صوتی ترنگ جب نوک قلم پر رقص کرتی ہے تو قلم کلاسیکل رنگ بکھیرتا چلا جاتا ہے اور وہ غزلیہ آہنگ سے سفر کرتا ہوا نعت کے پرنور کیف میں داخل ہوتا ہے اسی پر نور کیف میں خالق کاٸنات کے محبوب جو عطائے مخزنِ اسرارِ ربانی ہیں، جو عطائے مرکزِ انوار رحمانی ہیں، جو عطائے مصدرِ فیوضِ یزدانی ہیں ،جو عطائے قاسمِ برکاتِ حمدانی ہیں، جو عطائے دانشِ برہانی ہیں، جو عطائے مدثر و مزمل ہیں، جو عطائے امواجِ بقا ہیں ، جو عطائے چشمہ ءعلم و حکمت نازش ہیں ، جو عطائے سندِ امامت ہیں، جو عطائے غنچہ ء راز وحدت ہیں، جو عطائے جوہرِ فرد عزت ہیں، جو عطائے ختمِ دور رسالت ہیں، جو عطائے محبوبِ رب العزت ہیں، جو عطائے مالکِ کوثر و جنت ہیں، جو عطائے سلطانِ دینِ ملت ہیں، جو عطائے شمعِ بزم ہدایت ہیں کی صفات اور سیرت پر نعت کا پرنور سفر شروع ہوتا ہے اسی پرنور کیف کا رنگ داود تابش پر چڑھا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے اشعار میں فصاحت اور بلاغت نظر آتی ہے اور وہ شعر کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں فکری عفت کی وجہ سے ان میں دو وصف اکھٹے ہو گٸے ہیں یعنی نعت خوانی کے ساتھ نعت گوئی ۔ ان کی کتاب ” ہر بات روشنی ” بھی ان کی قلبی واردات ہے جو اشعار کی خوب صورت شکل میں جلوہ گر ہوٸی ہے داود تابش کی کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس مضامین کی کمی نہیں ہے وہ جہاں حضور ﷺ سے پیار کرتے ہیں وہاں مودتِ اہل بیت رسولﷺ سے بھی سرشار ہیں انہیں مدینے کی خاک ، نعلین، معراج ، کالی کملی بلکہ یہ کہوں تو مناسب ہو گا کہ آنحضور ﷺ کی جس چیز سے بھی نسبت ہے اس سے پیار ہے سادات سے پیار اور عقیدت داود تابش کی گھٹی میں رچا بسا ہے ” ہر بات روشنی” بھی ان کے پیار اور مودت کا قلبی اظہار ہے جو نعتیہ ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے جس کے شہد آگیں شعر مدتوں یاد رکھیں جائیں گے۔
ان کے نعتیہ مجموعہ” ہر بات روشنی "میں ایسے اشعار ہیں جنہیں بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے سرورِ کائناتﷺ کی محبت سے سرشار داود تابش کے نگار خانہ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل ملاحظہ فرمائیے:۔
دشتِ پرخار میں جتنا بھی سفر لکھا تھا تیری نسبت سے وہ آسان ہوا، خوب ہوا میری مٹی میں محمد ﷺ کی ثنا رکھی گئی مجھ پہ راضی مرا رحمان ہوا، خوب ہوا
اشعار میں کلاسیکی روایات کا ہنر کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے یہ رنگ جن شعرا کو حاصل ہے انہیں ہر دور میں پسند کیا گیا داود تابش بھی ان فرخندہ بخت شعرا میں شامل ہیں جنہیں یہ ملکہ حاصل ہے سہل ممتنع بھی ان کا خاصہ ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اس شعر میں لذتِ رعنائی کیسے کشید کی ہے ملاحظہ کیجیے:۔
رحمتِ سیدِ عالم کے سبب ہو جاۓ ذرہ گوہر کے برابر، یہ عطا ہے کہ نہیں
غزور بدر اسلام کا وہ فیصلہ کن معرکہ ہے جس نے کفر کو حیران کر دیا کہ ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ مٹھی بھر لوگ کئی گنا بڑے لشکر جرار کو دھول چٹا سکتا ہے غزوہ بدر کی فتح کو ایسے دادِ شجاعت دی ہے:۔
غزوہ بدر میں اک لشکرِ جرار کو دی تین سو تیرہ نے وہ مات کہ سبحان الله
حضرت عباس علمدار کی کربلا میں شجاعت اور وفا کا کون معترف نہیں اہلیان اسلام ان کا علم آج بھی گھروں پر لگا کر ان کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں یہ شعر بھی ان کی وفا اور علم کو یاد کر کے درود پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے ملاحظہ کیجیے:۔
وفا کے تاجدار کی وفا کا ذکر جب سنو خوشی سے چوم کر علم درود پڑھ لیا کرو
اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کو” مقام محمود” عطا کر دیا ہے جس پر آپ ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرماٸیں گے حشر میں جہاں انبیا کرام ” نفسی نفسی” کہہ رہے ہوں گے وہاں آپ ﷺ ” امتی امتی ” کی صدا بلند فرما رہے ہوں گے ایسے عالم میں ہم گناہگار اپنے آقا ﷺ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے داود تابش بھی حضور سے آس لگا کر ایک خوبصورت ردیف ” بصورت دیگر ” کے ساتھ نعت میں اس کا اظہار یوں کرتے ہیں :۔
بچا لیا شہِ والا نے حشر میں تابش ضرور ہوتا میں رسوا بصورتِ دیگر
داود تابش کی شاعری میں جگہ جگہ تلمیحات کا استعمال ان کے فن اور عشق کو نکھارتا چلا جاتا ہے ان میں سے صرف دو کا ہی ذکر کروں گا جو میرے وجدان پر آگہی بن کر رقصِ جمیل کر رہے ہیں ملاحظہ کیجیے:۔
آیات نوکِ سناں جس نے پڑھی تھیں واللہ! جہاں میں مرے شبیر کا سر ہے شق ہوا چاند تو خورشید بھی واپس پلٹا جب شہِ والا کی انگلی کا اشارہ دیکھا
داود تابش کے اشعار میں ندرتِ موضوعات و مضامین کے ساتھ مدینہ سے وابستگی، حضور ﷺ کا ادب، عشق، کربلا والوں کی حق گوئی و بےباکی، سوز و گداز اور مودت کی فضاء کا عنصر بہت واضع نظر آتا ہے اور ان کا اسلوب نگارش ذیادہ تر سہلِ ممتنع کا حامل ہے۔ تبصرے کی طوالت کا خوف دامن گیر ہے اس لیے سہلِ ممتنع کے حوالے سے آپؐ کے عشق میں گُھلی ہوئی داود تابش کی غزلیہ آہنگ میں لکھی ہوئی انعات کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے !
وہ اک یزید کیا تھا ہزاروں یزید بھی واللہ کچھ نہیں ہیں بہتّر کے سامنے
اٹھ کر جو درِ سیدِ لولاک سے جاۓ واللہ ! نہیں رہتا وہ انسان کہیں کا
ملے کہیں کوٸ زاٸر، بڑی عقیدت سے اُسے میں کہتا ہوں” باتیں سنا مدینے کی
سب اہلِ نظر دیکھیں بڑے رشک سے آقا مقبول اگر ہو ترے حبدار کی مدحت
جب بھی ترے دیار کی باتیں سنی گٸیں پھر چشمِ تر میں دید کی خواہش مچل گٸ
آپ کی ذات سے الفاظ و معانی کی طرح کل بھی لہجے میں رہا اور اثر آج بھی ہے
تیرے قدموں سے لپٹ کر مجھے رونا ہے بہت دل ترے ہجر میں غمناک بڑی دیر سے ہے
خود اپنے کرم سے وہ نوازیں تو الگ بات کب میں نے کہا دید کی حقدار ہیں آنکھیں
ایک لمحہ رخِ زیبا کی زیارت کا شرف میری قسمت میں کسی روز خدایا ! کرنا
جب نظر میں شہِ والا کا مدینہ ہو گا بخت ایسی بھی گھڑی لاۓ گی ان شاء اللہ
ترا پیکر اس عالم کی نظر میں سیدِ عالم کہیں نورِ خدا ٹھہرا، کہیں خیر البشر ٹھہرا
اور کیا چشمِ کرم ہو گی جو میں شاہِ زمن نعت کہہ کر صفِ حسان میں آ جاتا ہوں
فرصت ہی نہیں سوچوں کسی اور کی بابت گزریں ترے اذکار میں لمحات مکمل
ثنا کا پھول کہاں ہر زمیں پہ کھلتا ہے زمین دل کی حسیں ہو تو نعت ہوتی ہے
تابش مجھے لینے کا سلیقہ نہیں ورنہ کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے !
تاریخ نعت کی بات کی جائے تو یہ روزِ اول سے شروع ہوتی ہے اور آج تک جاری و ساری ہے قیامت تک رہے گی۔ جہاں بڑی بڑی برگزیدہ عظیم شخصیات نے نعت کہی ہے وہاں ہر مومن اور مسلمان نے بھی اپنا اظہارِ عقیدہ کھل کر بیان کیا ہے حتیٰ کہ غیر مسلم بھی نعت کہنا سعادت سمجھتے ہیں۔یہ سعادت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ اللّٰہ پاک کے خاص بندے ہوتے ہیں جو اس سعادت سے شرف یاب ہوتے ہیں ۔نعت کہنے پڑھنے اور سننے میں خود کو تیار رکھتے ہیں۔ ان شعراء کرام میں ایک نام” منیر احمد منیر” کابھی ہے۔ اس قبل ان کا نعتیہ مجموعہ کلام "راستے مدینہ کے "منصہ ء شہود پر آکر علم و ادبی حلقوں سے پزیرائی حاصل کر چکا ہے۔ زیر نظر ان کا دوسرا اردو نعتیہ مجموعہ نویدِ حضوری ہے۔ اس کا انتساب آل محمّد (ص) کے نام ہے ان کے کلام میں ایک پرکشش پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی طرف مائل ہی نہیں کرتی بلکہ زندگی کو سنوارنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ عقیدہ ونظریات کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے عشقِ نبی (ص) میں ڈوبے اشعار قاری کو اپنے حصار میں لے کر دل میں اتر تے چلے جاتے ہیں ایک نعت غیر منقوطہ بھی کہی گئی ہے اس سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ہر گھڑی حوصلہ ملولوں کو دہر کے ہر الم کا مرہم ہے منیر احمد منیر کےقرطاس پر اترے ہوئے موتی زنگ آلودہ دلوں کے لئے اکسیر کا درجا رکھتے ہیں جو خودکو نبی پاک (ص) کا غلام بنا لے دنیا و آخرت دونوں سنور جاتے ہیں، ان کی فن و شخصیت پر شاعرانہ رنگ میں،محمد سرور قمر اورصاحبزادہ ناصر حسین راضی نے کمال اشعار کہے ہیں پروفیسر محمد طاہر صدیقی،پروفیسرریاض قادری،شہزاد بیگ،کی آرا و مضامین شامل ہیں،جب کہ بیک ٹائٹل محمد افسرساجدکالکھاہواہے آخر میں تین اشعار ملاحظہ فرمائیں ہے جنت کا مثردہ نویدِ حضوری نوید حضوری ہے عید حضوری ۔۔۔۔۔ جو مدینے سے لے کر کربلا کو جاتے ہیں ایسا امتحاں ٹھہرے راستے وفاؤں کے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھول گئے ہیں اسے شاہوں کے قصائد توصیف محمد (ص) کا سبق جس نے پڑھا ہے
امسال رمضان المبارک میں ضلع اٹک میں سے دو نعتیہ مجموعوں کی اشاعت ہوئی. ڈاکٹر نذر عابد صاحب کا "برگ نعت” اور سید حبدار قائم کا "مدح شاہ زمن” اواخر الذکر پیش نظر ہے. شاہ صاحب کا شمار ان خوش قسمت شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے رموز شعر سیکھ کر اپنے اسپ خیال کو ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیا بلکہ دربار رسالت کی مدح سرائی میں سرنگوں رکھا. یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں عقیدت ہی عقیدت نظر آتی ہے. الفاظ پاکیزہ اور پیراءیہ شستہ, احترام مصرعوں سے ٹپکتا ہوا اور عشق شعروں میں موجیں مارتا دکھائی دیتا ہے. حضور نبی اکرم ﷺ کے لیے "تم” , "تمھارے” یا اس قبیل کے بجائے "آپ” ,”ان” کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے. اس سے قبل اٹک کے بزرگ شاعر غلام ربانی فروغ صاحب کے مجموعہ نعت "حرف نیاز” میں یہ التزام نظر آتا ہے. یہ اہتمام ایک طرف بارگاہ نبوی میں اونچی آواز میں بات نہ کرنے کے حکم کی تعمیل ہے جبکہ دوسری طرف دلی خشوع و خضوع کی علامت بھی ہے. نیز قادر الکلامی کے بغیر اسے روا نہیں رکھا جا سکتا. حبدار قائم ضلع اٹک کے ان گنے چنے شعرا کی صف میں شامل ہو چکے ہیں جو نعتیہ مجموعہ رکھتے ہیں. میں انھیں اس سعادت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں. سجاد حسین سرمد مدیر سہ ماہی دھنک رنگ فتح جنگ
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کی وقیع صفت سے متصف کرنے کے باوجود کمزور پیدا کیا ہے جس کو زندگی کے میدان میں کامیابی اور اٹھان کے لیے ایک مضبوط اور محکم سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سہارا سائبان کی صورت میں اس کا خالق اور رسولِ ہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو ہمیشہ اپنے بندے اور امتی کی دستگیری کرتے رہتے ہیں۔
اظہارِ خیال کا بہترین ذریعہ شاعری ہے اسی لئے ہر کوئی اپنے ذوق ،نصیب ،عطا اور سعادت کے اعتبار سے اصنافِ شاعری میں طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی سائبان کرم انہی شعراء کو نصیب ہوتا ہے جو حبیبِ خدا کا نعت گو بن جاتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب کو کریمین کے کرم اور فضل و عنایت سے برابر حصہ ملتا ہے ۔ اگر نسائی تقدیسی ادب کا جائزہ لیں تو اس کا سلسلہ بہت پرانا اور روشن نظر آتا ہے اور اسی کے تسلسل کو دیکھیں تو عصرِ حاضر میں بھی اس سلسلة الذہب میں کئی نام سامنے آئے ہیں لیکن ان میں محترمہ سمعیہ ناز صاحبہ اپنی معیاری پہچان بنانے میں بہت حد تک کامیاب ہوئی ہیں کیونکہ آپ کے ہاں خلوص کی دولت خالص شکل میں وافر ملتی ہے ،آپ کے اشعار سادگی سے مزیّن اور تصنع و بناوٹ سے بہت دور نظر آتے ہیں کیونکہ آپ کی شاعری حضور ﷺ کے پاکیزہ عشق اور محبت سے معمور اور مرصّع ہے جس میں مضامین کا تنوع ،فنی و عروضی پختگی ،اظہارِ خیال میں مٹھاس ،کیف اور لطف کی سرشاری جیسی صفات بھی نمایاں طور پر آپ کو دیگر شاعرات سے ممتاز کرتی ہے ۔ آپ کی شاعری میں مدینہ کا تذکرہ بہت محبت سے کیا جاتا ہے جو اشعار کو پرکیف بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کا مظاہرہ نیچے شعری انتخاب میں کھل کر واضح ہو گا تو آئیے کرم کے اس سائبان سے کچھ نگینے چنتے ہیں تاکہ آپا سمعیہ کی طرح ہمیں بھی اس کرم کے چند چھینٹے نصیب ہو جائیں جب جب درود بھیجوں میں تیرے مصطفٰی پر ہو جائے درد مرہم پروردگار عالم اس اوج پہ کوئی نہیں پہنچا شہ بطحاؐ اک آپؐ نے پائی ہے یہ رفعت شبِ معراج ثنا کے پھول انہیؐ کے کرم سے کھلتے ہیں وگرنہ کون سا ایسا کمال ہے مجھ میں ہر ایک لمحہ انہیںؐ کی یادیں ،ملی سکینت انہی کے دم سے بنامِ آقا ہر ایک مشکل قدم قدم پر مری ٹلی ہے دیکھا خدا کا جلوہ عرشِ علی پہ جا کر کتنی عظیم ہیں وہ میرے نبی کی آنکھیں کسی بھی غیر کے در کی نہیں مجھے عادت مجھے تو بھیک ملی ہے سدا مدینے سے بلاشبہ گناہوں میں ہیں غرق سارے امتی مگر شفیع مذنبین نبھا رہے ہیں صبح و شام یہ اجالے سے جو بکھرے ہیں مرے چاروں طرف یہ مدینے کی فضاؤں کا اثر لگتا ہے گذرا ہے ان کی یاد میں لمحہ جو اشک بار صد شکر وہ حیات پہ احسان کر گیا جب سے توفیق نعت کی پائی اس کو عرضِ ہنر میں رکھا ہے خوشا وہ پیکرِ صدق و وفا تشریف لے آئے جہاں میں مخزنِ جود و عطا تشریف لے آئے مرکزِ محفلِ مدحت مرا آنگن ٹھہرے خوشبوئے نعت سے مہکا ہوا گلشن ٹھہرے اس دن ہوئی توقیر مآب اور زیادہ پایا ہے جو نزدیک وہ باب اور زیادہ ان کی سنت سے ہی کردار سنوارا اپنا اسوۂ سیدِ والا سے محبت کی ہے دے رہی ہے احترامِ آدمیت کا سبق نور کی روشن تجلّی حسنِ سیرت آپ کی دل و نظر میں مدینہ بسا کے چلتے رہے متاعِ زادِ سفر ہم اٹھا کے چلتے رہے توصیفِ مصطفٰی سے رکھی ہے زبان تر صد شکر غیر کی کبھی ہم نے ثنا نہ کی گھر بار ،کاروبار ، زر و مال ، رختِ جاں صدیق نے حضورﷺ پہ قربان کر دیا شاہِ والا کے نواسوں پہ مری جان فدا ان کی اولاد کا دشمن مرا دشمن ٹھہرے اولاد جان و مال نبیؐ پر جو وار دیں بکتے وہی غلام ہیں بے دام عشق میں دلائی مصطفٰی نے عظمت و توقیر عورت کو کوئی عزت نہ تھی اس کی خدا کی اس خدائی میں انگشت کے اشارے پہ ٹکڑے ہوا قمر حکمِ نبی سے مہرِ فلک ضوفشاں ہوا نہیں ہے آسرا جس کا کوئی زمانے میں ہیں آپ اس کے لیے مثلِ سائبانِ کرم اس عمدہ ،معیاری اور بہترین مجموعے کو بجا طور پر کامیاب خیال کرتا ہوں کیونکہ معاصر عہدِ نعت کے بہت سے مشاہیر نے اپنے تاثرات رقم کر کے اسے نعتیہ ادب میں بہترین اضافہ قرار دیتے ہوئے کامیابی کی سند سے نوازا ہے جو میری دانست میں بہت بڑی کامیابی ہے جن مشاہیر نے اپنا اظہارِ خیال کیا ان میں ڈاکٹر ریاض مجید صاحب ،ڈاکٹر عزیز احسن صاحب ،سید صبیح رحمانی صاحب ،سید راشد اسلم خیرآبادی صاحب ،جناب سرور نقشبندی صاحب ،سید مقصود علی شاہ صاحب ،مجید منہاس صاحب ،عبدالغنی تائب صاحب اور عارف قادری صاحب شامل ہیں جن کی آراء سے یقیناً یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ آپ کی شاعری کا معیار اور مقام کس درجے کا ہے کیونکہ یہ شخصیات اس میدان میں وقیع مقام رکھتے ہیں ۔ ان اصحاب کی آراء کی روشنی میں یقیناً مستقبل میں محترمہ سے آئندہ بھی معیاری اور حد درجہ بہترین مجموعوں کی توقع ہے اور دعا ہے جلد ہمیں اس کی زیارت بھی نصیب ہو آمین
فکر و نظر کے پھول جب غزلیہ آہنگ اختیار کرتے ہیں تو درد اور آہ غزل کی روح میں آبشاروں کی طرح گرتے ہیں اور جب یہی درد غزل سے کشید ہو کر نعتیہ رنگ اختیار کرتا ہے تو جذبوں کی شدت، فکری نظافت اور ندرت میں ڈھل کر آقاؐ پاک کے اطہر دربار میں لے جاتا ہے جہاں انسان عشقِ رسولؐ میں کیف و مستی کی کوثر سے فیض یاب ہوتا ہے اور اسے نعت عطا ہوتی ہے نعت گو شعرا اللہ کریم کے پسندیدہ افراد ہوتے ہیں جن کو اللہ رب العزت اپنے فضل سے نوازتا ہے ان خوب صورت طینت افراد سے ایک حافظ عبدالجلیل بھی ہیں جنہیں نعت کی دولت سے مالا مال کیا گیا۔ حافظ محمد عبدالجلیل الحاج خلیل گُل کے گھر تحصیل جنڈ کے محلہ لنگر خانہ میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتداٸی تعلیم گورنمنٹ پراٸمری سکول پی اے ایف بازار کوہاٹ اور گورنمنٹ ہاٸی سکول نمبر 3 کوہاٹ میں حاصل کی جہاں ان کے والد پاکستان ریلوے میں ملازم تھے
گورنمنٹ ہاٸی سکول جنڈ سے 1975 میں میٹرک کیا۔اس دوران مدرسہ دارالعلوم غوثیہ جنڈ سے اپنے شفیق اساتذہ محترم الحاج قاری کرم الٰہی اور محترم حافظ قاری رب نواز کی زیر سرپرستی حفظِ قرآنِ کریم مکمل کیا۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کوہاٹ سے 1980 میں گریجوٸیشن کی۔اس دوران 1984 میں مرکزی دارالقرإ بہادریہؒ کوہاٹ میں قاری المقری سید گلفام شاہ ؒ سے تجوید و قرأت کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے 1985 میں ایم۔اے اسلامیات، 1988 میں ایم۔اے اُردو , 1998 میں ایم۔اے تاریخ اور 2002 میں بی۔ایڈ کیا۔اس دوران 1982 میں پاکستان ریلوے کنکریٹ سلیپر فیکٹری میں بطور سینٸر کلرک ملازمت اختیار کی 37 برس بعد گریڈ۔16 میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے اس دوران 1998 سے 2019 تک سر سید کالج آف ایجوکیشن کوہاٹ میں بی۔ایڈ کلاسز اور کوہاٹ لا کالج میں ایل۔ایل۔بی کلاسز اور درایں اثنإ الخیر یونیورسٹی کوہاٹ کیمپس میں ایم۔ایڈ کلاسز کو بطور وزیٹنگ فیکلٹی پڑھاتے رہے درایں اثنإ چند سال مرکزی دارالقرإ بہادریہؒ میں بطور مدرس پڑھاتے رہے۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنے آباٸی شہر جنڈ میں آ گئے اور آجکل جامع مسجد غوثیہ جنڈ میں خطابت اور جامعہ ضیإ الکرم للبنات جنڈ ( شاخ جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ) میں تدریس کے فراٸض انجام دے رہے ہیں
مشقِ سخن میں اپنے معروف شاعر و ماہرِ تعلیم جناب پروفیسر محمد اسلم فیضی اور معروف نعت گو شاعر” قومی سیرت ایوارڈ یافتہ” اشفاق احمد غوری سے اصلاح لیتے ہیں۔ یہ نعتیہ رنگ ذاتی کاوش سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اللہ رب العزت کی ذات ایسے قدسی صفات کے حامل انسانوں کو الہام کی رم جھم میں نوازتا ہے اور اُس شخص پر ہمارے آقاؐ جو روحِ مصور ہیں ، جو مرسلِ داور ہیں ، جو مالکِ زلف معنبر ہیں ، جو اشرف واکمل ہیں، جو احسن و اجمل ہیں، جو احمدِ مرسل ہیں جو مظہرِ اول ہیں، جو قلبِ مجلی ہیں، جو والی ء مہر نبوت ہیں، جو وارثِ مہر رسالت ہیں، جو مہر جلالت ہیں، جو عین عدالت ہیں، جو خضر و ولایت ہیں جو قسیم و جسیم ہیں، جو تسنیم و وسیم ہیں، جو روف و رحیم ہیں،جو خلیل و حکیم ہیں، جو حاملِ قرآں ہیں جو باطنِ قرآن ہیں، جو مظہرِ رحمت ہیں، جو مصدرِ راحت ہیں، جو مخزنِ شفقت ہیں، جو عین عنایت ہیں، جو مظہرِ انوارِ حق ہیں جو مصدرِ اسرار حق ہیں، جو ہادی روشن ضمیر، جو خواجہ بیکس نواز ہیں، جو بشر القوی ہیں، جو خیرالورٰی ہیں، جو محب الورٰی ہیں وہ اپنی نگاہِ کرم کرتے ہیں تو وہ شخص نعت کے بیکراں سمندر سے صوتی یاقوت و مرجان اور لولو جیسے گوہر نایاب حاصل کرتا ہے اور ہماے آقاؐ پاک اُسے ایک عجیب کیف و طرب اور سر مستی عطا کرتے ہیں ایسے شخص کو جب مودت اور عشق باہم مل جاتے ہیں تو دستِ قدرت قرارِ بے قراراں سے روشنی، چاشنی ،خوشبو، طمانیت، روح میں بالیدگی، محبوب خدا کا دامن اور نہ جانے کیا کیا وصف عطا کرتا یے جس کا اظہار وہ اپنے نگار خانہ ء شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل سے یوں ظاہر کرتے ہیں:۔
مرے ہاتھوں نے تھاما ہے ترے محبوبؐ کا دامن جلیلِ بےنوا پر کیا یہی احسان کم تیرا
دربارِ مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سخاوت کے کرشمے دیدنی ہوتے ہیں جہاں دنیا کے سلطان بھی ادنٰی گدا گر بن کر سوال کرتے ہیں اور فیوضِ نبویؐ سے برکات ،بخشش اور علم و عرفان کی خیرات حاصل کرتے ہیں جب روحانی طور پر شعرا اپنے وجدان کو درِ نبیؐ پر لے کر جاتے ہیں تو وہ عشقِ رسولؐ سے منور ہوتے ہیں الہامِ کلام کی وجہ سے حبیبِؐ خدا کے عشق سے آشنا ہوتے ہیں تو جدتِ خیال کے ریشمی تبسم کو لطیف حسن و رعنائی کے ساتھ قرطاس پر ایسے نقش کرتے ہیں جیسے حافظ عبدالجلیل نے یہ اشعار نقش کیے ہیں :۔
محبوب کے قدموں میں اک سیل رواں دیکھا ہاتھوں میں لیے کاسہ ہر پیر و جواں دیکھا عُشاق چلے جس دم سرکار کے روضے سے آنکھوں میں جھڑی دیکھی دل گریہ کناں دیکھا
معراج پر بہت کچھ لکھا گیا اور ہر شاعر نے اپنے اندازِ فکر سے روشنی کشید کر کے معراج پر کلام لکھا ہے لیکن حافظ صاحب چونکہ عالم دین بھی ہیں اس لیے قرآن و حدیث کے دائرے میں رہ کر بہت خوب صورت شعر لکھا ہے جس میں سہل ممتنع بھی ہے اور معراج کا اختصار بھی ہے صنعت تلمیح کا خوب صورت استعمال بھی یوں کیا ہے :۔
اقصٰی میں سارے مرسلیں سدرہ پہ تھے روح الامیں سب دیکھتے ہی رہ گئے اوجِ کمال آپؐ کا
جب شمائل و جمال وخصالِ مصطفیؐ کی درخشاں گفتگو ہو تو آپ ہی خاصہ کردگارؐ، شافع یومِ قرارؐ، صدرِ انجمنِ لیل و نہارؐ، مدنی تاجدارؐ، سیدِ ابرارؐ، احمدِ مختارؐ، حبیبِ غفارؐ، محبوبِ ستارؐ، ،، آفتابِ نو بہارؐ ہیں جن کی آمد سے کائنات روشن ہو گئی اللہ رب العزت نے آپؐ کی میلاد پر پورے جہان کی عورتوں کو اولادِ نرینہ سے نوازا صنم کدوں کے بت گر گئے فضائیں مرحبا مرحبا کی صداوں سے گونج اٹھیں تیرگی ضیا میں بدل گئی دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بیباکی کے علمبر دار بن گئے حضورؐ کی آمدِ پر نور کو شعر کی نزاکت میں حافظ صاحب نے کتنی حسن و رعنائی سے زینتِ قرطاس کیا ہے ملاحظہ کیجیے:۔
آئے مرے حضورؐ تو منظر بدل گئے احوال سارے دہر کے یکسر بدل گئے
ان کے ہاں مودت، عقیدت وجذبات کی فراوانی و ورافتگی، سلاست ،تخلیقی جواہر، وسعت مطالعہ ، الفاظ کی صوتی ترنگ، حسیاتی نظام سے واقفیت، معاصر منظر نامے پر عمیق نظر ، ادب و حضوری کی ملی ُجلی کیفیات ایسے ملتی ہیں جیسے ہر وقت آنکھیں بند کر کے وہ گنبدِ خضرٰی کا دیدار کر رہے ہوں اور آسمان سے نور کی کرنیں روضہ ء اطہر میں جاتی ہیں اور روضے سے وہی کرنیں ان کے سینے کو یوں منور کر رہیں ہیں کہ وہ جیسے مدینہ میں نگاہ جھکائے بارگاہِ نبوی میں دست بستہ کھڑے ہوں اور حضورؐ کی چشم التفات ان پر ہو ان وجدانی کیفیات کا درخشاں اظہاریہ اس شعر میں یوں رقم کرتے ہیں:۔
اُن کی چشمِ کرم کا اشارہ ہوا گھر میں بیٹھے مری حاضری ہو گئی
قیامت کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالٰی سورہ تکویر میں ارشاد فرماتا ہے کہ "جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور جب ستارے بکھر جائیں گے” کو پڑھ کر دل دہل جاتے ہیں اور اللہ بزرگ و برتر کی ہیبت طاری ہو جاتی ہے ان حالات میں انبیاء بھی گھبرائے ہوئے ہوں گے اور ان کے پاکیزہ لبوں پر "نفسی نفسی” کی پکار ہو گی ایسے میں ہمارے نبیؐ اکرم جو مونسِ آدم ہیں جو خیرِ مجسم ہیں جو صدرِ مکرم ہیں جو نورِ مقدم ہیں جو نیرِ اعظم جو مرکزِ عالم ہیں، جو قبلہِ عالم ہیں جو کعبہ اعظم ہیں جو جانِ مجسم ہیں جو نورِ مجسم ہیں جو فخرِ دو عالم ہیں جو مرسلِ خاتم ہیں جو وارثِ زمزم جو وارثِ کوثر ہیں اُن کی مبارک آواز گونجے گی "امتی امتی” تو خدا وند کریم کے حکم سے گناہگاروں کی شفاعت ہو گی اور جس کے ہاتھوں میں حضورؐ کا علم ہو گا وہ حشر کی تپتی ہوئی دھوپ سے اماں پائے گا ان ہی خیالات کے دھنک رنگ شاعر نے شعر کی صورت میں یوں ڈھالے ہیں :۔
اُٹھے گا سرخرو ہو کر وہی میدانِ محشر میں کہ جس کے ہاتھ میں تیری غلامی کا علم ہو گا
نبیلِ فکر جب عمل کے لیے پر تولتی ہے تو اُسے قرآن کی یہ آیت مسکرا کر ارفع عمل پہ گامزن کرنے کی دعوت دیتی ہے ” ورفعنا لک ذکرک” یعنی ” حبیبؐ ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے” اب بلندی کی حد نہیں بتائی تاکہ کوئی نا فہم اس ذکر کی بلندی کو ناپتا نہ رہے اُس کا وجدان جتنی زیادہ پرواز کرتا رہے اسے درود و سلام اور نعت خوانی کا اوج نہ مل سکے امت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بخشش کے بہانے اتنا زیادہ ہیں کہ جس کا ادراک ہی نہیں ہو سکتا۔ حضورؐ کے مسلسل ذکر سے باطن صاف ہوتا ہے اور انسان کو اپنے قرب و جوار سے ایک خوشبو آنی شروع ہو جاتی ہے جسے وہ محسوس کرتا ہے حضورؐ پُرنور کے اس شاعر نے بھی اپنی مختلف نعوت میں درود کی عظمت بیان کی ہے اور اس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے یہی دعا کی ہے۔ملاحظہ فرمائیے:۔
ہوتا رہے دن رات درودوں کا وظیفہ ہو جائے معطر مرے گھر بار کا موسم آفاق میں ہوتا ہے درودوں کا وظیفہ جاتی ہے غلاموں کی سوغات مسلسل
آنحضور صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ با برکات سے رب کریم نے خود عشق کیا ہے اور فرمایا ہے کہ محبوبؐ! اگر میں آپ کو خلق نہ کرتا تو کائنات کی کوئی چیز خلق نہ کرتا ۔یعنی کائنات کن فکاں میں ستاروں سے لے کر گل و بلبل تک سب آپ کی خاطر خلق کیے گئے ہیں ہمارا وجود بھی آپؐ کا مرہونِ منت ہے کائنات کے راز خواہ وہ نہاں ہوں یا عیاں ۔ وہ سب آپ کے لیے خلق کیے گئے ہیں اللہ پاک کی ان ہی نوازشات کا ذکر شاعر نے یوں بیاں کیا ہے:۔
محبوبِ ذوالجلال ہے میرے نبیؐ کی ذات عنوانِ قیل و قال ہے میرے نبیؐ کی ذات
جس انسان کو حضورؐ سے عشق ہو تو وہ مدینے کے ذروں کو بھی چومتا ہے ان ذروں کو وہ آنکھوں کا سرمہ بنا کر آنکھوں کے نور کو بڑھانا چاہتا ہے اُسے اُس کا وجدان مدینہ میں ہی دفن ہونے کے لیے کہتا ہے کیونکہ جن ذروں کو آقا پاک کے نعلین نے چھوا ہے وہ مبارک ذرے بھی عاشقوں کو سکون و طمانیت کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں شاعر بھی مدینے جا کر واپس نہ پلٹنے کی تمنا کرتا ہے مدینہ ہی اُس کی منزل ہے وہ مدینے سے آگے نہیں جانا چاہتا کیونکہ جن فضاوں میں آقاؐ پاک نے سانس لیا ہے وہ ہوائیں بھی ابھی تک معنبر ہیں جن میں نبوت کی خوشبو پوشیدہ ہے مدینے کے سفر کے متعلق انہوں نے الفاظ کو ایسے تراشا ہے:۔
آخری جس کی منزل ہو خاکِ مدینہ زندگی میں اک ایسا سفر مانگتا ہوں مدینے کو جاوں مری جستجو ہے پلٹ کر نہ آوں یہی آرزو ہے
آنحضورؐ کا سراپا جس نے بھی دیکھا ہے وہ بہت خوش نصیب ہے اس کی آنکھیں بھی خوش نصیب ہیں اور اس کی سانسیں بھی مقدر کی دھنی ہیں کیونکہ اس کی سانسوں نے آنحضورؐ کی خوشبو فضاوں سے کشید کی ہو گی حضور پاک جیسا کوئی بھی نہیں ہے تاریخ عالم نے دیکھا ہے کہ آنحضور کا سایہ نہیں تھا جس کا سایہ نہیں تھا اس کا ثانی کون ہو سکتا ہے اللہ رب العزت نے آپؐ کی مدحت میں قرآن نازل کر کے بتا دیا ہے کہ جس کی اللہ نعت کہے اس کا ثانی کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ اسی بات کو شاعر یوں بیان کرتا ہے:۔ آپ ہیں ممدوحِ یزداں،کون ہے ثانی بھلا ہر زباں پر ہے رواں ذکرِ مدامی آپؐ کا
وہ جب مجھ سے پوچھیں بتا کوئی خواہش مرا ہاتھ بس اُن کی نعلین پر ہو
حضرت محمدؐ جو رسولِؐ خدا ہیں جو مبداء کائنات ہیں جو مخزنِ کائنات ہیں جو منشائے کائنات ہیں جو مقصودِ کائنات ہیں جو سیدِ کائنات ہیں جو سرورِ کائنات ہیں جو مقصدِ حیات ہیں آپؐ پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا مگر ان کی توصیف کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ حافظ عبدالجلیل کے عشقِ رسولؐ میں ڈوبے ہوئے اتنے زیادہ اشعار ہیں کہ جن پر تبصرہ کرنے کے لیے دل دھڑک رہا ہے مگر طوالت کا خوف دامن گیر ہے اس لیے چند اشعار جو میں نے منتخب کیے ہیں وہ قارئین آپ کی نذر کرتا ہوں :۔
مفلسی میرے آنگن سے رخصت ہوئی ذکر تیرا مرا چارہ گر ہو گیا
جن کو مرے نبیؐ نے کملی میں لے لیا ہے رہتے ہیں دور اُن سے رنج و بلا ہمیشہ
تیرے حسن و جمال کی باتیں صبح کرتے ہیں،شام کرتے ہیں
خوشبوئے مصطفٰؐی کی میں برکت سمیٹ لوں مجھ کو حرا و ثور کی خلوت میں لے چلو
درِ مصطفٰی پر حضوری کی خاطر دلِ مضطرب چشمِ نم مانگتا ہوں
کب جھیل سکے گا یہ مدینے کی جدائی دل اب ترے در پر ہی چھوڑ چلے ہیں
سجے گی اُس پہ دستارِ فضیلت علم و عرفاں کی کہ جو سر بھی، مرے آقاؐ ! تری چوکھٹ پہ خم ہو گا
میں لت پت ہوں گناہوں میں مگر اے رحمتِ عالم جو پھر بھی آپؐ بلوائیں نہیں ہے کچھ عجب، آقاؐ
تبصرہ کے آخر میں حافظ عبدالجلیل کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ غفارالعیوب ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ان کے عقل و شعور پر نعتیہ الہام کی رم جھم جاری و ساری رکھے ۔آمین
