قصیدہ نور کا (حصہ دوم)

حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی “اول ما خلق اللہ نوری” کی صدائے نوری جب عرب کی فضاوں میں گونجی  تو صحابہؓ کے لبوں پر سبحان اللہ سبحان اللہ کی تسبیح نے طواف کیا انسان کو روح کی تخلیق کے متعلق بتا دیا گیا اللہ رب العزت نے تمام روحوں کو اکھٹا کیا اور فرمایا ” الست بربکم” تو جواب میں تمام ارواح نے اقرار کیا اور کہا “قالو بلیٰ” یہ سارا عہد و پیمان دنیا میں آنے سے پہلے لیا جا رہا تھا انبیاء کرام سے لے کر تمام بنی نوع انسان تک کی روحیں وہاں موجود تھیں پھر نہ جانے کیا ہوا کہ تخلیقِ آدمؑ پر  حکمِ رب نہ مان کر ابلیس نے آدم علیہ السلام کے سجدے سے انکار کر دیا اور تکبر کی وجہ سے راندہ ء بارگاہ ہوا اور اس کو انسان بہکانے کی طاقت بھی دے دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ میرے بندے تیری راہ پر ہرگز نہ چلیں گے ۔

Madina
Image by Konevi from Pixabay

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور اور آج  تک بہت سارے انسان آئے جنہوں نے شیطان کی ایک نہ مانی اور مقبولِ نظر ہو گئے جب ہدایت مکمل ہو گئی تو دین اسلام ” الیوم اکملت دینکم ” کی سند مبین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آپؐ آخری  نبی ہیں جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے راہبر ہیں آپ کی سیرت کو بہترین سیرت قرار دیا گیا اور آپ کے اسوہ حسنہ کو انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا بات چلی تھی قالو بلیٰ کی تو سب سے پہلے “الست بربکم ” کی  صدائے رب پر آپؐ کی صدا گونجی تو تمام ارواح نے آپ کی سیرت پر عمل کیا اور آپ کے پیچھے سب نے ” قالو بلیٰ”  کہا ۔ اور یہ نوری صدا قیامت تک قرآن میں گونجتی رہے گی 

شاعر نے بھی ان شعروں میں صنعت تلمیح کا استعمال کیا ہے ملاحظہ کیجیے :۔

سوال سن کے الست بربکم  رب سے

کہا ہے پہلے بلٰی جس نے یا نبیؐ ہیں آپ

کروں تو کیسے کروں   التجائے نظّارہ

جوخیرہ کردے نظر کو وہ روشنی ہیں آپ

فکر و نظر کے پھول جب قلم کی نوک چومتے ہیں تو ایسے ایسے فرخندہ بخت اشعار موتیوں کی طرح کاغذ کے سینے پر بکھرتے چلے جاتے ہیں کہ جو عام بندے کی سوچ سے ماورا ہوتے ہیں اور شاعر کی پہچان بن جاتے ہیں ۔گنبدِ خضریٰ کی گھنی سبز چھاوں  پوری کائنات پر سائباں کی طرح تنی ہوئی ہے اور اس کی ضو کے سامنے چاند تاروں کی کیا مجال کہ روبرو خضریٰ اظہار برتری کر سکیں ۔ آج بھی خضریٰ سے چاندنی بھیک مانگتی پھرتی ہے۔ خضریٰ قسیمِ ضو ہے اور اپنے اندر مدح و ثنا کے آفاق سمیٹے ہوئے ہے طرحدار اندازِ سخن شفیق رائے پوری کے اسلوبِ بیاں میں بہارِ تخیل کی رعنائیاں مستور ہیں جو ان کے کلام کے صوری و معنوی محاسن میں اضافہ کرتی جاتی ہیں اس وجہ سے بھی فرخندہ بخت ہیں کہ نعتیہ ادب کی رخشاں و معنبر دنیائے بسیط کے شستہ مناظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے بھی عام فہم الفاظ استعمال کرتے ہیں جو قاری کی فکرِ رسا پر بوجھ نہیں بنتے۔ شفیق رائے پوری نے ردیف “عبث” کے ساتھ خیالات کی گل فشانی کیسی ارفع برتی ہے ملاحظہ فرمائیے :۔

