“داود تابش کی شہد آگیں انعات”

صوتی ترنگ جب نوک قلم پر رقص کرتی ہے تو قلم کلاسیکل رنگ بکھیرتا چلا جاتا ہے اور وہ غزلیہ آہنگ سے سفر کرتا ہوا نعت کے پرنور کیف میں داخل ہوتا ہے اسی پر نور کیف میں خالق کاٸنات کے محبوب جو عطائے مخزنِ اسرارِ ربانی ہیں، جو عطائے مرکزِ انوار رحمانی ہیں، جو عطائے مصدرِ فیوضِ یزدانی ہیں ،جو عطائے قاسمِ برکاتِ حمدانی ہیں، جو عطائے دانشِ برہانی ہیں، جو عطائے مدثر و مزمل ہیں، جو عطائے امواجِ بقا ہیں ، جو عطائے چشمہ ءعلم و حکمت نازش ہیں ، جو عطائے سندِ امامت ہیں، جو عطائے غنچہ ء راز وحدت ہیں، جو عطائے جوہرِ فرد عزت ہیں، جو عطائے ختمِ دور رسالت ہیں، جو عطائے محبوبِ رب العزت ہیں، جو عطائے مالکِ کوثر و جنت ہیں، جو عطائے سلطانِ دینِ ملت ہیں، جو عطائے شمعِ بزم ہدایت ہیں کی صفات اور سیرت پر نعت کا پرنور سفر شروع ہوتا ہے اسی پرنور کیف کا رنگ داود تابش پر چڑھا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے اشعار میں فصاحت اور بلاغت نظر آتی ہے اور وہ شعر کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں فکری عفت کی وجہ سے ان میں دو وصف اکھٹے ہو گٸے ہیں یعنی نعت خوانی کے ساتھ نعت گوئی ۔ ان کی کتاب ” ہر بات روشنی ” بھی ان کی قلبی واردات ہے جو اشعار کی خوب صورت شکل میں جلوہ گر ہوٸی ہے داود تابش کی کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس مضامین کی کمی نہیں ہے وہ جہاں حضور ﷺ سے پیار کرتے ہیں وہاں مودتِ اہل بیت رسولﷺ سے بھی سرشار ہیں انہیں مدینے کی خاک ، نعلین، معراج ، کالی کملی بلکہ یہ کہوں تو مناسب ہو گا کہ آنحضور ﷺ کی جس چیز سے بھی نسبت ہے اس سے پیار ہے سادات سے پیار اور عقیدت داود تابش کی گھٹی میں رچا بسا ہے ” ہر بات روشنی” بھی ان کے پیار اور مودت کا قلبی اظہار ہے جو نعتیہ ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے جس کے شہد آگیں شعر مدتوں یاد رکھیں جائیں گے۔

داود تابش کی ہر بات روشنی


ان کے نعتیہ مجموعہ” ہر بات روشنی “میں ایسے اشعار ہیں جنہیں بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے
سرورِ کائناتﷺ کی محبت سے سرشار داود تابش کے نگار خانہ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل ملاحظہ فرمائیے:۔

دشتِ پرخار میں جتنا بھی سفر لکھا تھا
تیری نسبت سے وہ آسان ہوا، خوب ہوا
میری مٹی میں محمد ﷺ کی ثنا رکھی گئی
مجھ پہ راضی مرا رحمان ہوا، خوب ہوا

اشعار میں کلاسیکی روایات کا ہنر کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے یہ رنگ جن شعرا کو حاصل ہے انہیں ہر دور میں پسند کیا گیا داود تابش بھی ان فرخندہ بخت شعرا میں شامل ہیں جنہیں یہ ملکہ حاصل ہے سہل ممتنع بھی ان کا خاصہ ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اس شعر میں لذتِ رعنائی کیسے کشید کی ہے ملاحظہ کیجیے:۔

رحمتِ سیدِ عالم کے سبب ہو جاۓ
ذرہ گوہر کے برابر، یہ عطا ہے کہ نہیں

غزور بدر اسلام کا وہ فیصلہ کن معرکہ ہے جس نے کفر کو حیران کر دیا کہ ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ مٹھی بھر لوگ کئی گنا بڑے لشکر جرار کو دھول چٹا سکتا ہے غزوہ بدر کی فتح کو ایسے دادِ شجاعت دی ہے:۔

غزوہ بدر میں اک لشکرِ جرار کو دی
تین سو تیرہ نے وہ مات کہ سبحان الله

حضرت عباس علمدار کی کربلا میں شجاعت اور وفا کا کون معترف نہیں اہلیان اسلام ان کا علم آج بھی گھروں پر لگا کر ان کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں یہ شعر بھی ان کی وفا اور علم کو یاد کر کے درود پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