اٹک کی سر زمین بہت زرخیز ہے اس زمین نے جہاں بہت بڑے شاعر اور ادیب جنم دیےوہاں فنکار ، موسیقار ،مصور، خطاط اور نعت خواں بھی روشناس کرائے جن میں ایک بلبلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد عرفان ہےمحمد عرفان 1978 میں تحصیل فتح جنگ سے ملحقہ گاوں کھرالہ کلاں میں حاجی محمد داود کے گھر میں پیدا ہوئے اور گونمنٹ ہائی سکول فتح جنگ سے میٹرک کی بچپن ہی سے انہیں موسیقی سے لگاو تھا اور اس لگاو کو پایہءتکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے استاد غلام رضا خان قریشی مرحوم کی شاگردی اختیار کی موسیقی سیکھنے کے بعد ان کا عشق بدلا دل طہارت سے مہمیز ہوا اور انہیں اس ذات سے مودت ہوئی کہ جس نے انسان کو جہالت و اوھام کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی سے ہمکنار کیا ۔ اور وہ کون تھے وہ شفیعِ اعظم وہ نبیِ مکرم وہ رسولِ معظم وہ پیغمبرِ حاکم وہ رہبرِ کامل وہ بدر و منیر وہ بشیر و نذیر وہ سراج منیر وہ سیدِ ابرار وہ احمد مختار وہ مدنی تاجدار وہ حبیبِ غفار وہ محبوبِ ستار وہ خاصہ کردگار وہ شافع یومِ قرار وہ صدرِ انجمن لیل و نہار وہ آفتابِ نو بہار وہ سرورِ عالم وہ مونسِ آدم وہ قبلہ ءعالم وہ کعبہ اعظم وہ جانِ مجسم وہ نورِ مجسم وہ فخرِ دو عالم وہ مرسلِ خاتم وہ خیرِ مجسم وہ صدرِ مکرم وہ نورِ مقدم وہ نیرِ اعظم وہ مرکزِ عالم وہ وارثِ زمزم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی طاہر اہل بیت عظام ہیں۔ اس عشق کو جلا بخشنے کے لیے انہوں نے فتح جنگ کے ادبی مجلہ "دھنک رنگ” کے مدیرِ اعلٰی حاجی محمد داود سے نعت خوانی سیکھنی شروع کر دی اور تھوڑے ہی عرصہ میں اپنی پہچان بنا لی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ٹھیکیداری کا پیشہ اختیار کیا جہاں تک محمد عرفان کی نعت خوانی کا تعلق ہے تو میں نے جتنی نعتیں سوشل میڈیا پر ان کی سنی ہیں ان میں سوز و گداز کی فراوانی ہے جب وہ ترنم سے نعت پڑھتے تھے تو سننے والوں پر رقت طاری ہو جاتی ۔ عاشقان رسولؐ کی آنکھوں میں آنسو ٹپک پڑھتے تھے اور سامعین کے دل ذکرِ مصطفیؐ سے منور و معنبر ہو جاتے تھے اُن کا لہجہ مثلِ لخلخہ ہے جس کی بے مثل خوشبو دماغ کی نسوں میں تقویت کا باعث ہوتی ہےفتح جنگ کے ادبی حلقوں میں انہیں دعوت دی جاتی تو تلاوت کے بعد وہ اکثر نعت پڑھتے تھے تو اک سماں بندھ جاتا تھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد زبانوں کو معطر کرتا ہوا دلوں کی طہارت کا باعث بنتا تھا ان کی شخصیت جاذب نظر تھی لوگ نعت کے حوالے سے انہیں جانتے تھے کیونکہ یہ قبیلہ ء حسانؓی ہے جو تادم کائنات میں رہے گا اور جس کی آواز کائنات کی وسعتوں میں گونجتی رہے گی۔ اور نعت خوان کی کتنی باکمال پہچان ہے کہ لحد میں ،حشر میں اور جنت میں نعت خوانِ مصطفٰی پکارا جائے گا اور آقاؐ پاک کے علم کے سائے میں ہو گا جس دن لوگ پیاس اور گرمی کی شدت میں "نفسی نفسی” کہتے ہوں گے اور ہمارے آقاؐ "امتی امتی” کہتے ہوں گے۔ محمد عرفان نعتیہ پارٹی "بزمِ حسانؓ” میں نئے آنے والے نعت خوان حضرات کا استاد تھا جس نے کئی نوجوانوں کو نعت خوانی کے نورانی زیور سے آراستہ کیا۔ وہ فروغ نعت کے لیے تحصیل فتح جنگ کی مختلف پارٹیوں کو نعت اور اس کے رموز سکھاتا تھا اور اُس نے کئی نو آموز ناعت اپنی مدبرانہ کاوش سے استاد بنا دیے تھے ۔ وہ اپنی نعتیہ پارٹی کو رات کے وقت ریہرسل کرا کے بقیہ رات میں دوسری پارٹیوں میں نعت خوانی کے رموز سکھانے کے لیے جاتا تھا اس لیے اُس کو سونے کا بہت کم وقت ملتا تھا ۔فروغ نعت اٹک کے حوالے سے جب بھی تاریخ لکھی جائے گی محمد عرفان کا نام اس میں ضرور شامل کیا جائے گا اور اس کے بغیر تاریخ نامکمل تصور کی جائے گی۔ وہ سادہ لباس پہنتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضورؐ کوسادگی پسند ہے اُسے کسی کھیل سے کوٸی دلچسپی نہیں تھی صوفیاء کرام کے کلام سننا اور پڑھنا پسند کرتا تھا کربلا معلٰی کی زیارات پر ابھی تک نہیں جا سکا تھا۔ آلام زمانہ میں گرفتار تھا گھر کے کچھ معاملات میں سخت پریشان تھا۔ انتہاٸی دلیر آدمی تھا دل کی سخت تکلیف کے باوجود اس نے کسی پر اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا تھا وہ ہر محفل کی جان تھا آخری وقت تک بیماری سے خاموشی کیساتھ لڑتا رہا صاف نیت انسان تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نیتوں کا دارومدار عملوں پر پر ہے اس لیے ہمیشہ اچھی سوچ رکھتا تھا اگر کسی بات پر غصہ آ جاتا تو جلد ہی معاف کر دیتا تھا وہ ہر کسی کے دکھ سکھ میں شامل ہوتا تھا اس میں کئی خوبیاں تھی جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگائے ہوئے تھیں۔
اس کے والدین فوت ہو چکے تھے اس کا اوڑھنا بچھونا ہی نعت تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضورؐ ہی ہمارے وارث ہیں اور وہ ہی ایسی ذات ہیں جو خیرالورٰی ہیں ، جو محب الورٰی ہیں ، جو آخرِ زماں ہیں ، جو جمیل القسیم ہیں، جو شفیع الامم ہیں ، جو منبر جود الکرم ہیں، جو شہر یار حرم ہیں ، جو سحابِ کرم ہیں ، جو مہر کرم ہیں، جو گنج نعم ہیں ، جو شاہ امم ہیں ، جو سیدالطیبین ہیں ، جو خطیب النبین ہیں ، جو امام المتقین ہیں ، جو امام العالمین ہیں، جو اول المسلمین ہیں ، جو محبوب رب العالمین ہیں ، جو سید المرسلین ہیں جو خاتم النبیبن ہیں ، جو نور مبین ہیں ، جو طہ و یسین ہیں ، جو رحمت اللعالمین ہیں ، جو مظہر اولین ہیں ، جو حجت آخرین ہیں ، جو آبروے زمین ہیں، جو اکرم الا کرمین ہیں ، جو مرادالمشتاقین ہیں ، جو شمس العارفین ہیں ، جو محب الفقراء و الغربا ہیں ، جو مورث کمالات آخرین ہیں ، جو صادق و امین ہیں ، جو مفسر قرآن مبین ہیں، جو روشن جبین ہیں ، جوسلطانِ دین ہیں ، جس سیدالثقلین ہیں ، جو نبی الحرمین ہیں جو وسیلہ فی الدارین ہیں ، جو صاحب قاب قوسین ہیں ، جو سید الکونین ہیں ، جو سرورِ کونینِ ربِ رحمٰن ییں ، جو حبیب المشرقین و رب المغربین ہیں ، جو محبوبِ رب دو جہاں ہیں ، جو قاسم علم و عرفاں ہیں ، جو راحتِ قلوبِ عاشقاں ہیں ، جو سرور کشوراں ہیں ، جو راحت عاصیاں ہیں ، جو کون و مکان ہیں ، جو شفقت پیکراں ہیں ، جو چارہ گر چارہ گراں ہیں ، جو رہبر انس و جاں ہیں ، جو تاب جاں و ہادی ء گمراہاں ہیں ،جو شافع عاصیاں ہیں ، جو حامی ء بے کساں ہیں ، جو راحت قلب جسم و جاں ہیں ، جو شاہ دوراں ہیں ، جو ہادی ء جہاں ہیں ، جو قرار بے قراراں ییں ، جو غم گسارِ دل فگاراں ہیں ، جو انیس بے کساں ہیں ، جو چارہ گرِ آزدرگاں ہیں، جو سکونِ دردمنداں ہیں ، جو راحت رفتگاں ہیں ، جو پناہ بے پناہاں ہیں ، جو نگاہ بے نگاہاں ہیں، جو غم سازِ غریباں ہیں ، جو خیرالناس ہیں تو کیوں نہ ایسے کریم آقاؐ سے لو لگائی جائے جو دنیا و آخرت کے تمام خزانوں سے ارفع ہیں اس لیے اُن کی خوشی میں خوشی اور اُن کے غم میں غم منانا چاہیے اسی لیے وہ کربلا والوں کا غم منانے والا جوان تھا وہ اہل بیت رسولؐ کا غم دل میں پوشیدہ بھی رکھتا تھا اور اس کو دل کے نہاں خانوں سے عیاں بھی کرتا تھا۔ وہ مختلف ٹی وی چینلز پر نعت پڑھنے جاتا تھا اے ٹی وی چینل پر اس کی نعت آج کل بھی چل رہی ہے۔ اس کو دل کا عارضہ لاحق تھا اور اُس کے دل کا بائی پاس ہو چکا تھا اس لیے جب اس بار اس کو دل کی تکلیف ہوئی تو اس کو راولپنڈی آر آئی سی میں علاج کے لیے لے کر گئے جہاں ڈاکٹر نے اس کو بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا اور یہ بے ہوشی کے عالم میں ہی 15 جنوری 2021 بروز ہفتہ اللہ کو پیارا ہو گیا مولانا عرفان القادری نے نماز جنازہ کی امامت کرائی جس میں تحصیل فتح جنگ کے تقریبا تمام نعت خواں شریک ہوئے عاشقانِ مصطفٰی کا ایک بہت بڑا ہجوم شریکِ جنازہ تھا جس کے لبوں پر دعائیں تھیں۔ اللہ پاک اس کی قبر کو روشن فرمائے اور اس کی روح کو جنت الفردوس میں بلند مدارج پر فائز فرمائے ۔آمین
سعادت حسن آس بحرِ نعت میں رہنے والے عظیم شاعر ہیں جن کی فکری عفت ان کو اوجِ کلام کے گوہر عطا کرتی رہتی ہے اس دور میں ایسے لوگ نایاب ہیں جن کا سخن کے ساتھ ساتھ کردار بھی عظیم ہو اور ان کی تنہائی یاد الٰہی سے منور ہو یادِ الٰہی سے منور دل جب نعت رقم کرنے کے لیے بڑھتا ہے تو اسلوبیاتی صباحت، تکنیکی جہت اور فنی صلاحیت خود بخود اُن کے قدم چومتی ہیں اور وہ نعت لکھتے جاتے ہیں میرے شہر کے بڑے بڑے نام اس فکری نظافت سے محروم ہیں اور ان کے قدم لڑ کھڑا گئے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مودت جب عروج پر پہنچتی ہے تو آپؐ کی اہل بیتؑ کی مودت خود بخود الہام میں گُھل کر مقامِ عرفان کے زینے عبور کرتی ہے سعادت حسن آس جہاں نعت گوئی میں ندرت کی مہکتے پھول اپنی زنبیل میں ڈالے ہوئے ہیں وہاں ہی وہ سلام اور منقبت کے گلاب بھی رکھتے ہیں اور یہ گلاب جب خوشبو بکھیرتے ہیں تو وہ آہِ رسا کی صورت اختیار کر جاتے ہیں یہی آہِ رسا ان کو خیال ہی خیال میں کربلا و نجف سے مرجان و دُرِ نجف عطا کرتی ہے یہی گوہر لفظ لفظ بن کر کتابی صورت اختیار کرتے ہیں اور ہمیں "آہِ رسا” پڑھنے کو ملتی ہے "آہِ رسا” ہم سب کے دلوں کی آواز ہے جو قارئین کی سماعتوں میں رس گھولے گی۔ اس نئی تصنیف پر سعادت حسن آس کو بہت مبارک ہو اور یہ عظیم کاوش اللہ تعالٰی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین
زیست میں اپنی بہاراں کیجئے ” خوب مدحِ شاہِ خوباں کیجئے” سب زباں پہ لا کے ذکرِ مصطفیٰؐ اپنی بخشش کا یوں ساماں کیجئے مدحتوں میں ہو اجالے کا سماں چاند تارے لا کے تاباں کیجئے ہر جگہ میلاد میں ہوں قمقمے گھر، محلے کو درخشاں کیجئے گنبدِ خضریٰ ،کہیں پہ نقش پا اپنی گلیوں میں نگاراں کیجئے آمدِ میلاد پر عاشق سبھی روبرو سب کے چراغاں کیجئے چل کے سیرت پہ مسلمانو! سدا مصطفیٰؐ کو اپنا دل جاں کیجئے قافلے کب کے مدینے چل دیے آقاؐ مجھ کو بھی تو ذیشاں کیجئے چھوڑ کر ذکرِ محمدؐ کا جہاں اپنی قسمت کو نہ ویراں کیجئے دیں زیارت کی اجازت بھی حضورؐ پورے قائم کے بھی ارماں کیجئے
اللہ تعالی نے "ورفعنا لک ذکرک” سے اپنے حبیب کے تذکرے کو اس طرح بلند اور اس کے فیضان کو وسعت بخشی ہے کہ جہاں جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کا بھی ذکر کانوں میں رس گھولتا ہے ربّ کائنات اپنی شان کے مطابق حضور ﷺ کا اولین مدح سرا ہے اور پھر اس سنتِ الہیہ کے تتبع میں نعت گوئی اور نعت خوانی وجود میں آئی ۔ حضرتِ حسان بن ثابتؓ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ کے فروغِ نعت کے حوالے سے کردار کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ انہی کی تحریک کو مختلف ادوار میں آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا اور یہ صبحِ قیامت تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا
عصرِ حاضر میں بھی بہت سے نفوسِ قدسیہ نعت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جن میں شعراء اور نعت خواں اس سید الاصناف "نعت ” کو باقاعدہ ادب اور سخن کی صنف تسلیم کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں نعت خوانی کی موجودہ روش اسلاف کے طریقوں سے ہٹی نظر آتی ہے کہ اب اس میدان میں تصنع ،شو بازی اور حرص و طمع کی بھرمار نے اس کے حسن کو ماند کر رکھا ہے گو کہ حضرت خالد حسنین خالدؒ اور سید زبیب مسعود صاحب،ایوانِ حسان نشریات سے حسان المصطفیٰ صاحب اور نعمان زاہد نے اپنے خلوص سے اسے اس کا جائز مقام ڈلوانے میں اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے کیونکہ اس کا حسن تو خلوص اور عاجزی کے ساتھ ساتھ عشقِ رسولﷺ سے پڑھت پر ہے آج الا ما شاءاللہ بہت کم نظر آتا ہے بہرحال پھر بھی خلوص اور عشقِ مصطفٰی ﷺ کے جذبے سے پڑھنے والوں کی آج بھی کمی نہیں ہے انہی سعادت افروز افراد میں ایک سید بادشاہ جناب رضا حسین گیلانی صاحب بھی ہیں جو شہر ِ نعت فیصل آباد کے رہائشی ہیں ،آپ پیشہ ورانہ نعت خواں نہیں بلکہ اپنے شوق سے حضور ﷺ کی نعت کو پڑھتے ہیں اور تادمِ تحریر 154 قومی و بین الاقوامی شعراء کے 400 کلام اپنی خوبصورت آواز میں اصل رنگ یعنی ایکو کے بغیر ریکارڈ کر کے چالیس کے قریب گروپس میں اپلوڈ کرچکے ہیں اور اس کے علاوہ یوٹیوب چینلز اور بین الاقوامی ٹی وی نشریات پر بھی آپ نے حضور ﷺ کی نعت کو پڑھ کر اس کے فروغ میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ و سعادت ڈالا ہے ۔یہ بہت بڑی سعادت ہے میں انہیں بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور صحت کے مسائل کی وجہ سے کچھ آرام کے بعد پھر سے اس میدان میں ایکٹو ہونے کی درخواست کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں آپ جیسے مخلص لوگوں کی "نعت ” کو بہت ضرورت ہے ،اللہ تعالی آپ کی اس خدمتِ نعت اور کاوشوں کو قبول فرما کر اور زیادہ ہمت اور جذبہ عطا فرمائے آمین یہاں ان کی طرف سے بطورِ ریکارڈ 154 کلام پڑھنے والے شعراء کی فہرست کو بھی اس کالم کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ یہ تاریخ کا حصہ بن جائے الحمدللّٰہ جن 154 شعرا کا کلام میں( سید رضا حسین گیلانی چشتی گولڑوی ) نے پڑھا ان کے اسمائے گرامی:
1امیر نواز فقیر 2راجا رضوان اسلم 3محمد فراز کامل علی اختر شیر 5محمد احمد زاہد 6سید شاہد حسین شاہد 7محمد طاہر صدیقی 8سید حبدار قائم 9مسعودالرحمان مسعود 10ذکیہ غزل 11مولانا عبدالرحمان نورالدین جامی 12محمد اعظم چشتی 13پروفیسر ریاض قادری 14سید بابر مسعود چشتی 15ذاہد سرفراز ذاہد 16کلیم شہزاد 17سعادت حسن آس 18مقصود احمد عاجز 19محمد عمیر لبریز 20منیر احمد خاور 21پیرزادہ ندیم اختر ندیم 22محمد جاوید اطہر 23محمد عارف رضا 24حکیم تائب رضوی 25ڈاکٹر محمد یونس خیال 26احسان الہی احسن 27محترمہ سیدہ زینب سروری 28سید لیاقت حسین گیلانی 29اللہ نواز منصور 30رشید آفرین 31ظفر سعید 32محمد ذکریا آزاد 33پرفیسر حافظ محبوب احمد 34سید سبط حسنین نقی 35سید شبیر حسین ساجد چشتی مہروی 36پیر سید نصیرالدین نصیر گولڑوی 37عزیزالدین خاکی 38تلک راج پارس۔۔۔انڈیا 39شاعر شبیر حسین شبیر 40انعام الحق معصوم صابری 41تجمل حسین تجمل 42این ایس شانی 43محمد سلیم محرم 44خورشید عالم خورشید 45مرتضی اشعر 46یاسر رشید یاسر 47عمر علی شاہ 48محمد احمد چشتی 49سمیعہ ناز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انگلینڈ 50شفیق رائے پوری ۔۔۔۔۔انڈیا 51ٹیپو ارسل۔۔۔۔۔انگلینڈ 52سید شاکرالقادری 53اشفاق احمد غوری 54سید عطاء المصطفی 55کلیم ضیاء 56قاضی اعجاز محور 57عباس ثاقب ۔۔۔۔ ایران 58محترمہ سعدیہ ہما شیخ 59دلشاد احمد 60امن علی 61افتخار راغب ۔۔۔۔دوحہ قطر 62تنویر احمد شاہ 63ثاقب خیرآبادی۔۔۔۔۔انڈیا 64عادل رشید۔۔۔۔۔ انڈیا 65محمد بلال ملک 66عابد علی عابد 67گل بخشالوی 68صوفی ضیاء شاہد 69سلطان محمود 70محمد اختر رحمانی 71اویس 72حسین امجد 73عباس عدیم قریشی 74مظفر وارٹی 75سید نورالحسن 76داغ 77محترمہ شہناز شازی۔۔۔۔۔ انڈیا 78راغب مرادآبادی 79سید خوشید نواز لائق 80محمد خلیل الرحمٰن خلیل 81محترمہ شہناز یاسمین شازی 82محمد شبیر مہروی 83سید منتظر مہدی گیلانی 84محترمہ رابعہ بتول 85سلیم کوثر 86منظر پھلوری 87سلیم احمد زخمی 88اشتیاق حسین اسجد 89حافظ محمد عبدالجلیل 90محمد امین بابر 91اکرام رشید قریشی 92پرویز اختر چیمہ 93نواز اعظمی مصباحی 94ابو البرکات 95سید اعجاز حسین عاجز 96احمد زوہیب 97محمد شریف نواز قادری سلیمی 98ذیشان حیدر 99پیر سید معین الدین گیلانی گولڑوی 100میاں حمزہ 101مسعود اختر 102محترمہ صبا نذیر 103عارف قادری 104شاہد صابری 105ندیم نرری 106محمد صدیق 107حافظ ابوبکر تبسم 108ڈاکٹر اختر قریشی 109احمد وسیم شیخ 110محترمہ شبانہ زیدی شبین 111خادم حسین خاکسار 112توقیر سید 113حکیم سید افتخار فخر 114رفیع الدین راز ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ 115مقصود علی شاہ ۔۔۔۔۔۔انگلینڈ 116غلام رسول آحمد ضیاء 117عنائیت علی عنائیت 118فقیر حسین چشتی 119حافظ عبدالغفار واجد 120محمد سرور قادری 121صدام فدا 122ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل 123نا معلوم 124مبشر حسین فیض 125سائیں محبوب عالم چشتی رضوی 126عتیق الرحمن صفی 127محمد خالد جاوید 128عبدالغنی تائب 129حسان المصطفی 130فیصل قادری گنوری۔۔۔انڈیا 131راشد اشرف راشد 132دلاور علی آزر 133لطیف ساجد چشتی 134سید شاکر حسین سیفی۔۔۔۔۔انڈیا 135نزاکت علی نازک 136گلزار احمد گلزار 137رخشندہ بتول 138باسط ممتاز سید 139آفاق رضا مشاہدی۔۔۔۔گوندہ۔۔ انڈیا 140اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی۔۔انڈیا 141اکبر حمزی 142سید خادم رسول عینی۔۔۔انڈیا 143نصیر سراجی۔۔۔۔۔۔ انڈیا 144شیخ عبدالعزیز دباغ۔۔۔۔۔انڈیا 145ابوالحسن خاور 146ڈاکٹر ریاض مجید 147بہزاد لکھنوی۔۔۔۔۔انڈیا 148محمد افضل خاکسار 149محمد شرافت حسین رضوی۔بلرام پور۔انڈیا 150سکندر ایاز سید 151محمود احمد کھوکھر۔۔۔کنیڈا 152سید اقبال رضوی شارب۔۔۔دوحہ۔ قطر 153غلام مرتضیٰ طرب۔۔بہار ۔انڈیا 154اقبال عظیم