فروغِ نعت کا سفیر

  • صدائے حق –
    –* آج کا کالم-

فروغِ نعت کا سفیر

اللہ تعالی نے “ورفعنا لک ذکرک” سے اپنے حبیب کے تذکرے کو اس طرح بلند اور اس کے فیضان کو وسعت بخشی ہے کہ جہاں جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کا بھی ذکر کانوں میں رس گھولتا ہے
ربّ کائنات اپنی شان کے مطابق حضور ﷺ کا اولین مدح سرا ہے اور پھر اس سنتِ الہیہ کے تتبع میں نعت گوئی اور نعت خوانی وجود میں آئی ۔ حضرتِ حسان بن ثابتؓ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ کے فروغِ نعت کے حوالے سے کردار کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ انہی کی تحریک کو مختلف ادوار میں آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا اور یہ صبحِ قیامت تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا

naat ka safeer


عصرِ حاضر میں بھی بہت سے نفوسِ قدسیہ نعت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جن میں شعراء اور نعت خواں اس سید الاصناف “نعت ” کو باقاعدہ ادب اور سخن کی صنف تسلیم کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں
نعت خوانی کی موجودہ روش اسلاف کے طریقوں سے ہٹی نظر آتی ہے کہ اب اس میدان میں تصنع ،شو بازی اور حرص و طمع کی بھرمار نے اس کے حسن کو ماند کر رکھا ہے گو کہ حضرت خالد حسنین خالدؒ اور سید زبیب مسعود صاحب،ایوانِ حسان نشریات سے حسان المصطفیٰ صاحب اور نعمان زاہد نے اپنے خلوص سے اسے اس کا جائز مقام ڈلوانے میں اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے کیونکہ اس کا حسن تو خلوص اور عاجزی کے ساتھ ساتھ عشقِ رسولﷺ سے پڑھت پر ہے آج الا ما شاءاللہ بہت کم نظر آتا ہے بہرحال پھر بھی خلوص اور عشقِ مصطفٰی ﷺ کے جذبے سے پڑھنے والوں کی آج بھی کمی نہیں ہے انہی سعادت افروز افراد میں ایک سید بادشاہ جناب رضا حسین گیلانی صاحب بھی ہیں جو شہر ِ نعت فیصل آباد کے رہائشی ہیں ،آپ پیشہ ورانہ نعت خواں نہیں بلکہ اپنے شوق سے حضور ﷺ کی نعت کو پڑھتے ہیں اور تادمِ تحریر 154 قومی و بین الاقوامی شعراء کے 400 کلام اپنی خوبصورت آواز میں اصل رنگ یعنی ایکو کے بغیر ریکارڈ کر کے چالیس کے قریب گروپس میں اپلوڈ کرچکے ہیں اور اس کے علاوہ یوٹیوب چینلز اور بین الاقوامی ٹی وی نشریات پر بھی آپ نے حضور ﷺ کی نعت کو پڑھ کر اس کے فروغ میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ و سعادت ڈالا ہے ۔یہ بہت بڑی سعادت ہے میں انہیں بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور صحت کے مسائل کی وجہ سے کچھ آرام کے بعد پھر سے اس میدان میں ایکٹو ہونے کی درخواست کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں آپ جیسے مخلص لوگوں کی “نعت ” کو بہت ضرورت ہے ،اللہ تعالی آپ کی اس خدمتِ نعت اور کاوشوں کو قبول فرما کر اور زیادہ ہمت اور جذبہ عطا فرمائے آمین
یہاں ان کی طرف سے بطورِ ریکارڈ 154 کلام پڑھنے والے شعراء کی فہرست کو بھی اس کالم کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ یہ تاریخ کا حصہ بن جائے
الحمدللّٰہ جن 154 شعرا کا کلام میں( سید رضا حسین گیلانی چشتی گولڑوی ) نے پڑھا ان کے اسمائے گرامی:

1امیر نواز فقیر
2راجا رضوان اسلم
3محمد فراز کامل
علی اختر شیر
5محمد احمد زاہد
6سید شاہد حسین شاہد
7محمد طاہر صدیقی
8سید حبدار قائم
9مسعودالرحمان مسعود
10ذکیہ غزل
11مولانا عبدالرحمان نورالدین جامی
12محمد اعظم چشتی
13پروفیسر ریاض قادری
14سید بابر مسعود چشتی
15ذاہد سرفراز ذاہد
16کلیم شہزاد
17سعادت حسن آس
18مقصود احمد عاجز
19محمد عمیر لبریز
20منیر احمد خاور
21پیرزادہ ندیم اختر ندیم
22محمد جاوید اطہر
23محمد عارف رضا
24حکیم تائب رضوی
25ڈاکٹر محمد یونس خیال
26احسان الہی احسن
27محترمہ سیدہ زینب سروری
28سید لیاقت حسین گیلانی
29اللہ نواز منصور
30رشید آفرین
31ظفر سعید
32محمد ذکریا آزاد
33پرفیسر حافظ محبوب احمد
34سید سبط حسنین نقی
35سید شبیر حسین ساجد چشتی مہروی
36پیر سید نصیرالدین نصیر گولڑوی
37عزیزالدین خاکی
38تلک راج پارس۔۔۔انڈیا
39شاعر شبیر حسین شبیر
40انعام الحق معصوم صابری
41تجمل حسین تجمل
42این ایس شانی
43محمد سلیم محرم
44خورشید عالم خورشید
45مرتضی اشعر
46یاسر رشید یاسر
47عمر علی شاہ
48محمد احمد چشتی
49سمیعہ ناز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انگلینڈ
50شفیق رائے پوری ۔۔۔۔۔انڈیا
51ٹیپو ارسل۔۔۔۔۔انگلینڈ
52سید شاکرالقادری
53اشفاق احمد غوری
54سید عطاء المصطفی
55کلیم ضیاء
56قاضی اعجاز محور
57عباس ثاقب ۔۔۔۔ ایران
58محترمہ سعدیہ ہما شیخ
59دلشاد احمد
60امن علی
61افتخار راغب ۔۔۔۔دوحہ قطر
62تنویر احمد شاہ
63ثاقب خیرآبادی۔۔۔۔۔انڈیا
64عادل رشید۔۔۔۔۔ انڈیا
65محمد بلال ملک
66عابد علی عابد
67گل بخشالوی
68صوفی ضیاء شاہد
69سلطان محمود
70محمد اختر رحمانی
71اویس
72حسین امجد
73عباس عدیم قریشی
74مظفر وارٹی
75سید نورالحسن
76داغ
77محترمہ شہناز شازی۔۔۔۔۔ انڈیا
78راغب مرادآبادی
79سید خوشید نواز لائق
80محمد خلیل الرحمٰن خلیل
81محترمہ شہناز یاسمین شازی
82محمد شبیر مہروی
83سید منتظر مہدی گیلانی
84محترمہ رابعہ بتول
85سلیم کوثر
86منظر پھلوری
87سلیم احمد زخمی
88اشتیاق حسین اسجد
89حافظ محمد عبدالجلیل
90محمد امین بابر
91اکرام رشید قریشی
92پرویز اختر چیمہ
93نواز اعظمی مصباحی
94ابو البرکات
95سید اعجاز حسین عاجز
96احمد زوہیب
97محمد شریف نواز قادری سلیمی
98ذیشان حیدر
99پیر سید معین الدین گیلانی گولڑوی
100میاں حمزہ
101مسعود اختر
102محترمہ صبا نذیر
103عارف قادری
104شاہد صابری
105ندیم نرری
106محمد صدیق
107حافظ ابوبکر تبسم
108ڈاکٹر اختر قریشی
109احمد وسیم شیخ
110محترمہ شبانہ زیدی شبین
111خادم حسین خاکسار
112توقیر سید
113حکیم سید افتخار فخر
114رفیع الدین راز ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ
115مقصود علی شاہ ۔۔۔۔۔۔انگلینڈ
116غلام رسول آحمد ضیاء
117عنائیت علی عنائیت
118فقیر حسین چشتی
119حافظ عبدالغفار واجد
120محمد سرور قادری
121صدام فدا
122ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل
123نا معلوم
124مبشر حسین فیض
125سائیں محبوب عالم چشتی رضوی
126عتیق الرحمن صفی
127محمد خالد جاوید
128عبدالغنی تائب
129حسان المصطفی
130فیصل قادری گنوری۔۔۔انڈیا
131راشد اشرف راشد
132دلاور علی آزر
133لطیف ساجد چشتی
134سید شاکر حسین سیفی۔۔۔۔۔انڈیا
135نزاکت علی نازک
136گلزار احمد گلزار
137رخشندہ بتول
138باسط ممتاز سید
139آفاق رضا مشاہدی۔۔۔۔گوندہ۔۔ انڈیا
140اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی۔۔انڈیا
141اکبر حمزی
142سید خادم رسول عینی۔۔۔انڈیا
143نصیر سراجی۔۔۔۔۔۔ انڈیا
144شیخ عبدالعزیز دباغ۔۔۔۔۔انڈیا
145ابوالحسن خاور
146ڈاکٹر ریاض مجید
147بہزاد لکھنوی۔۔۔۔۔انڈیا
148محمد افضل خاکسار
149محمد شرافت حسین رضوی۔بلرام پور۔انڈیا
150سکندر ایاز سید
151محمود احمد کھوکھر۔۔۔کنیڈا
152سید اقبال رضوی شارب۔۔۔دوحہ۔ قطر
153غلام مرتضیٰ طرب۔۔بہار ۔انڈیا
154اقبال عظیم

muhammad ahmad zahid

محمد احمد زاہد

سانگلہ ہل

محمد احمد زاہد

Next Post

تلوک چند محروم...تعارف و کلام

بدھ جنوری 5 , 2022
تلوک چند محرومؔ انسان دوست، بااخلاق اور وسیع القلب انسان تھے۔ ہر مذہب کے پیشواؤں کے لیے ان کے دل میں بے حد احترام تھا۔
Talok Chand