اس جلوہ بار گنبد خضری کے سامنے

اے چودھویں کے چاند تری چاندنی عبث

لگتا  ہے دور رہ کے  در مصطفیٰؐ  سے یوں

جیسے  گزر رہی ہو   مری زندگی عبث

مدحت سرائی میں ندرت آفرینی کا سعادت نشاں سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے بشر کو قوتِ نطق اور قوتِ بیاں سے سرفراز کر کے اشرف المخلوقات خلق کیا ہے نعتیہ شاعری میں فکرِ رسا کے حسیاتی موسموں میں نسیمِ حجاز کے نشیلے جھونکے محو پرواز رہتے ہیں اور یہ ادراکیء پرواز ناعت خود محسوس کرتا ہے اور اشعار کی معنبر معنویت قارئین کے لیے بالیدگی ء فکر اور بیداریء روح کا سماں پیدا کرتی ہے حضور اکرمؐ کا نوری تن مشک و عنبر سے کئی گنا خوشبو دار تھا جہاں سے گزرتے راہیں خوشبو سے مسحور ہو جاتیں آنے والے جان لیتے کہ یہاں سے آنحضورؐ کی سواری گزری ہے آپ کی گزر گاہیں اور ان پر موجود اشجار، پتھر اور خاک کے ذرے تک آپ پر سلام اور درود کے نزرانے نچھاور کرتے دھوپ میں بادل کا ٹکڑا شرفِ غلامی پاتا اور آپؐ پر سایہ کر دیتا شفیق رائے پوری نے تلمیح کا خوب صورت استعمال کیا اور قافیے اور ردیف کو درود سے منطبق کر کے کیا خوب صورت ،صورت اختیار کی ہے اُن کے اظہاریہ سے نظریں منور کیجیے :۔

کس طرف سے آئے تھے اور کس طرف وہ چل دئیے

لوگ کر لیتے تھے خوشبو سے پتہ سرکارؐ کا

باوضو ہوکر  درودِ پاک   پڑھتی ہے ردیف

نعت میں لاتا ہوں میں جب قافیہ سرکارؐ کا

فرخُندہ مآل جذبوں کے احتداد کی دل گدازیاں مدحت سرائی میں نور آفرینی اور ضیا پاشی کا باعث بنتی ہیں جو کہ روحانی و وجدانی تصورات کو ایک خاص کیفیت اور جذب و شوق سے سخن کی رعنائی میں اضافے کا سبب بناتی ہیں شفیق رائے پوری محض لفاظی و مشاقی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مودت کے سمندر میں مقامِ بقا  پا کر اپنے اشکوں کے موتی الفاظ کے نگینوں میں پرو دیتے ہیں شقِ قمر اور سورج کے پلٹنے کا واقعہ ایک شعر میں بیاں کر دیتے ہیں یہ تلمیح وقارِ سخن میں اضافے کا موجب ہوتی ہے آقا پاکؐ کے در پر سانسوں کا تھم جانا شاعر اس لیے مانگتا ہے تا کہ زیارت امر ہو جائے۔ سلاست اور روانی شعر کے وجدان کو ارفع تر بنا دیتی ہے۔ شاعر کی معصوم تمنا کس طرح مچلتی ہے ان اشعار میں اس کی یہی کشادگی ء قلب و نظر وسعتِ بیکراں کی ترجمان نظر آتی ہے :۔ 