وفا کے تاجدار کی وفا کا ذکر جب سنو
خوشی سے چوم کر علم درود پڑھ لیا کرو

اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کو” مقام محمود” عطا کر دیا ہے جس پر آپ ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرماٸیں گے حشر میں جہاں انبیا کرام ” نفسی نفسی” کہہ رہے ہوں گے وہاں آپ ﷺ ” امتی امتی ” کی صدا بلند فرما رہے ہوں گے ایسے عالم میں ہم گناہگار اپنے آقا ﷺ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے داود تابش بھی حضور سے آس لگا کر ایک خوبصورت ردیف ” بصورت دیگر ” کے ساتھ نعت میں اس کا اظہار یوں کرتے ہیں :۔

بچا لیا شہِ والا نے حشر میں تابش
ضرور ہوتا میں رسوا بصورتِ دیگر

داود تابش کی شاعری میں جگہ جگہ تلمیحات کا استعمال ان کے فن اور عشق کو نکھارتا چلا جاتا ہے ان میں سے صرف دو کا ہی ذکر کروں گا جو میرے وجدان پر آگہی بن کر رقصِ جمیل کر رہے ہیں ملاحظہ کیجیے:۔

آیات نوکِ سناں جس نے پڑھی تھیں
واللہ! جہاں میں مرے شبیر کا سر ہے
شق ہوا چاند تو خورشید بھی واپس پلٹا
جب شہِ والا کی انگلی کا اشارہ دیکھا

داود تابش کے اشعار میں ندرتِ موضوعات و مضامین کے ساتھ مدینہ سے وابستگی، حضور ﷺ کا ادب، عشق، کربلا والوں کی حق گوئی و بےباکی، سوز و گداز اور مودت کی فضاء کا عنصر بہت واضع نظر آتا ہے اور ان کا اسلوب نگارش ذیادہ تر سہلِ ممتنع کا حامل ہے۔ تبصرے کی طوالت کا خوف دامن گیر ہے اس لیے سہلِ ممتنع کے حوالے سے آپؐ کے عشق میں گُھلی ہوئی داود تابش کی غزلیہ آہنگ میں لکھی ہوئی انعات کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے !

وہ اک یزید کیا تھا ہزاروں یزید بھی
واللہ کچھ نہیں ہیں بہتّر کے سامنے

اٹھ کر جو درِ سیدِ لولاک سے جاۓ
واللہ ! نہیں رہتا وہ انسان کہیں کا

ملے کہیں کوٸ زاٸر، بڑی عقیدت سے
اُسے میں کہتا ہوں” باتیں سنا مدینے کی

سب اہلِ نظر دیکھیں بڑے رشک سے آقا
مقبول اگر ہو ترے حبدار کی مدحت

جب بھی ترے دیار کی باتیں سنی گٸیں
پھر چشمِ تر میں دید کی خواہش مچل گٸ

آپ کی ذات سے الفاظ و معانی کی طرح
کل بھی لہجے میں رہا اور اثر آج بھی ہے

تیرے قدموں سے لپٹ کر مجھے رونا ہے بہت
دل ترے ہجر میں غمناک بڑی دیر سے ہے

خود اپنے کرم سے وہ نوازیں تو الگ بات
کب میں نے کہا دید کی حقدار ہیں آنکھیں

ایک لمحہ رخِ زیبا کی زیارت کا شرف
میری قسمت میں کسی روز خدایا ! کرنا

جب نظر میں شہِ والا کا مدینہ ہو گا
بخت ایسی بھی گھڑی لاۓ گی ان شاء اللہ

ترا پیکر اس عالم کی نظر میں سیدِ عالم
کہیں نورِ خدا ٹھہرا، کہیں خیر البشر ٹھہرا

اور کیا چشمِ کرم ہو گی جو میں شاہِ زمن
نعت کہہ کر صفِ حسان میں آ جاتا ہوں

فرصت ہی نہیں سوچوں کسی اور کی بابت
گزریں ترے اذکار میں لمحات مکمل

ثنا کا پھول کہاں ہر زمیں پہ کھلتا ہے
زمین دل کی حسیں ہو تو نعت ہوتی ہے

تابش مجھے لینے کا سلیقہ نہیں ورنہ
کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے !

سیّد حبدار قائم

آف غریب وال

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

بدھ ستمبر 28 , 2022
مقبول ذکی مقبول منکیرہ ضلع بھکر کے نامور شاعر ہیں ۔ محکمہ صحت میں ملازم ہیں ۔ محمد و آل محمد علیہ السلام سے گہری عقیدت رکھتے ہیں ۔ مومن بندے ہیں ۔
کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول