وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر

وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر

وحید منظر اردو زبان کے شاعر، ادیب اور صحافی ہیں، روزنامہ قومی حمایت کراچی کے مدیر ہیں، آپ کی نعتیہ شاعری اسلامی روحانیت کے پس منظر میں ایمان، عقیدت اور انسانی حالت کی گہرائی سے تحقیق پر مبنی شاعری ہے۔ آپ کی نعت میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت و محبت کا جا بجا اظہار ملتا ہے۔ اور جب آپ حمد شریف لکھتے ہیں تو آپ کی حمدیہ شاعری الٰہی مداخلت اور رہنمائی کی لازوال خواہش کو ظاہر کرتی ہے، آپ کی شاعری میں ایسے موضوعات بار بار آتے ہیں جو مسلم دنیا کے ثقافتی اور مذہبی تانے بانے میں گہرائی سے پسند کیے جاتے ہیں۔ آج کا یہ کالم وحید منظر کی نعتیہ شاعری کی میں شامل دعائیہ اسلوب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی موضوعاتی گہرائی، لسانی فنکاری اور روحانی جوش کے تجزیے پر مبنی ہے۔

وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں دعائیہ عناصر
وحید منظر


آپ کی نعتیہ شاعری میں موضوعاتی گہرائی کے ساتھ ساتھ چھٹکارے کی درخواست اور دعائیہ عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ وحید منظر کی نعتیہ شاعری نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت کے حصول کے بنیادی موضوع کے گرد گھومتی ہے۔ اس تھیم کو واضح طور پر ان اشعار میں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے جیسے:
غلامی سے مسلمان کو چھڑادو یا رسول الله
جہان کفر کے ٹکڑے کرادو یا رسول اللہ
یہاں وحید منظر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے مسلمانوں کو غلامی کے طوق سے آزاد کرنے اور کفر کے تسلط کو ختم کرنے کی التجا کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کی یہ التجا محض جسمانی آزادی کے لیے نہیں ہے بلکہ روحانی بیداری اور اخلاقی قوت کے لیے بھی ہے۔ شاعر کا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نجات دہندہ کے طور پر پکارنا ایمان کی تبدیلی کی طاقت میں گہرے یقین کی عکاسی کرتا ہے۔
وحید منظر کا زبان کا استعمال فکر انگیز، دعائیہ اور التجائیہ ہے، شاعر کا یہ منفرد اسلوب اردو نعت کو ایک دعائیہ لہجے کے ساتھ ملاتا ہے جو براہ راست قاری کی روح میں اتر کر اس سے باتیں کرتا ہے۔ پوری نعت شریف میں دعائیہ اسلوب “یا رسول الله” کی تکرار شاعر کی مایوسی اور اٹل ایمان پر زور دیتے ہوئے ایک نئے اسلوب کو سامنے لاتا ہے۔ مثال کے طور پر:
مجھے دنیا کے صدموں سے چھڑادو یا رسول الله
مری بگڑی ہوئی قسمت بنا دو یا رسول الله
نعت رسول مقبول ﷺ میں شاعر کا یہ تکرار نہ صرف شاعر کی پر خلوص التجا کو تقویت دیتی ہے بلکہ ایک خوبصورت تال میل بھی پیدا کرتی ہے جو دعا میں دل کی تیز دھڑکن کی عکاسی کرتی ہے۔ وحید منظر کے الفاظ کا انتخاب، جیسے کہ “صدموں” (دکھ) اور “بگڑی ہوئی قسمت” (تباہ شدہ قسمت)، ہنگاموں میں گھری روح کی ایک واضح تصویر کشی پیش کرتی ہے، جو سکون اور نجات کی تلاش میں ہے۔
آپ کی شاعری میں روحانی جوش کے ساتھ ساتھ الٰہی رحمت کی تلاش کا زکر بھی جابجا ملتا ہے۔ وحید منظر کی نعتیہ شاعری میں رحمت الٰہی اور رہنمائی کی ایک نہ ختم ہونے والی جستجو بھی ہے۔ یہ روحانی جوش ان اشعار میں واضح ہے جیسے:
چلادو نیک رستے پر مجھے اے محسن عالم
گناہوں سے میرا پیچھا چھڑوادو یا رسول الله
یہاں شاعر نے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے صراط مستقیم پر چلنے کے لیے اس کی راہنمائی کرنے اور اس کے گناہوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ استدعا شاعر کی اپنی کمزوری کی پہچان اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت پر انحصار کو اجاگر کرتی ہے۔ وحید منظر کا اپنے گناہوں کا اعتراف اور نجات کے لیے ان کی مودبانہ درخواست، خدا اور انسانیت کے درمیان ثالث کے طور پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کردار میں اسلامی عقیدے کی نشاندہی کرتی ہے۔
وحید منظر کی نعتیہ شاعری مسلم کمیونٹی کے ثقافتی اور مذہبی ماحول میں گہرائی سے پیوست ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر مسلمانوں کو درپیش آزمائشوں اور مصائب کے بارے میں ان کے حوالہ جات جدوجہد اور امید کے مشترکہ احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھئیے جیسے:
بہت مجبوریاں ہیں درمیاں حائل نظر کردو
مٹادو فاصلوں کو اب بلالو یا رسول الله
شاعر کا لفظ مجبوریاں کا استعمال اور “مٹادو فاصلوں کو” کی اس کی التجا مصیبت کے اجتماعی تجربے اور خدائی مدد کی آرزو کو ظاہر کرتی ہے۔
وحید منظر کی نعتیہ شاعری ایمان کی لازوال قوت اور رحمت الٰہی کی لازوال انسانی جستجو کا ثبوت ہے۔ اس کی فکر انگیز زبان، گہرے موضوعات، اور گہرے روحانی جذبے کے ساتھ مل کر ان کی شاعری کا ایک ایسا مجموعہ پیدا ہوتا ہے جو نہ صرف ذاتی عقیدت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مسلم کمیونٹی کی اجتماعی روحانی امنگوں کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ چیلنجوں سے بھری اس دنیا میں وحید منظر کی شاعری سکون، امید اور ایمان کی تبدیلی کی طاقت کا اعادہ کرتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے وحید منظر کی نعت بطور نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔

*
نعت رسول مقبول ﷺ
*
غلامی سے مسلمان کو چھڑادو یا رسول الله
جہان کفر کے ٹکڑے کرادو یا رسول الله
مجھے دنیا کے صدموں سے چھڑادو یا رسول الله
مری بگڑی ہوئی قسمت بنا دو یا رسول الله
چلادو نیک رستے پر مجھے اے محسن عالم
گنا ہوں سے میرا پیچھا چھڑوادو یا رسول الله
میری کمزوریاں کہیں مجھ کو رسوا نہ کر ڈالیں
مجھے پستی میں گرنے سے بچالو یا رسول الله
بہت مجبوریاں ہیں درمیاں حائل نظر کردو
مٹادو فاصلوں کو اب بلالو یا رسول الله
تری توصیف کے قابل کہاں ہے یہ زباں میری
مرا طرز سخن بہتر بنادو یا رسول الله
میں ڈوبا جا رہا ہوں بحر طوفان حوادث میں
سنبھالو یا رسول الله سنبھالو یا رسول الله
گناہوں کے عذابوں میں گھرا ہے آج بھی منظر
مجھے اپنی شفاعت سے بچالو یا رسول الله

Title Image by Manfred Richter from Pixabay

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مستقبل کے چیلنجز

بدھ مئی 22 , 2024
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اپنے آپ کو مثبت انداز میں پیش کر کے متاثر کر رہا لیکن دنیا کو اس کے منفی اثرات کے تجربے سے ابھی
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مستقبل کے چیلنجز

مزید دلچسپ تحریریں