا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچالیا۔(۶۸)
    تہ سار اَچی نہ نبی گوئے نہ رسول
    ہیہ شیر خدائے پاکو لوٹ اُصول
    ترجمہ:آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول ، یہی تو خداوند تعالیٰ کا ایک پکا اُصول ہے۔(۶۹)
    بحیثیت اُمت محمدیؐ اے عزیزؔ
    محمدوؐ نبوت سفوتے قابلِ قبول
    ترجمہ:اے رحمت عزیز !اُمت محمدیہؐ ہونے کی حیثیت سے محمد ﷺ کی نبوت سب کو قابل قبول ہے۔(۷۰)
    سف انسانن تو برابار کوریتاؤ
    کوس لوٹ نہ کوس کمتار کوریتاؤ
    ترجمہ:دنیا کے تمام انسانوں کو آپ ﷺ نے برابر قرار دیا ۔ آپ نے کسی کی حیثیت کو بڑھایا اورنہ کسی کی حیثیت کو کم کیا۔(آپ ﷺ نےبرتری کا معیار صرف تقویٰ قرار دیا )(۷۱)۔
    تہ نیشِک، روپھِک تہ لو حدیث
    کھیو کہ تان زندگیہ تو اظہار کوریتاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ کا بیٹھنا، اُٹھنا اور آپ ﷺ کا قول و فعل سب کے سب حدیث ہیں، اور جوکچھ بھی آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں انجام دیا، وہ سارے کا سارا حدیث ہے۔(۷۲)
    بو زیات محترم تو
    رحمتِ مجسم تو
    ترجمہ:آپ ﷺ ہمارے لیے بہت ہی محترم ہیں اور آپ ﷺ رحمت مجسم ہیں۔(۷۳)
    اُمتو شان تو
    فخرِ عالم تو
    ترجمہ:اُمت محمدیہؐ کی آپ ﷺ شان ہیں، اور دنیا کے لیے آپ ﷺ باعث فخر ہیں۔(۷۴)
    جسم اطہرو کی دیدار مہ بیسیر
    مُخِ منّورو کی دیدار مہ بیسیر
    ترجمہ:کاش کہ حضور ﷺ کے بدن مبارک کا میں دیدار کرلیتا۔ کاش کہ حضور ﷺ کے چہرہء انور کا میں دیدار کرلیتا۔(۷۵)
    تو پوریرو موڑا بہہ کوریسام
    محمدوؐ بسترو کی دیدار مہ بیسیر
    ترجمہ:میں حضور ﷺ کے بستر مبارک کو بوسہ دیتا، کاش کہ محمد ﷺ کے بستر کا مجھے دیدار نصیب ہوتا۔(۷۶)
    جو دنیوسردارئےؐ تہ لباس مبارک
    تہ قول و فعل، تہ قیاس مبارک
    ترجمہ:اے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ !آپ ﷺ کا لباس مبارک ہے۔آپ ﷺ کا قول مبارک ہے ۔ آپ ﷺ کا ہر فعل اور ہر قیاس مبارک ہے۔(۷۷)
    تہ پیران کی ملاو بوئے تو غیچھہ دوم
    تہ څادار ، تہ کرمیچ، تہ لباس مبارک
    ترجمہ:اگر آپ ﷺ کا کرتہ مبارک مل جائے تو اسے اپنی آنکھوں پر لگاؤں گا۔آپ ﷺ کی چادر،جوتے اور لباس مبارک ہیں۔(۷۸)
    وختہ تو شکر تان اَرو
    تہؐ ، تہ صبر، تہ پیاس مبارک
    ترجمہ:قحط کے زمانے میں بھی آپ ﷺ نے ناشکری نہیں کی بلکہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کیا۔ آپ ﷺ کی بھوک، آپ ﷺ کا صبر اور آپ ﷺ کی پیاس بھی مبارک ہے۔(۷۹)
    تو اویوؤ عام خناکہ تان
    تہ مشربہ، اوغ پینی،تہ طھاس مبارک
    ترجمہ:آپ ﷺ نے ہمیشہ عام برتن میں کھانا کھایا ۔آپ ﷺ کا لوٹا، پانی پینے کابرتن اور طاس (پینے کا پیالہ )مبارک ہیں۔(۷۹)
    سف عِشقَن ساری جم عِشقِ مصطفٰؐی
    ہیہ عِشقو متے کورے نصیب اے خدا
    ترجمہ:دنیا کے سارے عشاق کے عشق سے سب سے اچھا اور بابرکت عشق،عشقِ مصطفی ﷺہے۔ اے خداوند عز وجل مجھے بھی یہ عشق نصیب فرما۔ آمین۔(۸۰)
    دیدار کوراوے تو جو دنیو سردار محمدوؐ
    ہیہ مہ آرزو شیر، وا ہیہ مہ تمناّ
    ترجمہ:اے ربّ کعبہ !دونوں جہاں کے سردار حضرت محمد ﷺ کا دیدار کرادے، اور یہی میری آرزو ہے یہی میری دلی تمناّ ہے۔(۸۱)
    تہ تشریف گیکو زمین و آسمان روشت ہونی
    دور روشت ہونی،چھوئے ختان روشت ہونی
    ترجمہ:تیری ولادت با سعادت کے موقع پر زمین و آسمان میں روشنی پھیل گئی، سارے گھر روشن ہوگئے اور جن جن گھروں میں اندھیروں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ گھر بھی آپ ﷺ کے آنے سے روشن ہوگئے۔(۸۲)
    روشت ژاغہ تھے روشتاری روشت ہونی
    تہ گیکو اَنوس چھوئے ٹونگ ٹانگ روشت ہونی
    ترجمہ:دنیا میں تیری تشریف آوری کے مبارک دن جو روشن تھے وہ روشن تر ہوتے چلے گئے اور ان کی روشنی میں مزید اضافہ ہوا اور جو تاریکیاں اور اندھیرے ادھر ادھر پھیلے ہوئے تھے، وہ بھی یک دم روشن ہوگئے۔ یہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا کرشمہ تھا۔(۸۳)
    جو دنیو سردارؐ دنیا ہائے، خیر الانام ؐ ہائے
    اُمتو بچے خدایو وولٹیاری ای انعام ہائے
    ترجمہ:دونوں جہانوں کے سردار ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ خیرالانام ﷺ دنیا میں تشریف لائے ۔اُمت محمدیہؐ کی ہدایت کی خاطر اللہ کی طرف سے محمد ﷺ کی شکل میں یہ انعام آیا ہے۔(۸۴)
    مہ نبیوؐ صورتو کیہ صفت اے عزیزؔ
    کی مثالِ ماہِ تمام ہائے
    ترجمہ:میرے نبی ﷺ کی شکل و صورت بے مثال ہے۔آپ ﷺ کے جیسا پوری دنیا کے انسانوں میں کوئی نہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ آپ ﷺ کی مثال ایسی ہے جیسے چودھویں کا چاند زمین پر اُتر آیا ہے۔(۸۵)
    خدایو ذگرار اَچی ذگرِ مصطفی کورے
    یادِ خدار اَچی یادِ خیر الوریٰ کورے
    ترجمہ:ذکرالٰہی کے بعد ذکر مصطفی ﷺ کیجیے یعنی حضور ﷺ پر کثرت سےدرود بھیجو اور اللہ تعالٰی کے کلام قرآن مجید کی تلاوت کے بعد درود نبی ﷺ کو اپنا معمول بنالو(۸۶)۔
    درود و سلام راوے تو صبح و شام
    صلو علیہ راوے، صلی علٰی راوے
    ترجمہ:حضور پر نورﷺ پر صبح و شام درود و سلام پیش کیجیے گا۔ صلو علیہ اور صل علٰی کا ورد کیجیے گا۔(۸۷)
    شانِ محبوبِ وحدت مہ پیغُمبار
    رحمت، ہسے باعثِ رحمت مہ پیغُمبار
    ترجمہ:حضرت محمد ﷺ شانِ محبوب وحدت ہیں، وہی رحمت ہیں اور وہی باعث رحمت ہیں۔(۸۸)
    ہسے نبیؐ، نبیؐء آخر زمان دی ہسے
    سے امام الانبیاء، تاجدارِ رسالت مہ پیغُمبار
    ترجمہ:وہی نبی ہیں، وہی آخری نبی ہیں، وہی نبیوں کے امام ہیں اور تاجدارِ رسالت بھی وہی ہیں۔(۸۹)
    تہؐ کرداروتے مہ سلام
    تہ گُفتاروتے مہ سلام
    ترجمہ:اے میرے نبی ﷺ تیرے کردار کو میں سلام پیش کرتا ہوں اور آپ ﷺ کی گفتار کو بھی میں سلام پیش کرتا ہوں۔

    Title Image backgraund by Joe from Pixabay

  • ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    راولپنڈی( نمائندہ خصوصی) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع راولپنڈی نے ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ منعقد کیا یہ شاندار مقابلہ طلبہ و طالبات کے اندر اعتماد پیدا کرنے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور دینی و اخلاقی تربیت کو فروغ دینے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ضلع بھر کے ساٹھ سے زائد سکولز نے بھر پور شرکت کی شرکت بلاشبہ اس کامیاب انتظام پر اپسکا پوری طرح مبارکباد کی مستحق ہے۔

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایسے پروگرام نہ صرف بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ فیصل جنجوعہ (کووارڈینیٹر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات) ہمیں مل کر اس طرح کے پروگراموں کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں بہتر تربیت اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں۔ پروگرام کے آرگنائزر ملک حفیظ الرحمان، سردار گل زبیر خان ،اویس احمد، چوھدری ارشد صاحب کو کامیاب ایونٹ منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں

  • جرمن شاعر گوئٹے کی نعت

    جرمن شاعر گوئٹے کی نعت

    جرمن شاعر گوئٹے کی نعت: انگریزی اور اردو تراجم کا جائزہ 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی 

    یورپ کی رومانوی اور فکری تحریکوں میں جرمن شاعر یوان وولف گانگ گوئٹے (Johann Wolfgang von Goethe) کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اس عظیم شاعر نے نہ صرف یورپ کی ادبیات بلکہ مشرقی فکر اور اسلامی فلسفہ پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ گوئٹے کی تخلیقات میں مشرقی علوم و فنون سے شغف اور اسلامی تعلیمات کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اسی ضمن میں ان کی ایک تخلیق وہ نعتیہ شاعری ہے جسے انہوں نے پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں لکھا۔ یہ امر مغربی ادبیات کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یورپ میں مذہبی اور ثقافتی فاصلے کے باوجود ایک جرمن شاعر نے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے نعت رسول ﷺ کو بطور صنف اختیار کیا۔

    گوئٹے کی اس نظم کو جرمن سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کا اعزاز ایملی ایزسٹ (Emily Ezust) کو حاصل ہوا۔ ایزسٹ نے نعت کو لفظی و فکری سطح پر یورپی قاری کے ذوق کے مطابق منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انگریزی ترجمہ میں استعارات اور منظرنامے (Spring، Valley، Ocean وغیرہ) فطرت کے پیکر میں ڈھالے گئے ہیں۔ چشمہ، وادی، ندی اور سمندر کا استعارہ گوئٹے کے ہاں رسولِ کریم ﷺ کی عالمگیر اور ہمہ گیر شخصیت کے ظہور کو علامتی انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ ترجمہ اپنے اندر عقیدت کا رنگ کم اور فکری و علامتی پہلو زیادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ ترجمے کی مغربی فکری حدود بھی ہیں۔

    اردو میں اس نظم کو ڈاکٹر شان الحق حقی نے منظوم ترجمہ کی صورت عطا کی ہے۔ اردو ترجمہ محض لفظی ترجمہ نہیں بلکہ ایک تخلیقی و جمالیاتی تشکیل ہے۔ حقی نے چشمہ، بہار، وادی، دشت اور قافلوں کے استعارے کو نعتیہ روایات کے قریب کر دیا ہے۔ ان کے ترجمے میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو براہِ راست مرکز بنایا گیا ہے مثلاً:

    “جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا

    اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی”

    یہ مصرعہ نہ صرف ترجمے کا کمال ہے بلکہ اردو نعتیہ روایت سے ہم آہنگ بھی ہے۔ لیکن اس میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے "اس” کا لفظ نہیں آنا چاہئیے تھا بلکہ کوئی تعظیم والا لفظ ہونا چاہئیے تھا

    اردو ترجمے میں رسول کریم ﷺ کی عالمگیر قیادت، رحمت للعالمین کا تصور اور امت کی رہنمائی کو بہت خوش اسلوبی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ رنگ اصل نعت میں موجود استعاراتی و علامتی سطح سے زیادہ روحانی اور عقیدتی سطح پر نمایاں ہوا ہے۔

    گوئٹے کی نعت بنیادی طور پر استعاراتی اور فطرت کے پیکروں سے مزین ہے۔ 

    پیغمبر اسلام ﷺ کی شخصیت کو ایک چشمے یا دریا کی مانند پیش کرتا ہے جو صحرا، وادیاں اور میدان سرسبز کر کے سب کو اپنے ساتھ لے کر بحرِ ازل تک پہنچتا ہے۔

    گوئٹے نے اس میں ایک عالمگیر قائد کی تصویر کھینچی ہے۔

    انگریزی ترجمہ (ایملی ایزسٹ) بھی بہترین ہے۔ یہ نسبتاً لفظی ترجمہ ہے جس میں علامتی رنگ کو قائم رکھا گیا ہے 

    ترجمے میں عقیدتی و روحانی پہلو کمزور ہیں لیکن فطرتی مناظر پر زور دیا گیا ہے۔

    یورپی قاری کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہے مگر نعتیہ فضا میں کمی نظر آرہی ہے۔

    شان الحق حقی کا اردو ترجمہ بھی بہترین ہے۔ 

    یہ محض ترجمہ نہیں بلکہ تخلیقی و نعتیہ روایت سے ہم آہنگ شعری تشکیل بھی ہے۔

    ترجمے میں حضور اکرم ﷺ کی ذات کو براہِ راست مرکز بنایا گیا ہے۔

    استعارات کو عقیدت اور محبت کے رنگ میں ڈھالا گیا ہے

    گوئٹے کی نعت رسول مقبول ﷺ ایک ایسی ادبی اور فکری تخلیق ہے جو مغربی اور مشرقی ادب کے مابین ایک روحانی پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایملی ایزسٹ کا انگریزی ترجمہ اگرچہ گوئٹے کے استعارات کو پیش کرتا ہے مگر نعتیہ روح سے دور ہے، جب کہ شان الحق حقی نے اردو ترجمے میں اس نظم کو ایک مکمل نعتیہ رنگ اور اسلامی تصورِ قیادت عطا کر دیا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ گوئٹے کا متن فکری و علامتی عظمت رکھتا ہے، انگریزی ترجمہ فہم و ابلاغ کے لیے معاون ہے اور شان الحق حقی کا اردو ترجمہ عقیدت و محبت سے سرشار ایک روحانی و ادبی تحفہ ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے گوئٹے کی نعت کے انگریزی اور اردو تراجم پیش خدمت ہیں۔ 

    جرمن شاعر گوئٹے کی نعت

    اردو ترجمہ

    نغمہ ء ِ محمدیؐ 

    شان الحق حقی 

    وہ پاکیزہ چشمہ

    جواوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا

    سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے

    چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا

    چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے

    وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے

    آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے

    بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا

    بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں

    پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے

    جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا

    اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی

    یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ

    اُس ﷺ کی منزل نہ تھی

    وہ تو بڑھتا گیا

    کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار

    اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا

    اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے

    خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔

    سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر

    جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے

    شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے

    راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو

    کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے

    راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے

    یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں

    آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں

    ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے

    جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے

    اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے

    اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے

    گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں

    آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں

    وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے

    ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے

    شہر آتے رہے شہر جاتے رہے

    اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے

    اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی

    ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی

    قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے

    کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے

    شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں

    عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں

    اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں

    از زمیں تا فلک

    از فلک تا زمیں

    از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں

    دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ

    فیض یاب اس سے کل

    اور خود کل سے بے واسطہ

  • جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم

    جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم

    جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم، وہ خوش بخت
    بھول جاتا ہے سبھی رنج و الَم، وہ خوش بخت

    جو ہدیّے میں اُنھیں بھیجے دُرودوں کے گلاب
    یوں لگا لے جو شفاعت کی قلَم، وہ خوش بخت

    جو بھی لپکے ترے روضے کی طرف، وہ خوش ذوق
    تیری دہلیز پہ رکھے جو قدَم، وہ خوش بخت

    تشنہء دید کو مل جائے اگر شربتِ دید
    جی اٹھے ساقیء کوثر کی قسَم، وہ خوش بخت

    جس کو محبوب وہی طُولِ نمازِ شب ہو
    جس کے پیروں میں چلا آئے ورَم، وہ خوش بخت

    اُس کی قسمت میں کوئی پیچ نہیں رہ سکتا
    جس کا جیون ہو تری زلف کا خَم، وہ خوش بخت

    گوہرِ نعت جو یاورؔ کو عطا ہو گیا ہے
    اب کسی بات کا کرتا نہیں غَم، وہ خوش بخت

    Title Photo by Hatice

  • نشاطِ سرمدی

    نشاطِ سرمدی

    نشاطِ سرمدی


    تبصرہ نگار: سید حبدار قائم 

    الفاظ کا صوتی ترنگ اور باطنی پرتو کسی شخص یا زمین کے ظاہری منظر کو دیکھ کر جو کاغذ پر نقش بناتا ہے اسے خاکہ کہتے ہیں اصنافِ ادب میں خاکے کی حیثیت منفرد ہے اگرچہ اس کو کم لکھا گیا ہے
    ادب میں خاکہ نگاری کسی شخصیت کی تصویر کشی کا نام ہے، خاکہ انسان کی مکمل شخصیت عادات و اطوار، خدو خال، زبان کی شائستگی اور ترش پن کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر کاری ہوتی ہے جس میں کردار کو الفاظ کی سکرین پر دکھایا جاتا ہے