درِ آقا پہ پہنچوں تو سفر سانسوں کا تھم جائے 

خداوندا ! مجھے کیا ایسا لمحہ مِل نہیں سکتا  

قمر شق ہو جسے پاکر پلٹ آئے یہ سورج بھی

نبیؐ کے اُس اشارے سا اشارہ مِل نہیں سکتا

شفیق رائے پوری خیالات کی جولانی کو برجستگی سے کہہ جاتے ہیں وہ مشکل بات کو اتنی آسانی سے کہتے ہیں کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے کہ دو لائنوں کے شعر میں بہت بڑا موضوع کتنی آسانی سے سمو دیا ہے میرے خیال میں تو اسی کو فصاحت اور بلاغت کہتے ہیں اب دیکھیے کہ قرآن ناطق اور قرآن صامت کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں بظاہر قاری الگ اور قرآن الگ نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے روبرو حضورؐ تشریف فرما ہوں یعنی ہر دور میں جس نے آپؐ کی زیارت کرنی ہو وہ تلاوت قرآن کر لے تو حضور کی سیرت کے تمام کمالات اس کی نظر میں  سما جائیں گے کیونکہ بسم اللہ سے والناس تک جو انسان بیاں ہوا ہے وہ آپ ہیں ۔شفیق رائے پوری کے نگار خانہ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل ان اشعار میں ملاحظہ فرمائیں :۔

ب  سے بسم اللہ کی والناس کی ہے سین تک 

جابجا قرآن میں مدحت رسول اللہؐ کی

و الضحی واللیل کی  سورت  تلاوت کیجئے 

سامنے آجائے گی صورت رسول اللہؐ کی

عروسِ ادب کی مشاطگی تب ہی ممکن ہے جب اسلوبِ نظر اسلوبِ سخن میں ڈھل جائے شاعر کا وجدان اس کے اسلوب سخن سے عیاں ہوتا ہے ایک اچھے شعر کی تخلیق کے لیے اسے مشق کے گلشن کی آبیاری کرنی پڑتی ہے مشق کے بعد سینئرز کے سخن کا مطالعہ اس کو کندن بناتا ہے اور تب کہیں جا کے تحریر گلشن میں گلاب و چنبیلی و موتیا کے گل  دیکھنے کو ملتے ہیں یاد رہے کہ “خبر”  اور “شعر” میں فرق جس شاعر کو پتہ چل جائے اور وہ صاحب مطالعہ بھی ہو تو اچھے شعر اس کا قلم اگلتا ہے۔ شفیق رائے پوری میں یہ سارے وصف موجود ہیں وہ بات سے بات نکال کر ایک عمدہ تخیل باندھ کر اچھا شعر خلق کر دیتے ہیں زیرِ نظر شعر کی جولانی اور وسعت اس کے مضمون کی غمازی ہے ملاحظہ فرمائیے :۔

جھلکیاں نورِ خدا کی تھیں نظر کے سامنے

جس نے دیکھا آپؐ کا جلوہ وہ حیراں ہوگیا

گِھر  کے طوفاں میں پکارا جب اغثنی یا نبیؐ

میری کشتی کا نگہباں خود ہی طوفاں ہوگیا

تاجِ ” ورفعنا لک ذکرک ” اپنے مبارک سر پر سجانے کے بعد آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے واللہ یعصمک من الناس کہہ کر قیامت تک آنے والے لوگوں کے شر سے بچا لیا اور آپؐ کے ذکر کو اپنے فرمان ذیشان سے ایسے مداومت

 بخشی  :۔

ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی۔

اب قیامت تک درود و سلام نمازوں میں مجالس میں میلاد پاک کے جلوسوں میں غرض ہر جگہ پڑھا جائے گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ درود و سلام کے بعد نعت گوئی اور نعت خوانی “ورفعنا لک ذکرک “کے زمرے میں آتی ہے جسے عرش و فرش پر پسندیدہ عمل مانا جاتا ہے ۔ ہر ناعت جب انجمن لیل و نہار، شافع یوم قرار، آفتاب نو بہار، سرور عالم، مونس آدم، قبلہء عالم، کعبہءاعظم، جان مجسم، نور مجسم، فخرِ دو عالم، مرسلِ خاتم، خیرِ مجسم، صدرِ مکرم، نورِ مقدم، نیرِ اعظم، مرکزِ عالم، وارثِ زمزم، مبداء کائنات، مخزنِ کائنات، منشائے کائنات، سیّدِ کائنات، مقصودِ کائنات، مقصدِ حیات، منبعِ فیوضات، افضل الصلوٰت، خلاصہء موجودات، صاحبِ آیات، صاحبِ معجزات، باعث تخلیقِ کائنات، ارفع الدرجات، اکمل الرکات، واصلِ ذات، فخرِ موجودات، صاحب التاج اور صاحبِ معراج کی بات کرتا ہے تو ثنائے جلوہء حق نما کی خاطر جس قدر ممکن ہوتا ہے نئے نئے اسلوب کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے کیونکہ اللہ کے حبیبؐ جو چشمِ امواجِ بقا ہیں جو چشمہء علم و حکمت نازش ہیں کو راضی کرنا ہے یہ ندرت کے سارے دھنک رنگ سرکارؐ کی خوشی کے لیے برتے جاتے ہیں 