    خاکے کی بنیادی خصوصیات میں اختصار، شخصیت کی ظاہری و باطنی عکاسی، اور دلچسپ انداز بیان شامل ہوتا ہے۔ خاکہ نگار کو شخصیت کے اہم پہلوؤں، جیسے دیکھنے کا انداز، ہونٹوں کا گفتگو میں حرکت کرنا بھنووں کا سکیڑنا تیوری چڑھانا اور لباس کی وضع قطع کو اجاگر کرنا ضروری ہوتا ہے یعنی بندہ پاس نہ ہو اور خاکہ قاری کو الفاظ میں بندہ دکھا دے کہ بندہ کیسا ہے خاکہ نگار کو شخصیت شںناسی کا علم ہونا چاہیے
    میں نے سجاد حسین سرمد کو ان کی کتاب نشاطِ سرمدی میں خاکہ لکھتے ہوئے ان اوصاف میں نمایاں پایا ہے ان کی یہ کتاب اپنے حلقہء احباب کے گرد گھومتی ہے جس میں ان کے دوست، اساتذہ اور رشتہ دار شامل ہیں اٹک کی زمین اس لحاظ سے بہت خوش نصیب ہے کہ اس میں ادب میں ایسی ایسی شخصیات ابھریں جنہوں نے عالمی لیول پر نام کمایا جہاں تک اصناف ادب کا تعلق ہے ان میں خاکہ نویسی کی زمین تشنہ ہی رہی اس کی تشنگی دور کرنے کے لیے سجاد حسین سرمد آگے بڑھے اور اس صنفِ سخن کو سینے سے لگایا اور اسے آبیار کیا۔
    سجاد حسین سرمد کی شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں لیکن اس تبصرہ میں ان کے خاکوں پر بحث کی جاۓ گی تو آئیے کتاب کا سرسری جائزہ لیتے ہیں

    نشاطِ سرمدی کا بیک ٹائٹل فلیپ برصغیر پاک و ہند کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے لکھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ” یہ خطہ زمانہ قدیم میں مشہور ماہرِ اراضیات پانینی کا عارضی مسکن رہا یہیں بیٹھ کر پانینی نے زمین کا قطر دریافت کیا تھا بعد از آں اسی خطے میں خواجگان سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے حضرت محمد یحیٰی اٹکیؒ جیسے فرد نے جنم لیا اور یہ خطہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے مذہب سے متعلق باغیانہ لحن، ڈاکٹر محمد اجمل کے نفسیات سے شغف، پروفیسر محمد عثمان کی تاریخ اور اقبالیات سے رغبت دیوندر اسر کی افسانہ نگاری و تنقید اور نذر صابریؒ کی تحقیق اور مجلس آرائی کے سبب پہچانا گیا باقی مجھ جیسے ادھر کئی آئے اور گئے لیکن جسے دائمی نقش کہتے ہیں یہی اکابرین چھوڑ گئے سجاد حسین سرمد اس خطے سے متعلق ادب دوستوں کی یاد نگاری کی معرفت لمحہء موجود کی آنکھن دیکھی ادبی فضا رقم کر رہے ہیں اور ان کے ہاں بانسری نواز دلاور استاد، بھاگ بھری اور بابا منیر جیسے من موہنے کردار بھی مل جاتے ہیں اس ”کیمبل پوری ساگا“ کی فضا حد درجہ دل خوش کن ہے“

    کتاب کے اندرونی ٹائٹل پروفیسر محمد انور جلال اور احمد علی ثاقب نے لکھے ہیں کتاب کا انتساب مشتاق عاجز، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور طاہر اسیر کے نام ہے
    کتاب میں نو افراد کے خاکے لکھے گئے ہیں جن سب سے پہلے صابری صاحب اور پھر وقار صاحب، دلاور استاد، شیخ صاحب، بھاگ بھری، ماما داد، بابا منیر، حاجی عبدالطیف اور پولی ٹیکنیک کے اساتذہ شامل ہیں

    اٹک میں نعت کے حوالے سے جس شخصیت نے سب سے زیادہ کام کیا ہے وہ نذر صابریؒ صاحب تھے نذر صابریؒ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی وجہ سے اٹک کی شاعری کافی حد تک مضبوط ہے اور اس وقت جو نعت پر کام ہو رہا ہے وہ نذر صابریؒ کی مرہون منت ہے نشاطِ سرمدی میں سجاد حسین سرمد نذر صابریؒ کے سراپا کے متعلق لکھتے ہیں
    ” نذر صابریؒ جاذبِ نظر شخصیت تھے پرکشش چہرہ لمبے اور ضعیف جسم پر موزوں لگتا لمبی زلفوں نے جاذبیت کو چہار چند کر دیا تھا بال شانوں پر بکھرے رہتے، گرمیوں میں بال اکثر چھوٹے کروا دیا کرتے اور سر پر سفید رومال بے ترتیبی سے باندھا کرتے سردیوں میں چادر اوڑھے رکھتے، میں نے جس عمر میں انہیں دیکھا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جوانی میں بہت من موہنے ہوں گے زمردیں آنکھیں سونے پر سہاگا تھیں کوئی بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی سکت نہیں رکھتا تھا کبھی کبھار آپ کی شبیہ کا بغور مشاہدہ کرتا لیکن نگاہیں چار ہوتے ہی آنکھیں جھکا لیتا مسکراہٹ اور متانت میں مناسب امتزاج ان کے وقار اور شکوہ کی چغلی کھاتا تھا اور آنکھوں سے اخلاقی تہذیب کی روشنی چھن چھن کر سامع کی تربیت کا سامان بہم پہنچاتی تھی“ نذر صابریؒ کے باطن میں رچ بس کر ان کے خاکے کو سجاد حسین سرمد نے چوبیس حصوں میں لکھا جو صفحہ نمبر 21 سے لے کر 44 تک مشتمل ہے اور اس کے متن کی سرخیاں یہ ہیں:۔
    پہلی ملاقات، سراپا، انداز گفتگو، ہم دمِ دیرینہ، چائے نوشی، التفاتِ خاص، عتاب یار، کتاب سے محبت، مطالعہ کی وسعت، سخاوت، انسان دوستی، عبادات، شکوہء بے جا، جمال پسندی، دل ہی دکھانے کے لیے آ، بے نیازی تیری عادت ہی سہی، جلال، صحبتِ ناجنس، میں اور محفلِ شعر و ادب، کچھ دوریاں، راضی بہ رضا، مذہبی عقائد، اب وہ رعنائی خیال کہاں اور اللہ کا ولی شامل ہیں یہ خاکہ سرمد صاحب کی باطنی کیفیات کی غمازی کرتا ہے جو ان کے شب و روز نذر صابریؒ کی مجلس میں گزرے انہوں نے صابریؒ صاحب کے قول و فعل سے سیکھا اور ان کی شخصیت کے پرتو کاغذ پر خاکے کی صورت میں اتارے۔

    نشاطِ سرمدی

    اس کے بعد صفحہ نمبر 45 سے 59 تک دوسرا خاکہ وقار احمد آس پر مبنی ہے جس کی سرخیاں درج ذیل ہیں

    حصارِ دوستاں، مستند ہے میرا فرمایا ہوا،خالد بیزار،بذلہ سنجی، جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد، ایسے عالم میں کیا گلہ کیجے،منصف مزاجی جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں،
    خاکہ پڑھ کر وقار احمد آس کی شخصیت کے مختلف پہلووں کا پتہ چلتا ہے اس کے ساتھ ہی ان کی مفلسی رلاتی ہے لیکن اکثر شعرا غریب ہی ہوا کرتے ہیں اگرچہ خاکہ نگار نے وقار احمد کے کچھ منفی پہلو جن میں سخت تنقید کرنا ہے بھی بیاں کیا ہے لیکن تنقید نگاری یا تنقیص نگاری دونوں میں سے سیکھنے کے پہلو نکلتے ہیں جن سے ہمیں نفرت نہیں کرنی چاہیے بل کہ ان کو سیکھنے کا عمل گردانا جاۓ تو بہتر ہے

    صفحہ نمبر 60 سے لے کر 63 تک دلاور استاد کا خاکہ ہے جو سروں سے محبت کرتے تھے اور اٹک کے خوبصورت بانسری نواز تھے وہ جب بانسری بجاتے تو اک سماں بندھ جاتا دلاور استاد ہمیشہ مثبت رویوں کے ساتھ زندہ رہے جو ان کا خاصہ تھا مفلسی اگرچہ ان کے در و بام سے جھلکتی تھی سجاد حسین سرمد ان کے وصف بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں

    ”عالمانہ اندازِ گفتگو، ادیبانہ شانِ بے نیازی، فقیرانہ جاہ و جلال، شاعرانہ نزاکتوں سے مزین میانہ قد کے حامل سانولے رنگ کا یہ شخص سرتاپا محبتوں کا مجموعہ تھا“

    اسکے بعد صفحہ نمبر 64 سے لے کر صفحہ نمبر 73 تک شیخ صاحب کا خاکہ ہے جن کا نام اظہر علی اظہر ہے جنہیں ادب سے دلچسپی تھی اور خود بھی مصنف تھے

    اگلا خاکہ بھاگ بھری ہے جو صفحہ نمبر 74 سے لے کر صفحہ نمبر 90 تک ہے اس خاکے میں سرمد صاحب نے گھروں کی بپتا بیان کی ہے جو کہ خالص دیسی گھی کی خوشبو کی طرح ہے اس کے جملوں کا حقیقی پن اور چستی دلوں کو چھوتی ہے اس معاشرے میں جس طرح بزرگوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے لاپرواہی برتی جاتی ہے ایک ایک لفظ مصنف کا دل کو بھاتا ہے طنزو مزاح کا شاہکار یہ خاکہ مجھے بہت پسند آیا ہے اس کا لفظ لفظ خاکے میں جان پیدا کر رہا ہے خاکہ جس دھوم سے شروع ہوا ہے اسی دھوم سے ختم ہوا ہے اور جذبات کی عکاسی کرتے ہوۓ قاری کے دل میں اتر جاتا ہے پورا خاکہ قاری میں بوریت پیدا نہیں کرتا بل کہ آگے پڑھنے کے لیے اس کے الفاظ مہمیز کا کام دیتے ہیں خاکے کے آخر پر کم سننے والی دادی کے بارے لکھتے ہیں
    ”میری چشمِ تصور نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ جب عالمِ برزخ میں منکر نکیر نے دادی سے پوچھا” من ربک“ تو دادی نے بڑی بے نیازی سے کہہ دیا” نئیں پُتر ول آں“ اور منکر نکیر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر عالم بالا کو پلٹ گئے“
    اس کے بعد اگلا خاکہ ماما داد ہے صفحہ نمبر 91 سے لے کر 96 تک ہے اس خاکے میں مصنف نے ماما داد کی روحانی کیفیت کو شگفتہ انداز میں بیان کیا ہے جن کی عقیدت کا مرکز بسال شریف تھا ماما داد ایسے لوگ مسکراہٹوں میں دنیا کی حقیقت بیان کر جاتے ہیں اور اندر ہی اندر ان کا دل روتا ہے خاکوں میں یہ خاکہ بھی پر اثر ہے پڑھتے پڑھتے ماما دا کے امرسوں کی خوشبو قاری کو اپنی مٹھاس اور رس بھرے ذائقے سے روشناس کراتی ہے جو کہ روحانیت کی قلبی واردات ہوتی ہے

    اس کے بعد حاجی عبدالطیف اور پولی ٹیکنیک کے اساتذہ کے خاکے ہیں
    اس کتاب میں جملوں کے دروبست میں کچھ چیزیں نئے قارئین کو سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جیسے
    مزید براں کی اصل املاء مزید بر آں،
    گاہے بگاہے کی درست حالت گاہے بہ گاہے،
    علیحدہ کی اصل صورت علاحدہ،
    کیونکہ کی اصل املاء کیوں کہ،
    بہرحال کی اصل صورت بہ ہر حال،
    اور بقول کی اصل صورت بہ قول کتاب میں لکھ کر قاری کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے
    چوں کہ ہماری روایت بن گئی ہے کہ جو لفظ پہلے کسی نے غلط لکھ دیے ہیں وہ ہر ایک نے لکھنے شروع کر دیے ہیں اس لیے سجاد حسین سرمد نے یہ روایت توڑ کر الفاظ کو اصل صورت کے ساتھ لکھا جو قاری کے علم میں اضافے کا موجب ہے
    سجاد حسین سرمد کے خاکے قاری میں بوریت نہیں پیدا ہونے دیتے پڑھنے والا اپنی خود احتسابی کرتا ہے تو بہت سارے نقائص اسے اپنے اندر نظر آتے ہیں یہی وصف سرمد صاحب کو دوسرے خاکہ نگاروں سے ممتاز کرتا ہے

    سجاد حسین سرمد کا اسلوب سادہ اور رواں دواں ہے جس میں مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی دونوں پائی جاتی ہیں مزاحیہ جملے ایسے بے ساختہ ہیں کہ قاری مسکراہٹیں بکھیرتا جاتا ہے اور اسے الفاظ مہمیز کرتے جاتے ہیں سجاد حسین سرمد کے خاکوں میں افراد کے ظاہر و باطن ایسے پیراۓ میں بیان کیے گئے ہیں جن سے افراد کی حقیقی زندگی کھلی کتاب کی طرح سامنے آ جاتی ہےان میں جدیدیت کا عنصر نۓ خیالات کے تقاضوں کے مطابق اور
    نظریات کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا ہے یہ کتاب اٹک کے ادب میں بہترین شاہکار ہے
    آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت، سجاد حسین سرمد کی عزتوں میں اضافہ فرماۓ۔آمین

    .

  • یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے

    یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے

    یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے
    زمین رشک کے لائق ہے آسماں کے لیے

    ہمارے پاس عقیدت کی اُون ہے موجود
    سو ایک شال بُنی جائے جسم و جاں کے لیے

    بس ایک سمت چمکتی ہوئی اندھیرے میں
    بس ایک نقش کی جِھلمل ہے کارواں کے لیے

    ہمیں حضور ﷺ کی رحمت نے ڈھانپ رکھا ہے
    کبھی دعا نہیں مانگی ہے سائباں کے لیے

    اُس ایک اسم کی خوشبو اُتر گئی مجھ میں
    یہ کام ٹھیک ہُوا تازگیء جاں کے لیے

    Title Photo by Tarik Sami

  • آواز کا جادوگر: سید مبشر حسین اثر  ؔبہرائچی

    آواز کا جادوگر: سید مبشر حسین اثر  ؔبہرائچی

    آواز کا جادوگر: سید مبشر حسین اثر  ؔبہرائچی

    جنید احمد نور 
    9616502261

    اثر ؔ بہرائچی صاحب کا نام ذہن میں آتے ہی ایک ایسے شاعر کی تصویر آنکھوں میں آتی ہے جن کا کسی بھی ملنے والے سے نرم لہجہ ،خوش مزاجی سے ملنا ،محبت سے بات کرنا ملنے والے کو اپنا مرید بنا لے۔راقم کو بھی آپ سے کئی بار ملنے کا موقع ملا ہے خاص طور پر استاد محترم حضرت اظہار ؔوارثی صاحب مرحوم کے دولت خانے پر۔جو بھی آپ سے ایک بار ملے وہ آپ سے دوبارہ ملنے کی تمنا ضرور اپنے دل میں رکھتا ہے۔راقم سے جب بھی ملے ہمیشہ شفقت سے ملے اور کہتے کہو بیٹا، کیسے ہو ؟،آج کل کیا چل رہا ؟ جب بھی بتاتا کی بس بہرائچ کی ادبی تاریخ پر کام چل رہا ہے۔بڑے خوش ہوتے اور دعاؤں سے نوازتے۔میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب سن ۲۰۲۲ء میں میری کتاب بہرائچ ایک تاریخی شہر حصہ دوم (بہرائچ اردو ادب میں ) کا رسم اجرا آپ کی ہی صدارت میں ہوا تھا۔اس موقع پر آپ نے ہمارے دولت خانہ پر اپنی دلکش اور محسور کن آواز سے اپنے نعتیہ کلام سے محفل کا آغاز کیا تھا۔اب آئیں اثرؔ صاحب کی زندگی اور ادبی سفر پر باتیں کرتے ہیں۔
    حضرت سید مبشر حسین اثر ؔبہرائچی کی ولادت شہر بہرائچ کے محلہ چکی پورہ چھوٹی بازار میں سید عنایت حسین صاحب کے گھر میں یکم؍کتوبر۱۹۴۶ءکو ہوئی۔ آپ کی والدہ کا نام مسماۃ مسلمہ خاتون تھا۔ اثرؔ صاحب نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ جب آپ ہائی اسکول میں تھے اس وقت آپ کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے سبب آپ صرف ہائی اسکول تک ہی تعلیم حاصل کر سکے اور۱۹۶۴ءمیں ضلع مجسٹریٹ بہرائچ کے آفس میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور جہاں سے ۲۰۰۶ءمیں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
    حکیم محمد اظہر ؔ وارثی صاحب(شاگرد مولانا حسرتؔ موہانی و مولانا عبدالکلام آزادؔ) شہربہرائچ کے مشہور حکیم ہونے کے ساتھ ایک مشہور استاد شاعر بھی تھے اور حکیم اظہر ؔصاحب نے آپ کو اثر ؔکا تخلص دیا اور پھر آپ اثرؔ بہرائچی کے نام سے پوری ادبی دنیا میں مشہو رہوئے۔ استاد حکیم محمد اظہر ؔوارثی ؔصاحب کے انتقال کے بعد آپ نے استادالشعرا حضرت اظہار ؔ وارثی سے شرف تلمذ حاصل کیا جو اظہار ؔ صاحب کی وفات تک قائم رہا۔ اثرؔ بہرائچی کا ادبی سفر۱۹۶۹ءمیں ملک محمد جائسی کی سرزمین جائس رائے بریلی کے ایک مشاعرے سے ہوا،اور اب تک ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں مشاعرے پڑھے۔ آپ کاآخری ادبی پروگرام اپنی نعتیہ مجموعہ ’’سرتاجِ خوباں‘‘ کی رسم اجرا رہا، جو شہر کے لگن پیلس میں منعقد ہوا تھا جس میں آپ کے قریبی دوست جناب واصف فاروقی( جن کی زندگی کےتقریباً ۳۵ سالوں کا لمبا عرصہ بہرائچ میں بہ سلسلہ ملازمت گزرا )، صوفی سید اظہارعلی ، شکیل گیاوی صاحبان اور مقامی ادبی اور علمی شخصیات نے شرکت کی تھی ۔
    آپ نے ۳ بار کاٹھ مانڈو(نیپال) میں۱۹۶۹ء،۱۹۷۰ءاور ۱۹۷۲ءمیں مشاعروں میں شرکت کی اور نیپال کے بادشاہ مہندرا ویر وکرم شاہ دیو اور ہندوستانی صفیر کے سامنے کلام پیش کیااور داد تحسین حاصل کی۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۰ءمیں ریاستہائے متحدہ امریکا کے مختلف شہروں نیویارک،ہوسٹن،شکاگو،نیوجرسی،کیلیفورنیا وغیر ہ میں تقریباً۱۲؍مشاعروں میں شرکت کی اور سامعین کو اپنے کلام سے متاثر کیا۔ آپ کا کلام ملک زادہ منظور احمد کے رسالے امکان میں شائع ہوتا رہتا تھا۔
    پد م شری بیکلؔ اتساہی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ’’اردو شعری اثاثے کا قیتمی اور محبوب سرمایہ صنف غزل ہی تو قلی قطب و لی دکنی سے جگر مرادآبادی تک سب نے اپنےخون جگر سے اس کی آبیاری کی،دکن سے شمال تک اس پیکر ِ محبوبی کے سجاؤ سنگار کے لیے کئی نظریاتی اور فنی اسکول بنا لیے گیے وہ چاہے دلی ہو یا لکھنؤ سبھی اپنے اندازِ فکر سے اسے حسِین سے حسِین تر بنانے میں مصروف رہے اور غزل اپنے رموز و علائم سیاق و سباق میں ہر دور میں پیر ہن بدلتی رہی ہے۔ دورِ نو صنف غزل کے لیے بڑا پُرآشوب دور ہے پھر بھی یہ محبوب صنف ہر اذیت کو برداشت کرتے ہوئے سامعین و قارئینکے دلوں کو لبھاتی رہی ہے۔ایسے انتشاری دور میں عزیز م اثرؔ بہرائچی نے غزل سے وابستگی رکھی ہے اور غزل کی روایتوں کو احترام و اہتمام کے ساتھ نبھایا ہے۔ایسا نہیں کہ اثرؔ بہرائچی صرف روایت اور بزرگوں کی تقلید میں سر بہ خم ہیں بلکہ عصری حیثیت کی بھی قدر کی ہے۔‘‘{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۱۱}
    پروفیسر مالک جادہ منظور احمد لکھتے ہیں:۔
    ”اثر ؔ بہرائچی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز مشاعروں کے حوالے سے کیا اور اپنے کلام کے میعار اور اپنے ترنم کی نغمگی کے باعث پورے ملک کے مشاعروں پر آندھی اور طوفان کی طرح چھائے رہے۔گذشتہ چاردہائیوںمیں مختلف شہروںمیں ہونےوالے مشاعروںمیں دیکھایہ ہے کہ ان کے اشعار کے زیر وبم اور ان کے ترنم کی نغمگی میں سامعین کے دلوں کی دھڑکنیں شامل ہوگئی۔اثرؔنے مشاعروں میں خواص کے دلوںمیں بھی جگہ بنائی اور عوامی ذہنوں کی تربیت بھی کی ہے۔ آپ کے کلام میں انسانیت کی اعلیٰ وارفع قدروں کی ترجمانی بھی ہوتی ہے اور بصیرتوں کے بہت سے پہلو بھی پیدا ہوتے ہیں۔اثرؔ بہرائچی کےیہاں عصرِ حاضر کے مسائل کی ترجمانی میں بھی بوجھل نہیں ہوتی اورپوری نغمگی آہنگِ صوتی اور تغزل کی ایک موج تہ نشیں کے ساتھ نئے موسموں کا اشاریہ بنتی ہے۔“{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۷-۸ }
    خورشید افسر بسوانی لکھتے ہیں:
    ’’اثرؔ بہرائچی سے میرے دیرینہ تعلقات ہیں،میں تقریباً تیس سال سے مشاعروں میں ان کا کلام سنتا رہا ہوں ،آج بھی مشاعروں میں ان کے نام کی شمولیت ایک خوش گوار اضافہ سمجھتی جاتی ہے۔خوش آواز،خوش اخلاق،اور خوش پوش و خوش آہنگ شاعر ہیں۔ عام شعراء کی طرح ان میں کوئی بُری عادت نظر نہیں آئی بجز اس کے کہ پان کے شوقین ہیں یا چائے پیتے ہیں۔اثرؔ بہرائچی کلاسیکی غزل کے اچھے شاعر ہیں،ہاں محب وطن ہیں حب الوطنی ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہے لہذا مختلف موقعوں کے لیے حب وطن ست سرشار نظمیں بھی لکھی ہیں ۔ جن میں وطن پرستی اور حسنِ وطن کی پیکر تراشی کی گئی ہے۔شاعر(اثرؔ )نے لفظوں کے رنگوں سے مصوری کا کام لیا ،لیکن غزل انہیں زیادہ عزیز ہے اس صنف پر ان کی پھر پور توجہ رہی ہے ‘ ‘{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۱۲}
    شہر بہرائچ کی ایک عظیم ادبی ہستی جو اثرؔ صاحب سے اس قدر قلبی تعلق رکھتے تھے کہ اثرؔ صاحب اور ان کی محبت صرف زندگی میں ہی نہیں بالکہ موت پر بھی ساتھ رہی اور صرف دس دنوں کے اندر ہی دونوں حضرات اس دارِ فانی سے کوچ کر گیے میری مراد مشہور افسانہ نگار،شاعر،ناظم ، غلام علی شاہ (متوفی ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۵ء مطابق یکم شوال ۱۴۴۶ھ) اثرؔ صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ’’اثرؔ کے یہاں انقلابی فکر بھی غنائی لہجہ میں ہے۔انھوں نے انقلابیت کے لیے غنائیت کو یا غنائیت کے لیے انقلابیت کو کبھی قربان نہیں کیا بلکہ اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اور عاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ ان کی شاعری میں ایک جمالیاتی شان پیدا ہو گئی ۔جیسے؎
    مرے اشکوں پہ ہے شبنم کا گماں تم کو مگر
    آگ لگ جائے نہ دامن کو ، بچائے رکھنا

    غنائی سطح پر اثرؔ کی شاعری میں ایسی قوت شفا ہے ،ایسی دلاسائی ،ایسی دلآویزی ایسی نرمی اور ایسا شبنمی لمس ہے کہ محسوس ہو تاہے جیسے کسی نے دل کے رُخسار پر پیار سے ہاتھ رکھ دیا ہو۔ایسی کھنک ہے کو یا آبشاروں نے ترنم چھیڑ دیا ہوں۔مختصر یہ کہ جناب اثر بہرائچی ایک خالص غزل گو شاعر ہیں ۔ ان کی غزلیہ شاوری قدیم و جدید رنگ ِ شاعری کا ایک خوب صورت امتزاج ہے۔ ان کے یہاں حُسن وعشق کی رنگینیاں بھی ہیں ،رعنائیاں بھی ،حدیث دل بھی ہےاور حدیث دیگراں بھی ۔غم جاناں کی چاشنی بھی اور غم دوراں کی لذت بھی ۔خیال کی پاکیزگی بھی اور اور جذبے کہ صداقت بھی روشنی کی جستجو بھی ہے اور اندھیروں سے لڑنے کا حوصلہ بھی۔زندگی کے نئے تجربے بھی ہیں اور عصری آگہی کے نمونے بھی ،فکر و نظر میں گہرائی بھی اور تنوع بھی ۔زبان و بیان میں سلاست بھی اور اسلوب میں ندرت بھی ،نئی علامتیں بھی ہیں اور نئے اشارے کنائے بھی ۔فنکارانہ مہارت بھی ہے اور پیکر تراشی بھی ،وہ کہتے ہیں ؎
    ورق ورق ہے پریشاں فضا میں پھولوں کا
    سزا ملی ہے ذرا دیر مسکرانے کی