شفیق رائے پوری  بھی خیر الوریٰ کی خوشنودی کے لیے نئے نئے رنگ شعور میں سجا کر عاشقانِ مصطفیٰؐ کے دل کی دھڑکوں کو روشن کرتے ہیں آپ نے “الف” سے لے کر “ی” تک ردیف استعمال کر کے ایک خوب صورت روایت کا اضافہ کیا ہے جو قارئین کو سکون کی دولت سے سرفراز کرے گا آئیے شفیق رائے پوری کی “الف” تا  “ی” تک ردیف کے نقوشِ دل رُبا کی چند خوشبو رنگ جھلکیاں دیکھ کر روحانی تلذذ حاصل کرتے ہیں جو کہ ان کی جدا گانہ کندہ کاری کی درخشاں علامت ہے

ردیف    الف

سرکار کے گھرانے کا کھا کر نمک  شفیقؔ

بے  رنگ و  نور تجھ  سا سخنور چمک اٹھا

ردیف  ” ب “

بوصیری کو حضور سے تحفے کی شکل میں

چادر ملی  ہے  نعتیہ اشعار کے سبب 

ردیف  “ت”

یادِ سرکارِ دو عالم سے ہے نسبت ان کو

چند قطرے ہیں جو پلکوں پہ گہر  کی صورت

ردیف  “پ”

حضور آپ کے دم سے ہے کائنات میں دم 

ہر ایک قلب کی دھڑکن ہیں زندگی ہیں آپ

ردیف  ” ٹ”

فرشتے  اکتسابِ نور کرتے ہیں جہاں آکر 

تجلی زار  ہے وہ در مِرے سرکار کی چوکھٹ

ردیف  “ج”

سارے عالم میں مصطفے جیسا

تونے دیکھا تو بول دے سورج

ردیف  “ث”

سورج ، ستارے، چاند، شفق، روشنی عبث

پائے رسول پاک کے آگے سبھی عبث

ردیف  “ح”

  حضرتِ حسّان کے صدقے میں یا شاہِ اُمم

کاش  مدحت کا مجھے ملتا  ہنر  پوری طرح

ردیف   “خ”

نبیؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز  ہے جیسے

سبھی  مہینوں کی راحت ہے بارہویں تاریخ

ردیف  ” چ “

والضحی واللیل کی آیاتِ پُر انوار سوچ

سوچنا  ہے تو شبیہِ احمدِ مختار  سوچ

ردیف ” ڈ”

آ گیا میرے لبوں پر المدد یا مصطفے’ ﷺ

اے مصیبت چل یہاں سے دوسرا گھر بار ڈھونڈ

ردیف  ” د”

رونق پہ جس کی مصر کا بازار بھی فدا

مجھ کو نبی کے شہر کی ہے وہ گلی پسند

ردیف ” ذ”

جس پہ لکھا ہو حضوری  کا اجازت نامہ

کاش لے  آئے وہ طیبہ  سے کبوتر   کاغذ

ردیف  “ر “

خیالِ  آیتِ  ” لا ترفعوا ”   رکھا   ہم  نے

زباں پہ قفل  لگا  کر نبی کے روضے  پر

ردیف  ” ز “

طیبہ بلا کے مجھ کو کریں گے عطا قرار

سرکار  کو  پتہ ہے  مری بے کلی کا راز

ردیف ” ڑ “

دربدر بھٹکے گا  کب تک عصرِ حاضر آ اِدھر

تارِ ہستی ہادیِ دینِ مبیں آقا سے جوڑ

ردیف  “س”