    آواز کا جادوگر: سید مبشر حسین اثر  ؔبہرائچی
                    (حرف حرف خوشبو،اثرؔ بہرائچی،ص ۲۲)

    اثرؔ بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام اب تک منظر عام پر آئے اور داد تحسین حاصل کی۔ پہلا مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے جس کا نام ’’رُوح‘‘ ہے۔ ’’روح ‘‘ کی اشاعت ۔ جب کہ دوسرہ مجموعہ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے اور اس مجموعہ کا نام ’’حرف حرف خوشبوں ‘‘ ہے۔اثرؔصاحب کو بہت سی ادبی تنظیموں نے انعامات سے نوازا ہے جونپور کی ایک تنظیم نے آپ کو ’منظوم‘ ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ ڈی۔ ایم۔ بہرائچ نے بھی انعامات سے نوازا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ و دور درشن لکھنؤ سے آ پ کئی بار اپنا کلام پڑھ چکے ہیں۔
    آپ کی طبیعت گزشتہ کئی سالوں سے ناساز چل رہی تھی لیکن ۲۰۲۴ءمیں اپنی کتاب ’’سرتاجِ خوباں‘‘ کی رسم اجرا والے دن گھر پر گِر پڑے تھے جس کی وجہ سے آپ کو کافی چوٹیں آئیں اور پھر اپریشن بھی ہوا اور طبیعت میں سدھار بھی ہوا لیکن پھر گزشتہ دو ماہ قبل بیماری بڑھتی گئی اور لکھنؤ کے ایک ہاسپٹل میں زیر علاج رہے اور جہاں تقریباً ایک ماہ تک علاج چلا اور پھربہ روز شنبہ ۲۲ ؍مارچ ۲۰۲۵ مطابق ۲۱؍رضمان ۱۴۴۶ھ کو بہ وقت ڈھائی بجے دن میں ’’روح‘‘ پرواز گئی۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے سمدھی جناب سید ؔ نیپالی صاحب نے پڑھائی اور تدفین رات میں دس بجےخانقاہ بسم اللہ شاہ ؒ چھوٹی تکیہ کے آبائی قبرستان میں ہوئی۔ جس میں ضلع بہرائچ کے ادبی اور سماجی حلقے کے سرکردہ افراد اور عوام الناس کثیر تعداد میں شرکت فرمائی تھی۔
    آپ کی دو صاحب زادے اور دو صاحب زادیاں ہیں ۔ سید دانش ہاشمی اور سید نیر ہاشمی (علیگ)۔ دانش بھائی سعودی کی ایک کمپنی سے وابستہ ہیں جب کہ نیر بھائی محکمہ تعلیم سے وابستہ ہیں او بہرائچ میں ہی رہتے ہیں،اثرؔ صاحب کی ایک صاحب زادی ضلع بہرائچ کے مشہور شاعر سید نذرالحسنین المعروف شاعرؔجمالی کے صاحب زادے جناب سید ظفر الحسنین ظفرؔ جمالی سے منسوب ہیں، جب کہ دوسری صاحب زادی بہرائچ کے تاریخی قصبہ نان پارہ میں مولانا سید مسیح اللہ ہاشمی کے چھوٹے صاحب زادے سید محمد سالک امین اللہ ہاشمی سے منسوب ہیں۔
    نمونہ کلام
    میرے چہرے پہ اُداسی کی جھلک ہے پھر بھی
    میرے سینے میں محبت کے کنول کھلتے ہیں
    تیرے دامن میں بہاریں ہیں تو کیا ہے حاصل
    تیری آنکھوں میں تو نفرت کے دیئے جلتے ہیں
    ٭٭٭
    ترا غم ، تری محبت ہے جبین دل کا مرکز
    میرا ذوق سجدہ ریزی ابھی در بدر نہیں ہے

    ٭٭٭
    ابھی تو جذب محبت پہ ہے یقین مجھے
    ابھی نہ کھاؤ قسم لوٹ کے نہ آنے کی

    ٭٭٭
    تغیر نام ہے انسان کی فطرت بدلنے کا
    زمانہ کب بدلتا ہے زمانہ تو زمانہ ہے

    ٭٭٭
    بے نیاز آج مرے غم سے یہ دنیا ہے اثرؔ
    کل مرے بعد مرے پیار کا چرچا ہوگا

    ٭٭٭
    میں ہوں خاموش تو خاموش ہے ذرہ ذرہ
    میری آواز زمانے کی صدا ہو جیسے

    جلوؤں کی تمازت سے کبھی طور جلا دیں
    اور چاہیں تو شعلوں کو بھی گلزار بنا دیں
    کیا زیست ہے کیا زیست کا انجام بتا دیں
    بچھڑے ہوئے قطروں کو سمندر کا پتہ دیں
    جلتا ہے اگر دل بھی ہمارا تو جلا دیں
    نفرت کے اندھیروں کو بہر حال مٹا دیں
    رہ جائے نہ دنیا میں کوئی دوست کسی کا
    ہم آپ کے چہرسے اگر پردہ ہٹا دیں
    آنکھوں میں اُداسی ہے تو ہونٹوں پہ خموشی
    ہر شخص ہے تصویر یہاں کس کو صدا دیں
    روشن ہے ہر اک گوشئہ دل جس کی ضیا سے
    اس شمع فروزاں کو اثرؔ کیسے بجھا دیں

  • علامہ ریاست علی مجددی کی اردو حمد کے کھوار تراجم 

    علامہ ریاست علی مجددی کی اردو حمد کے کھوار تراجم 

    علامہ ریاست علی مجددی کی اردو حمد کے کھوار تراجم 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    علامہ ریاست علی مجددی کے پنجابی اور اردو کے ممتاز شاعر ہیں، حمد، نعت رسول مقبول ﷺ، غزل اور نظمیں لکھتے ہیں۔ اردو اور کھوار دونوں زبانوں کے نعتیہ ادب میں حمد باری تعالیٰ کا مقام نہایت ہی بلند اور مقدس ہے۔ یہ صنفِ سخن خالصتاً خالقِ کائنات کی بزرگی، عظمت، صفات اور احسانات کے اعتراف کے طور پر لکھی جاتی ہے۔ علامہ ریاست علی مجددی اردو حمدیہ شاعری کے ایک معتبر اور روحانی شاعر ہیں جن کی حمد میں نہ صرف عقیدت کی چاشنی محسوس ہوتی ہے بلکہ ایک وجدانی کیفیت بھی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کی اردو حمد اور اس کا راقم الحروف کی جانب سے کیا گیا کھوار (چترالی) زبان میں ترجمہ، دونوں زبانوں کی لطافت، معنویت اور روحانیت کا حسین امتزاج کے ساتھ ساتھ پہلی کوشش بھی ہے۔

    علامہ ریاست علی مجددی کی اس حمد کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی عطا، کرم، تمحید، رضا اور بندگی مبنی ہے۔ شاعر ابتدا ہی سے خدا کی عطا کو دل کی کیفیت سے جوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے:

    "رب کی عطا ہے دل میں حمد و ثناء ہے دل میں”

    کھوار: پروردگارو عطا شیر ہردیا

    حمد اوچے ثناء شیر ہردیا”

    یہ شعر نہ صرف توحید کا اقرار ہے بلکہ ایک باطنی سکون کا اظہاریہ بھی ہے۔ حمد اور ثناء دل میں ہونا اس روحانی وابستگی کی علامت ہے جو ایک مومن کے دل میں اپنے رب کے لیے موجود ہوتی ہے۔

    اسی طرح اگلا شعر بھی دیکھئیے:

    ’’یارب کرم ہو مجھ پر

    ہر دم دعا ہے دل میں‘‘ 

    یہ شعر اللہ سے مسلسل دعا اور رحمت طلبی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ شاعر صرف رسمی دعاؤں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دل کی گہرائیوں سے التجا بھی کرتا ہے مثلاً:

    "یارب کرم ہو مجھ پر

    ہر دم دعا ہے دل میں”

    کھوار: پروردگارا کرم بار مه سورا

    ہر دم دعا شیر ہردیا

    مجددی کے حمد کا اسلوب نہایت سادہ، صاف، اور پر اثر ہے۔ شاعری میں علامہ مجددی نے پیچیدہ الفاظ یا تصنع سے گریز کیا ہے۔ ان کی زبان فطری، ایمانی اور وجدانی محسوس ہوتی ہے۔ کھوار ترجمے میں بھی اسی سادگی کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ کھوار قاری بھی اصل مفہوم سے محروم نہ ہو مثلاً:

    "کیوں خوف پاس آئے

    میرا خدا ہے دل میں”

    کھوار: کو بوھورتونی گری نسوتے گوئے

    مہ خدائے اسور ہردیا

    یہاں "خوف” کے خلاف ایک باطنی طاقت اور یقین کی بات کی گئی ہے کہ جب دل میں خدا موجود ہے تو پھر دنیا کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔

    اسی طرح آخری شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، جو ایک وجدانی مکالمے کی کیفیت پیدا کرتا ہے جیسے:

    "ڈرتا ہے کیوں ریاست

    رب العلیٰ ہے دل میں”

    کھوار: بوھرتوئسان کو ریاست

    رب العلیٰ اسور ہردیا

    یہ خودکلامی دراصل شاعر کی طرف سے ایک ایمانی تجدید ہے، جو قاری کے دل میں بھی اطمینان اور یقین کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

    کھوار زبان میں اس حمد کا ترجمہ صرف لسانی نقل ہی نہیں بلکہ ایک روحانی خدمت بھی ہے۔ اس کے ذریعے چترال، غذر، اور مٹلتان کالام کے وہ افراد جو اردو سے پوری طرح واقف نہیں، حمد کے ایمانی مفاہیم کو اپنی مادری زبان میں محسوس کر سکتے ہیں۔ ترجمے میں جہاں ممکن ہوا ہے لفظ بہ لفظ برابری کی گئی ہے، اور جہاں ضرورت پڑی وہاں معنوی ترجمانی سے کام لیا گیا ہے۔

    مثال کے طور پر "رضا” کا ترجمہ "رضا” ہی رکھا گیا ہے، جو کھوار میں بھی اسی مفہوم کے ساتھ مستعمل ہے، جبکہ "فضا” کو "روشت فضا” کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ روشنی اور روحانیت کا پہلو مزید واضح ہو۔

    علامہ ریاست علی مجددی کی اردو حمد اور اس کے کھوار تراجم خدا شناسی، روحانیت، ایمان افروزی اور قومی لسانی خدمت کی ایک حسین مثالیں ہیں۔ اردو اور کھوار دونوں زبانوں میں اس حمد کا مطالعہ قاری کو ایک وجدانی کیفیت سے ہمکنار کرتا ہے۔ یہ نہ صرف اردو حمدیہ ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے بلکہ کھوار زبان میں نعتیہ و حمدیہ ادب کی ترقی میں بھی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • ہندو شاعر اُدھوَ مہاجن بسمل کی عقیدت سے بھرپور شاعری

    ہندو شاعر اُدھوَ مہاجن بسمل کی عقیدت سے بھرپور شاعری

    ہندو شاعر اُدھوَ مہاجن بسمل کی عقیدت سے بھرپور شاعری

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    اُدھوَ مہاجن بسمل کا تعلق منڈھوا پونے ہندوستان سے ہے اردو کے ممتاز شاعر ہیں، حمد، نعت، غزل اور نظمیں لکھتے ہیں انہوں نے عقیدت سے بھرپور حمدیہ اور نعتیہ شاعری لکھی ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں ہندو شعرا کی حمد و نعت نگاری کوئی نئی بات نہیں۔ کئی غیر مسلم شعرا نے اپنی شاعری میں اسلامی موضوعات کو اپنایا اور ان میں خاص عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔

    ہندو شاعر اُدھوَ مہاجن بسمل کی عقیدت سے بھرپور شاعری
    اُدھوَ مہاجن بسمل

    اُدھوَ مہاجن بسمل کی حمد و نعت بھی اسی روایت کی ایک کڑی ہے۔ اپنی حمدیہ و نعتیہ شاعر میں ایک ہندو شاعر اسلامی جذبات کو اپنی تخلیقی صلاحیت کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:

    ہر کسی کو ہےضرورت تیری
    میں بھی کرتا ہوں عبادت تیری

    بسمل نے اپنی حمد باری تعالیٰ میں وحدت، محبت اور عبادت کا اظہار اظہار کیا ہے۔ان کی حمد میں ایک غیر معمولی عقیدت اور یکسوئی نظر آتی ہے۔ شاعر کی فکری گہرائی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اللہ کی حاکمیت اور وحدانیت کو بڑی سادگی سے بیان کرتا ہے:

    تیرے رب ہونے پہ ہے ناز مجھے
    میرے دل میں بھی ہے وحدت تیری

    یہاں شاعر کا عمومی بیانیہ ہر انسان کی بنیادی فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر شخص اللہ کی ذات کا محتاج ہے۔ اسی طرح، وحدت و یکتائی پر بھی شاعر کو ناز ہے، جو وحدانیت کی مضبوط علامت ہے۔

    یہ اشعار صوفیانہ فکر سے قریب معلوم ہوتے ہیں، جہاں خدا کی وحدانیت کو انسان کے دل میں پنہاں تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دعا اور حاجت کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کا انداز نہایت منفرد ہے:

    "اب کسی شئے کی نہیں ہے حاجت
    دل میں میرے ہے محبت تیری”

    یہاں شاعر کی روحانی وابستگی اور اللہ سے قربت نمایاں ہوتی ہے۔ وہ مادی دنیا کی ضرورتوں سے بے نیاز ہو کر خدا کی محبت میں محو ہو جانے کو سب سے بڑی کامیابی تصور کرتا ہے۔ حمد کے آخری اشعار میں دعاؤں کی قبولیت کی کیفیت کو ایک وجدانی تجربے کی طرح پیش کیا گیا ہے مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

    "جب بھی بسمل نے دعائیں مانگیں
    تب برسنے لگی رحمت تیری”

    یہاں شاعر کا نام بھی عقیدت کے رنگ میں رنگا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس سے ایک خودسپردگی اور روحانی سرشاری کا انداز جھلکتا ہے۔

    اُدھوَ مہاجن بسمل کی حمدباری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ ان کی نعتِ پاک میں بھی عقیدت اورتعظیمی جذبے کی تصویر کشی نظر آرہی ہے۔بسمل کی نعت حضور اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ایک گہری عقیدت اور محبت کا اظہار ہے۔ سب سے پہلے شاعر اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہوئے نعت گوئی کی عظمت کو یوں بیان کرتا ہے:

    "مجھ سے الٰہی شاہِ اُمم پر قلم اُٹھانا مشکل ہے
    حُسنِ رسولِ پاک ہے کیسا،یہ بتلانا مشکل ہے”

    یہ عاجزی سے بھرپور اسلوب نعتیہ شاعری کی ایک خاص علامت ہے، جہاں شاعر اپنی کم حیثیتی کو حضور اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بلند عظمت کے مقابلے میں تسلیم کرتا ہے۔ ان کے نعت کا ایک اور نمایاں پہلو نبی اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے کے حالات کا بیان ہے جس میں وہ دنیا کی ویرانی اور بے نوری کا ذکر یوں کرتے ہیں:

    "آپ نہیں آئے تھے جب تک اِس دُنیا کے صحرا میں
    سب کہتے تھے ویرانوں میں پھول کھلانا مشکل ہے”

    یہ استعارہ نہ صرف نبی اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رحمت اللعالمین ہونے کو اجاگر کرتا ہے بلکہ آپ ﷺ کی آمد کو حیاتِ انسانی کے لیے ایک عظیم نعمت قرار دیتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی شخصیت کو چاند ستاروں سے موازنہ بھی انتہائی عمدہ تشبیہ ہے:

    "دُنیا والو! چاند ستارے آج بھی ہم سے کہتے ہیں
    اُن کے دیپ کے آگے اپنا دیپ جلانا مشکل ہے”

    یہاں شاعر کا کلام قرآنی تعلیمات سے متاثر نظر آتا ہے جہاں حضور ﷺ کو "سراجاً منیرا” یعنی روشن چراغ قرار دیا گیا ہے۔

    اسی طرح قرآن کے نزول کی حکمت کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے:

    "اِسی لیے تو سرورِ عالم!آپ پہ قرآن اُترا ہے
    پربت کو تو اِک آیت کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہے”

    اس شعر میں شاعر نے سورۃ الحشر کی مشہور آیت "لو أنزلنا هذا القرآن على جبل…” کی جانب اشارہ کیا ہے، جو کہ شاعر کے قرآنی فہم اور اسلامی عقائد سے قربت کی نشاندہی کرتی ہے۔

    نعت کے آخری اشعار میں شاعر اپنی تمنا کا اظہار کرتا ہے کہ وہ مدینہ منورہ جا کر حضور اکرم ﷺ کے در پر فدا ہو جائے:

    "اِک دِن میں بھی شہرِ نبی میں جاکر ُگم ہو جاؤں گا
    میرے لیے تو آپ کے در سے واپس آنا مشکل ہے”

    شاعر کا یہ خیال عاشقانہ رنگ لیے ہوئے ہے جہاں شاعر مدینہ منورہ کو اپنی آخری منزل سمجھتا ہے۔