بے شک نواز سکتے ہیں مجھ کو بھی خلد سے

ہے یہ بھی اختیار مِرے مصطفیٰؐ کے پاس

ردیف ” ش”

ہر دن کو رخِ  سرورِ  عالم  کی  تمنا 

ہر رات کو   زلفِ  شہِ ابرار کی خواہش

ردیف  ” ص “

بنا دیا مرے  آقاؐ  نے چوم  کر مخصوص

جونصب خانہ ءِ کعبہ میں ہے حجر مخصوص

ردیف  “ض”

شمس و قمر ، نجوم کی تنویر  کچھ نہ تھی

یہ ہے حضورؐ  آپ کی خاکِ  قدم  کا   فیض

ردیف  “ط”

ہم صبح و شام کرتے ہیں مدحت رسول کی

رکھتے نہیں کسی بھی تونگر سے ربط  ضبط

ردیف ” ظ”

نبیؐ  کا عشق سلامت ،   رہے وفا محفوظ

پھراس کے بعد ہے جنت کاراستہ محفوظ

ردیف ” ع “

میرے آقا کے پسینے  کا بدل  ممکن  نہیں 

شوق سےکرلیں ہزاروں نکہتوں کا اجتماع

ردیف   “غ “

ظلمتیں پھیلا رہا تھا جب جہالت کا چراغ

 آئے لے کر مصطفے رشد و ہدایت کا چراغ

ردیف   “ف”

چمک پہ  اپنی  نہ اے چاند اس قدر  اِترا 

نبیؐ کےحسن کاصدقہ ہےچاندنی کا شرف

ردیف  ” ق”

مچلتا  رہتا  ہے دل کے غریب خانے  میں

نبیؐ کے شہر میں چھوٹی سی جھوپڑی کا شوق

ردیف  ” ک”

اے قمر سبز  گنبد  کو دیکھا  ہی  کیوں 

پڑ گئی نا  تِرے رخ کی پھیکی  چمک  

ردیف  ” گ”

بے رنگ  ہو چکا ہے غزل سے وفا  کا رنگ

اپنی بہار  پر  ہے نبی کی ثنا  کا رنگ

ردیف ” ل “

سرکار ہیں لا ثانی نہیں ہے کوئی ثانی

انساں  نہیں اُن  سا کوئی انسان  مکمل

ردیف ” ن “

گلاب جل کی پلا  کے اس کو میں روشنائی 

قلم کی گیلی  زبان کرلوں تو نعت لکھوں

ردیف ” م “

وابستہ  ہو گئے  ہیں   تِرے آستاں سے ہم

آنکھیں ملا سکیں گے اب اُس آسماں سے ہم 

ردیف  “و”

یا خدا  کردے یوں طیبہ کے حوالے مجھ کو

پھر وہاں سے نہ کبھی کوئی  نکالے مجھ کو

ردیف  ” ہ “

سب کے  لیے اماں ہے مدینہ  منورہ 

بے شک سکونِ  جاں  ہے مدینہ منورہ

ردیف  “ے “

حمدِ خدا کی راہ  تو  آسان ہے بہت

چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے 

ردیف  “ی”

شغل  ہے اپنا یہی اب  ہے یہی اپنا  شعار

بس تِری زلفوں کی ہے مشاطگی نعتِ نبی

خدا وند متعال سے دعا گو ہوں کہ شفیق رائے پوری کا خامہ اسی طرح رواں دواں رہے  اور منتہائے جمال، منبعء خوبی و کمال حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت لکھتا رہے۔ اور انہیں حیاتِ خضر علیہ السلام سے نوازے۔ ۔آمین

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

آف غریب وال، اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

مکاتیب مشاہیر بنام سید نصرت بخاری

جمعرات ستمبر 9 , 2021
کتاب کا مقدمہ معروف صحافی ، ادیب و کالم نگار جبار مرزا نے تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ “یہ مکاتیب گزرے دنوں کی یاد، ادب دوستی اور تاریخ بھی ہیں۔
Letters To Nusrat Bukhari