    اُدھوَ مہاجن بسمل کی حمد و نعت ان کی گہری عقیدت اور اسلامی فکر سے وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی اور خلوص اور جذبات کی پاکیزگی نمایاں ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں قرآنی اور اسلامی اصطلاحات کا استعمال کا بھرپور اسستعمال کیا ہے، انہوں نے وحدانیت، رحمت، نبی اکرم ﷺ کے نور اور قرآن کے نزول جیسے موضوعات کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں عقیدت کا فطری اظہار بھی ملتا ہے، شاعر کی محبت میں دکھاوا یا تصنع نظر نہیں آتا، بلکہ ایک سچے عقیدت مند کی جھلک ملتی ہے۔

    ہندو شاعر اُدھوَ مہاجن بسمل کی حمد و نعت، ایک غیر مسلم شاعر کے قلم سے لکھی گئی اسلامی عقیدت کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کسی مذہبی حد بندی کی محتاج نہیں، بلکہ ان کی شخصیت اور تعلیمات عالمگیر حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری اردو ادب کے اس روشن پہلو کا حصہ ہے جہاں عقیدت اور محبت کے رنگ کسی مذہب یا قوم کے دائرے میں محدود نہیں رہتے۔ میں شاعر کو عقیدت سے بھرپور حمدیہ و نعتیہ شاعری تحلیق کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

  • مظفر وارثی کی نعت "تو کجا من کجا”

    مظفر وارثی کی نعت "تو کجا من کجا”

    مظفر وارثی کی نعت "تو کجا من کجا”

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی* 

    مظفر وارثی کا شمار اردو زبان کے چند چیدہ چیدہ نعت گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی نعت "تو کجا من کجا” اردو نعتیہ شاعری کا ایک شاہکار نمونہ ہے جو ایک عاجز بندے کی سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت، نیازمندی اور آپ ﷺ کی بے پایاں عظمت کے اعتراف پر مبنی فارسی اور اردو کے الفاظ کی آمیزش سے تخلیق کردہ ایک بہترین نعت ہے۔ یہ نعت نہ صرف اپنے روحانی اور وجدانی اثرات کی وجہ سے ہر خاص و عام میں مقبول ہے بلکہ اس کی شعری صناعی اور فکری گیرائی بھی اسے اردو نعتیہ ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

    یہ نعت بنیادی طور پر تضاد (Contrast) کے اصول پر استوار ہے، جہاں شاعر نے اپنی عاجزی و بے بسی کو سرکارِ دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و رفعت کے سامنے پیش کیا ہے۔ پوری نعت میں "تو کجا من کجا” کا مصرع بار بار دہرایا گیا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ بے مثال کے سامنے ایک عام انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔

    نعت رسول مقبول ﷺ میں عظمتِ رسول ﷺ اور انسانی عاجزی کو موضوع بنایا گیا ہے مثلاً:

    "تو امیرِ حرم، میں فقیرِ عجم”

    شاعر یہاں دو متضاد حیثیتوں کو سامنے رکھتا ہے۔ "امیرِ حرم” کا مطلب ہے کہ رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کعبے کے مالک و مختار ہیں، جبکہ "فقیرِ عجم” میں شاعر اپنی حیثیت کو کم ترین ظاہر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ وہ نہ عربی النسل ہے، نہ کوئی بڑی ہستی، بلکہ فقط ایک عاجز گناہ گار عجمی ہے۔

    نعت میں رحمت اور خطا کا تقابل کیا گیا ہے جیسے:

    "تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا”

    شاعر یہاں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سراپا رحمت ہونے کو اپنی گناہ گاری کے مقابل رکھتا ہے۔ یہ تصور قرآن و حدیث میں بھی بارہا آیا ہے کہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سراپا رحمت ہیں، جبکہ انسان خطا کا پتلا ہے۔

    نعت میں یقین اور گمان کو بھی بیان کیا گیا ہے مثلاً:

    "تو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل

    تو یقیں میں گماں، میں سخن تُو عمل”

    یہ اشعار رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی لافانی حیثیت اور انسانی وجود کی ناپائیداری کو واضح کرتے ہیں۔ یہاں شاعر اپنی کمزوری کا اقرار کرتا ہے کہ وہ صرف باتیں بنانے والا ہے، جبکہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی عمل اور یقین کی بنیاد ہے۔

    نعت رسول مقبول ﷺ میں احرامِ انوار اور درودوں کی دستار کا ذکر کیا گیا ہے جیسے:

    "تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے

    میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے”

    اس شعر میں شاعر نے ایک خوبصورت تخیل باندھنے کی کوشش کی ہے۔ احرامِ انوار یعنی نورانی لباس جو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ شاعر خود کو صرف درود پڑھنے والا قرار دیتا ہے۔

    نعت رسول مقبول ﷺ میں سدرۃ المنتہیٰ اور زمین کی خاک کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً:

    "میرا گھر خاک پر اور تری رہگزر

    سدرۃ المنتہیٰ، تو کجا من کجا”

    سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں جبریل علیہ السلام کی پرواز ختم ہو جاتی ہے، مگر رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ معراج کی رات وہاں سے بھی آگے تشریف لے گئے۔ شاعر اپنے مادی وجود کو خاک سے تشبیہ دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بلندی و رفعت کو سدرۃ المنتہیٰ سے تعبیر کرتا ہے۔

    نعت میں سخاوت اور فقیری کا بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے:

    "کاسۂ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں

    تو سخی میں گدا، تو کجا من کجا”

    یہاں شاعر اپنی حیثیت کو ایک گداگر سے تشبیہ دیتا ہے جو نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سخاوت کے در پر کھڑا ہے۔ یہ تصور صوفیانہ شاعری میں بھی بہت عام ہے کہ بندہ صرف ایک سائل ہے اور رسولِ اکرم ﷺ شفاعت کرنے والے ہیں۔

    شاعر حالات میں استقامت کی بھی بات کی ہے جیسے:

    "ڈگمگاٰؤں جو حالات کے سامنے

    آئے تیرا تصور مجھے تھامنے”

    یہاں شاعر عقیدت و محبت کے جذبات میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے کہ جب بھی دنیاوی مصائب گھیر لیں تو نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی یاد سہارا دیتی ہے۔

    نعت رسول مقبول ﷺ میں خاموشی اور فصاحت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے مثلاً:

    "میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تری

    مجھ کو تابِ سخن دے خموشی تری”

    شاعر یہاں اس حقیقت کو بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس کی ساری عزت اور پہچان رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سے ہے۔

    شاعر نے اشکوں کی زباں کا ذکر یوں کیا ہے:

    "دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں

    جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں

    آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں

    دل سے نکلے صدا، تو کجا من کجا”

    اس شعر میں شاعر مدینہ منورہ کی زیارت کے لمحے کی منظر کشی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جہاں آنکھیں آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضہ اطہر کی جالیوں سے لپٹ جاتی ہیں اور آنسو دعاؤں کی صورت میں بہنے لگتے ہیں۔

    یہ نعت نہ صرف اپنے موضوع کے اعتبار سے بلند پایہ نعت ہے بلکہ اس میں کئی شعری خصوصیات بھی موجود ہیں جیسے تکرار کی خوبصورتی، "تو کجا من کجا” کا مسلسل اعادہ اس نعت کو ایک وجدانی کیفیت عطا کرتا ہے۔ یہ تکرار محبت کے جذبے کو مزید اجاگر کرتی ہے اور سامع پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

    تو کجا من کجا میں شامل یہ تمام اشعار نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و بلندی اور انسانی کمزوری کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتے ہیں۔

    نعت میں صوفیانہ اور وجدانی رنگ بھی نمایاں ہے۔

    یہ نعت صوفیانہ طرزِ فکر کا حامل ایک شاہکار نعت ہے جہاں شاعر اپنی ناچیز حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے مکمل فنا کا اقرار کرتا ہے۔

    نعت رسول مقبول ﷺ میں سلاست کے ساتھ ساتھ روانی بھی ہے۔ الفاظ کا چناؤ سیدھا سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ گہرا بھی ہے، جس سے نعت کا ہر شعر دل میں اترتا ہے اور ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

    نعت میں تخیل کی بلند پروازی بھی شامل ہے۔ "سدرۃ المنتہیٰ”، "احرامِ انوار”، "کاسۂ ذات”، "درودوں کی دستار”، "جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں” جیسے خیالات شاعرانہ حسن کو مزید نکھارتے ہیں۔

    "تو کجا من کجا” مظفر وارثی کی ایک ایسی لازوال نعت رسول مقبول ﷺ ہے جو عقیدت، عاجزی اور عشقِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس میں ایک بندۂ عاجز کا اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حضور جذبۂ نیاز مندی کا دل سے اظہار کیا گیا ہے۔ نعت کی سادگی، گہرائی، موسیقیت اور فنی خوبصورتی اسے اردو نعتیہ ادب میں ہمیشہ کے لیے ایک بلند مقام عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نعت عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے اور سننے والوں کے دلوں کو روحانی سرور بخشتی ہے۔

    Title Image by egypt_man147 from Pixabay